تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ
 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

سب سے پہلے تو عرض کروں کہ ہماری اردو جیسے غیرجانبدار اور موقر چوپال پر بحث مباحثہ کے نام پر طعن و تشنیع کا بازار گرم کرنے کی بجائے “ باہم تبادلہ خیالات اور گفت وشنید “ کے ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیئے۔

تاکہ کسی کی دل آزاری کرنے سے ایک دوسرے سے دور ہونے کی بجائے ہم دوست ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔

اور دوسری بات یہ کہ گفتگو میں بنیاد قرآن وحدیث ہونا چاہیئے نہ کہ اپنے محلے کے مولوی کے فتاوی و آراء۔ کیونکہ محلے کے مولوی کے فتوے پر تو کوئی بھی قائل نہیں ہوتا۔ البتہ قرآن وحدیث کی دلیل کو ہر صاحبِ ایمان مان لیتا ہے۔

اقتباس:
فتنہ طاہریہ( طاہر القادری) کے عقائد

 

 

جب گفتگو کا آغاز ہی کسی کو فتنہ و گمراہ کا فتوی لگا کر کیا جائے گا پھر حق و انصاف کی بات کیسے سامنے آئے گی۔

اقتباس:
موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔

 

 

 

میرے بھائی اور دوست ! سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا تعارف کروا دیں۔ اپنے عقائد اور نظریات اور انکی بنیاد بھی یہاں بیان فرما دیں یعنی قرآن و حدیث اور کن کن اکابر آئمہ و علمائے کرام کے حوالہ جات سے آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں۔

 

خیال رکھئے گا اپنے محلے کے مولانا صاحب کے فتوے نہ اٹھا لائیے گا بلکہ قرآن و حدیث کے دلائل اور اکابر علمائے حق کی بات کی گئی ہے۔

اقتباس:
اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے

 

 

 

آپ کو معلوم ہوگا کہ امام اعظم ابو حنیفہ (رح) کے دو خاص شاگرد تھے۔ جنہیں صاحبین یا شیخین کے نام سے مکتوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امام اعظم سے اختلاف کیا۔

 

تو کیا مناسب نہیں کہ یہی رائے اور فتوی سب سے پہلے ان کے لیے استعمال فرمائیں۔اگر ہے جراءت تو ذرا قلمِ فتاوی اٹھا کر دیکھیے !!!

اگر آپ نے ہمارے امام اعظم کا یہ قول نہیں پڑھا کہ “اگر میری رائے کے خلاف کوئی نصِ قرآنی یا حدیث صحیح آجائے تو میری رائے چھوڑ دی جائے “ تو پھر یہ آپکے مطالعہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ کسی دوسرے کا کیا قصور ؟؟؟

طاہر القادری بھی اختلاف رائے کے لیے قرآن وحدیث کے دلائل کی بات کرتا ہے۔

اقتباس:
1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔

 

 

 

طاہرالقادری اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے بات کرتا ہے۔ اور اس مسئلے پر ہمیشہ سے تمام علمائے کرام کو دعوتِ مذاکرہ دیتا ہے کہ آئیے ہم مل بیٹھ کر علمی و تحقیقی ماحول میں اس پر گفت و شنید کریں۔

 

آج سے کوئی 20 سال پہلے ایسی ہی ایک مجلسِ مذاکرہ شیرِ اہلسنت مولانا عبدالستارخان نیازی (رح) کی زیرِ صدارت منعقد بھی ہوئی تھی جس میں (غالباً ایک عالم دین ) مولانا عبدالمتین تشریف لائے تھے اور بقول مولانا عبدالستار خان نیازی باقی سب اپنی اپنی شرائط منوانے کے باوجود طاہرالقادری کا سامنا کرنے سے گریزاں رہے۔

بات ذاتیات کی نہیں۔ بات تحقیقی اختلافِ رائے کی ہے۔

اقتباس:
2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

 

 

طاہر القادری کا انٹرویو پورا پڑھیں تو پوری گفتگو کا مفہوم یہ تھا “ بلکہ احیائے دینِ اسلام کے لیے کام کرتا ہوں“

 

قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 دیکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا

۔۔۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا۔۔ الی الخ

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر دیا اور میں نے تم پر اپنا احسان تمام کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔۔۔

اللہ تعالی اور اسکے رسول (ص) نے جو دین ہمیں دیا ہے کیا وہ حنفیت و سنیت دی ہے ؟؟؟ حنفیت اور سنیت حق ہیں لیکن دینِ اسلام کے تابع ہیں۔

دینِ اسلام کو تو حنفیت و سنیت کے تابع نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ فرقہ پرستی کے اس گھٹے ماحول میں کوئی عالم دین ایسا ہے کہ جو ان چھوٹے چھوٹے تشخصات سے اوپر اٹھ کر قرآن و سنت کی روح کے مطابق دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے۔

یا پھر غالباً آپ حنیفیت اور مسلک اہلسنت کو (معاذاللہ آپ کی سمجھ کے مطابق) دینِ اسلام کے متصادم کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اور آپ طاہر القادری سے اس لیے ناراض ہوگئے کہ وہ حنیفیت و اہلسنت مسلک کو چھوڑ کر دینِ اسلام کی خدمت کی بات کر رہا ہے۔

ذرا سوچئیے ! حنفیت اور مسلک اہلسنت کو دینِ اسلام سے الگ تھلگ کچھ ثابت کر کے آپ حنفیت اور اہلسنت کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔

اقتباس:
3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

 

 

آپ قرآن کی نص یا حدیث نبوی (ص) سے یہ ثابت کردیں کہ ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا شریعت کے واجبات میں سے ہے تو بات واضح ہوجائے گی۔

 

لیکن قرآن و حدیث کی کوئی نص بھی لائیں نا۔

اقتباس:
اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
(رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

قرآن مجید میں سورہ آل عمران آیت نمبر 103 میں ارشاد ہے

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ۔۔۔ الی الخ

ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔

طاہرالقادری نے حکمِ خداوندی کے تحت فرقہ واریت کی مذمت کر دی تو کیا برا کر دیا ؟؟ اور خود کو ایک نبی معظم (ص) کا نمائندہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے ؟؟

آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔

اقتباس:
5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

مضمون پورا بیان کریں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا جب تک مجھے اس بات کی تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں شخص گستاخِ رسول (ص) ، گستاخِ اہلبیت (رض) اور گستاخِ صحابہ (رض) ہے میں اسے کلمہ گو مسلمان سمجھتا ہوں۔

میرے بھائی !! فتویٰ ء کفر دراصل بربنائے گستاخی رسول (ص) ، گستاخیء اہلبیت وصحابہ کرام (رض) ہوتا ہے۔ جہاں تصدیق ہوجائے وہ کافر۔

یہی علمی طریقہ ہے۔

اقتباس:
6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں۔ (بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)

 

 

 

جیسا کہ اوپر آپ نے خود ہی بیان کردیا کہ طاہر القادری نمائندہء دینِ اسلام بن کر پوری دنیا میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ تو میرے بھائی دعوتِ دین کا یہ کام بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔

 

قرآن مجید میں سورۃ النحل کی آیت 125 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔۔۔۔۔۔ الی الخ

ترجمہ :اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (ودانشمندی) اور عمدہ نصیحت سے بلائیے اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجیے۔

تو میرے محترم بھائی اور دوست !!!

اب میرے جیسا کوئی تنگ نظر جس نے کبھی اپنے فرقہ سے باہر نکل کر کسی غیر مسلم کو دعوت ہی نہ دی ہو اور نہ زندگی میں کبھی دینی ہے اسے کیا خبر کہ حکمت و دانشمندی کیا ہوتی ہے۔ اور دینِ اسلام کی طرف غیرمسلموں کو کیسے راغب کیا جاتا ہے ۔

اقتباس:
اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔

 

 

 


مطالعہ احادیث سے یہ بات علم میں آتی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ہزاروں صحابہ کرام نے علم حدیث اور علمِ شریعت سیکھا۔

تو کیا پردے کی حدود کو قائم رکھتے ہوئے دینی امور سیکھنے سکھانے کا حکم انہیں (معاذ اللہ ) معلوم نہیں تھا ؟؟؟

اور میرے برادرِ محترم !!!

لڑکی لڑکے کے ملنے کے ذکر سے اگر آپ کے ذہنِ پارسا میں صرف ایک ہی “ مقصد“ آتا ہے تو پھر آپکے ذہنِ صفا کی مزید صفائی کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

اقتباس:

8 ) ….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔

 

 

 

میں نے انکی پوری تقریر “داڑھی کی شرعی حیثیت “ پر سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے کہیں بھی یہ جملہ نہیں فرمایا۔

 

اور اگر داڑھی رکھنا انکے نزدیک غیرضروری ہوتا تو ایک “غیرضروری“ چیز کو اپنی نوجوانی کے وقت سے لے آج تک اپنے چہرے پر کیوں سجائے پھرتے ہیں ؟؟

اقتباس:

9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔

 

 

اسکا جواب محترم پیا جی حدیث پاک کی روشنی میں دے چکے ہیں۔ آپ کے پاس اگر ان احادیث کی نفی میں دلائل موجود ہیں تو یہاں پیش فرما دیں۔

 

اگر نہیں تو پھر اپنے قلبِ معطر کے اندر جھانکیے کہ کہیں طاہرالقادری کی مخالفت میں آپ بغضِ علی (رض) کے مرض میں تو مبتلا نہیں ہورہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مرض ایمان کی تباہی کے لیے کتنا موذی ہے۔

اقتباس:

10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

 

 

 

اس میں اعتراض والی کیا بات ہے؟ دنیا میں بے شمار کتب ایسی ہیں جو مختلف اوقات میں مفید رہی ہیں۔ اس سے کہاں ثابت ہے کہ طاہر القادری اعلیحضرت (رح) کے خلاف ہے ؟؟؟

 

یا کیا خود اعلیحضرت (رح) نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ حسام الحرمین قرآن وحدیث کے برابر ہے اور اس پر اعتراض کی کسی کو گنجائش نہیں؟؟

اگر فرمایا ہوتو ہمارے علم میں اضافے کے لیے یہاں حوالہ پیش فرمادیں تاکہ ہم بھی طاہرالقادری کو مخالفِ اعلیحضرت (رح) مان لیں۔

اقتباس:

اپنے منہ میاں مٹھو بننا :

قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 میں ارشاد ہے

۔۔۔۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ : (اے اللہ !) جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے توچاہے ذلیل کرتا ہے سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز قادر ہے

کسی کے منہ مٹھو بننے سے یا دوسرے کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔

اس لیے آپ پریشان نہ ہوں۔ ؛)

اقتباس:

1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)

 

 

 

کیا آپ کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ حضور اکرم (ص) اپنے کسی بھی ادنی سے ادنی امتی پر کرم فرما سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ اس عقیدے کے انکاری ہیں ؟؟

 

 

اگر انکار کرتے ہیں تو آپ فوراً مسلکِ اعلیحضرت (رح) سے خارج ہوتے ہیں۔

اور اگر آپ صرف اس بات پر معترض ہیں کہ طاہر القادری یا اسکے والد کے خواب پر حضور (ص) نے یہ کرم نوازی کیوں فرمائی تو میرے بھائی یہ تو کرم کرنے والے جانیں اور جن پر کرم ہوا ہے وہ جانیں۔ میں اور آپ کون ؟؟

ہاں مجھ جیسا ایک ادنی امتی اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ اپنی نیت، فکر و سوچ اور اعمال درست کرنے کی کوشش کرے۔ اور خاکِ مدینہ کے ذروں سے ایسی نسبت حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ آقائے دوجہاں (ص) اس حقیر سے غلام پر بھی کبھی کرم فرما دیں۔ کیونکہ گنبدِ خضریٰ سے تو یہی صدا آتی ہے

جھولی ہی تیری تنگ ہے میرے یہاں کمی نہیں

اقتباس:
‌ ‌
2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)

ہر اہلسنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جہاں بھی حضور (ص) کا ذکر خیر کیا جائے۔ حضور (ص) پر درودوسلام پڑھا جائے ۔ آقا چاہیں تو وہاں تصرف و کرم فرماتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہر محفل میلاد میں اعلیحضرت (رح) کا مشہور زمانہ سلام “مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام “ ادب و تعظیم کے ساتھ کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں کہ کیا معلوم آقا کب کرم فرما دیں۔

آپ کے ساتھ ساتھ بہت سارے دوستوں کے لیے یہ ایمان افروز اطلاع دیتا چلوں کہ منہاج القرآن کے مرکز 365 ایم ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک گوشہء درود قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر کچھ لوگ بیٹھے دن رات 24 گھنٹے حضور نبی اکرم (ص) پر درودوسلام پڑھتے رہتے ہیں۔ وہاں فرض عبادات کے بعد صرف یہی کام کیا جاتا ہے اور 31 مارچ 2007 تک اس مقام سے حضور نبی اکرم (ص) کی بارگاہ میں ایک ارب سے زائد (جی ہاں ایک ارب سے زائد مرتبہ) درود وسلام پڑھا جاچکا تھا۔

اب سوچئیے ہم 10 بندوں کو ملا کر محفلِ میلاد کروائیں اور چند سو باردرودوسلام پڑھ لیں تو ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور (ص) کرم فرما دیتے ہیں۔ تو جہاں سینکڑوں امتی اربوں کے حساب سے بارگاہِ نبوی (ص) میں درود پڑھتے ہیں۔ وہاں آقائے مدنی سرکار (ص) کیوں تشریف نہ لائیں گے ؟؟؟؟؟

طاہرالقادری کی مخالفت میں خدارا اپنے ہی عقیدے کا مذاق تو نہ اڑائیے۔ دوسروں کے سامنے تماشہ بن کر انہیں خود پر انگلیاں اٹھانے کا موقع تو فراہم نہ کیجئے۔

اقتباس:
‌ ‌
3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔

اگر آپ قرآن مجید کی سورہ یوسف کی آیت 5 اور 6 ملاحظہ فرما لیں

5۔قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
6۔ وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ ۔۔۔ الخ

تو بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ خواب کچھ اور ہوسکتا ہے اور اسکی تعبیر کچھ اور ہوتی ہے۔ اور تعبیرِ خواب اور تاویلِ روئیت کو اللہ تعالی نے اپنی نعمت بیان فرمایا ہے۔ اور یہ باقاعدہ ایک علم و فن ہے۔

خواب میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے بعض اوقات وہ استعارہ و اشارہ ہوتا ہے اور اسکی تعبیر بعینہ مراد نہیں لی جاتی ۔ مثلا امام بخاری (رح) کا خواب دیکھیں۔

امام بخاری (رح) خواب میں دیکھتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ص) کے جسدِ اقدس پر مکھیاں بیٹھ رہی ہیں اور میں (امام بخاری) وہ مکھیاں اڑا اڑا کر انہیں حضور سے دور کر رہا ہوں۔

حضرت اب فرمائیے ؟؟ کیا فرماتے ہیں آپ اور آپکے مولانا صاحب امام بخاری (رح) کے بارے میں ؟؟؟؟ حضور (ص) کے جسم اقدس پر تو کبھی زندگی میں مکھی نہیں بیٹھی تھی اور امام بخاری نے سارا خواب ہی مکھیوں والا دیکھا۔

اب سنیئے !! اسکی تعبیر یہ بیان کی گئی کہ امام بخاری حضور سرکارِ مدینہ (ص) کی احادیث مقدسہ پر کام کر کے غیر مستند اور غلط احادیث کو دور کر کے مستند اور صحیح احادیث کو جمع کریں گے اور یہی کام امام بخاری (رح) نے کیا۔

اتنی بات سمجھ آجانے کے بعد سنیئے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے خواب بتانے کے عین اسی موقع پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ٹکٹ وغیرہ سے مراد دین کی خدمت ہے۔

اس کے آغاز میں ہی طاہر القادری نے یہ حدیث بھی بیان کر دی تھی کہ آقائے رحمت اللعلمین (ص) کا فرمان ہے کہ “جو کوئی مجھ سے جھوٹ منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ کی آگ میں بنا لے“ (او کما قال)۔

اب ہر پڑھنے والا خود سوچ لے۔ کہ اب کونسا ایسا ادنی سے ادنی مسلمان بھی ایسا ہوگا جو اس حدیث کو جان لینے کے بعد حضور (ص) کی نسبت کچھ بھی جھوٹ منسوب کرنے کی جرات کرے گا ؟؟؟؟

اقتباس:
‌ ‌
محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے

 

 

 

ماشاءاللہ ۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے قرآن وحدیث کی کس نص سے آپ کو یہ اختیار تفویض ہوگیا کہ جسے چاہے اہلسنت میں شامل رکھیں اور جسے چاہے خارج کردیں۔ ؟؟؟

 

ایک ڈاکٹر بلکہ ایک ڈسپنسر (ہارون بھائی سے معذرت کے ساتھ Razz ) بھی اپنے کلینک میں کوئی نہ کوئی سرٹیفیکیٹ ضرور آویزاں کرتا ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو دوائیاں یا پڑیاں دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

کیا آپ یا آپ کے مولانا صاحب ، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اخراج کا یہ فتوی جاری کرنے سے پہلے خود اپنے بارے میں کوئی ایسی اختیاراتی دستاویز فراہم کرسکتے ہیں جس سے یہ پتہ چل جائے کہ موصوف کے پاس ہی سنیت کا ٹھیکہ ہے ؟؟؟؟ یاد رکھیں بات قرآن وحدیث اور آئمہ کبار کی ہے۔ اس سے نیچے کی بات نہیں ہونا چاہیئے۔

اقتباس:
‌ ‌‌‌‌جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔

 

 

 

گویا آپ کو امام اعظم سے زیادہ انکی فقہ کی سمجھ بوجھ آگئی ۔کہ وہ تو فرمائیں کہ قرآن وحدیث کی نص سامنے آجانے پر میری بات کو چھوڑ دیا جائے۔

 

اور آپ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو واقعی امام اعظم کے پائے کا فقیہ ہونا چاہیئے تھا۔

اقتباس:
‌ ‌‌‌‌
امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے ۔

 

 

میرے پیارے بھائی بریلوی صاحب !!

 

اللہ تعالی آپ کو خوش وخرم اور صحیح سلامت رکھے اور آپ کو دیدارِ مصطفیٰ عطا فرمائے۔ آمین

گفتگو کے آخر میں میں آپ سے صرف ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج رات آپ عشاء کی نماز کے بعد درودوسلام پڑھتے ہوئے دھیان حضور (ص) کے گنبدِ خضری کی طرف کر کے ، اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق ایک لمحہ کے لیے صرف اتنا سوچ لیجیے گا کہ اگر واقعی آقائے دوجہاں (ص) نے خواب میں ہی سہی اگر “منہاج القرآن “ کا لفظ اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرما دیا ہو۔ اور آپ اسکو منہاج الشیطان فرما رہے ہیں۔

تو کل بعد از مرگ قبر میں اور یوم ِ حشر سرکارمدینہ (ص) کا سامنا کرتے ہوئے کتنی ندامت ہوسکتی ہے ۔ ذرا سوچ لیجیے گا۔

کیونکہ روح کے کانوں سے گنبدِ خضری کی صدا سنیئے۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے راہ روِ منزل ہی نہیں

 

فتنہ طاہریہ (طاہر القادری) کے عقائد

موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔
اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے
1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔
2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں (امام چاہے کوئی بھی ہو)امام جب قیام کرے سجود کرے ،سلام پھیرے تو مقتدی بھی وہی کچھ کرے یہا ں یہ ضروری نہیں ہے کہ امام نے ہاتھ چھوڑ رکھے ہیں اور مقتدی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے یا ہاتھ چھوڑ کر ۔
(بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ

4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
(رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں ۔(بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)
اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔
8)….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔
9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔
10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

اپنے منہ میاں مٹھو بننا :
1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)
2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)
3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔
محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے
۔

3 Responses to “سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ”

  1. minhajulquran said

    السلام علیکم!

    آپ نے لکھا کہ موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے برپا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی شکل میں نمودار ہوا۔

    بریلوی بھائی اصل میں بات کچھ اور ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ جب انسان اپنے میں سے کسی دوسرے کو ترقی کرتا دیکھتا ہے تو تعصب میں پڑ جاتا ہے۔ میں نے آپ کے تمام اعتراضات پڑھے ہیں، تمام کے تمام 1987 سے پہلے کے ہیں، اس کے بعد کسی نے کوئی اعتراض اور فتویٰ نہیں لگایا۔

    تحریک منہاج القرآن کا آغاز 1980 سے ہوا، 1980 سے لے کر 1987، 1988 تک کے عرصے میں تحریک منہاج القرآن کو اتنا عروج ملا کہ پاکستان بننے سے پہلے کی دینی جماعتیں پیچھے رہ گئیں، اس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری سیاست میں نہیں آئے تھے صرف دینی حوالے سے کام کر رہے تھے۔ اتنے کم عرصے میں اتنا فروغ، اتنی شہرت۔ جگہ جگہ دروس قرآن، دروس حدیث، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل، عالمی کانفرنسز وغیرہ پھر اس میں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تعداد دن بدن دوگنی ہوتی گئی۔ یہ شہرت دیکھ کر غیر تو غیر اپنے بھی برداشت نہ کر سکے پھر انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔

    اسی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری نے 1990 میں پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا، 1990 سے لے کر تقریبا 2002 تک سیاست میں بھرپور شریک رہے لیکن اس عرصے کے دوران کسی عالم، مفتی نے فتویٰ نہیں لگایا۔

    جونہی انہوں نے سیاست سے استعفیٰ دیا (اس جرات مندانہ فیصلہ پر آج بھی پوری دنیا ڈاکٹر طاہرالقادری کی تعریف کرتی ہے، آپ نے دوسری جماعتوں کے بارے میں بھی یقینا سن رکھا ہو گا کہ استعفوں کی رٹ لگائی ہوئی ہے، لیکن استعفیٰ نہیں دیتے، کیا ہے پیسے وغیرہ کی لالچ اور یہ لوگ اسلام کا نام لیوا ہیں) اور ان کے خطابات کیو ٹی پر نشر ہونے لگے اور اعتکاف، ستائیسویں کا عالمی روحانی اجتماع اور عالمی میلاد کانفرنسز جس میں لاکھوں عشاقان مصطفیٰ شرکت کرتے ہیں اور فیضیاب ہوتے ہیں، اسے دیکھ کر فتوؤں کی پٹاریاں پھر حرکت میں آ گئیں۔

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف حسد ہے اور کچھ نہیں۔

    ——————————————

    آپ نے لکھا کہ “طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی) مرد کے برابر ہے۔” یہ ان کا مؤقف ہے نہ کہ فتویٰ۔ جہاں تک امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے اس مسئلہ پر اختلاف کی بات ہے تو یہ تاریخ اسلام میں دیکھیں کتنے اکابرین نے اختلافات کیئے لیکن ایک دوسرے پر فتوے تو نہیں لگائے بلکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مسئلہ پر اختلاف کو اللہ کی رحمت قرار دیا ہے۔

    ——————————————

    دوسرا سوال آپ کا کہ “طاہرالقادری صاحب فرماتے ہیں کہ میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں۔”

    ہاں وہ صرف حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالاتری کے لئے کام نہیں کر رہے بلکہ وہ تو پوری امت مسلمہ کے لئے کام کر رہے ہیں، ان کی ویب سائٹس دیکھ لیں، ان کے خطابات ملاحظہ فرما لیں اور دیگر لٹریچر اٹھا کر دیکھ لیں، وہ تو اتحاد امت کی بات کرتے ہیں، اس لئے تو ان کے ساتھ دوسرے مسالک کے لوگ بھی ہیں۔

    وہ شیعوں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نعرے لگواتے ہیں اور سنیوں سے اہل بیت اطہار کے نعرے لگواتے ہیں۔ وہ لوگ پاگل تو نہیں کہ ایسے نعرے لگائیں۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے انہیں فرقہ واریت کے اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا ہے۔ جتنی بھی غلط فہمیاں مولویوں اور ذاکروں نے صحابہ کرام (ع) اہل بیت اطہار (ع) کے حوالے سے پھیلا رکھی تھیں ان کا قلع قمع کر کے انہیں صحیح عقیدہ پر لا کھڑا کیا۔

    واللہ ان کی کتب دیکھ لیں، چاہے وہ اہل بیت اطہار پر ہوں یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر ہوں، احادیث مبارکہ سے ثابت ہوں گی اور ایک ایک حدیث کا درجنوں کتب احادیث سے حوالہ دیا ہو گا۔

    ملاحظہ کے لئے ان کی کتب کی ویب سائٹ منہاج بکس ڈاٹ کوم موجود ہے۔

    ——————————————

    تیسرا آپ نے فرمایا کہ “روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں۔” بھائی اس میں کسی کو اگر شک ہے تو لا علمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ملاحظہ ہو حدیث مبارکہ

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِيْنَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ

    وَ قَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.

    ’’ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ لہٰذا جو اس شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس دروازے سے آئے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔‘‘

    الحديث رقم 151 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 137، الحديث رقم : 4637، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 44، الحديث رقم : 106.

    اس کے علاوہ درجنوں احادیث مبارکہ اس پر موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو

    تاجدار کائنات خود فرما رہے ہیں کہ جو علم کے شہر میں آنا چاہے وہ علی ہی کے ذریعے آ سکتا ہے۔ اس سے بڑی دلیل تمام صحابہ کرام (ع) پر سیدنا علی (ع) کی علمی برتری کی اور کیا ہو سکتی ہے؟

    ——————————————

    اگلا سوال آپ کا خوابوں پر مشتمل ہے، اس پر میں ان لوگوں کی عقل پر حیران ہوں جو یہ سوال کرتے ہیں۔

    خدا کے بندو! اللہ تمہیں ذہنی تندرستی عطا فرمائے۔ بھلا آپ میں سے کس کو بلا کر انہوں نے خواب بیان کئے؟ انہوں نے تو وہ خواب اپنی مجلس شوری کے چند سو ممبران کو بیان کئے تھے۔ جس کی ویڈیو ریکارڈنگ آج تک ریلیز نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے 5000 خطابات کی فہرست میں اس کا کہیں وجود نہیں حتی کہ تحریک کے لاکھوں کارکنان میں سے (ان چند سو ممبران کو چھوڑ کر) کسی نے وہ کیسٹ نہیں دیکھی۔

    اس کیسٹ کی ایک کاپی کسی طرح مخالفین نے چوری کرائی اور محض فتنہ پھیلانے کے لئے قطع و برید کر کے مخصوص حصے پھیلانے شروع کر دیئے۔ اگر وہ کیسٹ باقاعدہ ریلیز ہوئی ہوتی تو اس کے پرنٹ کی حالت اتنی گھسی ہوئی نہ ہوتی!

    جنہوں نے یہ کرتوت کیا اس کا جواب تو وہ اللہ تعالیٰ کو دیں گے۔ انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوام الناس کے لئے اسے جاری ہی نہیں کیا۔

    جب ان شر انگیز، فتنہ پرور، جاگیردار، وڈیرے لٹیرے لوگوں نے انویسٹمنٹ کر کے ہر قسم کے میڈیا میں اسے پھیلایا تو پھر ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس پر ایک جامع تفصیلی جواب دیا، جو قرآن و سنت اور احادیث مبارکہ سے اس فتنے کا رد کیا۔ بعد ازاں اس پر “خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ” کے موضوع پر ایک مفصل کتاب لکھی اور اس موضوع پر انکا خطاب بھی ہے۔

    میری گزارش یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے آپ اور ان لوگوں میں سے کسی کو بھی خواب سنانے کے لئے نہیں بلایا تھا۔ لہذا اس پر آپ لوگوں کو بخار نہیں ہونا چاہئے۔

    امید ہے اس سے کافی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔
    _________________
    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    سب سے پہلے تو عرض کروں کہ ہماری اردو جیسے غیرجانبدار اور موقر چوپال پر بحث مباحثہ کے نام پر طعن و تشنیع کا بازار گرم کرنے کی بجائے “ باہم تبادلہ خیالات اور گفت وشنید “ کے ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیئے۔

    تاکہ کسی کی دل آزاری کرنے سے ایک دوسرے سے دور ہونے کی بجائے ہم دوست ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔

    اور دوسری بات یہ کہ گفتگو میں بنیاد قرآن وحدیث ہونا چاہیئے نہ کہ اپنے محلے کے مولوی کے فتاوی و آراء۔ کیونکہ محلے کے مولوی کے فتوے پر تو کوئی بھی قائل نہیں ہوتا۔ البتہ قرآن وحدیث کی دلیل کو ہر صاحبِ ایمان مان لیتا ہے۔

    اقتباس:
    فتنہ طاہریہ( طاہر القادری) کے عقائد

    جب گفتگو کا آغاز ہی کسی کو فتنہ و گمراہ کا فتوی لگا کر کیا جائے گا پھر حق و انصاف کی بات کیسے سامنے آئے گی۔ اقتباس:

    موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔

    میرے بھائی اور دوست ! سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا تعارف کروا دیں۔ اپنے عقائد اور نظریات اور انکی بنیاد بھی یہاں بیان فرما دیں یعنی قرآن و حدیث اور کن کن اکابر آئمہ و علمائے کرام کے حوالہ جات سے آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں۔

    خیال رکھئے گا اپنے محلے کے مولانا صاحب کے فتوے نہ اٹھا لائیے گا بلکہ قرآن و حدیث کے دلائل اور اکابر علمائے حق کی بات کی گئی ہے۔
    اقتباس:

    اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے

    آپ کو معلوم ہوگا کہ امام اعظم ابو حنیفہ (رح) کے دو خاص شاگرد تھے۔ جنہیں صاحبین یا شیخین کے نام سے مکتوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امام اعظم سے اختلاف کیا۔

    تو کیا مناسب نہیں کہ یہی رائے اور فتوی سب سے پہلے ان کے لیے استعمال فرمائیں۔اگر ہے جراءت تو ذرا قلمِ فتاوی اٹھا کر دیکھیے !!!

    اگر آپ نے ہمارے امام اعظم کا یہ قول نہیں پڑھا کہ “اگر میری رائے کے خلاف کوئی نصِ قرآنی یا حدیث صحیح آجائے تو میری رائے چھوڑ دی جائے “ تو پھر یہ آپکے مطالعہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ کسی دوسرے کا کیا قصور ؟؟؟

    طاہر القادری بھی اختلاف رائے کے لیے قرآن وحدیث کے دلائل کی بات کرتا ہے۔

    اقتباس:

    1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔

    طاہرالقادری اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے بات کرتا ہے۔ اور اس مسئلے پر ہمیشہ سے تمام علمائے کرام کو دعوتِ مذاکرہ دیتا ہے کہ آئیے ہم مل بیٹھ کر علمی و تحقیقی ماحول میں اس پر گفت و شنید کریں۔

    آج سے کوئی 20 سال پہلے ایسی ہی ایک مجلسِ مذاکرہ شیرِ اہلسنت مولانا عبدالستارخان نیازی (رح) کی زیرِ صدارت منعقد بھی ہوئی تھی جس میں (غالباً ایک عالم دین ) مولانا عبدالمتین تشریف لائے تھے اور بقول مولانا عبدالستار خان نیازی باقی سب اپنی اپنی شرائط منوانے کے باوجود طاہرالقادری کا سامنا کرنے سے گریزاں رہے۔

    بات ذاتیات کی نہیں۔ بات تحقیقی اختلافِ رائے کی ہے۔

    اقتباس:
    2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
    ( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

    طاہر القادری کا انٹرویو پورا پڑھیں تو پوری گفتگو کا مفہوم یہ تھا “ بلکہ احیائے دینِ اسلام کے لیے کام کرتا ہوں“

    قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 دیکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا

    ۔۔۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا۔۔ الی الخ

    ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر دیا اور میں نے تم پر اپنا احسان تمام کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔۔۔

    اللہ تعالی اور اسکے رسول (ص) نے جو دین ہمیں دیا ہے کیا وہ حنفیت و سنیت دی ہے ؟؟؟ حنفیت اور سنیت حق ہیں لیکن دینِ اسلام کے تابع ہیں۔

    دینِ اسلام کو تو حنفیت و سنیت کے تابع نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ فرقہ پرستی کے اس گھٹے ماحول میں کوئی عالم دین ایسا ہے کہ جو ان چھوٹے چھوٹے تشخصات سے اوپر اٹھ کر قرآن و سنت کی روح کے مطابق دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے۔

    یا پھر غالباً آپ حنیفیت اور مسلک اہلسنت کو (معاذاللہ آپ کی سمجھ کے مطابق) دینِ اسلام کے متصادم کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اور آپ طاہر القادری سے اس لیے ناراض ہوگئے کہ وہ حنیفیت و اہلسنت مسلک کو چھوڑ کر دینِ اسلام کی خدمت کی بات کر رہا ہے۔

    ذرا سوچئیے ! حنفیت اور مسلک اہلسنت کو دینِ اسلام سے الگ تھلگ کچھ ثابت کر کے آپ حنفیت اور اہلسنت کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔

    اقتباس:

    3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

    آپ قرآن کی نص یا حدیث نبوی (ص) سے یہ ثابت کردیں کہ ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا شریعت کے واجبات میں سے ہے تو بات واضح ہوجائے گی۔

    لیکن قرآن و حدیث کی کوئی نص بھی لائیں نا۔

    اقتباس:

    اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ

    4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
    (رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

    قرآن مجید میں سورہ آل عمران آیت نمبر 103 میں ارشاد ہے

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ۔۔۔ الی الخ

    ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔

    طاہرالقادری نے حکمِ خداوندی کے تحت فرقہ واریت کی مذمت کر دی تو کیا برا کر دیا ؟؟ اور خود کو ایک نبی معظم (ص) کا نمائندہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے ؟؟

    آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔

    اقتباس:
    5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

    مضمون پورا بیان کریں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا جب تک مجھے اس بات کی تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں شخص گستاخِ رسول (ص) ، گستاخِ اہلبیت (رض) اور گستاخِ صحابہ (رض) ہے میں اسے کلمہ گو مسلمان سمجھتا ہوں۔

    میرے بھائی !! فتویٰ ء کفر دراصل بربنائے گستاخی رسول (ص) ، گستاخیء اہلبیت وصحابہ کرام (رض) ہوتا ہے۔ جہاں تصدیق ہوجائے وہ کافر۔

    یہی علمی طریقہ ہے۔

    اقتباس:

    6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں۔ (بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)

    جیسا کہ اوپر آپ نے خود ہی بیان کردیا کہ طاہر القادری نمائندہء دینِ اسلام بن کر پوری دنیا میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ تو میرے بھائی دعوتِ دین کا یہ کام بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔

    قرآن مجید میں سورۃ النحل کی آیت 125 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے

    ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔۔۔۔۔۔ الی الخ

    ترجمہ :اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (ودانشمندی) اور عمدہ نصیحت سے بلائیے اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجیے۔

    تو میرے محترم بھائی اور دوست !!!

    اب میرے جیسا کوئی تنگ نظر جس نے کبھی اپنے فرقہ سے باہر نکل کر کسی غیر مسلم کو دعوت ہی نہ دی ہو اور نہ زندگی میں کبھی دینی ہے اسے کیا خبر کہ حکمت و دانشمندی کیا ہوتی ہے۔ اور دینِ اسلام کی طرف غیرمسلموں کو کیسے راغب کیا جاتا ہے ۔

    اقتباس:

    اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
    7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔

    مطالعہ احادیث سے یہ بات علم میں آتی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ہزاروں صحابہ کرام نے علم حدیث اور علمِ شریعت سیکھا۔

    تو کیا پردے کی حدود کو قائم رکھتے ہوئے دینی امور سیکھنے سکھانے کا حکم انہیں (معاذ اللہ ) معلوم نہیں تھا ؟؟؟

    اور میرے برادرِ محترم !!!

    لڑکی لڑکے کے ملنے کے ذکر سے اگر آپ کے ذہنِ پارسا میں صرف ایک ہی “ مقصد“ آتا ہے تو پھر آپکے ذہنِ صفا کی مزید صفائی کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

    اقتباس:

    8 ) ….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔

    میں نے انکی پوری تقریر “داڑھی کی شرعی حیثیت “ پر سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے کہیں بھی یہ جملہ نہیں فرمایا۔

    اور اگر داڑھی رکھنا انکے نزدیک غیرضروری ہوتا تو ایک “غیرضروری“ چیز کو اپنی نوجوانی کے وقت سے لے آج تک اپنے چہرے پر کیوں سجائے پھرتے ہیں ؟؟

    اقتباس:

    9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔

    اسکا جواب محترم پیا جی حدیث پاک کی روشنی میں دے چکے ہیں۔ آپ کے پاس اگر ان احادیث کی نفی میں دلائل موجود ہیں تو یہاں پیش فرما دیں۔

    اگر نہیں تو پھر اپنے قلبِ معطر کے اندر جھانکیے کہ کہیں طاہرالقادری کی مخالفت میں آپ بغضِ علی (رض) کے مرض میں تو مبتلا نہیں ہورہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مرض ایمان کی تباہی کے لیے کتنا موذی ہے۔

    اقتباس:

    10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

    اس میں اعتراض والی کیا بات ہے؟ دنیا میں بے شمار کتب ایسی ہیں جو مختلف اوقات میں مفید رہی ہیں۔ اس سے کہاں ثابت ہے کہ طاہر القادری اعلیحضرت (رح) کے خلاف ہے ؟؟؟

    یا کیا خود اعلیحضرت (رح) نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ حسام الحرمین قرآن وحدیث کے برابر ہے اور اس پر اعتراض کی کسی کو گنجائش نہیں؟؟

    اگر فرمایا ہوتو ہمارے علم میں اضافے کے لیے یہاں حوالہ پیش فرمادیں تاکہ ہم بھی طاہرالقادری کو مخالفِ اعلیحضرت (رح) مان لیں۔

    اقتباس:

    اپنے منہ میاں مٹھو بننا :

    قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 میں ارشاد ہے

    ۔۔۔۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

    ترجمہ : (اے اللہ !) جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے توچاہے ذلیل کرتا ہے سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز قادر ہے

    کسی کے منہ مٹھو بننے سے یا دوسرے کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔

    اس لیے آپ پریشان نہ ہوں۔ ؛)

    اقتباس:

    1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)

    کیا آپ کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ حضور اکرم (ص) اپنے کسی بھی ادنی سے ادنی امتی پر کرم فرما سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ اس عقیدے کے انکاری ہیں ؟؟

    اگر انکار کرتے ہیں تو آپ فوراً مسلکِ اعلیحضرت (رح) سے خارج ہوتے ہیں۔

    اور اگر آپ صرف اس بات پر معترض ہیں کہ طاہر القادری یا اسکے والد کے خواب پر حضور (ص) نے یہ کرم نوازی کیوں فرمائی تو میرے بھائی یہ تو کرم کرنے والے جانیں اور جن پر کرم ہوا ہے وہ جانیں۔ میں اور آپ کون ؟؟

    ہاں مجھ جیسا ایک ادنی امتی اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ اپنی نیت، فکر و سوچ اور اعمال درست کرنے کی کوشش کرے۔ اور خاکِ مدینہ کے ذروں سے ایسی نسبت حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ آقائے دوجہاں (ص) اس حقیر سے غلام پر بھی کبھی کرم فرما دیں۔ کیونکہ گنبدِ خضریٰ سے تو یہی صدا آتی ہے

    جھولی ہی تیری تنگ ہے میرے یہاں کمی نہیں

    اقتباس:
    ‌ ‌
    2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)

    ہر اہلسنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جہاں بھی حضور (ص) کا ذکر خیر کیا جائے۔ حضور (ص) پر درودوسلام پڑھا جائے ۔ آقا چاہیں تو وہاں تصرف و کرم فرماتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہر محفل میلاد میں اعلیحضرت (رح) کا مشہور زمانہ سلام “مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام “ ادب و تعظیم کے ساتھ کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں کہ کیا معلوم آقا کب کرم فرما دیں۔

    آپ کے ساتھ ساتھ بہت سارے دوستوں کے لیے یہ ایمان افروز اطلاع دیتا چلوں کہ منہاج القرآن کے مرکز 365 ایم ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک گوشہء درود قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر کچھ لوگ بیٹھے دن رات 24 گھنٹے حضور نبی اکرم (ص) پر درودوسلام پڑھتے رہتے ہیں۔ وہاں فرض عبادات کے بعد صرف یہی کام کیا جاتا ہے اور 31 مارچ 2007 تک اس مقام سے حضور نبی اکرم (ص) کی بارگاہ میں ایک ارب سے زائد (جی ہاں ایک ارب سے زائد مرتبہ) درود وسلام پڑھا جاچکا تھا۔

    اب سوچئیے ہم 10 بندوں کو ملا کر محفلِ میلاد کروائیں اور چند سو باردرودوسلام پڑھ لیں تو ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور (ص) کرم فرما دیتے ہیں۔ تو جہاں سینکڑوں امتی اربوں کے حساب سے بارگاہِ نبوی (ص) میں درود پڑھتے ہیں۔ وہاں آقائے مدنی سرکار (ص) کیوں تشریف نہ لائیں گے ؟؟؟؟؟

    طاہرالقادری کی مخالفت میں خدارا اپنے ہی عقیدے کا مذاق تو نہ اڑائیے۔ دوسروں کے سامنے تماشہ بن کر انہیں خود پر انگلیاں اٹھانے کا موقع تو فراہم نہ کیجئے۔

    اقتباس:
    ‌ ‌
    3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔

    اگر آپ قرآن مجید کی سورہ یوسف کی آیت 5 اور 6 ملاحظہ فرما لیں

    5۔قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
    6۔ وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ ۔۔۔ الخ

    تو بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ خواب کچھ اور ہوسکتا ہے اور اسکی تعبیر کچھ اور ہوتی ہے۔ اور تعبیرِ خواب اور تاویلِ روئیت کو اللہ تعالی نے اپنی نعمت بیان فرمایا ہے۔ اور یہ باقاعدہ ایک علم و فن ہے۔

    خواب میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے بعض اوقات وہ استعارہ و اشارہ ہوتا ہے اور اسکی تعبیر بعینہ مراد نہیں لی جاتی ۔ مثلا امام بخاری (رح) کا خواب دیکھیں۔

    امام بخاری (رح) خواب میں دیکھتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ص) کے جسدِ اقدس پر مکھیاں بیٹھ رہی ہیں اور میں (امام بخاری) وہ مکھیاں اڑا اڑا کر انہیں حضور سے دور کر رہا ہوں۔

    حضرت اب فرمائیے ؟؟ کیا فرماتے ہیں آپ اور آپکے مولانا صاحب امام بخاری (رح) کے بارے میں ؟؟؟؟ حضور (ص) کے جسم اقدس پر تو کبھی زندگی میں مکھی نہیں بیٹھی تھی اور امام بخاری نے سارا خواب ہی مکھیوں والا دیکھا۔

    اب سنیئے !! اسکی تعبیر یہ بیان کی گئی کہ امام بخاری حضور سرکارِ مدینہ (ص) کی احادیث مقدسہ پر کام کر کے غیر مستند اور غلط احادیث کو دور کر کے مستند اور صحیح احادیث کو جمع کریں گے اور یہی کام امام بخاری (رح) نے کیا۔

    اتنی بات سمجھ آجانے کے بعد سنیئے۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے خواب بتانے کے عین اسی موقع پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ٹکٹ وغیرہ سے مراد دین کی خدمت ہے۔

    اس کے آغاز میں ہی طاہر القادری نے یہ حدیث بھی بیان کر دی تھی کہ آقائے رحمت اللعلمین (ص) کا فرمان ہے کہ “جو کوئی مجھ سے جھوٹ منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ کی آگ میں بنا لے“ (او کما قال)۔

    اب ہر پڑھنے والا خود سوچ لے۔ کہ اب کونسا ایسا ادنی سے ادنی مسلمان بھی ایسا ہوگا جو اس حدیث کو جان لینے کے بعد حضور (ص) کی نسبت کچھ بھی جھوٹ منسوب کرنے کی جرات کرے گا ؟؟؟؟

    اقتباس:
    ‌ ‌
    محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے

    ماشاءاللہ ۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے قرآن وحدیث کی کس نص سے آپ کو یہ اختیار تفویض ہوگیا کہ جسے چاہے اہلسنت میں شامل رکھیں اور جسے چاہے خارج کردیں۔ ؟؟؟

    ایک ڈاکٹر بلکہ ایک ڈسپنسر (ہارون بھائی سے معذرت کے ساتھ ) بھی اپنے کلینک میں کوئی نہ کوئی سرٹیفیکیٹ ضرور آویزاں کرتا ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو دوائیاں یا پڑیاں دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

    کیا آپ یا آپ کے مولانا صاحب ، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اخراج کا یہ فتوی جاری کرنے سے پہلے خود اپنے بارے میں کوئی ایسی اختیاراتی دستاویز فراہم کرسکتے ہیں جس سے یہ پتہ چل جائے کہ موصوف کے پاس ہی سنیت کا ٹھیکہ ہے ؟؟؟؟ یاد رکھیں بات قرآن وحدیث اور آئمہ کبار کی ہے۔ اس سے نیچے کی بات نہیں ہونا چاہیئے۔

    اقتباس:
    ‌ ‌‌‌‌جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔

    گویا آپ کو امام اعظم سے زیادہ انکی فقہ کی سمجھ بوجھ آگئی ۔کہ وہ تو فرمائیں کہ قرآن وحدیث کی نص سامنے آجانے پر میری بات کو چھوڑ دیا جائے۔

    اور آپ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو واقعی امام اعظم کے پائے کا فقیہ ہونا چاہیئے تھا۔

    اقتباس:
    ‌ ‌‌‌‌
    امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے ۔

    میرے پیارے بھائی بریلوی صاحب !!

    اللہ تعالی آپ کو خوش وخرم اور صحیح سلامت رکھے اور آپ کو دیدارِ مصطفیٰ عطا فرمائے۔ آمین

    گفتگو کے آخر میں میں آپ سے صرف ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج رات آپ عشاء کی نماز کے بعد درودوسلام پڑھتے ہوئے دھیان حضور (ص) کے گنبدِ خضری کی طرف کر کے ، اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق ایک لمحہ کے لیے صرف اتنا سوچ لیجیے گا کہ اگر واقعی آقائے دوجہاں (ص) نے خواب میں ہی سہی اگر “منہاج القرآن “ کا لفظ اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرما دیا ہو۔ اور آپ اسکو منہاج الشیطان فرما رہے ہیں۔

    تو کل بعد از مرگ قبر میں اور یوم ِ حشر سرکارمدینہ (ص) کا سامنا کرتے ہوئے کتنی ندامت ہوسکتی ہے ۔ ذرا سوچ لیجیے گا۔

    کیونکہ روح کے کانوں سے گنبدِ خضری کی صدا سنیئے۔

    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    راہ دکھلائیں کسے راہ روِ منزل ہی نہیں

  3. Muhammad Ashfaque Ali said

    All answer s of the critisism are given very well. GOD help us to understand the reality and accept it with open arms. i think it is necessary to explain all these things through media, because lot of peoples cant use internet. Pls pay my salam to shaikh ul Islam if it is poissible to u.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: