تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

آئمہ حدیث کے تراجم الابواب کے قائم کرنے کے حوالے سے محدثین کا ردِّ عمل

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

آئمہ حدیث کے تراجم الابواب کے قائم کرنے کے حوالے سے محدثین کا ردِّ عمل

آئمہ حدیث کے ایسے اقدامات پر آپ امام عسقلانی، امام کرمانی، امام عینی، شاہ ولی اللہ، امام قسطلانی، امام نووی، شروح بخاری، شروح مسلم، شروح ترمذی، شروح ابی داؤد کو پڑھ لیں ہر محدث بیان کرتا ہے کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب مختلف ہے اور دونوں آپس میں ملتے نہیں ہیں۔ آئمہ حدیث لکھتے ہیں کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب ثابت نہیں ہوتا ہے، کبھی محدث بیان کرتا ہے کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب مختلف ہے۔ مطابقت نہیں ہے۔ پس تراجم الابواب پر لکھنے والے کل محدثین اس بات کو بیان کرتے ہیں۔

میں بھی ان کے تتبع میں ادباً عرض کررہا ہوں کہ جہاں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ صحیح البخاری اور دیگر صحاح ستہ میں سے کثرت سے مذہب امام اعظم ثابت نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ درج شدہ احادیث اور تراجم الابواب میں مطابقت نہیں ہے۔ احادیث وہی ہیں کسی اور کتاب کو نہ لیں صرف صحاح ستہ پر مدار کریں اور انکے تراجم الابواب بدل ڈالیں پورا مذہب امام اعظم ابوحنیفہ ثابت ہوجائے گا کیونکہ تراجم الابواب آئمہ حدیث کے اجتہاد ہیں، حدیث رسول نہیں ہیں اور ہم اجتہاد بخاری کے مقلد نہیں ہیں ہم اجتہاد ابوحنیفہ کے مقلد ہیں۔ امام بخاری ہمارے امام ہیں، امیرالمومنین فی الحدیث ہیں، امام مطلق ہیں امام الائمہ ہیں، امام الحفاظ ہیں، سب سے بڑے سرتاج ہیں مگر روایت حدیث کے، فقہ کے نہیں۔ فقہ کے امام ابوحنیفہ ہیں، جن کا ہر کوئی عیال ہے، جن کا ہر کوئی محتاج ہے۔ پس سمجھ لیں کہ یہ مسائل جو پیدا ہوئے ہیں وہ احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ تراجم الابواب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے میں نے جب احادیث کی کتب مرتب کیں تو انکے تراجم الابواب خود قائم کئے اور یہ حق ہے اور اس میں کوئی عمل ناجائز نہیں ہے جو حدیث کی کتاب مرتب کرے اس کا حق ہے وہ ترجمۃ الباب کو قائم کرے۔

جس طرح امام بخاری تراجم الابواب قائم کرکے اپنے فقہی مذہب کی تائید میں آیت، حدیث، قول وغیرہ میں سے کچھ لاتے ہیں اس طرح امام مالک بھی احادیث کو روایت کرنے کے بعد اپنا فقہی مذہب بیان کرتے ہیں۔ امام مالک کا اپنا طریق یہ تھا کہ وہ جہری میں قرات امام کے پیچھے نہ کرتے سری میں کرتے تھے۔ درج بالا حدیث کو بیان کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں۔

’’ہمارا مذہب یہ ہے کہ جہری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرات ترک کردی جائے اور اگر سری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرات کی جائے‘‘

چونکہ مذہب یہ ہے اسلئے اس حدیث کو بھی اس باب میں لے آئے اور اس حدیث کا مفہوم بھی اپنے فقہی مذہب کے مطابق سمجھا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: