تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

امام مالک اور قرات خلف الامام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

امام مالک اور قرات خلف الامام

اسی طرح موطا میں امام مالک نے کتاب الصلاۃ میں باب نمبر 8 ماجاء فی امم القرآن (سورۃ فاتحہ کے بارے میں) قائم فرمایا اس میں قرات خلف الامام کے الفاظ کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اس باب میں امام مالک حدیث 191 بیان کرتے ہیں۔

انه سمع جابر بن عبدالله يقول من صلي رکعتا لم يقراء فيها بام القرآن فلم يصلي الا ورآء الامام.(موطا امام مالک، ج 1، ص 86 حديث 191)

اس حدیث میں بھی امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے بارے میں ہے مگر امام مالک نے اس کا الگ باب قائم نہ فرمایا اچھا ہوتا کہ اس کو الگ باب کے عنوان سے بیان فرمادیتے کیونکہ نفس حدیث میں وہ بات نہ تھی جس عنوان سے باب قائم کر رہے ہیں۔ اس طرح باب 50، کتاب 10 میں باب کاعنوان درج کرتے ہیں۔

ترک القرآة خلف الامام فيما جهر فيه.

’’امام کے پیچھے اس نماز میں قرات نہ کرنا جس میں وہ جہری قرات کرتا ہے‘‘۔
اور اس باب کے تحت امام مالک حدیث لائے ہیں۔

ان عبدالله بن عمر کان اذا سئل هل يقرا احد خلف الامام قال اذ صلي احدکم خلف الامام فحسبه قرات الامام واذا صلي وحده فليقرا.

’’حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی شخص امام کے پیچھے قرات کرے انہوں نے کہا جب کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرات اسے کافی ہوتی ہے اور جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو تب قرات کرے‘‘۔

یہاں مطلقاً سوال پوچھا گیا جہری یا سری نمازوں میں قرات کا سوال نہ کیا گیا مگر باب کا عنوان اپنے فقہی مذہب کے مطابق جہری نماز کے حوالے سے باندھا گیا۔ پس یہ ایک فقہی رجحان ہے اور یہ حق ہے کہ ترجمۃ الباب کو آئمہ اپنے فقہی مذہب کے مطابق درج کرتے ہیں۔ اس طرح امام اعظم کا بھی ایک فقہی رجحان ہے۔ اگر فقہی رجحان کے مطابق ابواب بنانا اور انکے مطابق احادیث لانے کا حق امام بخاری، امام مالک، امام مسلم، امام ترمذی اور دیگر تمام آئمہ کو حاصل ہے تو امام اعظم پر اعتراض کرنے والے یہ حق امام اعظم کو کیوں نہیں دیتے۔

درج بالا حدیث اپنے معنی میں اپنے مفہوم میں اپنے ابلاغ میں بڑی واضح ہے، مبہم نہیں ہے، شک و شبہ اور التباس سے بالاتر ہے مگر اس کے باوجود امام مالک نے دیگر آئمہ حدیث کی طرح اس حدیث کو باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جہر فیہ کے تحت درج کر دیا گیا کاش وہ اس حدیث کو اس کے نفس مضمون کے اعتبار سے الگ باب کے عنوان کے تحت درج کرتے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: