تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

تحریک منہاج القرآن

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

احیائے اسلام کی عظیم عالمی انقلابی تحریک : تحریک منہاج القرآن
 

گذشتہ اڑھائی صدیوں سے ملت اسلامیہ ایک ہمہ گیر زوال اور پستی کے دور سے گزر رہی ہے۔ دو سوسالہ فکری اور سیاسی غلامی کے بعد اب امت مسلمہ میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ اگر اسے با عزت، اور باوقار قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندہ رہنا ہے تو اسے اپنے انداز فکروعمل کو بدلنا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فکری اور ذہنی پسماندگی اور شکست خوردگی سے نجات حاصل نہ کی جائے۔ ذاتی مفادات، خود غرضی، فرقہ پرستی اور گروہی مفادات کی زنجیریں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان حالات میں ان تمام قباحتوں سے پاک قیادت ہی امت مسلمہ کو اس زوال سے نکال سکتی ہے۔پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کےلئے ایک ایسے خطہ زمین کے حصول کےلئے تھا جہاں وہ اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ایک ایسا معاشرہ قائم کر سکیں جہاں عدل اجتماعی اور معاشی و اقتصادی انصاف کا دور دورہ ہو۔ جہاں ہر شخص کی چادر اور چار دیواری کو تحفظ حاصل ہو اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سبب کوئی بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ رہے۔ مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی یہاں ایسے مفاد پرستوں کا دور شروع ہوگیا جنہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیا اور ذاتی مفادات کے حصول کی ایسی دوڑ شروع کر دی جس سے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے چلے گئے۔ آج ملک پر غیر ملکی آقاؤں کے مسلط کردہ اسی نظام ہی کا اثر ہے کہ ان کے جانے کے بعد استحصالی اور عوام دشمن طبقے کی گرفت زندگی کے ہر شعبے پر مضبوط ہے اور عوام ملک کے حقیقی مالک ہوتے ہوئے بھی اپنی تقدیر کے مالک نہیں ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ایسا طبقاتی ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے اور یہ طبقاتی خلیج وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف ظالمانہ، استحصالی، سامراجی اور عوام دشمن نظام انتخاب نے عوام کےلئے ایوان اقتدار تک رسائی کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کےلئے حکومتی ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ انتخاب سرمائے اور افسر شاہی سے جوڑ توڑ کا ایسا گھناؤنا کھیل بن چکا ہے جس میں کامیابی تو دور کی بات ہے شامل ہونا بھی عام آدمی کےلئے ممکن نہیں رہا۔ان حالات میں ضروری ہے کہ:

  • غلبہ دین کی بحالی کےلئے ہمہ گیر جدوجہد شروع کی جائے۔
  • عوام میں ان کے حقوق کا شعور پیدا کیا جائے اور
  • قوم کو ایک ہمہ گیر تبدیلی اور انقلاب کی طرف گامزن کیا جائے تاکہ

قومی اور عالمی سطح پر ملت اسلامیہ پر مسلط بدحالی اور زوال کی سیاہ رات کو خوشحالی اور عروج و عظمت کے روشن سویرے سے بدلا جاسکے۔

تحریک منہاج القرآن ملت اسلامیہ کی اس ہمہ گیر تحریک اور جدوجہد کا علم بلند کئے ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر منزل انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔

فکری و عملی منہج

ملت اسلامیہ کے احیاء کےلئے تحریک منہاج القرآن عملاً تین خطوط پر مصروف عمل ہے اور ان تینوں خطوط پر ہونے والی جدوجہد ”مصطفوی انقلاب اور غلبہ دین حق کی جدوجہد“ سے عبارت ہے۔

  1. اصلاح احوال امت
  2. تجدید و احیائے دین
  3. غلبہ و نفاذ اسلام

مذکورہ بالا تینوں کام باہم مربوط اور یکجا رہنے چاہیں۔ اگر یہ باہم مربوط نہ رہیں یا ان میں آخری کام کےلئے پہلے دو یا کوئی ایک منقطع ہو جائے تو اگلا مرحلہ یا آخری کام ناتمام و ناکام رہ جائے گا۔

ان تینوں امور میں سے ہر ایک کی انجام دہی کےلئے درج ذیل خطوط متعین کئے گئے ہیں۔

اصلاح احوال امت

تحریک منہاج القرآن کا ”اصلاح احوال امت“ کا کام مندرجہ ذیل خطوط کے مطابق انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر انجام پا رہا ہے۔

  • اعتقادی و فکری اصلاح
  • اخلاقی و عملی اصلاح
  • مذہبی و روحانی اصلاح
  • تعلیمی و تبلیغی اصلاح

تحریک منہاج القرآن اﷲ کے فضل و کرم سے شروع سے لے کر آج تک اصلاح احوالِ امت کا کام مذکورہ بالا خطوط پر باقاعدگی کے ساتھ انجام دینے میں سرگرم عمل ہے۔ یہ کام کسی ایک مقام پر پہنچ کر ختم ہو جانے والا نہیں بلکہ مستقل دائمی طور پر جاری و ساری رہے گا لہذا دنیا کے پانچوں براعظموں میں بفضلہ تعالیٰ تحریک کا یہ اصلاحی کام ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

تجدید و احیائے دین

تجدید و احیائے دین کے کام کی تکمیل کےلئے تحریک منہاج القرآن نے درج ذیل خطوط متعین کئے ہیں۔

  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق عشقی کی تجدید۔۔۔ تاکہ امت کے ربط رسالت کو کمزور کرنے اور توڑنے کی سازش کے خلاف جہاد کیا جائے۔
  • قرآنی علم و فکر سے عصری اکتساب فیض کے عمل کی تجدید۔۔ تاکہ اسلام کے خلاف مغربی اور الحادی فکر کے حملے کا دفاع اور توڑ کیا جائے۔
  • دینی تعلیمات کے عقلی، سائنسی اور عملی تعبیر و توجیہہ۔۔۔ تاکہ امت کے سامنے ٹھوس عقلی دلائل کے ساتھ دینِ اسلام کو موجودہ دور کے جدید تقاضوں کے عین مطابق پیش کیا جائے۔
  • اسلام کے علمی و فقہی فکر میں تحقیقی تحریک….تاکہ اسلام کی علمی و فقہی تاریخ میں پچھلی ایک دو صدیوں سے طاری ہونے والی جمود و تعطل کا توڑ کیا جائے نئی فکر اور ارتقاء کا عمل جاری رکھا جائے۔
  • تصوف و روحانیت کے خالص اسلامی اور عملی تصور کی تجدید…. تاکہ صوفیانہ طریق پر توحید کے اصل جوہر اور نور کو نکھارنے کی عملًا محنت کی جائے۔

غلبہ و اقامتِ دین

یہ تمام تر سیاسی، تنظیمی، تحریکی اور انقلابی جدوجہد ہے اس جدوجہد کےلئے مندرجہ ذیل خطوط متعین کئے گئے ہیں۔

  • دین کے سیاسی پہلو کی اہمیت کو اجاگر کرنا
  • اقامت و نفاذ دین کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا
  • دین کے سیاسی غلبے کےلئے منظم جدوجہد کرنا
  • مصطفوی انقلاب کےلئے تحریک برپا کرنا

تحریک منہاج القرآن ان چاروں خطوط پر غلبہ و اقامت دین کے کام کےلئے شب و روز مصروفِ عمل ہے اور یہ کوشش ان شاء اﷲ العزیز جاری و ساری رہے گی۔

اہداف کے حصول کی پانچ جہتی حکمت عملی

تحریک کی آئندہ حکمت عملی درج ذیل پانچ جہات پر مشتمل ہو گی:

1۔ دعوت

اس کے ذریعے دو مقاصد حاصل کئے جائیں گے:

  • اقامت دین کےلئے عوامی شعور کی بیداری اور تڑپ دعوت کا پہلا ہدف ہو گا۔
  • دوسرا ہدف دعوت کے ذریعے انقلابی کردار کی تشکیل، عوام میں اپنے حقوق کے ادراک کے ساتھ ساتھ موجودہ منافقانہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف شعور پیدا کیا جائے گا اور قوم میں دینی غیرت و حمیت کو پختہ کیا جائے گا۔

2۔ روحانیت

انفرادی اور اجتماعی اعمال اور سرگرمیوں کا ایک باقاعدہ نظام وضع کیا جائے گا، جس کے ذریعے معاشرے میں بالعموم اور کارکنان تحریک میں بالخصوص تقویٰ، طہارت اور اخلاق حسنہ کے فروغ میں تیزی ہو گی۔ مزید یہ کہ تعلق باﷲ، عشق و غلامی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پرسوز اور حیات آفریں ذکر و فکر کے ذریعے کارکنان میں ہر نقصان سے بے نیازی پیدا کرنا، روحانیت کا بنیادی ہدف ہو گا۔

3۔ تعلیم

اس باب میں دو مختلف پہلوؤں پر تیز رفتاری سے تعلیمی انقلاب کے کام کا آغاز کیا جا رہا ہی:

  • اعلیٰ، معیاری پروفیشنل اور سائنٹیفک ایجوکیشن کا نیٹ ورک
  • عوامی سطح پر اکیڈمک کوالٹی ایجوکیشن کا نیٹ ورک

اس سلسلے میں موجودہ تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے کی بجائے معیار میں اضافے کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں منہاج القرآن کے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں میں سے 25 کو چنا جا رہا ہے جنہیں Model of Educational Excellence بنایا جائے گا۔ ان میں تعلیمی اداروں کے ساتھ درج ذیل ادارے قائم کئے جائیں گے:

  • اعلیٰ تعلیمی مراکز (Higher Educational Centres)
  • ٹیکنیکل و انڈسٹریل ہومز (Technical & Industrial Homes)
  • انفارمیشن ٹیکنالوجی سنٹرز (IT Centres)
  • بزنس ایجوکیشن سنٹرز (Business Education Centres)

ان اداروں کی تعداد ملک بھر میں 25 سے بڑھا کر تدریجاً 100 تک کی جائے گی۔

4۔ تربیت

تحریک کے تمام شعبوں اور منصوبوں سے وابستہ ہر فرد، کارکن اور عہدیدار کی استعدادِ کار، معیارِ کار اور رفتارِ کار میں اضافے کے ذریعے افرادی وسائل کو مؤثر اور منظم قوت میں بدلنا تربیت کا بنیادی ہدف ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک منظم اور ہمہ جہت تربیتی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعہ آئندہ قیادت کی تیاری کا عمل تیز تر ہو گا۔

5۔ معاشی کفالت

تحریک کے افرادی، مالی، اداراتی وسائل اور بین الاقوامی تنظیمی نیٹ ورک کی بنیاد پر معاشی منصوبوں کے ذریعے مقامی تنظیمات کا مالی استحکام اور ہزاروں کارکنان کے روزگار اور معاشی کفالت کا حصول بنیادی ہدف ہو گا۔

قائد اور کارکنانِ تحریک کی ذمہ داریاں

تحریکی اہداف کے حصول کےلئے قائد تحریک اور کارکنان تحریک کے درمیان باہمی ربط کو واضح کرنے کےلئے ذمہ داریوں اور تقسیم کار کی نوعیت یوں ہے:۔

  1. اصلاحی اہداف کا کام قائد تحریک اور کارکنان تحریک نے باہم مل کر کرنا ہے مگر ذمہ داریوں کی نوعیت اور دائرہ کار جدا جدا ہوں گے مثلًا اس کام کی بنیاد رکھنا اور پھر اسے مزید Develope کرنے کےلئے اساسی محنت کرنا قائد کی ذمہ داری ہے۔ مگر کارکنان تحریک کا علم و فکر اور تقویٰ و کردار کی صلاحیت کے حوالے سے نا اہل ہونا بھی اس کام (اصلاحی) کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس قائد کی کمال درجے کی صلاحیت و اہلیت کے باوجود محض کارکنان کی طرف سے عدم تعاون بھی اس کام کو نا کام و نا تمام کرسکتا ہے۔
  2. تجدیدی اہداف کا کام بنیادی طور پر صرف قائد تحریک نے انجام دینا ہے۔ چونکہ اسلام کے علم و فقہی فکر میں عوام تحریکی تحرک پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان سے تحقیقی و اجتہادی بصیرت کو بحال رکھے جانے کی توقع کی جاسکتی ہے لہذا تجدیدی کام کے تمام پہلوؤں کی بنیادی اور اساسی ذمہ داری قائدِ تحریک پر ہی عائد ہوتی ہے البتہ بعض اہلِ علم کارکنان تحریک اپنے قائد کے معاون ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کام کو انجام تک خود قائد تحریک نے ہی پہنچانا ہوتا ہے اس کام کےلئے کامل یکسوئی کے ساتھ وقت دینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ تجدیدی کام چلتے پھرتے نہیں ہوسکتا لہذا دفتری و انتظامی امور اور تنظیمی مسائل میں قائد کو نہیں الجھانا چاہئے بلکہ یہ امور ضلعی، صوبائی اور مرکزی عہدیداران کے ذمہ ہونے چائیں۔
  3. انقلابی اہداف کا کام بھی قائد تحریک اور کارکنان تحریک نے باہم مل کر سرانجام دینا ہوتا ہے۔ البتہ دونوں کی ذمہ داریوں اور تقسیم کار کا نظام جدا جدا ہوگا۔

یہ سمجھنا کوتاہ اندیشی ہوگی کہ تاریخ تحریکِ منہاج القرآن کی کامیابی یا خدانخواستہ ناکامی کا فیصلہ صرف ایک آخری مرحلہ کے تناظر میں کرے گی یہ اس لئے ممکن نہیں کہ ہماری تحریک فقط سیاسی تحریک نہیں بلکہ احیائے اسلام کی عالمگیر تحریک ہے لہذا تاریخ کا فیصلہ تحریک جدوجہد کے ہمہ جہت اثرات اور نتائج کے لحاظ سے ہوگا۔ اگر ہم PAT کو فقط مروجہ معنی میں ” ایک روایتی سیاسی جماعت“ کے طور پر چلاتے رہے اپنی تمام تر توانائیاں اسی سیاسی جدوجہد میں صرف کرتے رہیں اور اس راستے سے خاطر خواہ نتائج بھی پیدا نہ ہوئے بلکہ دوسری سیاسی جماعتیں معروف معنی میں سیاسی طور پر کامیاب رہیں تو اس طرح اصلاحی اور تجدیدی کام بھی ”سیاسی غلغلے اور شور“ میں دب جائیں گے۔ ان کے پہلے سے مرتب شدہ مسلمہ نتائج بھی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ اور تاریخ ہمارے مشن کو ہر لحاظ سے ناکام تصور کرے گی۔

اگر ہم پہلے دونوں کاموں کو ساتھ ساتھ (Consolidate) کرکے محفوظ کرتے جائیں بلکہ انہیں مزید تیز رفتاری سے مسلسل آگے بڑھاتے رہیں اور جس کام کی پیش رفت جاری ہو وہ زیر نظر (Under Observation) رہے اور آخری (انقلابی ) کام کو حکمت اور دانائی سے اس طریق پر آگے بڑھائیں کہ دوسرے دونوں (اصلاحی و تجدیدی) کاموں کے نتائج متاثر نہ ہوں تو اس صورت میں تحریک منہاج القرآن دنیا میں مختلف حوالوں سے جس قدر کام کر چکی ہے یا آگے کرے گی وہ عوام و خواص امت کی نظروں میں اور آئندہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہوتا جائے گا اور نہ مٹنے والا ریکارڈ بنتا جائے گا۔

قائدِ تحریک کے ساتھ تعلق اور دعوت کا فروغ

مشن کی دعوت کو فروغ پذیر کرنے کےلئے دیگر ذرائع کے علاوہ مؤثر ترین ذریعہ قائد تحریک کی ذات سے وابستگان کا تعلق اور قائد تحریک کے پیغام کو معاشرے میں عام کرنا ہے۔ لہذا کارکنان تحریک قائد تحریک کے ویڈیو خطابات کو فروغ دعوت کےلئے استعمال کریں اور ملک بھر میں ویڈیو خطابات دکھانے کے پروگراموں کا جال پھیلا دیں اس مہم سے:

٭ کارکنان، وابستگان اور عوام الناس کو قائد تحریک کی بالواسطہ صحبت ملے گی۔

٭ اس صحبت سے قائد تحریک سے بالواسطہ تعلیم و تربیت لینے کا موقع میسر آئے گا۔

٭ قائد تحریک کا علمی فیضان معاشرے میں عام کرنا ممکن ہوگا۔

٭ کارکنان تحریک بھی فن تقریر و خطابت سے آگاہ ہو سکیں گے اور مؤثر ابلاغ کا اسلوب سیکھ سکیں گے۔

٭ کارکنان حکیمانہ انداز سے بات کرنے کا فن سیکھ سکیں گے کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے اور کس انداز سے دلائل کو مواد سے اخذ کرکے مؤثر انداز سے سامعین تک پہنچانا ہے۔

ویڈیو خطابات کو عام کرنے کی مہم سے نہ صرف مشن کا پیغام گلی گلی عام ہوگا بلکہ وابستگان تحریک کا روحانی، فکری اور عملی تعلق اپنی بانی قیادت سے مستحکم ہوتا جائے گا۔

قیادت کی اِطاعت اور وفاداری

کسی بھی انقلابی جدوجہد میں قیادت کی حیثیت مرکز اور محور کی ہوتی ہے۔ تحریک کی بانی قیادت بھی وابستگان اور کارکنان کےلئے inspiration کا باعث ہوتی ہے لہٰذا تحریکی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے وابستگان کی قیادت سے وفاداری بنیادی شرط ہے۔ اسوہ حسنہ سے ملنے والی تعلیمات اس امر کا ثبوت ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سرفروشی اور جان دہی پر مبنی جدوجہد سے ہی اسلام کا فروغ ممکن ہوا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعود ثقفی دربار مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوٹا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثاروں کے مثالی کردار سے اتنا متاثر تھا کہ اس نے واپس آ کر قریش سے کہا:

”اے گروہ قریش! میں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، میں قیصر، کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ ا س کے ساتھی اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا مستعمل پانی حاصل کرنے پر ایک دوسرے سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور وہ ان کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے انہوں نے تمہارے سامنے عمدہ تجویز رکھی ہے پس اسے قبول کر لو۔“

غزوہ احد کے دوران جب ایک موقع پر کفار کا پلڑا بھاری ہونے لگا اور مسلمان مجاہدین منتشر ہوگئے تو کفار نے آپکا گھیراؤ کر لیا۔ قریش کے چند دلیر سورماؤں نے آپ کو شہید کرنے کا حلف اٹھا لیا۔ لیکن ان نازک لمحات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی حفاظت کےلئے آپ کے ارد گرد سینہ سپر ہوگئے اور پروانوں کی طرح شہید ہونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آنے والے تیروں کی بارش کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اپنے سینوں پر روک رہے تھے تآنکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دشمنوں کو پرے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

تحریکی اور انقلابی زندگی میں قیادت سے یہی تعلق اور وفاداری و جانفروشی کا جذبہ تحریک کو مشکلات کے بھنور سے نکال کر کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔

تنظیمی ڈھانچہ و طریق کار

بدلے ہوئے حالات میں مصطفوی انقلاب کی جدوجہد میں کامیابی کےلئے سابقہ تنظیمی سٹرکچر اور طریقہء کار میں بنیادی اور انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں:

1۔ تحریکِ منہاج القرآن کا قائدانہ کردار

آئندہ انقلابی جدوجہد میں تحریک منہاج القرآن کو لیڈنگ رول حاصل ہو گا جبکہ پاکستان عوامی تحریک اور اس کے ونگز اس انقلابی جدوجہد میں تحریک منہاج القران کی معاونت کریں گے۔

2۔ تحریک کی تنظیم نو

تحریک منہاج القرآن کے تنظیمی سٹرکچر میں الیکشن کا نظام ختم کردیا گیا ہے۔ عہدیداران کا تقرر الیکشن کی بجائے کارکردگی اور اہلیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیلی امرائے تحریک کا تقرر مقامی کارکنان کی سفارش پر براہ راست قائد انقلاب کریں گے۔ امرائے تحریک قائد انقلاب کے نمائندے کہلائیں گے اور ان کی اطاعت بھی اسی ضابطے میں ہو گی۔

3۔ فورمز کا انضمام اور علیحدہ تشخص کا خاتمہ

افرادی قوت کے بہترین استعمال اور باہمی اختلافات کے خاتمے کےلئے تمام فورمز کو تحریک منہاج القرآن میں ضم کر دیا گیا ہے۔ البتہ منہاج القرآن ویمن لیگ کو صرف ذیلی سطح پر اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کو صرف تعلیمی اداروں کی سطح پر تنظیمی نیٹ ورک کے قیام کی اجازت ہو گی مگر ان کا تنظیمی سٹرکچر اسی طرح کا ہو گا جو تحریک منہاج القرآن کا ہے۔ اِسی طرح پاکستان عوامی تحریک اور اس کے ونگز بھی قائم رہیں گے لیکن اُن میں صرف سیاسی اور انتخابی صلاحیتوں کے حامل افراد کام کر سکیں گے۔

4۔ نیا تنظیمی ڈھانچہ

پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہء حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے تنظیمی ڈھانچہ کو ہر سطح پر دس دس افراد کے یونٹس (Units) کی صورت میں منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

i۔ حلقہ معاونت: (معاون + دس ارکان)

یہ تنظیمی ڈھانچہ میں سب سے بنیادی یونٹ ہو گا، یہ صرف دس افراد پر مشتمل ہو گا۔ گیارھواں فرد حلقہ کا سربراہ ہو گا جسے معاون کہا جائے گا۔ معاون کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے حلقہ کے دس ارکان مکمل کرے اور ان دس ارکان سے متعلق جملہ دعوتی، تربیتی اور تنظیمی امور کا نگران اور ذمہ دار بھی یہی معاون ہی ہو گا۔

ii۔ حلقہ نقابت: (نقیب + دس معاونین)

جب دس دس ارکان اور ان پر ایک ایک معاون پر مشتمل دس حلقہ جات قائم ہو جائیں گے تو حلقہ نقابت وجود میں آئے گا، یہ دس معاونین پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ نقیب کہلائے گا۔ اس طرح ایک معاون کے نیچے دس ارکان تھے جبکہ ایک نقیب کے نیچے مجموعی طور پر 110 کارکنان (دس حلقہ ہائے معاونت کے کل 100 ارکان اور اس پر 10 معاونین) ہو جائیں گے۔

iii۔ حلقہ نظامت : (ناظم + دس نقیب)

یہ دس نقباء پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ ناظم کہلائے گا۔ یوں ایک ناظم کے نیچے کل 1110 کارکنان ہوں گے جن میں 10 نقیب اور ان کے دس حلقہ ہائے نقابت شامل ہوں گے۔

iv۔ حلقہ صدارت : (صدر + دس ناظمین)

یہ دس ناظمین پر مشتمل ہو گا، اس کا سربراہ صدر کہلائے گا۔ اس حلقہ کی مجموعی تعداد 11100 ہو جائے گی، جن میں دس ناظمین اور ان کے حلقہ ہائے نظامت شامل ہوں گی۔

v۔ حلقہ امارت : (امیر + دس صدور)

یہ تحصیل کے تمام صدور پر مشتمل ہو گا اور اس کا سربراہ امیر کہلائے گا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر شہر بھی ایک تحصیل تصور ہو گا۔ تمام تنظیمات مذکورہ بالا ضابطے کے مطابق مکمل ہوں تو ایک امیر کے نیچے 111000 افراد ہوں گے۔

vi۔ ضلعی تنظیم

ہر ضلع کی جملہ تحصیلوں کے امراء اور صدور پر مشتمل ہو گی، الگ سے کوئی عہدیداری نہیں ہو گی جو نچلی سطح پر کام کرے گا وہی عہدہ اور منصب پائے گا۔

vii۔ نئے تنظیمی سٹرکچر میں نظام کار اور دائرہ ذمہ داری

  • ہر ضلعی امیر صرف تحصیل کے امراء پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر تحصیل کا امیر اپنے نیچے صرف دس صدور پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر صدر اپنے نیچے صرف دس ناظمین پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر ناظم اپنے نیچے صرف دس نقباء پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر نقیب اپنے نیچے صرف دس معاونین پر ذمہ دار ہو گا۔
  • ہر معاون اپنے نیچے صرف دس ارکان پر ذمہ دار ہو گا۔
  • جملہ امور کی انجام دہی بھی اسی طرح 10، 10 اور 10 افراد کے مابین ہو گی۔

viii۔ مرکز اور یونٹ کے درمیان رابطہ اور ترسیل کا نظام

١۔ مرکز احکامات و ہدایات ضلعی تنظیم کو بھیجے گا، جسے ضلعی امیر وصول کرے گا اور اپنی جملہ تحصیلوں کے امراء کو منتقل کرے گا۔ تحصیلوں کے امراء اپنے حلقوں کے صرف 10، 10 صدور کو وہی ہدایات پہنچائیں گے پھر ہر صدر اپنے حلقہ کے دس ناظمین کو یہ ہدایات پہنچائے گا اور ہر ناظم اپنے حلقہ کے دس نقباء کو، ہر نقیب اپنے حلقہ کے دس معاونین کو اور ہر معاون وہی ہدایات اپنے دس ارکان کو پہنچائے گا۔ یہ اوپر سے نیچے کا ترسیلی نظام ہو گا۔

٢۔ اسی طرح نیچے سے اوپر رابطے کی شکل یہ ہو گی: ہر یونٹ کا معاون اپنے دس ارکان سے زرتعاون اور کارکردگی رپورٹ وصول کرے گا۔ دس معاونین اپنے اپنے حلقوں کے زرتعاون اور رپورٹ اپنے نقیب کو دیں گے اور دس نقیب یہی اپنے ناظم کو منتقل کریں گے اور ناظم اپنے حلقہ کے صدور کو اور صدور اپنے حلقہ کے امیر کو زرتعاون اور رپورٹ بھیجیں گے اور تمام تحصیلوں کے امیر وہی رپورٹ اور زراعانت ضلعی تنظیم کو دیں گے جو مرکز کو پہنچانے کے ذمہ دار ہوں گے۔ مرکز اور یونٹ کے مابین یہ نظام رابطہ و ترسیل (Command, Control & Communication System) ہو گا۔

٣۔ نئے تنظیمی ڈھانچے کے فوائد حسبِ ذیل ہیں:

  • کمانڈ اور کنٹرول کا مؤثر نظام قائم ہو سکے گا۔
  • عہدیداران کے مابین تقسیم کار کے نتیجے میں بوجھ کم ہو گا۔
  • اعلیٰ قیادت کے احکامات بروقت اور سرعت کے ساتھ بنیادی یونٹ تک پہنچ سکیں گے۔
  • تحریک سے وابستہ ہر فرد تحریکی سرگرمیوں میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے گا۔
  • زرِ تعاون کی مرکز کو بآسانی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

تنظیم سازی کا مرحلہ اوّل

1۔ ہر تحصیل کا امیر اپنی تحصیل کی مختلف یونین کونسلوں میں رہائش پذیر بہترین، فعال اور تحریکی فکر کے حامل کارکنان میں سے کم از کم 5 افراد کو مختلف علاقوں میں بطور ناظم مقرر کرے گا۔

2۔ ہر ناظم اپنے حلقہ میں رہائش پذیر بہترین اور فعال کارکنان میں سے کم از کم 5 نقباء کا تقرر عمل میں لائے گا۔

3۔ ہر نقیب اپنے قریبی علاقے میں موجود تحریک اور جملہ فورمز کے اراکین، دیگر وابستگان اور قلبی و ذہنی ہم آہنگی اور ہمدردی رکھنے والے ان افراد میں سے 5 معاونین مقرر کرے گا جو مشن میں اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ کام کرنے اور 5 روپے ماہانہ زرِتعاون مرکز کو ادا کرنے کےلئے تیار ہوں۔

4۔ پھر ہر معاون اپنے حلقہ میں 10افراد کو بطور رکن شامل کر کے حلقہ معاونت کو مکمل کرے گا۔

تنظیم سازی کا مرحلہ دوم

1۔ دوسرے مرحلے میں تنظیمی ڈھانچے کا پھیلاؤ عمل میں لایا جائے گا۔

2۔ معاون حلقہ کی ذمہ داری ہو گی کہ ہر رکن کو بطور داعی دعوت کے فروغ کےلئے آمادہ اور تیار کرے ہر داعی کی ذمہ داری ہو گی کہ ہر ماہ کم از کم ایک نئے فرد کو بطور رکن تحریک میں شامل کرے۔ پانچ نئے اراکین کی شمولیت کے بعد متعلقہ رکن/ داعی معاون کی ذمہ داری پر فائز ہو جائے گا اور فوری طور پر اپنا دس ارکان پر مشتمل حلقہ معاونت مکمل کرے گا اور آئندہ اپنے معاون کی بجائے اپنے نقیب کو جواب دہ ہو گا۔

3۔ معاونین کی تعداد 10 ہو جانے کی صورت میں ایک نیا حلقہ نقابت قائم ہو جائے گا۔ جس کا سربراہ نقیب ہو گا۔

4۔ 10 نقباء بن جانے پر ان کے حلقہ کے ناظم کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

5۔ 10 ناظمین مقرر ہو جانے پر ان کے حلقہ کے صدر کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

6۔ اگر تنظیم کا اس قدر پھیلاؤ ہو جائے کہ 10 صدور ہوں تو ان پر ایک امیر ہو گا۔

مرکزی تنظیمی ڈھانچہ

مرکزی تنظیم کا ڈھانچہ اور نظام کار بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مرکزی باڈیز کے علاوہ سپریم کونسل، مرکزی شوریٰ اور ایگزیکٹو کونسل پر مشتمل ہو گی۔ ایگزیکٹو کونسل، سپریم کونسل اور شوریٰ کے فیصلوں کے مطابق ہمہ وقت امور کی انجام دہی کی ذمہ دار اور نگران ہو گی۔ یہ ناظم اعلیٰ اور 12 ناظمین پر مشتمل ہو گی ہر ناظم اپنی اپنی نظامت کا ذمہ دار ہو گا۔

ذیلی تنظیمات کام کی نوعیت کے اعتبار سے ناظم اعلیٰ یا متعلقہ مرکزی ناظم سے رابطہ قائم کریں گی۔

اہداف و مقاصد

  1. تحریک منہاج القرآن کے بپا کئے جانے کا مقصد اولین غلبہ دین حق کی بحالی اور اُمت مسلمہ کے احیاء و اتحاد کیلئے قرآن و سنت کے عظیم فکر پر مبنی ”مصطفوی انقلاب“ کی ایسی جدوجہد ہے جو ہر سطح پر باطل، طاغوتی، استحصالی اور منافقانہ قوتوں کے اثر و نفوذ کا خاتمہ کر دے۔
  2. تحریک منہاج القرآن کا مقصد دعوتی و تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعہ اتحادِ اُمت کےلئے راہ ہموار کرنا ہے۔ تاکہ غلبہ دین حق کی بحالی اور اُمت مسلمہ کے احیاء کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔
  3. قرآن و سنت کو بنیاد بناتے ہوئے عوام کو دینی، معاشی اور معاشرتی انقلاب کی طرف لے کر چلنا تحریک کا مقصد اولین ہے۔
  4. ہر سطح پرغلبہ دین حق کی بحالی اور باطل، طاغوتی اور استحصالی نظام کے خاتمہ کی ایسی جدوجہد جو پاکستان میں اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام اور بالآخر اسلامی کامن ویلتھ کے قیام پر منتج ہو۔

مرکزی سیکرٹریٹ، تحریکِ منہاج القرآن
365 ایم، ماڈل ٹاؤن، لاہور 54700
فون : 0092.42.111.140.140، 5169111-3
فيکس : 0092.42.5168184
ای میل: tehreek@minhaj.org
ویب سائٹ: www.minhaj.org

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: