تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

آمین بالجہر اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

آمین بالجہر اور صحیح البخاری

صحیح البخاری میں جتنی احادیث ’’امین بالجہر‘‘ کی ہیں ان کے بارے امام بخاری نے ’’الجہر بالتامین‘‘ (اونچی آواز سے آمین کہنا) کے عنوان سے باب قائم کئے ہیں اور پوری بخاری شریف میں اونچی آواز میں آمین کہنے کی ایک بھی حدیث درج نہیں کی ہے۔ امام بخاری نے صحیح البخاری میں کتاب الاذان ، باب 111، جہر الامام باالتامین‘‘ (امام کا اونچی آواز میں آمین کہنا) قائم کرنے کے بعد عطاء بن یسار کا قول بیان کیا کہ ابن زبیر بیان فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پیچھے تھے کہ جب مسجد میں آمین کہتے تو اونچی آواز بلند ہوتی اور پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت نافع کا قول بیان کیا کہ وہ اونچی آواز میں آمین کہنے کو ترک نہ کرتے۔ اس باب کے تحت حدیث امام بخاری صرف ایک لے کر آئے اور اس حدیث میں اونچی آواز میں آمین کہنے کا سرے سے کوئی ذکر ہی موجود نہیں ہے حدیث مبارکہ ہے۔

عن ابي هريرة ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه، تامين الملائکه غفرله ماتقدم من ذنبه.

’’جب امام آمین کہے مقتدیوں تم بھی آمین کہو، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کی زندگی کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے‘‘۔

میں آئمہ حدیث کی پیروی میں عرض کر رہا ہوں کہ کاش اچھا ہوتا اور بہت اچھا ہوتا اگر امام بخاری اس حدیث کو باب ’’فی فضل التامین‘‘ (آمین کہنے کی فضیلت) میں لاتے کیونکہ اس حدیث کے مضمون میں ’’الجہر باالتامین‘‘ (اونچی آواز میں آمین کہنے) کا تو ذکر ہی موجود نہیں ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے محدثین نے ترجمۃ الباب سے اختلاف کیا ہے، حدیث سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا۔ اس طرح باب 113 ’’جہر المامون بالتامین‘‘ (مقتدی اونچی آواز سے آمین کہنے) کے تحت بھی امام بخاری ایک ہی حدیث لائے ہیں۔

عن ابي هريرة ان رسول الله قال اذا قال الامام غير المغضوب عليهم والضالين فقولوا امين، فانه من وافق قوله قول الملائکة غفرله ماتقدم من ذنبه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام ’’غیر المغضوب علیھم والضالین‘‘ کہے تو تم آمین کہا کرو، جس کی آمین فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گئی اس کے پچھلے گناہ بخشیں جائیں گے‘‘۔

اس حدیث کے مضمون میں بھی کہیں اونچی یا نیچی آواز میں آمین کہنے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اچھا ہوتا کہ امام بخاری اس حدیث کو بھی ’’باب فی فضل التامین‘‘ میں ذکر کرتے اور ’’جہر باالتامین‘‘ کا باب قائم ہی نہ کیا جاتا اور فقہا پر چھوڑ دیا جاتا وہ قرائن دیکھ کر فیصلے کرلیتے۔ یہ درایت حدیث کا تو مسئلہ ہے لیکن روایت حدیث کا نہیں ہے۔

اسی طرح ایک حدیث مبارکہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ’’غیرالمغضوب علیھم والضالین‘‘ پڑھا اور اس کے بعد آمین کہا اور آمین آہستہ آواز میں کہی۔

عن وائل بن حجر قال سمعت ان النبي قرا غير المغضوب عليهم والضالين فقال امين وخفدبها صوته.

’’میں نے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’غیرالمغضوب علیہم والضالین‘‘ کی قرات کی اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آمین کہا اور اپنی آواز کو پست کرلیا‘‘۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: