تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for مئی, 2007

مقام محمود

Posted by naveedbcn پر مئی 31, 2007

 

مقام محمود

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت سے معمور
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا علمی و تحقیقی خصوصی خطاب

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًاO

(بني اسرائيل، 17 : 79)

’’اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی) قرآن کے ساتھ (شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)o‘‘

اس آیت کریمہ میں ’’عسٰی‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عام طور پر شک کا معنی دیتا ہے۔ مگر جب اس کی نسبت اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہو تو پھر اس میں یقین کا معنی پایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ شک والی بات کرے اُس کی ہر بات حتمی اور قطعی ہوتی ہے۔ اس لئے ’’عسٰی‘‘ یہاں یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اس آیت میں ایک خاص نکتہ پوشیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب! آپ نمازِ تہجد ادا کیجئے جو کہ نفلی نماز ہے اور آپ کی اس نفلی نماز کا صلہ یہ ہو گا کہ اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرما دے گا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوافل میں سے ایک نفلی نماز تہجد کا صلہ یہ دیا کہ انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما دیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرائض کے صلے کا عالم کیا ہو گا؟ یہ مقام محمود کیا ہے؟ اس پر ذیل میں تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔

مقامِ محمود کا معنی

محمود ایک مقام ہے جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فائز کیا جائے گا۔ بعض علماء نے اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام فرما ہونا مراد لیا ہے کہ مقام چونکہ ظرف ہے اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت جس مقام پر کھڑا کیا جائے گا وہ مقامِ محمود ہے۔ جبکہ بعض علماء نے مذکورہ معنی کی بجائے یہ کہا ہے کہ مقامِ محمود سے مراد وہ خاص مقام، منصب، درجہ، مرتبہ اور منزلت ہے جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت فائز کیا جائے گا۔ اس معنی میں زیادہ وسعت، زیادہ صحت اور زیادہ بلاغت ہے۔ مقامِ محمود کی تمام روایات اور احادیث جو مقامِ محمود کو بیان کرتی ہیں انہیں جمع کیا جائے تو یہی معنی ان کی مراد کو سموتا ہے۔ اکثر علماء اور ائمہ تفسیر نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے۔ یہی معنی مذہبِ مختار ہے۔ اس مقام کو مقامِ محمود کیوں کہا گیا؟ اس کی تفصیل و تعبیر کتبِ حدیث میں بھی آئی ہے اور تمام تفاسیر میں بھی موجود ہے۔ لیکن سب سے نفیس اور اعلیٰ بات امامِ ابن کثیر نے کہی ہے۔

امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ (700 ۔ 774ھ) مقامِ محمود کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

إفعل هذا الّذي أمرتک به، لنقيمک يوم القيامة مقامًا يحمدک فيه الخلائق کلّهم وخالقهم تبارک وتعالي.

(ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 5 : 103)

’’اے محبوب! آپ یہ عمل (نماز تہجد) ادا کیجئے جس کا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے تاکہ روزِ قیامت آپ کو اس مقام پر فائز کیا جائے جس پر تمام مخلوقات اور خود خالقِ کائنات بھی آپ کی حمد و ثناء بیان فرمائے گا۔‘‘

محمود کا معنی

جب ہم قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز کرتے ہیں تو اس آیت سے کرتے ہیں : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن‘‘ ’’تمام تعریفیں اﷲ رب العزت کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔ محمود، حمد سے ہے اور اﷲ تعالیٰ کا اپنا اسم گرامی بھی محمود ہے ’’جس کی تعریف کی جائے‘‘۔ محمود اس کو کہتے ہیں جس کے ذاتی کمالات، خصائص، فضائل اور عظمت و کمال کی حمد کی جائے۔

حمد و شکر میں فرق

حمد کسی کے ذاتی کمال پر کی جانے والی تعریف کو کہتے ہیں جبکہ شکر اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی کے احسان پر کی جائے۔ حمد کسی کی ذاتی عظمت کی تعریف کرنا ہے۔ یہ کہنا کہ وہ ہر نقص سے پاک ہے یہ حمد ہے۔ کسی کی ذاتی خوبیوں، ذاتی حسن، ذاتی عظمت، ذاتی سطوت، ذاتی جلال و جمال کو سراہنا اور اس کی تعریف کرنا اور کیے جانا یہ حمد ہے۔ اُس کے احسانات پر تعریف کرنا یہ شکر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کا آغاز ان الفاظ سے نہیں کیا : ’’الشکر للّٰہ رب العالمین‘‘ کہ شکر ہے اس اﷲ رب العزت کا جو سارے جہانوں کا رب ہے۔۔۔ شکر کیوں نہیں کہا؟ اس لئے کہ شکر کی نسبت تو شکر ادا کرنے والے کی طرف ہو گئی کہ وہ شکر ادا کرے گا تو شکر ثابت ہو گا جبکہ ساری دنیا شکر گزار نہیں ہے۔ شاکر بھی ہیں اور شاکی بھی ہیں۔۔۔ کچھ ایسے ہیں کہ ملتا ہے تو اس پر شکر ادا نہیں کرتے بلکہ جو نہیں ملتا اس پر شکوہ کناں رہتے ہیں۔ پھر کافر بھی ہیں وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ وہ تو اس کی ربوبیت کو ہی نہیں مانتے، اس کے احسانات کو ہی نہیں مانتے تو اس کا شکر کیسے ادا کریں گے۔ لہٰذا اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ ’’الشکر للّٰہ رب العالمین‘‘ تو اس کی تعریف محدود ہو جاتی۔ لا محدود کی تعریف محدود ہو جائے یہ اسے پسند نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ شکر وہی کرے گا جسے اُس کے احسان کا شعور بھی ہوگا۔ بہت لوگ ایسے ہیں جنہیں اس کے احسانات کا شعور ہی نہیں ہے، اس لئے اس نے شکر کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ حمد کا لفظ استعمال کیا کہ اس کے معنی میں وسعت ہے۔ شکر، حمد کا حصہ ہے مگر حمد، شکر میں شامل نہیں ہے۔ حمد کا دائرہ وسیع ہے اور شکر کا دائرہ محدود ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے جب اپنے کلام کا آغاز فرمایا تو اپنا تعارف ان الفاظ میں کروایا : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن‘‘ ۔ حمد بڑی عظیم شے ہے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس بناء پر وہ محمود بھی ہے۔ وہ اس وقت بھی محمود تھا جب اس کی تعریف کرنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ حمد چونکہ اس کی ذاتی خوبی ہے۔ ذاتی خوبی مخلوق کی احتیاج سے بھی ماوراء ہے۔ وہ تعریف کرنے والوں کا محتاج نہیں ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ سب تعریف کرنے والوں کی تعریف اﷲ تعالیٰ کے لئے ہے۔ اس نے تعریف کرنے والوں کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ کوئی حامد تعریف کرے یا نہ کرے وہ اپنی ذات میں ہر حمد کا حق دار ہے ہر خوبی کا سزاوار وہ ہے۔ اس حمد کی بناء پر وہ محمود ہے۔ اب جو وسعت، جامعیت، ہمہ گیریت اس حمد میں ہے وہی شان محمود میں ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام مبعوث فرمائے مگر کسی کے مقام کا نام مقامِ محمود نہیں رکھا کیونکہ محمود اس کا اپنا ذاتی نام ہے۔ جو حمد کا سزاوار ہے اور حقیقی محمود وہی ہے اس لئے اس نے مقامِ محمود کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چنا ہے۔ آپ غور کیجئے ادھر قرآن حمد سے شروع ہو رہا ہے اور الحمد ﷲ کہہ کر اعلان ہو رہا ہے کہ محمودِ حقیقی صرف اﷲ تعالیٰ ہے۔ حمد سے شروع ہونے والا اس کا کلام اور محمود پر ختم ہو جانے والی ساری تعریفیں، ادھر قیامت پر ختم ہو جانے والی ساری کائنات، ساری مخلوقات و کائنات کا خاتمہ قیامت پر ہو گا اور ساری حمد کا خاتمہ محمود کی ذات پر ہے۔ جب وہ انتہائے کائنات کا دن ہو گا تو مقامِ محمود انتہائے حمد کا مقام ہے وہ مقام کسی اور نبی اور ولی کو نہیں دیا بلکہ فرمایا محبوب! تیری شانِ حمد کا عالم یہ ہے کہ یہاں اس دنیا میں محمود میرا نام ہے اس کو روزِ قیامت تیرا مقام بنا دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کو مقامِ محمود کہہ دینا کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے۔ بلکہ اﷲ رب العزت نے قرآن مجید کے نزول کے وقت یہ کہہ دیا کہ محبوب تو رات کی خلوت میں میری بارگاہ میں حاضر ہوا کر میں تجھے روزِ قیامت پوری مخلوق کے درمیان مقامِ محمود پر فائز فرما دوں گا۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو مقامِ محمود کا معنی بیان کیا اس کی وضاحت یہ ہے کہ انہوں نے کہا : مقامِ محمود کو مقامِ محمود اس لئے کہا گیا کہ ادھر ساری مخلوق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کر رہی ہو گی اور خود باری تعالیٰ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کر رہا ہو گا۔

لفظِ حمد کا اطلاق

جب ہم حمد کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے اطلاق کے بارے میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ یہ لفظ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے بولا جا سکتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس لفظ کو استعمال کرنا جائز نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نعت کا لفظ تو ٹھیک ہے، حمد کا لفظ ٹھیک نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی محمد رکھا ہے۔ محمد مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے جس کی بار بار اور بے حد و حساب حمد کی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد ہی اﷲ تعالیٰ کی حمد ہے۔ بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی اور اعلیٰ حمد ہے۔

مثال کے طور ایک کاریگر ہے وہ کوئی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ لوگ اس کی تعمیر کردہ عمارت کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اس کے حُسنِ تعمیر کو سراہیں تو کیا کاریگر اس تعریف سے ناراض ہو گا؟ پیرس میں ایفل ٹاور ہے، لاہور کی بادشاہی مسجد ہے، شالامار باغ ہے، آگرہ میں تاج محل ہے آپ ان عمارات کی تعریف کریں اور بے حد و حساب اور مبالغہ کی حد تک ان عمارتوں کی تعریف کریں تو کیا اس تعریف سے ان عمارتوں کے معمار ناراض ہوں گے۔ ہاں اگر ساتھ کوئی دوسری عمارت ہے اس کی تعریف کی جائے تو وہ کاریگر ناراض ہو گا لیکن اگر عمارت ہی ایک ہو اور آپ ساری عمر اس کی تعریف کرتے رہیں تو اس عمارت کا تعمیر کرنے والا کبھی ناراض نہ ہو گا۔ کاریگر کو تو کسی نے دیکھا، کسی نے نہیں دیکھا لیکن عمارت تو سب نے دیکھی ہے تو گویا عمارت کی تعریف دراصل کاریگر کی تعریف ہے۔ اسی طرح اﷲ رب العزت کو تو کسی نے نہیں دیکھا لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو سب نے دیکھا۔ اب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرنا دراصل اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔

اسی طرح شاعر کی مثال ہے آپ اس کے دیوان کی تعریف کریں اس کی شاعری کی تعریف کریں تو وہ اس بات پر خوش ہو گا۔ شاعری کی تعریف ہی دراصل شاعر کی تعریف ہے۔ آپ علامہ اقبال کی تعریف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا کلام بہت عظیم ہے۔ کلام بڑا ہے تو صاحبِ کلام بڑا ہے۔ آپ کوئی پراڈکٹ لے لیں، دنیا کی کوئی صنعت لے لیں جب اس کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ اس کی کمپنی کی تعریف ہوتی ہے۔ یہ پوری کائنات کا قاعدہ ہے۔لہٰذا اب اس بات کا جھگڑا نہیں بنتا کہ اگر کوئی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتا جائے اور کرتا ہی رہے اﷲ تعالیٰ اس کو سو سال عمر دے اور وہ ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتا رہے تو اس بات سے اﷲ رب العزت کبھی ناراض نہیں ہو گا۔ اس سے بڑھ کر اس کی خوشی کیا ہو گی کہ میں نے ایک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنایا ہے اور ساری کائنات اسی کی تعریف کر رہی ہے۔ مخلوق کی تعریف کرنا دراصل خالق کی ہی تعریف ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں اگر کوئی یہ کہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے حسین ہیں تو یہ دراصل اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے کہ اس نے حسین بنایا ہے۔ اولاد کی تعریف سے ہمیشہ ماں باپ خوش ہوتے ہیں، تصویر کی تعریف سے مصوّر خوش ہوتا ہے، شاگرد کی تعریف سے استاد خوش ہوتا ہے۔ اگر اولاد کی تعریف پر والد ناراض ہو کہ میری اولاد کی تعریف کیے جا رہے ہیں میری کوئی تعریف ہی نہیں کر رہا۔ مصنف کی کتابوں کی تعریف کریں اور مصنف ناراض ہو جائے کہ میری کتابوں کی تعریف کر رہے ہیں میری تعریف ہی کوئی نہیں کر رہا تو ایسا کہنا دراصل دماغ کی خرابی کا باعث ہے ورنہ اولاد کی تعریف والدین کی ہی تعریف ہے اور کتاب کی تعریف دراصل مصنف کی ہی تعریف ہے۔

اس لئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’الحمد للّٰہ‘‘ ساری تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ یہ سن کر ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ باری تعالیٰ تُو ساری تعریفوں کا حق دار کیوں ہے اس کی کوئی دلیل بھی تو ہو گی؟ اس نے ساتھ ہی جواب دیا : ’’رب العالمین‘‘ اس لئے کہ میں سارے جہانوں کا رب ہوں۔ میں نے سارے جہانوں کو بنایا ہے۔ جو کچھ میں نے بنایا ہے اس کو دیکھ لو کہ میں قابلِ تعریف ہوں یا نہیں۔ جو اﷲ تعالیٰ بناتا ہے اگر وہ قابلِ تعریف ہے تو یہ اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ ہر شے میں اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ اگر کسی نے اولیاء کی تعریف کی تو اﷲ تعالیٰ کبھی ناراض نہ ہو گا کہ اسی نے ہی تو ولایت دی ہے۔ کسی نے انبیاء کرام کی تعریف کی تو اﷲ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہو گا کہ اسی نے ہی تو نبوت دی ہے لہٰذا ان کی تعریف اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تعریف کرتا رہے تو اس سے اﷲ تعالیٰ ناراض نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف جس جس جہت سے کرتے رہیں وہ سب الحمد للہ کے ضمن میں ہے۔ وہ اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔ کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کے بنانے سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خالق و معمار اﷲ تعالیٰ ہے۔ اس لئے ذہن میں یہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ حمد کا لفظ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے جائز ہے۔

پھر تعریفوں کی بھی ایک حد ہے۔ تعریف کرنے والوں کی بھی ایک حدہے۔ فرمایا : حمد کا حق دار میں ہوں اور میں ہی محمود ہوں۔ قیامت تک محمود میرا نام رہے گا جب یہ کائنات ختم ہو گی تو محمود اپنے محبوب کا مقام کر دوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک شانِ اُلوہیت کو چھوڑ کر، کیونکہ خالق اور اﷲ تعالیٰ ایک ہے، اﷲ تعالیٰ کی جو بھی تعریف کی جاتی رہی روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان ساری تعریفوں کا عکس بنا دیا جائے گا۔ ساری اُمت مل کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ محمود پر فائز نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ اﷲ تعالیٰ کا نام ہے اس لئے اُس نے اپنے نام کو اپنے محبوب کا مقام بنا دیا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی ہی شان ہے، اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی اپنے بہت سے نام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر رکھے ہیں۔ جیسے اﷲ تعالیٰ شہید ہے اور اُس نے یہ نام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی عطا کر رکھا ہے۔ وہ رحیم ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی رحیم بنا دیا ہے، وہ روف ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی روف بنا دیا، وہ سمیع و بصیر ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس نے سمیع و بصیر بنا دیا ہے۔ اُس نے بہت سے نام جو اس کی شان کے لائق اُس کے تھے پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی شان کے لائق عطا کر دئیے ہیں۔ نام تو پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر رکھے ہیں لیکن روزِ قیامت جو اپنا نام ہو گا اُسے حضور کا مقام بنا دیا جائے گا۔

حافظ ابن کثیر کے بیان کردہ معنی کے مطابق ساری مخلوقات اور ان کا خالق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کر رہے ہوں گے۔ قیامت کا قانون بدل گیا۔ دنیا میں تو اﷲ تعالیٰ کی حمد ہوتی تھی جبکہ قیامت کے روز سب مخلوق اپنے خالق سمیت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کر رہے ہوں گے، ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حمد ایک عمل صالح ہے، یہ زبان کی عبادت ہے، جو اﷲ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے اُسے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے اجر ملتا ہے۔ لیکن جس دن قیامت قائم ہو گی سارے عمل ختم ہو جائیں گے اور اُن پر ملنے والا اجر بھی ختم ہو جائے گا، قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہو گا مگر اس دن پانچ نمازیں فرض نہیں ہوں گی۔ جو عمل ہو چکا اُس کی جزا و سزا کا دن یومِ قیامت ہے۔ اب اس دنیا میں جو اﷲ کی حمد کرتے تھے اﷲ تعالیٰ اس کا اجر دیتا تھا۔ قیامت کے دن قانون بدل دیا جائے گا کہ آج اجر ختم، آج مخلوق بھی آپ کی حمد کرے گی اور میں بھی آپ کی حمد کروں گا۔ ساری کائنات حامد، محبوب تو محمود ہے۔ بے شک اﷲ تعالیٰ کی بھی حمد گی انبیاء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کریں گے۔ لیکن ساری مخلوق اور خالق مل کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کریں گے۔ اس لئے روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیے جانے والے مقام کا نام محمود رکھا اور اس دنیا میں اس مقامِ محمود کے حامل کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا۔

محمد مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے جس کی بہت زیادہ کثرت کے ساتھ تعریف کی جائے۔ محمود کا معنی ہے جس کی تعریف کی جائے۔

ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے باری تعالیٰ بہت زیادہ تعریف تو تیری ہے۔ اس لئے کہ تو خالق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جتنا بھی مرتبہ ہو بہر صورت وہ تیری مخلوق ہیں، تیرے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور تیرے مقرب و محبوب بندے ہیں۔ ایمان اور معرفت کے بغیر عقلِ مادی یہ سوچتی ہے کہ باری تعالیٰ محمد تو تیرا نام ہونا چاہئے تھا کہ سب سے زیادہ تعریف تو تیری ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے اﷲ تعالیٰ بصورتِ معرفت جواب دیتا ہے کہ یہ سوال غلط ہے، میں نے بھی کبھی کوئی نام غلط رکھا ہے، میں غلطی سے پاک ہوں۔ میں نے اگر اپنا نام محمود اور اپنے محبوب کا نام محمد رکھا ہے تو درست رکھا ہے۔ اس لئے کہ میری تعریف ساری مخلوق کرتی ہے۔ اگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میری تعریف کرتے ہیں تو وہ بھی میری مخلوق ہی ہیں۔ جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں بھی کرتا ہوں اور ساری مخلوق بھی کرتی ہے تو جس کی تعریف میں کروں اس کی بہت زیادہ تعریف ہو گی یا جس کی تعریف صرف تم کرو اس کی بہت زیادہ تعریف ہو گی؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محمدیت کا مقام اس لئے ملا کہ اﷲ رب العزت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان کرتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف نہ کرتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمدیت تک نہ پہنچتے۔ مقامِ محمود تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوافل کا صلہ تھا اور مقامِ محمدیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرائض کا صلہ ہے۔ مگر اصل بات اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ حمد کسی عمل کے صلہ میں نہیں ہوتی، حمد عمل کے صلہ سے بے نیاز ہے۔ اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی حمد کرنے والے تو بعد میں بنے لیکن اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول دن سے محمد کر دیا۔ جس کی تعریف اﷲ کر دے اس کی تعریف حد سے بڑھ گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف تو اﷲ تعالیٰ نے حد سے بڑھا دی ہم کون ہوتے ہیں حد سے بڑھانے والے۔ ہم خود محدود ہیں، محدود کسی کو حد سے کیسے بڑھا سکتا ہے۔ ہم تو خود حد میں ہیں، ہمارا بیان، ہمارا فہم، ہمارا شعور، ہمارا کلام سب حد میں ہے۔ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی بھی تعریف کریں ہم حد سے آگے جا ہی نہیں سکتے۔ ہم انہیں حد سے بڑھا ہی نہیں سکتے۔ حد سے تو اُس نے بڑھایا ہے جس نے بنایا ہے اور نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے کلام کی ابتداء حمد سے کی، اپنا نام بھی حمد سے نکالا اور نام محمود رکھا ، اور مخلوقات کے نقشِ اول کا نام احمد اور محمد رکھا، سارے لفظ حمد سے نکالے اپنی پہچان بھی محمود کر کے کرائی، اپنا کلام بھی حمد سے شروع کیا، نام بھی محمود رکھا اور محبوب کو مقام بھی محمود دیا۔ اپنے اور اپنے محبوب کے جملہ معاملات و مقامات حمد کے گرد گھمائے۔

حمد نری تعریف کو کہتے ہیں اور جہاں نری تعریف ہو وہاں نقص ہو ہی نہیں سکتا۔ مثلاً جاننا خوبی ہے اور نہ جاننا نقص ہے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محمد بنا دیا سب سے بڑھ کر تعریف کر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں علم ہی علم منسوب ہو گا، عدمِ علم کی نسبت ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں کر سکتے، نسبت کر دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد نہیں رہتے۔ کوئی کام کر سکنا یہ خوبی ہے، نہ کر سکنا یہ نقص ہے۔ نقص ہو تو حمد نہیں ہوتی اگر ایک گوشے سے حمد نکل گئی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ رہے۔ عطا کرنا خوبی ہے اگر عطا نہ کر سکیں تو یہ نقص ہے اگر نقص آ جائے تو وہ محمد نہ رہے۔ ہم درود و سلام پڑھیں اور وہ وہاں سے سنیں یہ خوبی ہے اگر نہ سن سکیں تو یہ نقص ہے، نقص آ گیا تو حمد نہ رہی، حمد نہ رہی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے مطلق حمد اور حمد ہی حمد۔

محمد کے نام میں وہ خوبی ہے جو اس نے اپنے نام سبحان میں رکھی ہے۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہے وہ ذات، ہر نقص، ہر کمی، ہر کجی سے پاک، ہر اس کمزوری سے پاک جو اس کی شان کو گھٹا دے۔ اﷲ تعالیٰ کی شانِ سبحانیت ہے اس کا عکس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محمدیت پر ہے۔ یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اے باری تعالیٰ! تو جو روزِ قیامت اپنے محبوب کی تعریف کرے گا تو کیا تیرا یہ عمل صرف یومِ قیامت کے ساتھ خاص ہے یا یہ کام پہلے بھی کیا ہے؟ فرمایا : مقام کا نام آج رکھا ہے کام پہلے سے کرتا چلا آ رہا ہوں ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ (ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کر دیا)۔ محبوب کی حمد تو میں ہمیشہ سے کرتا چلا آ رہا ہوں اُسی سے تو ذکر بلند ہوتا آ رہا ہے۔ کام ایک ہی رہا ہے عنوان بدلتے رہے ہیں۔ کبھی اس کو ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ کے پردے میں سمجھا دیا، کبھی ’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاO‘‘ کے حکم میں بیان کر دیا اور کبھی ’’عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًاO‘‘ کے نام سے اُجاگر کر دیا کہ میں حمد تو اوّل دن سے کر رہا ہوں اور روزِ قیامت بھی کروں گا۔ حمد کر رہا ہوں تو نام محمد رکھا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعتِ کبریٰ فرمائیں گے، جملہ مخلوق آپ کی تعریف کرے گی۔ کیا رفیع الشان مقام ہو گا جب شانِ محمدیت کا کامل ظہور ہو گا اور جملہ اولین و آخرین حمد و ثنائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کر رہے ہوں گے۔ کرمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجلیاں افزوں تر ہوں گی۔ تمام اہلِ محشر تو پل صراط سے گزرنے میں مشغول ہوں گے مگر حضور شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط کے کنارے کھڑے کمال گریہ و زاری سے اپنی عاصی و گنہگار اُمت کی نجات کی فکر میں غلطاں و پیچاں اپنے خالق و مالک سے دعا کر رہے ہوں گے ’’ربّ سلم، ربّ سلم‘‘ پروردگارِ عالم انہیں سلامتی و عافیت سے پار لگا دے۔ مولا! ان خطا کاروں کو بچا لے انہیں اپنے دامنِ عفو و کرم میں پناہ عطا فرما دے۔ اے احکم الحاکمین! تجھے تیری رحمت کا واسطہ ان عاصیوں اور سیاہ کاروں کو نجات عطا فرما۔

نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ باپ بیٹے سے بھاگ رہا ہو گا۔ بیٹا باپ کو نہیں پہچانتا ہو گا۔ جن سے کچھ توقّع اور اُمید تھی وہ سب بیگانے ہو چکے ہوں گے۔ ہاتھ پاؤں اور جسمانی طاقت جواب دے گئی ہوگی۔ ٹوٹی ہوئی کمریں اور اُوپر سے گناہوں کا بوجھ عجیب ندامت کا سماں ہو گا۔ کوئی پھسلے اور بھٹکے تو سنبھلنا کیسا؟ اب تمام اوّلین و آخرین کا بار حضور شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر آن پڑے گا۔ ایک اکیلی جانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گی اور جہان بھر کا سامان ہو گا۔ یومِ حشر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مقامات کا دورہ فرمائیں گے۔ کبھی میزان پر جلوہ افروزی فرمائیں گے۔ میزان قائم ہوگی، نامۂ اعمال کھولے جا رہے ہوں گے، ہنگامہ دار وگیر گرم ہو گا اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے اعمال حسنہ میں کمی دیکھیں گے اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور کبھی دیکھو توحوضِ کوثر پر تشریف فرما ہیں اور تشنہ لب پیاسوں کو سیراب فرما رہے ہیں کہ پانی پی کر ہوش و حواس باقی رکھیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی جگہ پر جلوہ افروز رہتے تو اﷲ جانے میزان پر آفت رسیدوں اور غم زدوں پر کیا گزرتی۔ کون سا پلہ بھاری ہو جائے۔ ادھر کرم نہ فرمائیں تو یہ بے کس و بے چارے، بے یار و مددگار برباد ہو جائیں۔ پھر وہاں سے پل صراط پر رونق افروز ہوئے اور گرتوں کو تھام لیا۔ غرض ہر جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی دُہائی ہو گی۔ ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم ہو گا اور جہاں بھر کی خبر گیری ہو گی۔ اتنا عظیم اژدھام اور اس قدر مختلف کام اور پھر عطائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر بیز ضوفشانیاں عجیب سماں بندھا ہو گا۔ اس درجہ فاصلوں پر مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر ایک دوسرے سے اس طرح زیادہ پیارا ہے جیسے ماں کا اکلوتا بچہ۔ قلبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجومِ آلام ہو گا لیکن زبان پر خدا کا نام ہو گا۔ آنکھوں سے اشک رواں ہوں گے اور ہر طرف بے تابانہ دواں ہوں گے۔ اِدھر گرتے کو سنبھال رہے ہوں گے اور اُدھر ڈوبتوں کو نکال رہے ہوں گے۔ یہاں روتوں کے آنسو پونچھے جا رہے ہوں گے اور وہاں آگ میں جلتوں کو دوزخ سے نکالا جا رہا ہو گا۔ الغرض ہر جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دہائی ہو گی۔ ہر شخص عام و خاص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو پکار رہا ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمود پر فائز ہو کر اوّلین و آخرین کو فیضیاب فرما رہے ہوں گے۔

Advertisements

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »

صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن

Posted by naveedbcn پر مئی 31, 2007

صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن

مورخہ 27 مئی بروز اتوار دن 10:00 بجے ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ یہاں پر ورکرز کو امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم نے دعوت بذریعہ کیسٹ اور سی ڈی ایکسچینج سنٹرز کی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کاکام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔
تحریک منہاج القرآن دنیا بھر میں اسلام کی تعلیمات کی حقیقی روح کیساتھ تبلیغ میں مصروف ہے۔ اس موقع پر چوہدری مشتاق، سردار شاکر مزاری، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »

عرفان القرآن بارے تجاویز درکار ہیں

Posted by minhajian پر مئی 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سلیس اردو ترجمہ قرآن مجید عرفان القرآن کی وی سی ڈی بنانے کے لئے آپ کی آراء و تجاویز درکار ہیں تاکہ مکمل عرفان القرآن بہترین حالت میں ریلیز ہو سکے۔

 

براہ مہربانی تینوں ویڈیو کلپ دیکھ کر اپنی رائے سے نوازیں۔ شکریہ

 

سورہ والتین بمع ترجمہ عرفان القرآن (کلپ سوم)

www.irfan-ul-quran.com

سورہ الفاتحہ بمع ترجمہ عرفان القرآن (کلپ دوم)

www.irfan-ul-quran.com

 

سورہ الفاتحہ بمع ترجمہ عرفان القرآن – (کلپ اول)

www.irfan-ul-quran.com

Posted in Dr. Tahir-ul-Qadri, خطابات طاہر القادری, دستاویزی فلمیں | Leave a Comment »

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

Posted by NaveedBCN پر مئی 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

لاہور، 30 مئي 2007ء

گزشتہ روز تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کا کام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔ اس موقع پر امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم، مرکزی صدر منہاج القرآن یوتھ لیگ بلال مصطفوی، سینئر نائب امیر تحریک منہاج القرآن پنجاب سردار شاکر مزاری، چوہدری مشتاق، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, اسلامی آرٹیکلز, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

عرفان القرآن

Posted by NaveedBCN پر مئی 22, 2007

سورہ فاتحہ بمع ترجمہ عرفان القرآن

www.irfan-ul-quran.com

 

 


Posted in Dr. Tahir-ul-Qadri, خطابات طاہر القادری, دستاویزی فلمیں | Leave a Comment »

Objections on Dr. Tahir ul Qadri’s Dreams Clarified (Full) –

Posted by NaveedBCN پر مئی 6, 2007

Objections on Dr. Tahir ul Qadri’s Dreams Clarified

Syed Sami-uz-Zafar Naushahi
.
False things have always been attributed to great personalities of Islam through out the history. Dr. Tahir ul Qadri is no exception to that. He emerged so quickly, and had so many accomplishments in such a short span of time, that some corners started their organized efforts to defame him. They attributed lots of things to him which either he never said, or were quoted out of context.

One of the most mis-reported issues is that of his dreams. In this post I would analyze this issue in a little bit detail. But before that, I would suggest the readers to obey the following teaching of Quran (Sura Hujrat 49:6)

O ye who believe! If a wicked person comes to you with any news, ascertain the truth, lest ye harm people unwittingly, and afterwards become full of repentance for what ye have done.

.اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ

Most of the objections raised against Dr. Sahib are baseless and usually are part of organized propaganda campaigns. So you are suggested to always authenticate such news, before believing in them.

What Dr. Qadri said:

In one of his speeches, Dr. Tahir-ul-Qadri described a couple of his dreams. The summary of his words follows:

Dream 1:

The Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came to my Dream, when I was young. He asked me to make an Islamic center and promised me that he would come there.

Dream 2:

In a Dream I saw that there are a lot of people gathered in a ground. Someone told me that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) is present there and is very angry that why people of
Pakistan have done nothing for Islam. The Prophet (
صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) is saying that he came on the invitation of the scholars, but now he is angry with them. He (i.e. the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم)) is going to leave this country. On this I (i.e. Dr. Sahib) went to the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) and begged forgiveness on the behalf of my country fellows. After some time, the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم)’s anger reduced and He accepted my invitation to stay in
Pakistan. He asked me to make arrangements related to his stay and travel including the arrangement of the ticket of the journey.

What Dr. Qadri NEVER said:

The wording of Dr. Sahib has been summarized above, and would be analyzed in this discussion later. But some people took this as an opportunity to defame him by attributing false things with him. So be sure about the following:

He NEVER said that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came in his Dream and asked him to come into politics / contest election.

He NEVER said that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) decided the name of his Jama’at (party).

He NEVER said that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked him to make this and this decision.

And the list goes on … All the decisions in his organizations are taken by relevant decision-making bodies and Dr Sahib never claimed that a decision was taken on the instruction of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم).

Objections on these Dreams

People came up with numerous objections on these dreams. The major objections include:

1. Dr. Sahib is using cheap ways to win popularity and hence he talks about his dreams in every other speech.

2. The Dream shows that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) was angry with all the scholars except Dr. Sahib. Does it show that there is no other good scholar in the country except Dr. Sahib?

3. Why did the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) ask Dr. Sahib for the arrangements of the stay or travel, including the ticket? Does the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) need such things to travel and is he dependant on Dr. Sahib for these arrangements (Na Uzu Billah)?

Objection 1 Answered:

Here is a discussion related to the objection: “Dr. Sahib is using cheap ways to win popularity and hence he talks about his dreams in every other speech.”

In answering this we would briefly see whether dreams have any importance in Islam, whether they should be described in front of others, whether Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم), Sahaba and other Aslaf described their dreams and is it a common routine of Dr. Sahib to narrate his dreams.

Does the dreams have any importance in Islam?

1. Good Dreams are part of Prophetism:

Allah’s Apostle said, "A good Dream (that comes true) of a righteous man is one of forty-six parts of prophetism.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 112)

The Prophet said, "A true good Dream is from Allah, and a bad Dream is from Satan.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 113)

I heard Allah’s Apostle saying, "Nothing is left of the prophetism except Al-Mubashshirat.” They asked, "What are Al-Mubashshirat?” He replied, "The true good dreams (that conveys glad tidings).” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 119)

2. Seeing the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) in dreams:

The Prophet said, "Whoever has seen me in a Dream, then no doubt, he has seen me, for Satan cannot imitate my shape.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 123)

The Prophet said, "Whoever sees me (in a Dream) then he indeed has seen the truth.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 125)

The Prophet said, "Who ever sees me (in a Dream) then he indeed has seen the truth, as Satan cannot appear in my shape.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 126)

Is mentioning dreams a bad thing?

1. Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) mentioned his dreams:

The Prophet said, "… while I was sleeping last night, the keys of the treasures of the earth were brought to me till they were put in my hand.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 127)

Allah’s Apostle said, "I saw myself (in a Dream) near the Ka’ba last night, and I saw a man with whitish red complexion …I asked, ‘Who is this man?’ Somebody replied, ‘(He is) Messiah, son of Mary.’ …” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 128)

Allah’s Apostle … said, "Some of my followers were presented before me in my Dream as fighters in Allah’s Cause, sailing in the middle of the seas like kings on the thrones or like kings sitting on their thrones.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 130)

Above 3 Ahadith show that Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) used to describe his dreams, or in other words, narrating one’s dreams is the Sunnah of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم).

2. Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked Sahaba to mention their dreams:

Allah’s Apostle very often used to ask his companions, "Did anyone of you see a Dream?” So dreams would be narrated to him by those whom Allah wished to tell. (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 171)

Above Hadith (alongwith other similar ones) show that the Prophet (
صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) used to encourage Sahaba to narrate their dreams.

3. Sahaba used to mention their dreams:

Narated By Ibn ‘Umar: Men from the companions of Allah’s Apostle used to see dreams during the lifetime of Allah’s Apostle and they used to narrate those dreams to Allah’s Apostle. Allah’s Apostle would interpret them as Allah wished. (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 155)

Narated By Ibn ‘Umar: I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a Dream, would narrate it to the Prophet. (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 156)

Narated By Abu Salama:

 

I used to see a Dream which would make me sick till I heard Abu Qatada saying, "I too, used to see a Dream which would make me sick …” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 168)

First 2 Ahadith show that narrating a Dream to the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) was a common practice of Sahaba. The third Hadith shows that Sahaba used to narrate their dreams to each other.

Narrations of Dreams from Various Schools of Thought:

1. Elders through the ages:

Sheikh Abdul Qadir Jillani (رحمت اللہ علیھ) has mentioned his dreams in "Bahja tul Asrar” which is an account of whatever he used to describe in his sittings (in front of thousands of people).Hazrat Ali Hajvari (رحمت اللہ علیھ) has mentioned his dreams in his famous book "Kashaf ul Mahjoob”.

Imam Shairani, in his book "Tabaqat” writes that Imam Jilal ud Din Syuoti saw the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) 70 times not in his Dream but while he was awake. This shows that Imam Jilal ud Din Syuoti mentioned about his ziyara and hence others recorded this in the books.Shah Wali Ullah has written a full-fledged book (namely "Ad dur us Samin Fi Mubasharat un Nabi ul Ameen”) in which he has gathered 40 dreams seen by him or his teachers.

And there is a long list of elders who not only described their dreams, but they also recorded them in books.

2. Ahl-e-Hadith / Wahabi school of thought:

Ibn-e-Qayam
, an Imam acknowledged by Ahl-e-Hadith / Wahabi people, has recorded numerous dreams in his book "Kitab
ur Ruh”
.

3. Deobandi school of thought:

Most of the objections against Dr. Tahir ul Qadri’s dreams were raised by a Deobandi based "Islamic” Jama’at. Ironically, the Deobandi school of thought is much ahead of all others in describing their dreams. "Mubasharat Dar ul Uloom Deoband” is a collection of those dreams which people saw about this Dar ul Uloom. Ashraf Ali Thanvi has recorded hundreds of dreams of various people in his book "Hakayat ul Owliya”. Other Deobandi books which are filled with the descriptions of dreams include "Imdad ul Mushtaq” by Ashraf Ali Thanvi, "Tazkira tur Rasheed” by Ashiq Ali Mirathi, "Tazkira Fazl ur Rehman” by Abu ul Hasan Nadvi, and "Asdaq ur Roya” by Ashraf Ali Thanvi.

4. Tablighi Jama’at:

Molana Muhammad Zikriya (the founder of Tablighi Jama’at) has himself recorded his numerous dreams in the book "Aap Beeti”. 40 of his dreams have been collected in another book "Mahboob ul Aaraifin”. More dreams related to Tablighi Jama’at are collected in "Bahja tul Qaloob”.

Does Dr. Sahib mention about his dreams too often?

1. He mentioned it in only one speech:

Several thousand speeches / lectures of Dr. Sahib are available in audio / video format. He mentioned about his dreams in ONLY ONE SPEECH. So saying that "Dr. Sahib is using cheap ways to win popularity and hence talks about his dreams in every other speech” is very far from reality.

2. He didn’t mention it in masses:

Dr. Sahib didn’t narrate his Dream in a public gathering. Even its cassette was not released for masses. He rather shared this in a close circle of his companions. Doing so is directly the Sunnah of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم). The Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) used to narrate his dreams to Sahaba and Sahaba used to narrate their dreams to him. There is nothing objectionable in sharing a Dream with one’s companions / freinds.

Conclusion about Objection 1:

If Dr. Tahir ul Qadri, who has narrated only a couple of dreams in only one of his speeches, is being accused of using "cheap ways to win popularity”, then what should be our verdict about the elders of every school of thought who narrated hundreds of dreams in numerous books through out the Islamic history?

The above discussion shows that the first objection about the dreams is totally baseless and such objections have no grounds in the teachings of Islam. It also shows that the objection is grounded on double standards of the critics.

Objection 2 Answered:

Now we would discuss the second objection, which states: “The Dream shows that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) was angry with all the scholars except Dr. Sahib. Does it show that there is no other good scholar in the country except Dr. Sahib?”

Exceptions are Always There

The answer to this objection is based on a universally accepted rule: “Exceptions are always there.” This rule is equally accepted in Fiqh / Shariah etc. Even Quran has made general statements, without mentioning exceptions, but exceptions are understood from the context.

1. Examples from Quran:

When Allah orders Hazrat Noh (AS) to “take thou on board pairs of every species (Al-Mu’minun 23:27), the verse actually means a very limited subset of total species on earth. Similarly “every boat”in Al-Kahf 18:79, “every hill” in Al-Baqara 2:260 “every stratagem” in At-Tauba 9:5 and “every high place” in Ash-Shu’ara 26:128 are all general statements, though there are clear-cut exceptions in all of these 5 cases. These exceptions are there even in the presence of the Arabic word کل meaning “every”. On another place Quran declares about man: “So We made him (i.e. a human being) hearer, seer” (Al-Insan 76:2), though there are millions of deaf and blind people in this world who cannot hear or see anything.So from Quran we can conclude that exceptions are there, even if they are not mentioned in the actual statement.

2. Examples from Hadith:

Making exceptions in general statements is common in Ahadith also. For example, Bukhari Vol. 1, Book 4, No. 213 states: “The Prophet used to perform ablution for every prayer.” The very next Hadith of Bukhari mentions an exception to this statement: “Allah’s Apostle led the ‘Asr prayer and asked for the food. Nothing but Sawiq was brought and we ate it and drank (water). The Prophet got up for the (Maghrib) Prayer, rinsed his mouth with water and then led the prayer without repeating the ablution.”

Similarly, exceptions can be found in the general statements made in numerous other Ahadith.

3. Examples from Elders:

Hazrat Abdullah bin Mubarak (رحمت اللہ علیہ) said “The scholars of today have become so much so habitual of eating suspected and haram that they are only busy in filling their stomach and fulfilling their lusts and they use their knowledge as a snare with which they hunt the world.” (Ikhlaq-us-Salehin page 42)

Before commenting on Dr. Sahib’s statement one should think about this statement of Hazrat Abdullah bin Mubarak. He is writing about the time when people like Imam Abu Hanifa (رحمت اللہ علیہ), Imam Malik (رحمت اللہ علیہ), Qazi Ayadh (رحمت اللہ علیہ) and Malik bin Dinar (رحمت اللہ علیہ) etc were still alive. They, along with many other scholars, are certainly exceptions to the above statement of Hazrat Abdullah bin Mubarak (رحمت اللہ علیہ), though the statement itself is not mentioning any exceptions.Similarly Malik bin Dinar (رحمت اللہ علیہ), another prominent figure of that era, declared: “I do not accept the witness of a scholar about another scholar because all of them are jealous.” Again, the phrase “all of them are jealous” must have exceptions, as that era included all the big names mentioned above.

Conclusion about Objection 2:

General statements automatically account for the exceptions (wherever applicable). It is not only proven by Quran, Hadith and sayings of the elders but it is a well-known rule in Islamic Fiqh.

So Dr. Sahib’s statement does not negate the existence of any good scholars in
Pakistan, rather it automatically incorporates the exceptions of good scholars. Hence the second objection on his dreams is also baseless.

Objection 3 Answered:

Now we would discuss the most important objection raised on this issue, which says:“Why did the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) ask Dr. Sahib for the arrangements of the stay or travel, including the ticket? Does the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) need such things to travel and is he dependant on Dr. Sahib for these arrangements (Na Uzu Billah)?”We would address this by discussing it from 3 angles:

1. The act of asking doesn’t show dependence
2. Similar dreams seen by scholars in past
3. Dreams are subject to interpretation

1. The act of asking doesn’t show dependence:

The act of asking can have various reasons; it doesn’t necessarily show that the person asking for something is dependent on it. E.g the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked for various things during his life, which many a times were meant to honor the person. E.g. the Hadith of Mishqat, which is also narrated by Imam Ahmad bin Hanbal and Bahaqi, shows that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked an Ansari Sahabi to feed him. Similarly in Nur ud Din Zangi’s era, the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came to his Dream, informed him of the conspirators who were trying to get the body of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) from his grave, and then asked him “Save me from these two (conspirators)” (Wafa ul Wafa / Khalasa tul Wafa / Jazab ul Qaloob) Was the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) dependent on Nur ud Din Zangi (Na Uzu Billah)? Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) can ask such things from others to honor them; this doesn’t show that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) is dependent on anyone.

If asking for something shows dependence, then is Allah also dependent (Na Uzu Billah) who is making questions in the following verses of Quran:“…give regular Charity; and loan to Allah a Beautiful Loan.” (Al-Muzamil 73:20)

“Who is he that will loan to Allah a beautiful loan, which Allah will double unto his credit and multiply many times?” (Al-Baqara 2:245)

Surely no one would say that Allah’s act of asking for loan shows His dependence on that loan. It is surely meant for our own well-being.

The above example of Quran proves that the act of asking doesn’t show dependence of the questioner.

2. Similar dreams seen by scholars in past

The dreams of Dr. Sahib actually had nothing objectionable, especially when he had himself presented their possible interpretation. But a (so called) religious Jamat of Pakistan got the cassette of the speech, thoroughly tempered it by omitting various parts of it, and then distributed it in the masses to confuse the people. They changed the whole theme of the speech by cutting various parts of the speech and joining them together. This was a very shameful act which was done in an attempt to degrade Dr. Sahib.

As the Jamat which put alligations on Dr. Sahib’s dreams, primarily belongs to Deobandi school of thought, I would present a few examples of dreams reported by their own elders to show their reality.

Molana Rafi ud Din saw that Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came in his Dream, rejected the original boundaries planned for the construction of Dar ul Uloom Deoband, and marked new boundaries on a wider area with his stick. These marks were present in the morning and we built the building based on these marks. (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 45)

Molana Qasim Nanotvi saw that he was standing on the roof of Kaba, and canals were emerging from his feet and spreading in the world. The narrator interprets that standing on the roof of Kaba represents Dar ul Uloom Deoband and canals represent its branches. (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 35)Qari Muhammad Tayyab narrates that in Dream he saw that Dar ul Uloom Deoband has been established on the roof of the Masjid-e-Nabavi and his (i.e. Qari Sahib’s) residential room was also present there. (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 53-54)

Molana Qasim Nanotvi saw during his childhood that he is sitting in the lap of Allah (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 63)

Molana Rafi ud Din saw that Molana Qasim Nanotvi’s grave is inside the grave of a Nabi (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 70)

Molana Abdul Rashid says that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) instructed in his Dream. "Serve Molana Zikriya, as serving him is like serving me. I visit his room quite often.” (Bahja tul Qaloob, Page 21)Molana Habib ur Rehman Usmani says that in a public gathering, which he was presiding over, the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came on a train. (Mubasharat Dar ul Uloom Deoband, Page 67)In a Dream the Prophet ( صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) said: "The guests of Imdad Ullah are scholars, I would cook their food myself.” Then Ashraf Ali Thanvi and Rashid Ahmad Gangohi became Haji Imdad Ullah‘s guests. (Tazkira tur Rasheed, Page 46)

Comments: The elders of every school of thought saw dreams which require their تعبیر (interpretation). I have mostly quoted the examples from Deobandi school of thought, as they were most active in the whole campaign against Dr. Sahib’s dreams.Now we would move to the issue of interpretation of dreams (Inshallah).

3. Dreams are subject to interpretation

Dreams are subject to interpretation, this is proven from Quran. Hazrat Yaqoob (علیہ السلام) says to Hazrat Yusaf (علیہ السلام): “Thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of dreams …” (Yusuf 12:6) Hazrat Yusuf (AS) acknowledged it by saying “My Lord, You have given me the kingdom and taught me the meaning of dreams.” (Yusuf 12:101)

This sura alone has several examples where the interpretation of a Dream is different from the Dream itself. E.g. the stars in Hazrat Yusuf (علیہ السلام)’s Dream (in verse 12:4) actually meant his brothers. Similarly when “the King dreamt that seven lean cows were eating seven fat ones and that there were seven green ears of corn and seven dry ones” (Yusuf 12:43), the interpretation given by Hazrat Yusuf (علیہ السلام) was: “Cultivate your lands for seven years as usual and preserve the produce with its ears each year except the little amount that you will consume. After this will ensue seven years of famine in which all the grain that you have stored will be consumed except a small quantity. Then there will be a year with plenty of rain and people will have sufficient milk and other produce.” (Yusuf 12:47)

The above discussion proves that dreams are subject to interpretation (تعبیر) and should not be taken in their literal meanings.

Interpretations of dreams given by the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم)

Example 1: Milk means knowledge

Narrated Ibn ‘Umar: I heard Allah’s Apostle saying, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in a Dream), and I drank of it to my fill until I noticed its wetness coming out of my nails, and then I gave the rest of it to ‘Umar.” They (the people) asked, "What have you interpreted (about the Dream)? O Allah’s Apostle?” He said, "(It is Religious) knowledge.” (Bukhari Vol. 87, Book 9 No. 134)

Example 2: Size of shirt means strength in religion

Narrated Abu Sa’id Al-Khudri: Allah’s Apostle said, "While I was sleeping, some people were displayed before me (in a Dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their breasts, and some a bit longer. Then there passed before me, ‘Umar bin Al-Khattab wearing a shirt he was dragging it (on the ground behind him.)” They (the people) asked, "What have you interpreted (about the Dream) O Allah’s Apostle?” He said, "The Religion.” (Bukhari Vol. 9, Book 87, No. 136)

Example 3: Cutting a part of the body means birth of a grand child

Hazrat Um e Fazal (رضی اللہ عنہا), the wife of Hazrat Abbas (رضی اللہ عنہ) saw in a Dream that a part from the body of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) has cut, and dropped in her lap. She got worried. But the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) said that its interpretation is good. A grand child of mine would be born which would play in your lap. So Hazrat Imam Hussain (علیہ السلام) was born. (Mishqat Sharif)

Example 4: Broken roof means return of husband

A woman asked from the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم): “I have seen the roof of my house broken.” He replied that her husband, whom was on a far off travel, would return. (Ahlam ul Anbiya wa Sulaha)

Comments so far:

The above Ahadith show that a Dream is subject to interpretation and it should not be taken in its literal meaning. So in the above Ahadith milk is interpreted as knowledge, size of shirt is interpreted as strength in religion, cutting a part of the body is interpreted as the birth of a grand child, and breaking of roof is interpreted as return of husband.

Strange interpretations related to the ziyara of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم)

Ibn-e-Sireen (رحمت اللہ علیھ) is a famous Tabaee and is considered among the imams of interpretation of dreams. His famous book, Tabeer ur Roya (i.e. interpretation of dreams) enlists the interpretations to thousands of dreams, some of which (related to the ziyara of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) are given here:

Ibn e Sireen (رحمت اللہ علیھ), the imam of interpretation, says:1. If someone sees that he is digging or scraching the grave of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم), it means that he would revive a Sunnah.2. If someone sees that he is drinking the blood of the Prophet (

صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم), it means that he would be martyred in Jihad.3. If someone sees that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) has died at a place, it means that Sunnah would be eliminated from that place.One can see that ziyara of the Prophet (

صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) in Dream can be interpreted in various ways. Some times the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) represents his Sunnah, sometimes Islamic teachings, sometimes the Muslim Ummah and sometimes other related things.

Dream of Imam Bukhari

Imam Bukhari saw that he is removing flies from the body of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم). An expert told him that flies represent fabricated Ahadith and he would remove / distinguish them from the authentic ones.

Dream of Imam Abu Hanifa

Imam Abu Hanifa saw that he was picking the bones of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) from his grave and he was giving preference to some bones over other bones. He became very puzzled at seeing this (as according to Ahadith earth cannot eat the body of the prophets). Ibn e Sireen told him that the Dream is good. He said that he (i.e. Imam Abu Hanifa) would carefully study the narrations of the Sunnah of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) and would pick the most authentic ones (to compile Fiqh).

Interpretation of Dr Tahir ul Qadri’s Dreams:

As we have seen, ziyara of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) can be interpreted in various ways. Some times coming of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) in dreams represents his Sunnah, sometimes Islamic teachings, sometimes the Muslim Ummah and sometimes other related things. That’s why death of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) in Dream was interpreted as removal of his Sunnah, and flies trying to sit on his body were interpreted as false narrations attributed to him.Similarly, Dr Tahir ul Qadri’s dreams also require interpretation. So this is what he himself interpreted about them:

Note: The wording is mine, summarizing Dr. Tahir ul Qadri’s wording:

Dream: The Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked me to make an Islamic center (Minhaj-ul-Quran) and promised me that he would come there (in that center).
Interpretation: Prophet (
صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم)’s faiz would be included in that center.Dream : The Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) was going to leave this country.
Interpretation: Islamic way of life is going away from our society. Dream: The Prophet (
صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked me to make arrangements of his stay.
Interpretation: The Prophet (
صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) wanted me to start a struggle for the revival of Islam.Dream : The Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked me to make arrangements of travel including the ticket of the journey.
Interpretation: Ticket and other arrangements of travel are sign of excessive traveling required for the preaching of Islam.

Conclusion:

In this thread we discussed 3 objections commonly raised against Dr. Tahir ul Qadri’s narrated dreams. Some points of our discussion are summarized here:

1. Some critics of Dr. Tahir ul Qadri accuse him that he is "using cheap ways to win popularity” by narrating his dreams. The fact is that he only narrated 2 or 3 dreams in only one of his speeches. Narrating one’s dreams is the Sunnah of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم), Sahaba, and scholars through out the Islamic history.

2. His statement that "the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) was angry with the scholars of
Pakistan”, was mis-interpreted. The statement does make the exception for those scholars who are genuinely working for Islam.

3. His statement that "the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) asked me to make arrangement of stay, travel and ticket” does not show that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) is dependent on such things. The dreams are subject to interpretation and should not be taken in their literal meanings. This was proven from the examples of Quran, Hadith and sayings of the imam of interpretation of dreams. Examples of dreams of other scholars (including the dreams of Imam Abu Hanifa and Imam Bukhari) were given to illustrate this point.

4. Some of the dreams, which people have wrongly attributed with Dr. Sahib, were also touched. For example Dr. Sahib NEVER said that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) came in his Dream and asked him to come into politics or to contest election. He NEVER said that the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) decided the name of his Jama’at (party). Numerous dreams are falsely attributed with him, so one should verify a statement made against him.THE END

 

Posted in Q & A | 6 Comments »

سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 6, 2007

مظہر شان نبوت
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ.
(النحل : 60)

’’اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے‘‘۔

اللہ کی بلند تر صفت / سب سے بڑی شان سے کیا مراد ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نبوت، الوہیت کی دلیل ہوتی ہے اور ولایت امت میں نبوت کی دلیل ہوتی ہے۔ نبی، اللہ کی شان ہوتا ہے اور ولی اپنے نبی کی شان ہوتا ہے جیسی شان کا حامل نبی ہو اسی کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کو بڑے بڑے ولی ملے جس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کو آصف بن برخیا جیسے ولی بھی ملے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میلوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت حاضر کرتے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے مگر کسی نبی کو غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی جیسا ولی نہیں ملا اس لئے کہ کوئی نبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوا۔ جو نبی کی شان ہوتی ہے وہ ولی اس شان کی برہان ہوتا ہے۔ ولی، نبی کی شان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح نبی کا مرتبہ ہوگا اس کی امت میں ولایت بھی اس کے مرتبے کا عکس ہوگی۔ نبوت حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نکتہ کمال پر جاپہنچی اور نبوت کا کمال نکتہ وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے حرکت نہیں کرسکتا۔ نبوت کا ارتقاء مقام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ولایت کا ارتقاء اور ولایت کا کمال نکتہ وجود غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم کو سلطان الاولیاء بنایا جیسے آقا خود سلطان الانبیاء ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی شان ہوتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں لہذا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور اللہ فرما رہا ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْليٰ ’’اللہ کی شان سب سے بڑی ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑا ہے۔ خدا کے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کائنات میں کوئی نہیں ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اللہ کی شان کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ اللہ کی رحمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کے ذکر کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کا عنوان محمد ہیں، اللہ کی محبت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح اللہ کی قدرت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کی عظمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ پاک نے فرمایا :

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO(الرعد : 28)

’’جان لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر ہیں۔ گویا اللہ فرما رہا ہے لوگو دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہو جاؤ کہ میرا ذکر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں سب دلوں کا چین ہے۔

سورہ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO

’’ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدھی راہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔ یہ عظیم قول حضرت امام حسن بصری تک پہنچا تو امام حسن بصری رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے کہنے لگے خدا کی قسم درست معنی کیا ہے۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا.(آل عمران : 103)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حَبْلِ اللّٰہ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی رسی جس کو تھامنا ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا : ’’محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘۔ پس حبل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ ذکر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ نور اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اطاعت اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ وجہ اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ بس اک رب، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ بس ایک رب کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب نہ کہو باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ایمان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ا سلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، کعبے کا کعبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جس کی طرف ہاتھ کرکے کہہ دیا یہ کعبہ ہے وہی کعبہ ہوگیا، جس سمت اشارہ کر دیا وہ قبلہ ہوگیا، جس کو قرآن کہہ دیا وہ قرآن ہوگیا، کسی نے قرآن اور جبرئیل کو اترتے، وحی کا نزول ہوتے نہیں دیکھا، جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دیا وہی قرآن اور وہی کعبہ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا بن دیکھے کہہ دو خدا ہے۔ ۔ ۔ سب نے کہا خدا ہے اور چودہ سو سال گذر گئے کسی نے خدا کو دیکھا نہیں ہر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر مانتا چلا آرہا ہے پس یہ عقیدہ ایمان ہے۔

ہر نبی اللہ کی شان ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی شان۔ اسی طرح حضور کی امت میں ہر ولی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور غوث الاعظم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ جس نے خدا کو اور خدا کی شان کو دیکھنا ہو تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے اور جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھنی ہو وہ سرکار بغداد غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کو دیکھے۔ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان کا عنوان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ کائنات نبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی شان اور کائنات ولایت میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔

 

میثاق نبوت اور میثاق ولایت

عالم ارواح میں سب انبیاء علیھم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے میثاق لیا فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَO(آل عمران : 81)

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘۔

اس میثاق پر رب نے خود کو گواہ قرار دیا۔ کیوں کہ اللہ کی سب سے بڑی شان تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ گویا اپنی شان پر خدا خود گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا معاملہ آیا تو سب نبیوں نے گردنیں جھکالیں۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب وعدہ ہو رہا تھا۔ اچانک ایک نور چمکا اور سب انبیاء کے اُوپر بادل کی طرح چھا گیا تو انبیاء علیھم السلام نے پوچھا یہ نور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس کی نبوت کی وفاداری کا عہد کیا ہے یہ اُسی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے۔

گویا نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو سب نبیوں نے گردنیں جھکا دیں اور اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بات آئی تو سب ولیوں نے گردنیں جھکا دیں وہ میثاق نبوت تھا اور یہ میثاقِ ولایت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے لئے نبیوں کی گردنیں نہ جھکیں اور سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور ولی کے لئے ولیوں کی گردنیں نہ جھکیں۔ ایک واقعہ کائناتِ نبوت میں ہوا اور ایک واقعہ کائناتِ ولایت میں ہوا۔ اس لئے میں نے کہا نبوت کی دُنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور ولایت کی دُنیا میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ کوئی اعتراض کرے کہ تم شاہِ جیلاں، غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کرتے ہو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ ہم تو صرف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا نام پکارتے ہیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صفت اور شان کا تذکرہ کرتے ہیں اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف اور شمائل کا ذکر کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی مالا جپتے ہیں تو حقیقت میں خدا کی شان کا ورد کرتے ہیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں کائناتِ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان بنایا۔ لہٰذا آپ کی ولایت کو ولایتِ عظمیٰ اور آپ کی غوثیت کو غوثیتِ عظمیٰ بنایا اور آپ کی قطبیت کو قطبیتِ کبریٰ سے نوازا اور اس کا اقرار حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اﷲ پاک نے قَدَمِيْ هٰذِه عَلٰي رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيِّ اﷲ کے کلمات سے کروایا۔ یہ اَمر کسی اور کے لئے نہ کروایا۔ سب انبیاء کو معجزات دیئے مگر کثرتِ معجزات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیئے۔ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی کثرتیں دیں کہ کثرتیں بھی ختم ہو گئیں۔ کثرتوں کی اِنتہا کر دی تو شانِ نبوت میں کوثر منصبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور شانِ ولایت میں کوثر منصبِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ وہاں معجزات کی کثرت ہے۔ یہاں کرامات کی کثرت ہے۔ ولی کی ہر کرامت اس کے نبی کے معجزے کا تسلسل ہوتی ہے۔ ان کی ساری کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کے تذکرے میں لکھی جاتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب ولیوں کی کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب معجزہ کی فصلیں بنتی ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ولی نبی کی شان ہوتا ہے۔ اس لئے قاعدہ ہے کہ ولی کی کرامت اپنے نبی کا معجزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے نبی کا معجزہ اﷲ کی قدرت ہوتی ہے۔ نبی کا معجزہ رب کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا اظہار ہوتی ہے۔

 

حلقہ ارادت میں وسعت کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ امت عطا کی۔ حدیث پاک ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں جنتیوں کی 120 صفیں ہو نگیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی اُمتیں ہیں۔ سب نبیوں کی اُمتوں میں کچھ نہ کچھ اُمتی جنت میں جائیں گے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔ فرمایا کل انبیاء کی امت کے جنتی لوگوں کی ٹوٹل صفیں 120 ہونگیں اُن 120 صفوں میں 80 صفیں میری اُمت کی ہونگیں اور باقی ایک لاکھ چوبیس ہزار باقی انبیاء کی اُمتوں میں 40 صفیں تقسیم ہونگیں۔ جس طرح کثرتِ امت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئی اس طرح حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو کثرتِ ارادت کی نعمت ملی یعنی سلسلہ قادریہ میں کثیر تعداد میں مریدین عطا کئے گئے۔ اِس کائنات دُنیا میں جتنے مرید حضور غوثِ پاک کے ہوئے اوّل سے آخر تک کسی ولی کے نہ ہوئے اور نہ کبھی ہونگے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہو گزرے، ایمان لانے کے خواہشمند تھے مگر کلمہ نہ پڑھ سکے وہ بھی امت میں سے ہیں اور جملہ انبیاء بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہیں۔ اِسی طرح جنہوں نے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔ جو زبان سے کہہ دے یا غوث میں آپ کا مرید ہوں وہ غوث پاک کا مرید ہو گیا اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی حضور غوثِ پاک کے زیرِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔

 

سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

خواجہ ہند حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔ بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔

 

سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہ ہوئے۔ بعد ازاں زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام محمد باقر رضی اللہ عنہ، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک کے فیض کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک ہوئے۔

سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔

 

سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔

مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔

بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی Appoint ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔

 

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ

کائنات نبوت میں اللہ کی مثلِ اعلیٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے کائنات ولایت میں حضور کی مثل اعلیٰ حضور غوث پاک کی ذات ہے۔ اس دور میں، پورے زمانے میں، پورے عالم کے اندر غوث پاک کی مثل اعلیٰ حضور قدوۃ الاولیاء سیدنا ومرشدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤالدین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ یہ دعویٰ میں اس لئے نہیں کر رہا کہ میں ان کا مرید ہوں، ان کا غلام ہوں، ان کے در کا منگتا ہوں، ان کی خیرات پر پلنے والا ہوں۔ اس وجہ سے نہیں بلکہ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین جیسا میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ ظاہر میں، نہ باطن میں، نہ حسن میں، نہ جمال میں، نہ ولایت میں، نہ کمال میں، نہ تقویٰ میں اور نہ طہارت میں، نہ اتباع سیرت میں، نہ پاکیزگی کردار میں۔ ان کو جس طرف سے دیکھتے حضور غوث پاک کی مثل اعلیٰ نظر آتے۔ ان کی عزت نفس دیکھ کر غوث پاک کی عزت نفس یاد آجاتی، وہ کسی دنیا کے در کے محتاج نہ تھے، سائل نہ تھے ہر کوئی ان کا سائل تھا، ساری زندگی میں نے اپنے شیخ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کو جس پہلو سے بھی دیکھا ان کو پہاڑ پایا اور خود کو ذرہ پایا۔ ۔ ۔ ان کو سمندر پایا۔ ۔ ۔ خود کو قطرہ۔ ۔ ۔ حضور قدوۃ الاولیاء اپنی سولہ پشتوں میں کسی کی بات نہ کرتے مگر جب بولتے تو غوث پاک کی بات کرتے یا سیدنا سلطان الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتے۔

آپ نے کبھی دنیا والوں سے کچھ بھی طلب نہ کیا۔ کوئٹہ میں شروع شروع میں جب خدا داد روڈ پر حضور قدوۃ الاولیاء آباد ہوئے تو ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان نے خصوصی نمائندے کو بھیجا، عرض کیا : آپ پاکستان تشریف لائے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، جو حکم کریں آپ کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا ہم فقیر ہے، اس کا خیرات بہت ہے جب اس کا ختم ہوجائے گا تو آپ سے مانگ لے گا۔ یہ اولیاء کاملین اور سلف صالحین کا کردار تھا، آپ مقام تکوین پر فائز تھے۔ ۔ ۔ وہ کیا تھے۔ ۔ ۔ میں نے بات اس لئے یہ کہہ کر ختم کردی کہ حضور غوث پاک کے مثل اعلیٰ تھے۔ ۔ ۔ حضور غوث پاک کی شان تھے۔ ۔ ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دامن سے وابستگی، ان کی نوکری اور ان کی خیرات پر پلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

(اقتباس خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری)

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »

KHATRE KI GHANTI

Posted by NaveedBCN پر مئی 6, 2007

OrKut Forum par honey waley SAWAL JAWAB

 _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

12/12/06

KHATRE KI GHANTI
DR TAHIRUL QADRI BESHAK BUHAT QABIL PROFESSOR HAI MAGER US K AQAID AHLESUNNAT K AQAID K KHILAF HAIN IS LIE TAMAM SUNNI ULAMA KA MUTTAFIQA FATWA HAI K TAHIRULQADRI GUMRAH SHAKHS HAI OR US K PAIR-O-KAAR US K AQAID JANTE HUE BHI US K PEECHE HAIN TO WOH BHI GUMRAH HAIN

ZIADA TAFSEE K LIEY PERHIEY KITAB
"KHATRE KI GHANTI”
AAP K TAMAM SHUBHAAT DOOR HO JAENGEe.

 _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

 ANSWER BY Sami سمیع

Crimes List of Dr. Tahir-ul-Qadri
.
Dear پیرزادہ عمیر,

You have declared Dr. Tahir-ul-Qadri as "GUMRAH ". Surely, he has a great list of "crimes” in his account. Shouldn’t we have a look at this?

1. He and his organization (Minhaj-ul-Quran) revived the culture of Mahafil-e-Milad (well before the advent of Dawat-e-Islami).

2. He clarified the doubts lingering around the aqida of Ahl-us-Sunnah and wrote separate books on Tawhid, Noor-e-Muhammadi, Hayat-un-Nabi, Milad, Ilm-e-Ghaib, Bid’at, Twasul, Istighasa and Shifa’at etc. Each of these books is full of Quran, Hadith and Aima references to prove the Aqaid of Ahl-us-Sunnah.

3. He is arranging the largest Mahfil-e-Milad in the whole world, held each year on 12 Rabi-ul-Awal.

4. He has written the largest Urdu book on Seerat-un-Nabi (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) which is full of the promotion of love and respect of the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم).

5. In "Gosha-e-Durood”, a place established by him, Durood Shareef and Quran is recited 24 hours a day, 7 days a week, 365 days a year. Around 3 crore Durood is presented to the Prophet (صلی اللہ علیھ وآلھ وسلم) each month.

6. He has compiled Minhaj-us-Sawi, a great collection of Ahadith, which is an answer to the 100’s of questions raised against Ahl-us-Sunnah’s beliefs and practices.

7. He has delivered several thousand lectures on almost every topic related to Islam.

The complete list of his "crimes” is too lengthy to be accommodated here, but one of his crimes is really unforgivable. Out of the annual sale of several crores of rupees from his 300 books, and 5000 cassettes, CDs and DVDs, he doesn’t take even rupee as a royalty. Unlike other speakers / Naat Khawans, he doesn’t charge even a single rupee to make a speech. Doing all of this just to serve Islam is really unforgivable, isn’t it?

How can a person with such kinds of crimes be forgiven? You have rightly condemned him, and would surely be "rewarded” from Allah for that.
.

Posted in Q & A | 18 Comments »

Minhaj-ul-Quran International

Posted by NaveedBCN پر مئی 5, 2007

Pakistan is a country blessed with great beauty, unique ancient heritage and energetic people. From the exotic Himalayan mountain ranges to the splendor of Islamic architecture and Pakistan’s recent technological uplift, Pakistan and its people are truly advancing towards a prosperous Pakistan.Advocating education, welfare and a true moral character are indispensable for nations to tread the path of success and serenity. Spreading awareness amongst people of their basic human rights including their right to live is crucial for the peaceful coexistence between peoples. That’s why Minhaj-ul-Quran International movement through its progressive and moderate approach has attracted millions of people around the globe with its message of peace, love and tolerance, which is indeed the true spirit of Islam.Minhaj-ul-Quran International movement is a non-political, non-sectarian and non-governmental organization (NGO) working in over 75 countries around the globe. Its main emphasis is towards the betterment of masses on social, cultural, and religious footings, to enlighten them with the knowledge of their rights and duties and to present a realistic, rational and scientific picture of Islam.Minhaj social welfare and human rights society, Minhaj Education Society, Minhaj Women League and Mustafavi students movement are just some of the sub-organizations of Minhaj-ul-Quran which you can read more about, that are striving to make this world a better place to live in. The movement has an additional advantage that its being spearheaded by the world renowned Scholar, lawyer and politician, Dr. Prof. Muhammad Tahir-ul-Qadri who is the spirit and driving force of the organization.’

5 stages of the Tehreek

Minhaj-ul-Quran is not a name of an utopian ideology or phantom philosophy. It is a force of struggle, a march and emotion. Therefore, the movement has worked out a detailed strategy through which it will have to achieve its targets. We have set the journey to the ultimate aim of Peace, Love and Tolerance in five stages or phases:1. Propagation :
At this stage every member promises to take part according to his capacity to help present the movement’s way of perceiving, analyzing and interpreting among various communities all over the world.

2. Organization :
The people who accept our invitation to join the mission are organized in regular societies, associations and leagues which are working from rural level to the international.

3. Education :
In the centres and community halls owned and run by the Movement the members will receive proper education and training. They will be taught different Islamic disciplines from theology and philosophy to practical character building, the art of teaching, and social theory.

4. Implementation :
In this stage those who adopt the lines of the prophetic struggle will have to take practical stages, display actual skills and carry out social and communal activities in accordance with the aims of the movement.

5. Reformation :
In order to achieve revival and revitalization of the socio-economic justice internally and externally actual changes, reformation and renewal of the systems are called for. These will be sacred ideas of peace and tolerance through out the world, and for uniting the Muslim communities for a better world.

Organizational Structure

Pakistan is a country blessed with great beauty, unique ancient heritage and energetic people. From the exotic Himalayan mountain ranges to the splendor of Islamic architecture and Pakistan’s recent technological uplift, Pakistan and its people are truly advancing towards a prosperous Pakistan.Advocating education, welfare and a true moral character are indispensable for nations to tread the path of success and serenity. Spreading awareness amongst people of their basic human rights including their right to live is crucial for the peaceful coexistence between peoples. That’s why Minhaj-ul-Quran International through its progressive and moderate approach has attracted millions of people around the globe with its message of peace, love and tolerance, which is indeed the true spirit of Islam.

Minhaj-ul-Quran International is a non-political, non-sectarian and non-governmental organization (NGO) working in over 81 countries around the globe. Its main emphasis is towards the betterment of masses on social, cultural, and religious footings, to enlighten them with the knowledge of their rights and duties and to present a realistic, rational and scientific picture of Islam.

Minhaj social welfare and human rights society, Minhaj Education Society, Minhaj Women League and Mustafavi students movement are just some of the sub-organizations of Minhaj-ul-Quran which you can read more about, that are striving to make this world a better place to live in. The movement has an additional advantage that its being spearheaded by the world renowned Scholar, lawyer and politician, Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri who is the spirit and driving force of the organization.’

Minhaj-ul-Quran International
365 M, Model Town Lahore 54700
Ph : 0092.42.111.140.140, 5169111-3
Fax : 0092.42.5168184
Email : tehreek@minhaj.org
Website :
www.minhaj.org

Posted in Minhaj-ul-Quran | Leave a Comment »

Awards

Posted by NaveedBCN پر مئی 5, 2007

Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri is a man of Global Repute and Known as Ambassador of Unity, Peace and Human Development. All his life is devoted for the uplifting and development of needy, homeless and poor people.His services for the welfare of Mankind are accepted and appreciated with in Pakistan and in international level in very respected manners, not only in public sector but in institutional and organizational levels also.Different international organizations and institutions honored him with international awards, shields and certificates as an acknowledgment of God-Gifted abilities and highly intellectual work done by him. Details of said honors are given below.Quaid-e-Azam Gold Medal
1971:
Quaid-e-Azam Gold Medal (All Pakistan Muslim Educational Conference)University Gold Medal
1972:
University Gold Medal (Punjab University, Lahore)Pakistan Cultural Gold Medal
1972:
Pakistan Cultural Gold Medal (Religious & Academic Outstanding Services)

Qarshi Gold Medal
1984:
Qarshi Gold Medal (Extraordinary Religious and National Services)

Honors Awarded in 1999-2000

Out Standing Man of the CenturyThe American Biographical Institute (ABI) has nominated Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri as "Outstanding Man of the Century”.The American Biographical Institute (ABI) has awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri Millennium Biographical Dictionary as "Leading Intellectuals of the World”.
 
As Individual Achievement Award, Prof. Dr. Muhammad Tahir -ul-Qadri’s name has become the biographical subject of outstanding accomplishment in the ” 1998 Edition of International Who’s Who of Twentieth Century Achievement” for Contributions to Education by American Biographical Institute (ABI), United States of America at June 1, 1999.The International Biographical Centre (IBC) of Cambridge, England has declared the name of Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri as "the International Man of the Year 1998-99” in Recognition of his services to social work and education.
 
The American Biographical Institute (ABI), United States has awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri "the International Cultural Diploma of Honors” on the basis of Founder of Minhaj-ul-Quran international Movement, Chancellor of Minhaj-ul-Quran International University, and the world’s largest Educational Set-up on NGO Basis, Author of 250 Books, and Speaker of 5000 Lectures.Awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri "International Who’s Who of Twentieth Century Achievement Hall of Fame” by American Biographical Institute (ABI), United States of America for Outstanding Contributions to the Education, which is the subject of notice in the 1998 Edition International Who’s Who of Twentieth Century Achievement at February 20, 1999.
 
American Biographical Institute (ABI), United States of America has awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri "2000 Millennium Medal of Honor” in Recognition of his Humanitarian Efforts, Research and Education Services.American Biographical Institute (ABI), United States of America has awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri the "Key of Success Achievement in Research”.
 
American Biographical Institute (ABI), United States of America has awarded to Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri the "Key of Success Leader in Religion”.International Biographical Centre (IBC), Cambridge, England has awarded Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri the "Medal of International Man of the Year 1997-98” in Recognition of his Outstanding Contributions to the Society.
 
The board of Directors of the American Biographical Institute (ABI) sitting in the United States of America recognizes Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri as most admirable and whose career achievements and social contributions have selected for permanent documentation in "Five Hundred Leaders of Influence” designed for biographical reference and inspiration for present-day citizens of the Twentieth Century as well as future generations.American Biographical Institute awarded Dr. Qadri a Permanent record of achievement and distinction international who’s who of contemporary achievement for his outstanding contributions to the society, which are the subject of notice in the fifth edition of "International Who’s Who of Contemporary Achievement”.

Posted in Dr. Tahir-ul-Qadri | Leave a Comment »