تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for اپریل, 2007

ڈاکٹر طاہر القادری علماء و مشائخ کی نظر میں

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علماء و مشائخ کی نظر میں
 

تحریر و تحقیق: محمد حسین آزاد الازہری (ایڈیٹر مجلہ العلماء لاہور)

’’اے پروردگار! مجھے ایسا بچہ عطا فرما جو تیری اور تیرے دین کی معرفت اور محبت سے لبریز ہو۔ جو دنیا و آخرت میں تیری بے پناہ رضا کا حقدار ٹھہرے اور فیضان رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہرہ ور ہوکر دنیائے اسلام میں ایسے علمی، فکری، اخلاقی اور روحانی اسلامی انقلاب کا داعی ہو جس سے ایک عالم متمتع ہوسکے‘‘۔

مذکورہ بالا دعا جب 1948ء میں حج بیت اللہ کے موقع پر مقام ملتزم پر غلاف کعبہ کو تھام کر نہایت عاجزی و انکساری اور دلسوزی و گریہ و زاری سے فریدملت حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ مانگ رہے تھے تو منشاء ایزدی کے مطابق اسے شرف قبولیت اس طرح عطا ہوا کہ اسی سال 1948ء ہی میں آپ کو حرم کعبہ میں حالت خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک فرزند ’’محمد طاہر‘‘ کی بشارت ملی۔ جس کے بعد آپ نے مدینہ طیبہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ اطہر پر حاضر ہوکر وعدہ کیا کہ ’’محمد طاہر‘‘ جونہی سن شعور کو پہنچے گا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کر دیا جائے گا۔

جب ’’محمد طاہر‘‘ کی عمر 13 برس ہوئی تو ان کے والد گرامی کو خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زیارت سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’طاہر اب سن شعور کو پہنچ گیا ہے اسے حسب وعدہ ہمارے پاس لے آؤ‘‘

اس طرح ’’محمد طاہر‘‘ نے 1963ء میں اپنے عظیم والد گرامی کے ساتھ بشارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکر حج بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور محمد طاہر کو حسب وعدہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ پاک پر مواجھہ شریف کے سامنے پیش کیا گیا جہاں بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محمد طاہر کو مصطفوی انقلاب کے عظیم عالمگیر مشن کا اشارہ ملتا ہے۔ نشانی کے طور پر بحالت خواب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دودھ کا پیالہ عطا ہوتا ہے اور اسے لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس حکم پر عملدرآمد کے فوری بعد ’’محمد طاہر‘‘ کی پیشانی پر محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میٹھے میٹھے پیارے لبوں سے بوسہ لے رہا ہے۔ یہ سب کچھ حاضری کی قبولیت کا نکتہ کمال تھا۔

تعبیر الرؤیا کے مطابق خواب میں دودھ کے ملنے سے مراد علوم عقلی ونقلی اور علوم ظاہری وباطنی عطا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’محمد طاہر‘‘ کی رسم بسم اللہ مدینہ طیبہ ہی میں قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ اعظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ) سے پیر کے دن نماز فجر کے بعد ادا ہوتی ہے اور تعلیم و تربیت کا باقاعدہ آغاز مدینہ طیبہ ہی میں باب جبریل علیہ السلام کے سامنے عظیم مدرستہ العلوم الشریعہ سے ہوتا ہے۔ پھر کیوں نہ آپ علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور زہد و ورع کی بلندیوں پر فائز ہوں اور شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب ہوں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علم وحکمت کے لولوئے آبدار سے مزین ہونے کے علاوہ تصوف و روحانیت کے اعلیٰ ترین رتبے پر بھی فائز ہیں۔ کیونکہ آپ کے مرشد کامل شہزادہ غوث الوریٰ قدوۃ الاولیاء شیخ المشائخ حضرت پیر السید طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ جو فیضان حضور غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فیضان نہ صرف امین تھے بلکہ پاکستان میں حضرت پیران پیر دستگیر کے جانشین اور قاسم ولایت غوثیت مآب رضی اللہ عنہ کے مرتبے پر فائز تھے۔ اس عظیم روحانی خانوادے سے منسلک ہونے کے بعد اس نسبت سے آپ کا اسم گرامی ’’محمد طاہرالقادری‘‘ مکمل ہوا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علم ومعرفت، تصوف و روحانیت، زہد و ورع، تقویٰ و طہارت اور ادب واخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کیوں نہ ہوں کہ آپ نے جن نامور علمی و روحانی ہستیوں سے اکتساب علم کیا وہ بھی اپنی مثال آپ تھے جن میں آپ کے عظیم والد گرامی فرید ملت حضرت علامہ ڈاکٹر فریدالدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ شیخ العرب والعجم حضرت علامہ محمد ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا عبدالرشید جھنگوی رحمۃ اللہ علیہ، استاذ العلماء ابوالبرکات حضرت علامہ سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ، شارح بخاری حضرت علامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ، مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمۃ اللہ علیہ، محدث حرم حضرت الشیخ السید محمد بن علوی المالکی المکی رحمۃ اللہ علیہ اور محقق عصر حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی شامل ہیں۔

زیر نظر مضمون میں ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ کے بارے میں چند ان جید علماء کرام و مشائخ عظام کی آراء کو قلمبند کریں گے جنہوں نے مختلف مواقع پر اپنے خطابات میں یا تحریک منہاج القرآن کے مرکز پر وزٹ کے دوران آپ کی علمیت تحریک اور آپ کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ المسلمین حضرت خواجہ قمرا لدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ

1966ء میں دارالعلوم سیال شریف میں جدید علوم کی کلاس کے آغاز کے وقت حضرت علامہ خواجہ قمرالدین سیالوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک علمی تقریب کا اہتمام کیا جس میں دیگر جید علماء کرام کے علاوہ فرید ملت حضرت علامہ ڈاکٹر فریدالدین قادری سے خصوصی تعلق کی بناء پر انہیں بھی مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر آپ کے صاحبزادے ’’محمد طاہرالقادری‘‘ بھی اپنے عظیم والد گرامی کے ہمراہ مدعو تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 15 سال تھی۔ حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نوجوان ’’محمد طاہرالقادری‘‘ کو بھی دعوت خطاب دی۔ انہوں نے صرف دس منٹ نہایت پر جوش علمی و فکری خطاب کیا جس کے بعد حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس نوجوان کا ماتھا چومتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر مائیک پر اپنے عظیم تاثرات سے نوازتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو! آپ نے اس بچے کا خطاب تو سن لیا ہے، میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں ہمیں اس بچے پر فخر ہے، ان شاء اللہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہی بچہ عالم اسلام اور اہلسنت کا قابل فخر سرمایہ ہوگا۔ میں تو شاید زندہ نہ ہوں لیکن آپ میں سے اکثر لوگ دیکھیں گے کہ یہ بچہ آسمانِ علم وفن پر نیّر تاباں بن کر چمکے گا۔ ان کے علم و فکر اور کاوش سے عقائد اہلسنت کو تقویت ملے گی اور علم کا وقار بڑھے گا۔ اہلسنت کا مسلک اس نوجوان کے ساتھ منسلک ہے۔ ان کی کاوشوں سے ایک جہاں مستفید ہوگا‘‘۔

غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ

1980ء کا واقعہ ہے جب مجلس رضا کے زیر انتظام ریلوے اسٹیشن لاہور کی مرکزی جامع مسجد ’’نوری‘‘ میں عرس مبارک حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر ایک پروقار علمی تقریب منعقد تھی جس کی صدارت غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی۔ مجلس رضا کے زیر اہتمام اس سالانہ علمی وفکری نشست میں دیگر جید علماء کرام کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو بھی دعوت خطاب دی جاتی تھی اور مذکورہ نشست میں بھی آپ کا خطاب تھا مگر صدر مجلس آپ کے خطاب کے بعد تشریف لائے۔ جب خطبہ صدارت فرمانے لگے تو آپ کی نظر ایک نوجوان پر پڑتے ہی اسے اپنے پاس بلاکر خطاب روک کر نہ صرف بغلگیر ہوئے، دستِ شفقت پھیرا، ماتھا چوما، خیریت دریافت کی بلکہ تقریب میں شرکت پر خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے علماء ومشائخ اور شرکاء محفل سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’ یہ نوجوان (محمد طاہرالقادری) جن سے میں ابھی ملا ہوں، ان کا خطاب آپ نے سنا ہوگا اور اسی سے ان کی قابلیت کا اندازہ بھی کرلیا ہوگا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے والد گرامی جو خود بھی ایک معتبر عالم اور معروف طبیب تھے اور میرے دوست تھے، یہ محمد طاہرالقادری ان کے بیٹے اور تربیت یافتہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو بہت ساری صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے میں نے اس نوجوان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے میں فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا نور رکھ دیا ہے جو مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہے گا اور ایک عالم کو فیضیاب کرے گا۔ کاش تم بھی اس نور کو پھلتا پھولتا دیکھ سکو۔ اللہ کرے ان کے اس علمی، فکری اور روحانی نور سے پورا عالم اسلام اور دنیائے اہلسنت روشن و منور ہوجائے۔ ان شاء اللہ ایسا ہوگا‘‘۔

ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ

1987ء میں قدوۃ الاولیاء شیخ المشائخ حضرت پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر صدارت پہلی عظیم الشان منہاج القرآن کانفرنس انعقاد پذیر تھی جس سے ضیاء الامت پیر طریقت حضرت علامہ پیر جسٹس محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’خدائے قدوس کا ہم پہ احسان ہے کہ اس نے آج کے دور میں اس مرد مجاہد جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو حسنِ بیان اور دردِ دل کے ساتھ سوچ، ذہن اور دل کی وہ صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ جن کی بدولت سب طلسم پارہ پارہ ہوجائیں گے اور وہ دن دور نہیں جب غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں کامیابی کا پرچم لہرا رہا ہوگا۔ اس مرد مجاہد نے امت کی حرماں نصیبی کے علاج کے لئے وہ نسخہ تجویز کیا ہے جس کے بارے میں کسی اہل دل نے کہا تھا:

یکے دو است بہ دار الشفائے میکدہ ہا
بہ ہر مرض کہ بنالد کے شراب یکست

اس دور پرفتن میں جب میں اس نوجوان کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا دل خدا کے حضور احساس تشکر سے بھرجاتا ہے۔ میری زبان پر بے ساختہ آتا ہے کہ مولا ہماری دولت ہمارے نوجوان ہم سے چھن گئے تھے۔ یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے اس مرد مجاہد سے ہمیں سہارا عطا کیا۔ نوجوانوں کو اس کے بیانات و خطبات سننے اور اس کی تحریریں پڑھنے سے تسکین ملتی ہے اور ہمارے دلوں سے دعا نکلتی ہے کہ اے خدا! اس مرد مجاہد کو عمر خضر عطا فرما اور ادارہ منہاج القرآن کے ذریعے پیغام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری دنیا تک پھیلا دے، اس کے قلم، زبان اور نگاہ کو وہ جرات اور حوصلہ عطا فرما کہ ہماری پژمردہ روحیں سرور سرمدی سے بہرہ ور ہوجائیں، اسکے جذبے اور عشق کا علم لے کر جب ہم میدان میں نکلیں تو ہماری زبان پر آخری کلمہ یہ ہو کہ رب کعبہ کی قسم ہم تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر سرکٹا کر زندگی کی بازی جیت کر جا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ساتھیوں کو مزید حسنِ خلوص اور صدق و استقامت عطا فرمائے تاکہ راستے کی سب مشکلات آسان ہوجائیں اور ان کے قدم منزل کی طرف بڑھتے ہی چلے جائیں‘‘۔

فضیلۃ الشیخ الدکتور محمد بن علوی المالکی رحمۃ اللہ علیہ

20 نومبر 1995ء کو مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن پر منعقدہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطبہ صدارت دیتے ہوئے محدث حرم فضیلۃ الشیخ الدکتور السید محمد بن علوی المالکی المکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

تحریک منہا ج القران کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا لیکن آج یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تو محسوس ہوا کہ حقیقت کے مقابلے میں کم سنا تھا۔ یہ مبارک اور خوشنما ثمرات یقیناً ایک ستھری، زرخیز زمین اور پاکیزہ بیج کا نتیجہ ہیں قائد تحریک صاف نیت اور پاکیزہ حسن کو لیکر نکلے ہیں۔ ان کے ارادے بلند اور جذبے جواں ہیں اس لئے کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں۔ یہ اس چیز اور برکت کا حصہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر زمانے میں جاری رکھتا ہے۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکت کا تسلسل ہے جس میں کبھی انقطاع نہیں آتا۔ جب بھی باطل کی طرف سے فتنہ و فساد آیا حق کی طرف سے اسے ختم کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لئے بھی کوئی شخصیت نمودار ہوجاتی رہی۔ ان پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا لطف وکرم اور نظر عنایت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتوں کے قاسم و مختار ہیں۔ یہ تقسیم قیامت تک جاری رہے گی اور حضور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیض جاری و ساری رہے گا۔

اس عالمی اجتماع میں شیخ قادری نے آپ کو بہت کار آمد نسخہ بتا دیا ہے یعنی تہجد، جہاد اور اجتہاد کو یکجا کرلو تو تمہارا مقابلہ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ کاش یہ تینوں صفات آج پھر ہمارے علماء ومشائخ میں پیدا ہوجائیں۔ آج بعض لوگ تہجد بھی پڑھتے ہیں لیکن وہ محض عابد رہتے ہیں علم سے ان کا سروکار نہیں ہوتا۔ بعض علم اور اجتہاد کی کوشش کرتے ہیں تو شب زندہ داری کی خصوصیت ان میں نہیں ہوتی اور اگر یہ دونوں چیزیں پیدا ہوجائیں تو جہاد کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔ کئی لوگ تصوف کے گن گاتے ہیں لیکن ان کا دامن علم اور عمل سے خالی ہوتا ہے۔ وہ جہاد سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر اس نسخے پر عمل ہوجائے تو کامیابی یقینی ہے۔

علامہ مفتی منیب الرحمٰن (کراچی)

نومبر 1995ء کو مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن میں منعقدہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن میں چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان اور نامور عالم دین حضرت علامہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری سرزمین پاک میں یوں تو تمسک بالقرآن کی کئی تحریکوں نے جنم لیا مگر تحریک منہاج القرآن کا امتیازی اعزازیہ ہے کہ تمسک بالقرآن کے لئے اس نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات سے محبت کو لازمی قرار دیا اور یہی اس تحریک کی فکری اساس ہے اور قائد تحریک کے نزدیک کلام الرحمٰن پڑھنے کے لئے اس ذات گرامی کی بارگاہ میں تلمیذ رشید بن کر بیٹھنا ضروری ہے جن کے قلب منیب پر قرآن پاک نازل ہوا۔ کوئی شخص کتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو جب تک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت و اتباع اور غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں نہیں ڈالتا اس کا سارا علم غارت جائے گا۔

ابوالبیان علامہ سعید احمد مجددی (گوجرانوالہ)

عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطیب پاکستان ابوالبیان حضرت علامہ سعید احمد مجددی صاحب (ناظم اعلیٰ سنی جہاد کونسل) نے تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک منہاج القرآن جو ایک عالمگیر، ہمہ جہت، کثیرالمقاصد بین الاقوامی تحریک ہے نے ہر سطح پر عالمگیر غلبہ اسلام اور مصطفوی انقلاب، تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ اور مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ 1986ء میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی شرعی عدالت میں قائد تحریک نے مسلسل تین دن تک طویل بحث کرکے گستاخ رسول کی سزا سے متعلق قرآن وسنت کی روشنی میں یہ قانون پاس کرایا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرتد ہے اور اس کی سزا موت بصورت حد ہے۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ گستاخانِ رسول کو تلاش کرکے جہاں بھی ملیں واصل جہنم کردے۔ انہوں نے قائد تحریک کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے اس موقع پر فرمایا تھا ’’جس امت کی غیرت اس زمین پر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زندہ رہنا گوارا کرتی ہے خدا کی غیرت اس امت کا زمین پر زندہ رہنا گوارا نہیں کرتی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے کارکنان، وابستگان پوری دنیا میں تحفظ ناموس رسالت کے امین ہیں اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت وناموس کے تحفظ کی خاطر اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔

ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر

ملک کے معروف دانشور، محقق، عربی زبان کے ماہر، ڈین آف پنجاب یونیورسٹی، پرنسپل اورنٹیل کالج اور ماہرتعلیم جناب پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر صاحب نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

تحریک منہاج القرآن بحمداللہ تعالیٰ پاکستان و بیرون پاکستان دعوت و ارشاد کو عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق بہت منظم اندازمیں سرانجام دے رہی ہے۔ اس کے بانی قائد فاضل جلیل علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جس جانفشانی اور محنت سے احیائے اسلام کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں یہ ان پر اللہ کا خاص فضل وکرم ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں قادری صاحب سے ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس دور کا مجدد اور مصلح صحیح معنوں میں وہی ہوگا جو لخت لخت امت کو متحد ومتفق کرے گا کیونکہ ہمیں جتنا نقصان اس وقت فرقہ پرستی نے پہنچایا ہے اتنا اور کسی چیز نے نہیں پہنچایا۔ تحریک منہاج القرآن کو اتحاد امت کی نہ صرف دعوت دینی چاہئے بلکہ عملاً پیش رفت بھی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا نظام تعلیم تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ میں بطور ڈین یونیورسٹی اور پرنسپل اورنٹیل کالج پوری دیانت کے ساتھ یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے سرکاری و نیم سرکاری ادارے قوم کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے یہاں سیاست، غنڈہ گردی اور ہلڑ بازی نے تعلیم کے ماحول کو بری طرح تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری نظریں ایسے ہی دینی اداروں پر پڑتی ہیں جہاں محنت خلوص اور درد کے ساتھ اساتذہ اور طلباء ایک خاص تعلیمی ماحول میں مطلوبہ معیار کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے منہاج القرآن اسلامک یونیورسٹی کا تعلیمی نصاب اور اس کا تربیتی نظام قابل رشک بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ اللہ کرے یہاں کے فارغ التحصیل لوگ آگے چل کر صحیح معنوں میں امت کی راہنمائی کا فریضہ نبھا سکیں۔

علامہ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر (سندھ)

عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سندھ کی معروف علمی و روحانی شخصیت ابوالخیر علامہ صاحبزادہ ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان میں یوں تو سینکڑوں تنظیمیں ہیں لیکن تحریک منہاج القرآن کی مقبولیت اور پذیرائی کا گراف ان سے مختلف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی اساس، محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اس لئے کہ دامن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ میں رہے تھ سب کچھ ملتا ہے۔ یہ سعادت چھوٹ جائے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ علم بھی اور عمل بھی تب کسی کام کے ہیں جب محبت و عشق کی آمیزش ہو، کامیابی کا راستہ وہی ہے جو مدینہ کی گلیوں سے گزر کر جاتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی سرپرستی کرنے والے ماشاء اللہ سب ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں اس لئے اس کی کامیابی یقینی ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد مقصود احمد قادری

خطیب مرکزی جامع مسجد دربار حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمد مقصود احمد قادری نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تحریک منہاج القرآن اور پاکستان کی دیگر تحریکات میں واضح فرق یہ ہے کہ اس تحریک کی اساس و بنیاد عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فروغ اور حب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوت جگانا ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق کی خوشبو ایسی ہے جہاں بھی مہک رہی ہو لوگ کشاں کشاں چلے آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی تحریک عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی اساس بنائے بغیر کامیابی سے ہرگز ہمکنار نہیں ہوسکتی اور اس تحریک کا کوئی بھی ورکر اس وقت تک صحیح اور مخلص ورکر نہیں بن سکتا جب تک اس کے سینے میں غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسا جذبہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور اس تحریک کا خمیر بھی عشق رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اٹھا ہے لہذا وہ تمام مشائخ و علمائے کرام جو حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ حاضری دیتے ہیں ان سے میری درخواست ہے کہ وہ تحریک منہاج القرآن کے ساتھ دامے درمے قدمے سخنے تعاون فرمائیں اور اس تحریک کی سرپرستی کریں۔

(بحوالہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن 20 نومبر1995ء)

حضرت علامہ مفتی حافظ محمد عالم

شہر اقبال سیالکوٹ کے نامور اورمعروف بزرگ عالم دین استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی حافظ محمد عالم نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔

اب باہمی نزاعات اور انتشار میں الجھنے کا وقت نہیں اب کفر ہمارے گھروں میں دندناتا پھرتا ہے اسلام کو ہر سمت سے دبایا جا رہا ہے اس لئے اے علماء ومشائخ! اٹھو اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کی بقاء و سربلندی کے لئے سرگرم ہوجاؤ۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ جو میرا شاگرد مجھ سے محبت کرتا ہے وہ منہاج القرآن کے ساتھ محبت و تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم علامہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کی ہمت، جرات اور محنت و مشقت کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حضرت علامہ مولانا عبدالرؤف (جنوبی افریقہ)

جنوبی افریقہ میں سلسلہ چشتیہ سلیمانیہ کے سجادہ نشین اور پرجوش نوجوان شخصیت حضرت علامہ مولانا عبدالرؤف نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کا ہر شخص اپنی قسمت پر ناز کرے کہ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صورت میں ایک ایسی ہمہ پہلو شخصیت سے نوازا ہے جو ایک وقت میں صوفی، مجاہد، مجتہد، مقنن، مبلغ اور داعی بھی ہے۔ جو باطل طاغوتی غنڈوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے اور عالم اسلام میں یہ واحد ایسی شخصیت ہیں جو UN میں مسلمانان عالم کی صحیح نمائندگی کرسکتے ہیں قائد تحریک کا جو مقام اور عزت ساؤتھ افریقہ کے مسلمانوں کے دلوں میں ہے وہ شاید یہاں نہیں۔ یہ ہماری عقیدتوں کے مرکز ہیں۔ ہم نے بہت روحانی اور مذہبی رہنماؤں کو دیکھا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب جس لگن اور خلوص سے دین کا کام کرتے ہیں وہ اس دور میں کسی اور کے حصے میں نہیں آیا اس لئے ہم اپنی پوری صلاحیتیں تحریک کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ ان شاء اللہ ساؤتھ افریقہ میں اب تحریک کی دعوت پہلے سے بھی بڑھ کر ہوگی اور وہاں اسلام مضبوط بنیادوں پر انسانیت کی راہنمائی کرے گا۔

محدثِ شام فضیلۃ الشیخ السید محمد الیعقوبی

ملک شام کے عظیم محدث فضیلۃ الشیخ حضرت السید محمد الیعقوبی جو 2004ء میں تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کے لئے شام سے خصوصی طور پر تشریف لائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا۔

’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحریک منہاج القرآن کے مرکز اور اس کے تحت ہونے والی شاندار سالانہ عالمی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس میں شرکت کا موقع فراہم فرمایا۔ اس تحریک کے بانی و سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات اور ان کی زیارت بھی میرے لئے باعث سعادت ہے۔ مجھے خاص طور پر تحریک کے مخلص قائدین اور تحریک کے وابستگان کو دیکھ کر بہت روحانی مسرت ہوئی ہے۔ جن کے دلوں میں حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بھری ہوئی ہے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ نعمت انہیں محترم ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے طفیل نصیب ہوئی ہے۔

مجھے ڈاکٹر صاحب کے آثار علمی جن میں ان کی کتب اور ان کے اداروں سے فارغ ہونے والے کثیر طلباء ہیں جنہیں دیکھ کر دلی اطمینان اور خوشی ہوئی۔ یہاں سارے ادارے، لائبریریاں، دفاتر اور شعبے قابل تقلید اور قابل رشک انداز سے خدمت دین میں محو ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہاں ڈاکٹر صاحب کے علم و فکر کو قد آور اور مفید پھلدار درخت کی طرح دیکھا ہے جس پر ہمہ وقت اللہ کے فضل وکرم سے فصلِ بہار کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔

فضیلۃ الشیخ احمد دیدات (ساؤتھ افریقہ)

ساؤتھ افریقہ سے عالم اسلام کے نامور سکالر فضیلۃ الشیخ احمد دیدات نے مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن میں قائد تحریک سے ملاقات کے بعد سیکرٹریٹ کے شعبہ جات کے وزٹ کے موقع پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے فرمایا۔

’’میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی احیاء اسلام اور دین کی سربلندی کے لئے کی جانے والی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں نے دنیا بھر میں کوئی بھی تنظیم یا تحریک، تحریک منہاج القرآن سے بہتر منظم اور مربوط نہیں دیکھی۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور ان کی تنظیم، اسلام کے احیاء اور سربلندی کے لئے صحیح سمت پر گامزن ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات اور ادارہ منہاج القرآن کا وزٹ میرے لئے باعث مسرت ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اسلام کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

حضرت الشیخ العلامہ عبداللہ بخاری (دہلی)

ہندوستان کے معروف عالم دین اور شاہی مسجد دہلی کے خطیب/ امام حضرت علامہ الشیخ محمد عبداللہ بخاری نے مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن کے وزٹ کے بعد اپنے تاثرات میں فرمایا۔

’’منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تحریک کے شعبہ جات اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات کو دیکھ کر مجھے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا جسکو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ادارے کے علمی کام کا کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید عروج اور سربلندی سے نوازے اور امت مسلمہ عالمی سطح پر اس ادارے سے مستفید ہو اور علم و آگہی کی پیاس اس ادارہ کے ذریعے بجھتی رہے۔ ‘‘

فضیلۃ الشیخ محمد ابوالخیر الشکری

ملک شام سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان معروف سکالر فضیلۃ الشیخ محمد ابوالخیر الشکری نے عالمی میلاد کانفرنس سے اپنے خطاب میں تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔

’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور درود و سلام ہو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ پر۔ مجھے سوریا (شام) کے اجل علماء جن میں فضیلۃ الشیخ العالم الفقیہہ الحنفی الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی اور فضیلۃ الشیخ الدکتور شہاب الدین احمد صالح الفرفور کی صحبت میں انٹرنیشنل تحریک منہاج القرآن کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی عظیم کانفرنس میں شریک ہوئے اور اس طرح کی میلاد کانفرنس میں ہم آج تک شریک نہیں ہوسکے تھے اور نہ ہی اس طرح کے عظیم اجتماع کے بارے میں ہم نے سن رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کا دورہ بھی کیا اور تحریک کے تمام شعبہ جات جن میں جامعہ منہاج القرآن، گرلز کالج اور تحفیظ القرآن ماڈل سکول بھی شامل ہیں سب کا تفصیلی دورہ کیا۔ ان تمام چیزوں کے مشاہدے نے ہمارے سینوں کو ٹھنڈا اور ہمارے دلوں کوفرحت بخشی اور ہمیں اس تمام نیٹ ورک کے پیچھے بہت زیادہ کاوشیں کار فرما نظر آئیں۔ جس کی مثال عالم اسلام میں نہیں ملتی۔

ہمارے اس وزٹ کا ماحصل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زیارت ہے۔ ان کی شکل میں ہم نے ایک سچے عالم اور ایک عظیم لیڈر کی جھلک دیکھی وہ ایسے محقق ہیں جن کی مثال آج کی مسلم دنیا میں یقیناً نہیں ملتی۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ تحریک منہاج القرآن اور اس کے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو حفظ و امان میں رکھے اور جو عنایت، محبت اور شفقت انہوں نے ہمیں عطا کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر اپنے خزانہ خاص سے عطا فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے خوابوں کی تکمیل فرمائے۔ آمین

فضیلۃ الشیخ حضرت اسعد محمد سعید الصاغرجی

ملک شام کے اجل عالم دین، فقیہہ اور شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ حضرت اسعد محمد سعید الصاغرجی نے عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے تاثرات میں فرمایا۔

’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو ہمارے آقا ومولیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر۔ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پاک کی یاد میں منعقد کی جانے والی عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کی غرض سے حاضر ہوئے۔ ہم نے منہاج القرآن کے مختلف شعبہ جات اور سرگرمیوں کو ملاحظہ کیا تو ہماری عقل دنگ رہ گئی۔ خاص طور پر اس دینی تحریک کا نیٹ ورک اور Management جس کی سرپرستی اور رہنمائی خود شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کر رہے ہیں یہ یقیناً قابل رشک ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمر دراز عطا کرے اور ان کے وجود مسعود سے مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچائے۔ ہم یہ تمنا کرتے ہیں کہ منہاج القرآن کی پوری دنیا میں شاخیں ہوں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم بھی اس تحریک کے سپاہی بن کر خدمت کا فریضہ ادا کریں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ حضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری کی عمر دراز فرمائے اور اسلام کے لئے شیخ الاسلام کے نیک ارادوں کو پورا فرمائے اور اپنے اس قول لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْن کے مصداق اسلام کو غالب و فائق کردے۔

سابق خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالقادر آزاد

بادشاہی مسجد کے سابق خطیب اور داعی اتحاد بین المسلمین محترم مولانا عبدالقادر آزاد نے دی منہاج یونیورسٹی کے وزٹ کے موقع پر اپنے تاثرات میں کہا کہ مجھے آج جامعہ منہاج القرآن میں حاضری کا موقع ملا اور یہاں قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج دیکھ کر امید پیدا ہوئی کہ دنیا بھر میں اسلام کی برتری کی موجودہ تحریک میں یہ ادارہ گرانقدر خدمات سرانجام دے گا۔ اس پر ادارہ کے بانیِ مفکر اسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جملہ اساتذہ وطلباء اور معاونین قابل مبارک باد ہیں۔

Advertisements

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن | 1 Comment »

کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سٹڈیز، دی منہاج یونیورسٹی

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سٹڈیز
 

18ستمبر 1986ء بمطابق 11رجب 1406ھ علوم وفنون اور تہذیب و ثقافت کے مرکز لاہور میں جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے نام سے ایک عظیم درسگاہ معرض وجود میں آئی جو آج الحمدللہ تعالیٰ اپنے منفرد نظام تعلیم و تربیت، اعلیٰ کارکردگی اور امتیازی نظم و نسق کی بدولت اس وقت ”دی منہاج یونیورسٹی“ کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ ارتقاء کا عمل جاری ہے اور ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب اس مادر علمی کی آغوش میں پرورش پانے والے نوجوان ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کریں گے۔دی منہاج یونیورسٹی کے تحت چلنے والے اداروں میں سب سے پہلا ادارہ کالج آف شریعہ انیڈ اسلامک سٹڈیز COSIS ایک عظیم دانش گاہ اور علوم وفنون کی تعلیم و تربیت کا ایک حسین اور پرشکوہ مرکز ہے۔اس میں زیرِ تعلیم طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے کےلئے قدیم و جدید علوم کے امتزاج کا خاطر خواہ اہتمام کیا گیا ہے۔ پرو چانسلر دی منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی عظیم علمی و فکری شخصیت کی زیرنگرانی طلبہ کی اخلاقی و روحانی اور دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون کی تدریس کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔

قیام کے مقاصد

  1. کتاب وسنت کی روشنی میں اسلام کی ایسی تعبیر جس سے دور حاضر کے مسائل اورانسانیت کو درپیش مشکلات کا یقینی اور قابل عمل حل میسر آئے۔
  2. نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت کی ایسی تعلیم جو امت مسلمہ کو حقیقی وحدت کی اساس فراہم کرے۔
  3. نسل نو کی علمی و عملی، فکری و نظریاتی اور اخلاقی و روحانی تربیت کا ایسا مؤثر اہتمام جس سے وہ ملک وملت کی مخلصانہ اور ماہرانہ خدمت کے اہل ہو سکے۔
  4. مخصوص تنگ نظری اور باہمی تعصبات و فرقہ پرستی کی حامل محدود سوچ سے بالاتر ہو کر طلبہ کو اس قابل بنانا کہ وہ امت مسلمہ کے عالمگیر اتحاد کی منزل کے حصول کےلئے اہم کردار ادا کر سکیں ۔
  5. طلبہ کی ایسی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا جس سے ان میں صالحیت، ایثار اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہو۔
  6. طلبہ کوجدید مروجہ علوم کی تعلیم سے بہرہ ور کرنا تاکہ وہ تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی اسلام کی حقانیت سے آگاہ کر سکیں اور معاشرے کے کسی بھی شعبے میں کامیاب عملی زندگی گزار سکیں۔

نصاب:
کالج کا نصاب چونکہ علوم عصریہ و دینیہ کا حسین امتزاج ہے اس لئے علوم عصریہ میں لاہور بورڈ کے مروجہ نصاب F.A اور I.C.S، پنجاب یونیورسٹی کے B.A اور M.A عربی و اسلامیات پر مشتمل ہے علاوہ ازیں کمپیوٹر سائنسز بھی شامل نصاب ہیں۔

علوم دینیہ میں علوم القرآن، علوم الحدیث، علوم الفقہ، علم العقائد، علم التصوف، سیرت، علم المیراث، عربی زبان و ادب، اصول الدعوۃ، تقابل ادیان، تاریخ اسلام اور اسلامی افکار ونظریات جیسے مضامین کو شامل نصاب کیا گیا ہے۔

نظام تعلیم

٭ پہلا مرحلہ: الشھادۃ الثانویہ مع ایف اے/ آئی سی ایس

اس مرحلہ میں طلبہ کو دو سال میں علوم شریعہ کے ساتھ ساتھ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے مقررہ نصاب کے مطابق ایف اے/ آئی سی ایس کرایا جاتا ہے اور عربی تکلم، انگلش لینگوئج اور کمپیوٹر کورسز کرائے جاتے ہیں۔

٭ دوسرا مرحلہ: الشھادۃ العالیہ مع بی ای

یہ مرحلہ دو سالوں پر مشتمل ہے اس مرحلہ میں علوم شریعہ کے مقررہ نصاب اور پنجاب یونیورسٹی کے بی اے کے مقررہ نصاب کی تکمیل کروائی جاتی ہے۔

٭ تیسرا مرحلہ: الشھادۃ العالمیہ (ایم اے عربی و علوم اسلامیہ)

یہ مرحلہ تین سالوں پر مشتمل ہے جس میں دورہ حدیث کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ تکمیل نصاب پر طلبہ سے ایک ضخیم تحقیقی مقالہ بھی لکھوایا جاتا ہے اور کامیاب طلبہ کو الشھادۃ العالمیہ دی جاتی ہے جس کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (ہائر ایجوکیشن H.E.C) کے نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں کے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

شعبہ خط وکتابت کورسز

آج کل پوری دنیا میں میڈیا اور ڈاک کے ذریعہ سے زیور علم سے آراستہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے آج کی اس مصروف ترین زندگی میں گھر بیٹھے تعلیم کا حصول آسان ہوگیا ہے۔ چنانچہ تحریک منہاج القرآن جو ایک عالمی و احیائے تحریک ہے اس نے بھی اس جدید طریق تعلیم کو اختیار کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے حکم پر یکم اپریل2000ء سے انسٹی ٹیوٹ آف شریعہ کارسپانڈنس کورسز کا آغاز کیا۔ جن سے اندرون وبیرون ملک تقریباً 300 خواتین وحضرات یکساں طور پر مستفیض ہو رہے ہیں ۔ یہ شعبہ ملک کے نامور ماہر تعلیم پرنسپل کالج آف شریعہ محترم ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کی زیر نگرانی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آغاز میں ڈپلومہ ان شریعہ، انٹر ان شریعہ اور ڈگری ان شریعہ کورسز کا آغاز کیا گیا۔ دو سال بعد ماسٹر ان شریعہ اور ترجمہ قرآن پر مشتمل عرفان القرآن کورس بھی شروع کر دیے گئے۔ ترجمہ قرآن کو آسان بنانے کےلیے کثیرالاستعمال 310 الفاظ اورعربی گرائمر کا مجموعہ تیار کیا گیا۔ جس سے استفادہ کر کے ہر ایک جلد قرآنی مفاہیم سے مستفیض ہوسکتا ہے۔ جبکہ بقیہ کورسز قرآن مجید، حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، دعوت و اصلاح اور تقابل ادیان کے سمسٹرز پر مشتمل ہیں۔

نمبرشمار نام کورس کل رجسٹریشن باقاعدہ کورس

اخلاقی و روحانی اور علمی و ادبی سرگرمیاں

کالج میں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لئے نماز پنجگانہ و تہجد، محافل ذکر ونعت، صیام رمضان اور احکام شریعت کی پابندی کروائی جاتی ہے۔ ہمہ وقت باوضو رہنا، ایام بیض کے روزے رکھنا، شب بیداری اور سالانہ اجتماعی اعتکاف میں شرکت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ علمی و ادبی سرگرمیوں میں طلبہ کو تجوید و قرات، نعت خوانی اور فن خطابت، تحریر و تحقیق اور شعر و ادب کی تربیت سے بہرہ ور کرنے کے لئے باقاعدہ ایک علمی و ادبی تنظیم ”بزم منہاج“ کے نام سے قائم کی گئی ہے۔

طلبہ کی ذہنی و جسمانی نشوونما کےلئے ڈائریکٹر سپورٹس کی زیر نگرانی منہاج سپورٹس مصروف عمل ہے۔ جس کے تحت طلبہ اپنی جسمانی استعداد اور طبعی میلان کے مطابق کم و بیش اٹھارہ کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں نیز کالج کے طلبہ میں انٹر کلاسز اور دیگر کالجز کے مقابلہ جات بھی باقاعدگی سے کروائے جاتے ہیں جن میں کالج ہذا کے طلبہ کی کارکردگی ہمیشہ شاندار رہی ہے۔

Summary of FA Results of COSIS – 1996-2004

2004ء 2003ء 2002ء 2001ء 2000ء 1999ء 1998ء 1997ء 1996ء Details

Summary of BA Results of COSIS – 1996-2004

2004ء 2003ء 2002ء 2001ء 2000ء 1999ء 1998ء 1997ء 1996ء Details

کالج کے اعزازات

الحمدللہ یہ کالج عظیم اساتذہ کرام کی شبانہ روز نگرانی اور محنت کی بدولت روز افزوں ترقی کر رہا ہے ۔جس کا بین ثبوت کالج کے درج ذیل اعزازات ہیں:

اسمائے گرامی ادارہ سال پوزیشن

ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے منہاجینز

نمبرشمار اسمائے گرامی   ادارہ کیفیت

سینئر اساتذہ کرام

نمبرشمار اسمائے گرامی  

وزٹنگ پروفیسرز

نمبرشمار اسمائے گرامی  

سابقہ اساتذہ کرام (علوم شریعہ) کے اسمائے گرامی

  • حافظ مفتی محمدخان قادری صاحب
  • علامہ عبدالمصطفیٰ شاہ بخاری
  • علامہ محمد اشرف جلالی صاحب
  • علامہ ظہور الہی صاحب
  • مفتی علی احمد سندھیلوی صاحب
  • علامہ شاہ محمد نوری (مرحوم)

سابقہ اساتذہ کرام (علوم عصریہ) کے اسمائے گرامی

  • پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید اعوان صاحب
  • پروفیسر منور صاحب
  • پروفیسر عصمت علی شاہ صاحب
  • پروفیسر ارشادالحسن صاحب
  • پروفیسر ظفر الحق مجید چشتی صاحب
  • پروفیسر منہاج الدین صاحب
  • پروفیسر سمیع الظفر نوشاہی صاحب
  • پروفیسر محمد ریاض بھٹی صاحب
  • پروفیسر محمد یاسین صاحب
  • پروفیسر آغا محمد یامین صاحب
  • پروفیسر محمد رفیق صاحب

مصری اساتذہ سابقہ

  • الشیخ محمد بن علوی المالکی
  • الشیخ مہدی معطی
  • الشیخ جمال الدین ملا
  • الشیخ سعدی
  • الشیخ فودہ
  • الشیخ عبدالجزار الامین
  • الشیخ عبدالرزاق
  • الشیخ محمد علی عراقی
  • الشیخ محمدکمال جلال الصاوی
  • الشیخ عبدالمقتدر علوان
  • الشیخ محمد غباشی ابراہیم
  • الشیخ حمدون احمد عبدالرحیم مسلم
  • الشیخ محمد یوسف یونس

شعبہ جات اورانتظامی ذمہ داریاں

  • پرنسپل: پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر
  • کوآرڈینیٹر اکیڈمک: محترم آصف محمود
  • کوآرڈینیٹر ایڈمن اینڈفنانس: محترم محمد عباس

شعبہ امتحانات

  • کنٹرولر امتحانات: پروفیسر محمد نواز ظفر
  • اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات: محترم حافظ زاہد یوسف/ محترم ظفر اقبال

شعبہ داخلہ

  • انچارج داخلہ: محترم منظور حسین

شعبہ تحقیق

  • شعبہ خط وکتابت کورسز
  • کوآرڈینیٹر:محترم ظہور اللہ الازہری
  • انچارج: محترم غلام مجتبیٰ طاہر

سلیبس

  • انچارج:محترم محمد الیاس اعظمی

ہاسٹل

  • ہاسٹل وارڈن: محترم ممتاز الحسن
  • سپریننڈنٹ بلاک نمبر 1 محترم ظفر اقبال
  • سپریننڈنٹ بلاک نمبر 2 محترم صابر حسین
  • سپریننڈنٹ بلاک نمبر 3 محترم غلام مجتبیٰ طاہر

لائبریری

  • انچارج لائبریری: محترم عبدالقدوس درانی
  • لائبریرین: محترم شاہد رضا

شعبہ کمپیوٹر

  • انچارج : محترم شاہد نواز

بزم منہاج

  • انچارج: محترم رانا محمد اکرم قادری

سپورٹس

  • ڈائریکٹر: پروفیسر ایس ایم شفیق اسسٹنٹ ڈائریکٹر: محترم اقبال مرتضیٰ حیدر

شعبہ اکاؤنٹس

  • اکاؤنٹنٹ: محترم محمد منیر اعوان
  • کیشیر: محترم سید ارشد محمود شاہ

میس

  • انچارج: حافظ آصف محمود
  • انچارج فنانس: رانا وحید احمد

فارغ التحصیل طلبہ کا مستقبل

  1. فارغ التحصیل طلبہ کے لئے تحریک منہاج القرآن کے تحت اندرون و بیرون ملک مختلف مراکز، اسلامک سنٹرز، ماڈل سکولز اور کالجز میں روزگار کے مواقع میسر ہیں۔ فضلاء مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بھی تعلیمی و تدریسی، علمی و تحقیقی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں کالج سے فارغ ہونے والے سکالرز بیرون ملک امریکہ، یورپ، سکینڈے نیویا اور عرب ممالک میں تدریسی، دعوتی، تبلیغی اور تحریکی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
  2. کالج ہذا کی سند ”الشھادۃ العالمیہ“ (ایم اے عربی و اسلامیات) کی ڈگری کی بنیاد پر اندرون ملک کسی بھی محکمے میں ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت ادارہ ہذا سے فارغ ہونے والے سکالرز پبلک سروس کمیشن اور دیگر صوبائی سلیکشن بورڈز کے ذریعے منتخب ہوکر مختلف سرکاری سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
  3. کالج سے فارغ ہونے والے ذہین طلبہ مقابلے کے کسی بھی امتحان میں شریک ہوکر سول سروسز، آرمڈ فورسز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔

تاحال منہاجینز کی مصروفیات اور ذمہ داریوں کا جائزہ

ذمہ داری 1992 1994 1995 1996 1997 1998 1999 2000 2001 2002 2003 2004 ٹوٹل

فارغ التحصیل طلباء

سیشن کل تعداد فاضلین ڈگری ہولڈرز

تعداد طلبہ 06-2005

نمبرشمار کلاس کل رجسٹریشن سیکشن A سیکشن B سیکشن C سیکشن D

سیشن وائز دی گئی سالانہ رعایت

کالج کے مستحق اور قابل طلباء کو فیس میں خاطر خواہ رعایت بھی دی جاتی ہے جس بناء پر وہ حصول تعلیم کے سلسلہ کو آسانی سے آگے جاری رکھ سکتے ہیں۔

نمبر شمار سیشن تعداد طلبہ سالانہ کل رقم

کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سٹڈیز کا Covered Area

  • اکیڈمک بلاک (لمبائی، چوڑائی) 46292 فٹ
  • ہاسٹل (لمبائی، چوڑائی) 11760 فٹ
  • مسجد (لمبائی،چوڑائی) 9558 فٹ

اکیڈمک بلاک

کلاس رومز 20 عدد
کمپیوٹر لیب ایک عدد
مہمان خانہ ایک عدد

ہاسٹل

طلبہ رہائش کمرے 26عدد تعداد طلبہ 535

Posted in تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

منہاج یونیورسٹی

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

دی منہاج یونیورسٹی
 

یہ ایک مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے تقریباً بارہ سو سال کا طویل عرصہ دنیا پر حکمرانی کی۔ جس کا واحد سبب اس کا علمی تفوق تھا۔ مسلمانوں کے اس سیاسی وثقافتی عروج کا آغاز معلم انسانیت حضور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قائم کردہ صفہ یونیورسٹی سے ہوا جس نے عرب جیسی اُمّی اور جاہل قوم کو علم وفضل کی دولت کے ذریعے عظمت ورفعت کے بام عروج تک پہنچایا۔ اسی صُفّہ یونیورسٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں نے بغداد، قاہرہ، سمرقند، بخارا، سپین، تیونس، مراکش، دمشق کے علاوہ بلاد افریقہ اور ہند میں تعلیم وتربیت کی عظیم اور شاندار درسگاہیں قائم کیں اور اقوام عالم کی امامت کے منصب پر فائز ہوئی۔ مسلمانوں کے اسی عظیم تعلیمی ورثے نے یورپ، روس، امریکہ اور دیگر اقوام عالم کو فکر وتدبر کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے۔سیاسی زوال کے بعد مغربی استعمار نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو خاص طور پر اپنا ہدف بنایا۔ نتیجتاً دینی اور دنیوی تعلیم کو جداگانہ حیثیت دے دی گئی اور پورا نظام تعلیم ثنویت کا شکار ہو کر بانجھ ہوگیا۔ دینی تعلیم مسجدوں اور مدرسوں تک محدود ہوکر رہ گئی اور دنیوی تعلیم کا دائرہ کار کالجز اور یونیورسٹیز تک مقید ہو کر رہ گیا۔ اسی ثنویت نے ملت اسلامیہ کو فکری انتشار اور علمی زوال سے دوچار کیا اور ان پر ترقی کی راہیں مسدود ہوگئیں۔ استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اکثر مسلم ممالک میں احیائے اسلام کی کاوشیں شروع ہوئیں تو علمی محاذ پر بھی مختلف اداروں نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ اسی سلسلہ میں تحریک منہاج القرآن نے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی میں جن میدانوں میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا تعلیم کا شعبہ ان میں بطور خاص قابل ذکر ہے۔منہاج القرآن کے تعلیمی منصوبہ جات میں سب سے اہم منہاج یونیورسٹی کا قیام ہے۔

منہاج یونیورسٹی کا ارتقائی سفر

110 کنال کے وسیع رقبے پر منہاج یونیورسٹی کے پھیلے ہوئے اولڈ اور نیو کیمپس کا سنگ بنیاد جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور کے نام سے 1986ء میں رکھا گیا جب ادارہ منہاج القرآن کی مرکزی باڈی نے اس عظیم تعلیمی منصوبے کو حتمی شکل دی اور فروغ علم کے عظیم مشن کے حصول کی خاطر وسیع رقبہ اراضی حاصل کیا گیا۔

الحمد للہ تعالی یہ دانش گاہ اپنے قیام کے چند سال بعد ہی اپنے منفرد و مؤثر نظام تعلیم و تربیت، اعلیٰ کارکردگی اور امتیازی نظم و نسق کی بدولت یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس علوم اسلامیہ عصریہ، علوم شریعہ اور جدید فنی وسائنسی علوم کی تعلیم و ترویج کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ کامرس، کمپیوٹر سائنسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینجمنٹ سائنسز، بیسک سائنسز اور سوشل سائنسز میں فروغ تعلیم کا سلسلہ 1995ء میں شروع ہوا اور چند سال کے مختصر عرصہ میں منہاج یونیورسٹی اس میدان میں ایک بڑا نام بن چکا ہے۔

عالمی اداروں سے الحاق ( Affiliations)

کامرس، کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کورسز کا الحاق پنجاب یونیورسٹی سے ہے جبکہ علوم اسلامی اور علوم شریعہ میں کالج آف شریعہ کی ڈگری (شہادۃ العالمیۃ) کو 1992ء سے نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے بطور ایم اے اسلامیات وعربی کی ڈگری کی حیثیت سے منظوری حاصل ہے بلکہ مصر کی بین الاقوامی الازہر یونیورسٹی سے Equivalence حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بغداد کی مستنصریہ یونیورسٹی نے منہاج یونیورسٹی کی شہادت العالمیہ کو مساوی درجہ دیتے ہوئے مستنصریہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے تسلیم کیا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ساتھ منہاج یونیورسٹی کی Affiliations/ Collaboration اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کا نظام تعلیم اعلیٰ اور معیاری ہے۔

چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی، تحریک منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہیں جبکہ وائس چانسلر کی ذمہ داریاں ملک کے نامور ماہر تعلیم محترم ڈاکٹر محمد نذیر رومانی باحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی چارٹر

منہاج یونیورسٹی چھ Faculties پر مشتمل ہے:

  1. فیکلٹی آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی
  2. فیکلٹی آف کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنسز
  3. فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز
  4. فیکلٹی آف بیسک سائنسز اینڈ میتھمیٹکس
  5. فیکلٹی آف لینگوئجز
  6. فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز

ان فیکلٹیز میں 20 ڈیپارٹمنٹس تجربہ کار ماہرین تعلیم کی براہ راست نگرانی میں بڑے احسن انداز سے چل رہے ہیں۔ان شعبہ جات کےلئے اولڈ اور نیو کیمپس میں انٹرمیڈیٹ سے ماسٹر لیول تک کے پروگرامز کیلئے ہر طرح کی جدید تعلیمی سہولیات ملٹی میڈیا، لائبریریز، اور لیبارٹریز مہیا کی گئی ہیں۔ منہاج یونیورسٹی چونکہ مختلف ڈگری پروگرامز پہلے سے ہی پنجاب یونیورسٹی سے Affiliation کے تحت کرا رہی ہے اور HEC سے بھی اسے منظوری حاصل ہے جبکہ غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی اس کی ڈگری کو تسلیم کرتی ہیں لہذا حکومت پنجاب سے رجوع کیا گیا کہ منہاج یونیورسٹی کو چارٹر کیا جائے۔ الحمد للہ اس سلسلے میں حال ہی میں سرخروئی حاصل ہوئی اور چارٹر کیس حکومت پنجاب کی کابینہ کی منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہوگیا ہے۔

منہاج یونیورسٹی کے تحت کالجز

گزشتہ 20 سالوں میں یہ دانش گاہ اپنے منفرد نظام تعلیم و تربیت، اعلیٰ کارکردگی اور مثالی نظم ونسق کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس کی نیک شہرت یورپ، امریکہ، مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے تحت ہر کالج ایک شاندار اور پرشکوہ علمی مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ذیل میں اس کے پانچ اہم کالجز کا تعارف اور ان کی کارکردگی پر مبنی مختصر رپورٹ قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔

  1. کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سٹڈیز
  2. منہاج کالج آف کمپیوٹر سائنسز اینڈ کامرس
  3. منہاج گرلز کالج

Posted in تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
 


دور حاضر کے عظیم اسلامی مفکر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری پاکستان کے شہر جھنگ میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم اے کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اول پوزیشن کے ساتھ پاس کر کے نیا تعلیمی ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ نے ایل ایل بی (قانون) کا امتحان بھی پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی نے آپ کو Punishments in Islam, their Classfication and Philosophy کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی۔آپ نے عالم اسلام کی عظیم المرتبت روحانی شخصیت قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اﷲ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ان سے طریقت و تصوف کی تربیت اور روحانی فیضان حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ کرام میں آپ کے والد گرامی ڈاکٹر فرید الدین قادری کے علاوہ مولانا عبد الرشید رضوی، مولانا ضیاء الدین مدنی، مولانا احمد سعید کاظمی، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور شیخ محمد بن علونی المالکی المکی (رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین) جیسے عظیم المرتبت علماء کرام شامل ہیں۔آپ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام کل پاکستان فی البدیہہ تقریری مقابلہ میں اوّل آئے اور قائدِ اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے کئی گولڈ میڈلز حاصل کئے۔آپ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں قانون کے اُستاد رہے، اور علاوہ ازیں پنجاب یونیورسٹی سینٹ، سنڈیکٹ اور اکیڈمک کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ آپ مشیرِ فقہ وفاقی شرعی عدالت پاکستان، مشیرِ سپریم کورٹ آف پاکستان، اور ماہر قومی کمیٹی برائے نصاباتِ اسلامی رہے۔ بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن، بانی و سرپرست اعلیٰ پاکستان عوامی تحریک،نائب صدر الموتمر العالمی الاسلامی، جنرل سیکریٹری عالمی اتحاد اسلامی، سابق رکن قومی اسمبلی پاکستان (MNA) اور 19 سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، پاکستان عوامی اتحاد کے صدر بھی رہے۔ آپ جدید و قدیم علوم کی عظیم درسگاہ منہاج یونیورسٹی لاہور کے بانی بھی ہیں۔

آپ نے پاکستان میں اور بیرونِ ملک خصوصاً یورپی ممالک میں اِسلام کے مذہبی و سیاسی، روحانی و اَخلاقی، قانونی و تاریخی، معاشی و اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور تقابلی پہلوؤں کو محیط مختلف النوع موضوعات پر ہزاروں لیکچرز دیئے۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری اور عصری موضوعات پر آپ نے فکر اَفروز لیکچرز دیے۔ آپ کے لیکچرز پاکستان، عالمِ عرب اور مغربی دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ آپ کئی برس پاکستان ٹیلی وژن کے ”فہم القرن“ نامی پروگرام میں ہفتہ وار لیکچر دیتے رہے۔ آپ کی اب تک 300 سے زائد اُردو، انگریزی اور عربی تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ اِن میں سے متعدد تصانیف کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی 800 سے زائد کتابوں کے مسوّدات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔


آپ نے دورِ حاضر کے چیلنجوں کے پیشِ نظر اپنے علمی و تجدیدی کام کی بنیاد عصری ضروریات کے گہرے اور حقیقت پسندانہ تجزیاتی مطالعے پر رکھی، جس نے کئی قابلِ تقلید نظائر قائم کیں۔ فروغِ دین میں آپ کی تجدیدی و اِجتہادی اور اِحیائی کاوِشیں منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ جدید عصری علوم میں وقیع خدمات سرانجام دینے کے علاوہ آپ نے ”عرفان القرن“ کے نام سے قرآن حکیم کے اُلوہی بیان کا لغوی و نحوی، اَدبی، علمی و اِعتقادی اور فکری و سائنسی پہلوؤں پر مشتمل جامع اور عام فہم ترجمہ کیا، جو کئی جہات سے عصرِ حاضر کے دیگر تراجم کے مقابلے میں زیادہ جامع، منفرد اور معیاری ہے۔ آپ قرآن حکیم کی تفسیر پر بھی کام رہے ہیں۔ علم الحدیث میں آپ کی تالیفات گراں قدر علمی سرمایہ ہیں۔ آپ نے ”المنہاج السوی من الحدیث النبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ جیسی ضخیم کتاب کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر کتبِ احادیث مرتب کی ہیں۔ آپ نے ”الخطبۃ السدیدۃ فی اصول الحدیث وفروع العقیدۃ“ کے نام سے اُصولِ حدیث پر ایک بے مثال اور جامع و مختصر ترین خطبہ تصنیف کیا جو آنے والی کئی صدیاں تشنگانِ علمِ حدیث کی سیرابی کا سامان بہم پہنچاتا رہے گا۔ آپ نے علم الحدیث کی تاریخ میں اِمامِ اَعظم ابوحنیفہ (رضی اللہ عنہ) کے فنِ حدیث میں مقام کو دلائل و براہین سے ثابت کیا، اور اس باب میں صدیوں سے موجود غلط فہمیوں کا اِزالہ کیا۔

آپ کی قائم کردہ تحریکِ منہاجُ القرآن دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں اِحیائے ملّتِ اِسلامیہ اور اِتحادِ اُمت کے عظیم مشن کے فروغ کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ آپ نے پاکستان میں عوامی تعلیمی منصوبہ کی بنیاد رکھی جو غیرسرکاری سطح پر دنیا بھر کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ ہے۔ اِس میں ملک بھر میں پانچ یونیورسٹیوں، ایک سو کالجز، ایک ہزار ماڈل ہائی اسکول، دس ہزار پرائمری اسکول اور پبلک لائبریریوں کا قیام شامل ہے۔ پچھلے چند برسوں میں صرف اسکولوں کی تعداد ہی پانچ سو سے تجاوُز کرچکی ہے اور اس سمت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ جب کہ لاہور میں قائم کردہ ”دی منہاج یونیورسٹی“ بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے چارٹر ہو چکی ہے۔ آپ کی قائم کردہ سیاسی جماعت ”پاکستان عوامی تحریک“ ملک میں رواداری، برداشت اور اُصول پسندی پر مبنی صحت مند سیاسی رِوایت کی تشکیل میں گراں قدر کردار ادا کر رہی ہے۔ آپ عالمِ اِسلام کی بین الاقوامی پہچان کی حامل شخصیت ہیں، جنہیں اِتحاد، اَمن اور بہبودِ اِنسانی کے سفیر کے طور پر پہچانا جاتا ہے؛ اور بہبودِ اِنسانی کے لئے آپ کی علمی و فکری اور سماجی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اِعتراف بھی کیا گیا ہے۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہے:

 

  1. آپ کو تحقیق و تصنیف اور انسانی بہبود کیلئے کاوشوں پر دوسرے ملینیئم کے خاتمہ پر دنیا کے پانچ سو موثر ترین رہنماؤں میں شامل کیا گیا ہے۔

  2. امریکن بائیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ (ABI) کی طرف سے دنیا بھر میں مختلف میدانوں میں معاشرے کیلئے غیر معمولی خدمات کے اعتراف پر International Who’s who of Contemporary Achievement کے پانچویں ایڈیشن میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری پر ایک باب شامل اشاعت کیا گیا ہے۔

  3. امریکن بائیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ (ABI) کی طرف سے دنیا کے سب سے بڑے غیر حکومتی تعلیمی منصوبہ چلانے، 200 کتابوں کے مصنف ہونے، 5000 سے زائد موضوعات پر دنیا کے مختلف خطوں اور اداروں میں لیکچرز دینے، تحریک منہاج القرآن کے بانی اوردی منہاج یونیورسٹی کے چانسلر ہونے کی خدمات کے صلے میں The International Cultural Diploma of Honour دیا گیا۔

  4. انٹرنیشنل بائیوگرافیکل سنٹر (IBC) آف کیمبرج انگلینڈ کی طرف سے تعلیم اور سماجی بہبود کیلئے دنیا بھر میں عظیم خدمات کے صلے میں آپ کو The International Man of the Year 1998-99 قرار دیا گیا ہے۔

  5. بیسویں صدی میں غیر معمولی علمی خدمات سر انجام دینے پر Leading Intellectual of the World کا خطاب دیا گیا۔

  6. فروغ تعلیم کیلئے آپ کو بے مثال خدمات پر International Who is Who کی طرف سے Individual Achievement Award دیا گیا۔

  7. بے مثال تحقیقی خدمات پر آپ کو ABI کی طرف سے Key of Success کا اعزاز دیا گیا۔

  8. بیسویں صدی کے International Who is Who کی طرف سے آپ کو Certificate of Recognition دیا گیا۔

ماضی قریب میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ فردِ واحد نے اپنی دانش و فکر اور عملی جدّ و جہد سے فکری و عملی سطح پر ملّتِ اِسلامیہ کی فلاح کے لئے اِتنے مختصر وقت میں اِتنی بے مثال خدمات اَنجام دی ہوں۔ بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک فرد نہیں بلکہ ملّتِ اِسلامیہ کے دورِ نَو کے مؤسِس اور تابندہ و روشن مستقبل کی نوید ہیں۔

_uacct = "UA-1783011-1”;
urchinTracker();

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »

تحریک منہاج القرآن

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

احیائے اسلام کی عظیم عالمی انقلابی تحریک : تحریک منہاج القرآن
 

گذشتہ اڑھائی صدیوں سے ملت اسلامیہ ایک ہمہ گیر زوال اور پستی کے دور سے گزر رہی ہے۔ دو سوسالہ فکری اور سیاسی غلامی کے بعد اب امت مسلمہ میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ اگر اسے با عزت، اور باوقار قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندہ رہنا ہے تو اسے اپنے انداز فکروعمل کو بدلنا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فکری اور ذہنی پسماندگی اور شکست خوردگی سے نجات حاصل نہ کی جائے۔ ذاتی مفادات، خود غرضی، فرقہ پرستی اور گروہی مفادات کی زنجیریں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان حالات میں ان تمام قباحتوں سے پاک قیادت ہی امت مسلمہ کو اس زوال سے نکال سکتی ہے۔پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کےلئے ایک ایسے خطہ زمین کے حصول کےلئے تھا جہاں وہ اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ایک ایسا معاشرہ قائم کر سکیں جہاں عدل اجتماعی اور معاشی و اقتصادی انصاف کا دور دورہ ہو۔ جہاں ہر شخص کی چادر اور چار دیواری کو تحفظ حاصل ہو اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سبب کوئی بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ رہے۔ مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی یہاں ایسے مفاد پرستوں کا دور شروع ہوگیا جنہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیا اور ذاتی مفادات کے حصول کی ایسی دوڑ شروع کر دی جس سے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے چلے گئے۔ آج ملک پر غیر ملکی آقاؤں کے مسلط کردہ اسی نظام ہی کا اثر ہے کہ ان کے جانے کے بعد استحصالی اور عوام دشمن طبقے کی گرفت زندگی کے ہر شعبے پر مضبوط ہے اور عوام ملک کے حقیقی مالک ہوتے ہوئے بھی اپنی تقدیر کے مالک نہیں ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ایسا طبقاتی ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے اور یہ طبقاتی خلیج وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف ظالمانہ، استحصالی، سامراجی اور عوام دشمن نظام انتخاب نے عوام کےلئے ایوان اقتدار تک رسائی کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کےلئے حکومتی ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ انتخاب سرمائے اور افسر شاہی سے جوڑ توڑ کا ایسا گھناؤنا کھیل بن چکا ہے جس میں کامیابی تو دور کی بات ہے شامل ہونا بھی عام آدمی کےلئے ممکن نہیں رہا۔ان حالات میں ضروری ہے کہ:

  • غلبہ دین کی بحالی کےلئے ہمہ گیر جدوجہد شروع کی جائے۔
  • عوام میں ان کے حقوق کا شعور پیدا کیا جائے اور
  • قوم کو ایک ہمہ گیر تبدیلی اور انقلاب کی طرف گامزن کیا جائے تاکہ

قومی اور عالمی سطح پر ملت اسلامیہ پر مسلط بدحالی اور زوال کی سیاہ رات کو خوشحالی اور عروج و عظمت کے روشن سویرے سے بدلا جاسکے۔

تحریک منہاج القرآن ملت اسلامیہ کی اس ہمہ گیر تحریک اور جدوجہد کا علم بلند کئے ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر منزل انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔

فکری و عملی منہج

ملت اسلامیہ کے احیاء کےلئے تحریک منہاج القرآن عملاً تین خطوط پر مصروف عمل ہے اور ان تینوں خطوط پر ہونے والی جدوجہد ”مصطفوی انقلاب اور غلبہ دین حق کی جدوجہد“ سے عبارت ہے۔

  1. اصلاح احوال امت
  2. تجدید و احیائے دین
  3. غلبہ و نفاذ اسلام

مذکورہ بالا تینوں کام باہم مربوط اور یکجا رہنے چاہیں۔ اگر یہ باہم مربوط نہ رہیں یا ان میں آخری کام کےلئے پہلے دو یا کوئی ایک منقطع ہو جائے تو اگلا مرحلہ یا آخری کام ناتمام و ناکام رہ جائے گا۔

ان تینوں امور میں سے ہر ایک کی انجام دہی کےلئے درج ذیل خطوط متعین کئے گئے ہیں۔

اصلاح احوال امت

تحریک منہاج القرآن کا ”اصلاح احوال امت“ کا کام مندرجہ ذیل خطوط کے مطابق انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر انجام پا رہا ہے۔

  • اعتقادی و فکری اصلاح
  • اخلاقی و عملی اصلاح
  • مذہبی و روحانی اصلاح
  • تعلیمی و تبلیغی اصلاح

تحریک منہاج القرآن اﷲ کے فضل و کرم سے شروع سے لے کر آج تک اصلاح احوالِ امت کا کام مذکورہ بالا خطوط پر باقاعدگی کے ساتھ انجام دینے میں سرگرم عمل ہے۔ یہ کام کسی ایک مقام پر پہنچ کر ختم ہو جانے والا نہیں بلکہ مستقل دائمی طور پر جاری و ساری رہے گا لہذا دنیا کے پانچوں براعظموں میں بفضلہ تعالیٰ تحریک کا یہ اصلاحی کام ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

تجدید و احیائے دین

تجدید و احیائے دین کے کام کی تکمیل کےلئے تحریک منہاج القرآن نے درج ذیل خطوط متعین کئے ہیں۔

  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق عشقی کی تجدید۔۔۔ تاکہ امت کے ربط رسالت کو کمزور کرنے اور توڑنے کی سازش کے خلاف جہاد کیا جائے۔
  • قرآنی علم و فکر سے عصری اکتساب فیض کے عمل کی تجدید۔۔ تاکہ اسلام کے خلاف مغربی اور الحادی فکر کے حملے کا دفاع اور توڑ کیا جائے۔
  • دینی تعلیمات کے عقلی، سائنسی اور عملی تعبیر و توجیہہ۔۔۔ تاکہ امت کے سامنے ٹھوس عقلی دلائل کے ساتھ دینِ اسلام کو موجودہ دور کے جدید تقاضوں کے عین مطابق پیش کیا جائے۔
  • اسلام کے علمی و فقہی فکر میں تحقیقی تحریک….تاکہ اسلام کی علمی و فقہی تاریخ میں پچھلی ایک دو صدیوں سے طاری ہونے والی جمود و تعطل کا توڑ کیا جائے نئی فکر اور ارتقاء کا عمل جاری رکھا جائے۔
  • تصوف و روحانیت کے خالص اسلامی اور عملی تصور کی تجدید…. تاکہ صوفیانہ طریق پر توحید کے اصل جوہر اور نور کو نکھارنے کی عملًا محنت کی جائے۔

غلبہ و اقامتِ دین

یہ تمام تر سیاسی، تنظیمی، تحریکی اور انقلابی جدوجہد ہے اس جدوجہد کےلئے مندرجہ ذیل خطوط متعین کئے گئے ہیں۔

  • دین کے سیاسی پہلو کی اہمیت کو اجاگر کرنا
  • اقامت و نفاذ دین کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا
  • دین کے سیاسی غلبے کےلئے منظم جدوجہد کرنا
  • مصطفوی انقلاب کےلئے تحریک برپا کرنا

تحریک منہاج القرآن ان چاروں خطوط پر غلبہ و اقامت دین کے کام کےلئے شب و روز مصروفِ عمل ہے اور یہ کوشش ان شاء اﷲ العزیز جاری و ساری رہے گی۔

اہداف کے حصول کی پانچ جہتی حکمت عملی

تحریک کی آئندہ حکمت عملی درج ذیل پانچ جہات پر مشتمل ہو گی:

1۔ دعوت

اس کے ذریعے دو مقاصد حاصل کئے جائیں گے:

  • اقامت دین کےلئے عوامی شعور کی بیداری اور تڑپ دعوت کا پہلا ہدف ہو گا۔
  • دوسرا ہدف دعوت کے ذریعے انقلابی کردار کی تشکیل، عوام میں اپنے حقوق کے ادراک کے ساتھ ساتھ موجودہ منافقانہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف شعور پیدا کیا جائے گا اور قوم میں دینی غیرت و حمیت کو پختہ کیا جائے گا۔

2۔ روحانیت

انفرادی اور اجتماعی اعمال اور سرگرمیوں کا ایک باقاعدہ نظام وضع کیا جائے گا، جس کے ذریعے معاشرے میں بالعموم اور کارکنان تحریک میں بالخصوص تقویٰ، طہارت اور اخلاق حسنہ کے فروغ میں تیزی ہو گی۔ مزید یہ کہ تعلق باﷲ، عشق و غلامی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پرسوز اور حیات آفریں ذکر و فکر کے ذریعے کارکنان میں ہر نقصان سے بے نیازی پیدا کرنا، روحانیت کا بنیادی ہدف ہو گا۔

3۔ تعلیم

اس باب میں دو مختلف پہلوؤں پر تیز رفتاری سے تعلیمی انقلاب کے کام کا آغاز کیا جا رہا ہی:

  • اعلیٰ، معیاری پروفیشنل اور سائنٹیفک ایجوکیشن کا نیٹ ورک
  • عوامی سطح پر اکیڈمک کوالٹی ایجوکیشن کا نیٹ ورک

اس سلسلے میں موجودہ تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے کی بجائے معیار میں اضافے کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں منہاج القرآن کے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں میں سے 25 کو چنا جا رہا ہے جنہیں Model of Educational Excellence بنایا جائے گا۔ ان میں تعلیمی اداروں کے ساتھ درج ذیل ادارے قائم کئے جائیں گے:

  • اعلیٰ تعلیمی مراکز (Higher Educational Centres)
  • ٹیکنیکل و انڈسٹریل ہومز (Technical & Industrial Homes)
  • انفارمیشن ٹیکنالوجی سنٹرز (IT Centres)
  • بزنس ایجوکیشن سنٹرز (Business Education Centres)

ان اداروں کی تعداد ملک بھر میں 25 سے بڑھا کر تدریجاً 100 تک کی جائے گی۔

4۔ تربیت

تحریک کے تمام شعبوں اور منصوبوں سے وابستہ ہر فرد، کارکن اور عہدیدار کی استعدادِ کار، معیارِ کار اور رفتارِ کار میں اضافے کے ذریعے افرادی وسائل کو مؤثر اور منظم قوت میں بدلنا تربیت کا بنیادی ہدف ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک منظم اور ہمہ جہت تربیتی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعہ آئندہ قیادت کی تیاری کا عمل تیز تر ہو گا۔

5۔ معاشی کفالت

تحریک کے افرادی، مالی، اداراتی وسائل اور بین الاقوامی تنظیمی نیٹ ورک کی بنیاد پر معاشی منصوبوں کے ذریعے مقامی تنظیمات کا مالی استحکام اور ہزاروں کارکنان کے روزگار اور معاشی کفالت کا حصول بنیادی ہدف ہو گا۔

قائد اور کارکنانِ تحریک کی ذمہ داریاں

تحریکی اہداف کے حصول کےلئے قائد تحریک اور کارکنان تحریک کے درمیان باہمی ربط کو واضح کرنے کےلئے ذمہ داریوں اور تقسیم کار کی نوعیت یوں ہے:۔

  1. اصلاحی اہداف کا کام قائد تحریک اور کارکنان تحریک نے باہم مل کر کرنا ہے مگر ذمہ داریوں کی نوعیت اور دائرہ کار جدا جدا ہوں گے مثلًا اس کام کی بنیاد رکھنا اور پھر اسے مزید Develope کرنے کےلئے اساسی محنت کرنا قائد کی ذمہ داری ہے۔ مگر کارکنان تحریک کا علم و فکر اور تقویٰ و کردار کی صلاحیت کے حوالے سے نا اہل ہونا بھی اس کام (اصلاحی) کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس قائد کی کمال درجے کی صلاحیت و اہلیت کے باوجود محض کارکنان کی طرف سے عدم تعاون بھی اس کام کو نا کام و نا تمام کرسکتا ہے۔
  2. تجدیدی اہداف کا کام بنیادی طور پر صرف قائد تحریک نے انجام دینا ہے۔ چونکہ اسلام کے علم و فقہی فکر میں عوام تحریکی تحرک پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان سے تحقیقی و اجتہادی بصیرت کو بحال رکھے جانے کی توقع کی جاسکتی ہے لہذا تجدیدی کام کے تمام پہلوؤں کی بنیادی اور اساسی ذمہ داری قائدِ تحریک پر ہی عائد ہوتی ہے البتہ بعض اہلِ علم کارکنان تحریک اپنے قائد کے معاون ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کام کو انجام تک خود قائد تحریک نے ہی پہنچانا ہوتا ہے اس کام کےلئے کامل یکسوئی کے ساتھ وقت دینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ تجدیدی کام چلتے پھرتے نہیں ہوسکتا لہذا دفتری و انتظامی امور اور تنظیمی مسائل میں قائد کو نہیں الجھانا چاہئے بلکہ یہ امور ضلعی، صوبائی اور مرکزی عہدیداران کے ذمہ ہونے چائیں۔
  3. انقلابی اہداف کا کام بھی قائد تحریک اور کارکنان تحریک نے باہم مل کر سرانجام دینا ہوتا ہے۔ البتہ دونوں کی ذمہ داریوں اور تقسیم کار کا نظام جدا جدا ہوگا۔

یہ سمجھنا کوتاہ اندیشی ہوگی کہ تاریخ تحریکِ منہاج القرآن کی کامیابی یا خدانخواستہ ناکامی کا فیصلہ صرف ایک آخری مرحلہ کے تناظر میں کرے گی یہ اس لئے ممکن نہیں کہ ہماری تحریک فقط سیاسی تحریک نہیں بلکہ احیائے اسلام کی عالمگیر تحریک ہے لہذا تاریخ کا فیصلہ تحریک جدوجہد کے ہمہ جہت اثرات اور نتائج کے لحاظ سے ہوگا۔ اگر ہم PAT کو فقط مروجہ معنی میں ” ایک روایتی سیاسی جماعت“ کے طور پر چلاتے رہے اپنی تمام تر توانائیاں اسی سیاسی جدوجہد میں صرف کرتے رہیں اور اس راستے سے خاطر خواہ نتائج بھی پیدا نہ ہوئے بلکہ دوسری سیاسی جماعتیں معروف معنی میں سیاسی طور پر کامیاب رہیں تو اس طرح اصلاحی اور تجدیدی کام بھی ”سیاسی غلغلے اور شور“ میں دب جائیں گے۔ ان کے پہلے سے مرتب شدہ مسلمہ نتائج بھی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ اور تاریخ ہمارے مشن کو ہر لحاظ سے ناکام تصور کرے گی۔

اگر ہم پہلے دونوں کاموں کو ساتھ ساتھ (Consolidate) کرکے محفوظ کرتے جائیں بلکہ انہیں مزید تیز رفتاری سے مسلسل آگے بڑھاتے رہیں اور جس کام کی پیش رفت جاری ہو وہ زیر نظر (Under Observation) رہے اور آخری (انقلابی ) کام کو حکمت اور دانائی سے اس طریق پر آگے بڑھائیں کہ دوسرے دونوں (اصلاحی و تجدیدی) کاموں کے نتائج متاثر نہ ہوں تو اس صورت میں تحریک منہاج القرآن دنیا میں مختلف حوالوں سے جس قدر کام کر چکی ہے یا آگے کرے گی وہ عوام و خواص امت کی نظروں میں اور آئندہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہوتا جائے گا اور نہ مٹنے والا ریکارڈ بنتا جائے گا۔

قائدِ تحریک کے ساتھ تعلق اور دعوت کا فروغ

مشن کی دعوت کو فروغ پذیر کرنے کےلئے دیگر ذرائع کے علاوہ مؤثر ترین ذریعہ قائد تحریک کی ذات سے وابستگان کا تعلق اور قائد تحریک کے پیغام کو معاشرے میں عام کرنا ہے۔ لہذا کارکنان تحریک قائد تحریک کے ویڈیو خطابات کو فروغ دعوت کےلئے استعمال کریں اور ملک بھر میں ویڈیو خطابات دکھانے کے پروگراموں کا جال پھیلا دیں اس مہم سے:

٭ کارکنان، وابستگان اور عوام الناس کو قائد تحریک کی بالواسطہ صحبت ملے گی۔

٭ اس صحبت سے قائد تحریک سے بالواسطہ تعلیم و تربیت لینے کا موقع میسر آئے گا۔

٭ قائد تحریک کا علمی فیضان معاشرے میں عام کرنا ممکن ہوگا۔

٭ کارکنان تحریک بھی فن تقریر و خطابت سے آگاہ ہو سکیں گے اور مؤثر ابلاغ کا اسلوب سیکھ سکیں گے۔

٭ کارکنان حکیمانہ انداز سے بات کرنے کا فن سیکھ سکیں گے کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے اور کس انداز سے دلائل کو مواد سے اخذ کرکے مؤثر انداز سے سامعین تک پہنچانا ہے۔

ویڈیو خطابات کو عام کرنے کی مہم سے نہ صرف مشن کا پیغام گلی گلی عام ہوگا بلکہ وابستگان تحریک کا روحانی، فکری اور عملی تعلق اپنی بانی قیادت سے مستحکم ہوتا جائے گا۔

قیادت کی اِطاعت اور وفاداری

کسی بھی انقلابی جدوجہد میں قیادت کی حیثیت مرکز اور محور کی ہوتی ہے۔ تحریک کی بانی قیادت بھی وابستگان اور کارکنان کےلئے inspiration کا باعث ہوتی ہے لہٰذا تحریکی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے وابستگان کی قیادت سے وفاداری بنیادی شرط ہے۔ اسوہ حسنہ سے ملنے والی تعلیمات اس امر کا ثبوت ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سرفروشی اور جان دہی پر مبنی جدوجہد سے ہی اسلام کا فروغ ممکن ہوا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعود ثقفی دربار مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوٹا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثاروں کے مثالی کردار سے اتنا متاثر تھا کہ اس نے واپس آ کر قریش سے کہا:

”اے گروہ قریش! میں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، میں قیصر، کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ ا س کے ساتھی اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا مستعمل پانی حاصل کرنے پر ایک دوسرے سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور وہ ان کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے انہوں نے تمہارے سامنے عمدہ تجویز رکھی ہے پس اسے قبول کر لو۔“

غزوہ احد کے دوران جب ایک موقع پر کفار کا پلڑا بھاری ہونے لگا اور مسلمان مجاہدین منتشر ہوگئے تو کفار نے آپکا گھیراؤ کر لیا۔ قریش کے چند دلیر سورماؤں نے آپ کو شہید کرنے کا حلف اٹھا لیا۔ لیکن ان نازک لمحات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی حفاظت کےلئے آپ کے ارد گرد سینہ سپر ہوگئے اور پروانوں کی طرح شہید ہونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آنے والے تیروں کی بارش کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے سینوں پر روک رہے تھے تآنکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دشمنوں کو پرے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

تحریکی اور انقلابی زندگی میں قیادت سے یہی تعلق اور وفاداری و جانفروشی کا جذبہ تحریک کو مشکلات کے بھنور سے نکال کر کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔

تنظیمی ڈھانچہ و طریق کار

بدلے ہوئے حالات میں مصطفوی انقلاب کی جدوجہد میں کامیابی کےلئے سابقہ تنظیمی سٹرکچر اور طریقہء کار میں بنیادی اور انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں:

1۔ تحریکِ منہاج القرآن کا قائدانہ کردار

آئندہ انقلابی جدوجہد میں تحریک منہاج القرآن کو لیڈنگ رول حاصل ہو گا جبکہ پاکستان عوامی تحریک اور اس کے ونگز اس انقلابی جدوجہد میں تحریک منہاج القران کی معاونت کریں گے۔

2۔ تحریک کی تنظیم نو

تحریک منہاج القرآن کے تنظیمی سٹرکچر میں الیکشن کا نظام ختم کردیا گیا ہے۔ عہدیداران کا تقرر الیکشن کی بجائے کارکردگی اور اہلیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیلی امرائے تحریک کا تقرر مقامی کارکنان کی سفارش پر براہ راست قائد انقلاب کریں گے۔ امرائے تحریک قائد انقلاب کے نمائندے کہلائیں گے اور ان کی اطاعت بھی اسی ضابطے میں ہو گی۔

3۔ فورمز کا انضمام اور علیحدہ تشخص کا خاتمہ

افرادی قوت کے بہترین استعمال اور باہمی اختلافات کے خاتمے کےلئے تمام فورمز کو تحریک منہاج القرآن میں ضم کر دیا گیا ہے۔ البتہ منہاج القرآن ویمن لیگ کو صرف ذیلی سطح پر اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کو صرف تعلیمی اداروں کی سطح پر تنظیمی نیٹ ورک کے قیام کی اجازت ہو گی مگر ان کا تنظیمی سٹرکچر اسی طرح کا ہو گا جو تحریک منہاج القرآن کا ہے۔ اِسی طرح پاکستان عوامی تحریک اور اس کے ونگز بھی قائم رہیں گے لیکن اُن میں صرف سیاسی اور انتخابی صلاحیتوں کے حامل افراد کام کر سکیں گے۔

4۔ نیا تنظیمی ڈھانچہ

پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہء حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے تنظیمی ڈھانچہ کو ہر سطح پر دس دس افراد کے یونٹس (Units) کی صورت میں منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

i۔ حلقہ معاونت: (معاون + دس ارکان)

یہ تنظیمی ڈھانچہ میں سب سے بنیادی یونٹ ہو گا، یہ صرف دس افراد پر مشتمل ہو گا۔ گیارھواں فرد حلقہ کا سربراہ ہو گا جسے معاون کہا جائے گا۔ معاون کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے حلقہ کے دس ارکان مکمل کرے اور ان دس ارکان سے متعلق جملہ دعوتی، تربیتی اور تنظیمی امور کا نگران اور ذمہ دار بھی یہی معاون ہی ہو گا۔

ii۔ حلقہ نقابت: (نقیب + دس معاونین)

جب دس دس ارکان اور ان پر ایک ایک معاون پر مشتمل دس حلقہ جات قائم ہو جائیں گے تو حلقہ نقابت وجود میں آئے گا، یہ دس معاونین پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ نقیب کہلائے گا۔ اس طرح ایک معاون کے نیچے دس ارکان تھے جبکہ ایک نقیب کے نیچے مجموعی طور پر 110 کارکنان (دس حلقہ ہائے معاونت کے کل 100 ارکان اور اس پر 10 معاونین) ہو جائیں گے۔

iii۔ حلقہ نظامت : (ناظم + دس نقیب)

یہ دس نقباء پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ ناظم کہلائے گا۔ یوں ایک ناظم کے نیچے کل 1110 کارکنان ہوں گے جن میں 10 نقیب اور ان کے دس حلقہ ہائے نقابت شامل ہوں گے۔

iv۔ حلقہ صدارت : (صدر + دس ناظمین)

یہ دس ناظمین پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ صدر کہلائے گا۔ اس حلقہ کی مجموعی تعداد 11100 ہو جائے گی، جن میں دس ناظمین اور ان کے حلقہ ہائے نظامت شامل ہوں گی۔

v۔ حلقہ امارت : (امیر + دس صدور)

یہ تحصیل کے تمام صدور پر مشتمل ہو گا اور اس کا سربراہ امیر کہلائے گا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر شہر بھی ایک تحصیل تصور ہو گا۔ تمام تنظیمات مذکورہ بالا ضابطے کے مطابق مکمل ہوں تو ایک امیر کے نیچے 111000 افراد ہوں گے۔

vi۔ ضلعی تنظیم

ہر ضلع کی جملہ تحصیلوں کے امراء اور صدور پر مشتمل ہو گی، الگ سے کوئی عہدیداری نہیں ہو گی جو نچلی سطح پر کام کرے گا وہی عہدہ اور منصب پائے گا۔

vii۔ نئے تنظیمی سٹرکچر میں نظام کار اور دائرہ ذمہ داری

  • ہر ضلعی امیر صرف تحصیل کے امراء پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر تحصیل کا امیر اپنے نیچے صرف دس صدور پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر صدر اپنے نیچے صرف دس ناظمین پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر ناظم اپنے نیچے صرف دس نقباء پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر نقیب اپنے نیچے صرف دس معاونین پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر معاون اپنے نیچے صرف دس ارکان پر ذمہ دار ہو گا۔
  • جملہ امور کی انجام دہی بھی اسی طرح 10، 10 اور 10 افراد کے مابین ہو گی۔

viii۔ مرکز اور یونٹ کے درمیان رابطہ اور ترسیل کا نظام

١۔ مرکز احکامات و ہدایات ضلعی تنظیم کو بھیجے گا، جسے ضلعی امیر وصول کرے گا اور اپنی جملہ تحصیلوں کے امراء کو منتقل کرے گا۔ تحصیلوں کے امراء اپنے حلقوں کے صرف 10، 10 صدور کو وہی ہدایات پہنچائیں گے پھر ہر صدر اپنے حلقہ کے دس ناظمین کو یہ ہدایات پہنچائے گا اور ہر ناظم اپنے حلقہ کے دس نقباء کو، ہر نقیب اپنے حلقہ کے دس معاونین کو اور ہر معاون وہی ہدایات اپنے دس ارکان کو پہنچائے گا۔ یہ اوپر سے نیچے کا ترسیلی نظام ہو گا۔

٢۔ اسی طرح نیچے سے اوپر رابطے کی شکل یہ ہو گی: ہر یونٹ کا معاون اپنے دس ارکان سے زرتعاون اور کارکردگی رپورٹ وصول کرے گا۔ دس معاونین اپنے اپنے حلقوں کے زرتعاون اور رپورٹ اپنے نقیب کو دیں گے اور دس نقیب یہی اپنے ناظم کو منتقل کریں گے اور ناظم اپنے حلقہ کے صدور کو اور صدور اپنے حلقہ کے امیر کو زرتعاون اور رپورٹ بھیجیں گے اور تمام تحصیلوں کے امیر وہی رپورٹ اور زراعانت ضلعی تنظیم کو دیں گے جو مرکز کو پہنچانے کے ذمہ دار ہوں گے۔ مرکز اور یونٹ کے مابین یہ نظام رابطہ و ترسیل (Command, Control & Communication System) ہو گا۔

٣۔ نئے تنظیمی ڈھانچے کے فوائد حسبِ ذیل ہیں:

  • کمانڈ اور کنٹرول کا مؤثر نظام قائم ہو سکے گا۔
  • عہدیداران کے مابین تقسیم کار کے نتیجے میں بوجھ کم ہو گا۔
  • اعلیٰ قیادت کے احکامات بروقت اور سرعت کے ساتھ بنیادی یونٹ تک پہنچ سکیں گے۔
  • تحریک سے وابستہ ہر فرد تحریکی سرگرمیوں میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے گا۔
  • زرِ تعاون کی مرکز کو بآسانی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

تنظیم سازی کا مرحلہ اوّل

1۔ ہر تحصیل کا امیر اپنی تحصیل کی مختلف یونین کونسلوں میں رہائش پذیر بہترین، فعال اور تحریکی فکر کے حامل کارکنان میں سے کم از کم 5 افراد کو مختلف علاقوں میں بطور ناظم مقرر کرے گا۔

2۔ ہر ناظم اپنے حلقہ میں رہائش پذیر بہترین اور فعال کارکنان میں سے کم از کم 5 نقباء کا تقرر عمل میں لائے گا۔

3۔ ہر نقیب اپنے قریبی علاقے میں موجود تحریک اور جملہ فورمز کے اراکین، دیگر وابستگان اور قلبی و ذہنی ہم آہنگی اور ہمدردی رکھنے والے ان افراد میں سے 5 معاونین مقرر کرے گا جو مشن میں اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ کام کرنے اور 5 روپے ماہانہ زرِتعاون مرکز کو ادا کرنے کےلئے تیار ہوں۔

4۔ پھر ہر معاون اپنے حلقہ میں 10افراد کو بطور رکن شامل کر کے حلقہ معاونت کو مکمل کرے گا۔

تنظیم سازی کا مرحلہ دوم

1۔ دوسرے مرحلے میں تنظیمی ڈھانچے کا پھیلاؤ عمل میں لایا جائے گا۔

2۔ معاون حلقہ کی ذمہ داری ہو گی کہ ہر رکن کو بطور داعی دعوت کے فروغ کےلئے آمادہ اور تیار کرے ہر داعی کی ذمہ داری ہو گی کہ ہر ماہ کم از کم ایک نئے فرد کو بطور رکن تحریک میں شامل کرے۔ پانچ نئے اراکین کی شمولیت کے بعد متعلقہ رکن/ داعی معاون کی ذمہ داری پر فائز ہو جائے گا اور فوری طور پر اپنا دس ارکان پر مشتمل حلقہ معاونت مکمل کرے گا اور آئندہ اپنے معاون کی بجائے اپنے نقیب کو جواب دہ ہو گا۔

3۔ معاونین کی تعداد 10 ہو جانے کی صورت میں ایک نیا حلقہ نقابت قائم ہو جائے گا۔ جس کا سربراہ نقیب ہو گا۔

4۔ 10 نقباء بن جانے پر ان کے حلقہ کے ناظم کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

5۔ 10 ناظمین مقرر ہو جانے پر ان کے حلقہ کے صدر کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

6۔ اگر تنظیم کا اس قدر پھیلاؤ ہو جائے کہ 10 صدور ہوں تو ان پر ایک امیر ہو گا۔

مرکزی تنظیمی ڈھانچہ

مرکزی تنظیم کا ڈھانچہ اور نظام کار بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مرکزی باڈیز کے علاوہ سپریم کونسل، مرکزی شوریٰ اور ایگزیکٹو کونسل پر مشتمل ہو گی۔ ایگزیکٹو کونسل، سپریم کونسل اور شوریٰ کے فیصلوں کے مطابق ہمہ وقت امور کی انجام دہی کی ذمہ دار اور نگران ہو گی۔ یہ ناظم اعلیٰ اور 12 ناظمین پر مشتمل ہو گی ہر ناظم اپنی اپنی نظامت کا ذمہ دار ہو گا۔

ذیلی تنظیمات کام کی نوعیت کے اعتبار سے ناظم اعلیٰ یا متعلقہ مرکزی ناظم سے رابطہ قائم کریں گی۔

اہداف و مقاصد

  1. تحریک منہاج القرآن کے بپا کئے جانے کا مقصد اولین غلبہ دین حق کی بحالی اور اُمت مسلمہ کے احیاء و اتحاد کیلئے قرآن و سنت کے عظیم فکر پر مبنی ”مصطفوی انقلاب“ کی ایسی جدوجہد ہے جو ہر سطح پر باطل، طاغوتی، استحصالی اور منافقانہ قوتوں کے اثر و نفوذ کا خاتمہ کر دے۔
  2. تحریک منہاج القرآن کا مقصد دعوتی و تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعہ اتحادِ اُمت کےلئے راہ ہموار کرنا ہے۔ تاکہ غلبہ دین حق کی بحالی اور اُمت مسلمہ کے احیاء کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔
  3. قرآن و سنت کو بنیاد بناتے ہوئے عوام کو دینی، معاشی اور معاشرتی انقلاب کی طرف لے کر چلنا تحریک کا مقصد اولین ہے۔
  4. ہر سطح پرغلبہ دین حق کی بحالی اور باطل، طاغوتی اور استحصالی نظام کے خاتمہ کی ایسی جدوجہد جو پاکستان میں اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام اور بالآخر اسلامی کامن ویلتھ کے قیام پر منتج ہو۔

مرکزی سیکرٹریٹ، تحریکِ منہاج القرآن
365 ایم، ماڈل ٹاؤن، لاہور 54700
فون : 0092.42.111.140.140، 5169111-3
فيکس : 0092.42.5168184
ای میل: tehreek@minhaj.org
ویب سائٹ: www.minhaj.org

Posted in تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »