تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

ترجمۃ الباب کی وضاحت اور امام ابوحنیفہ پر ہونے والے اعتراض کا جواب

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007


ترجمۃ الباب کی وضاحت اور امام ابوحنیفہ پر ہونے والے اعتراض کا جواب

ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرنے والی حدیث کے تناظر میں ترجمۃ الباب کو سمجھتے ہیں۔ امام بخاری نے باب 85 ترجمۃ الباب کا عنوان بیان کیا ہے۔

الي أين يرفع يديه.

اس عنوان کے بعد آپ لکھتے ہیں۔

وَقَالَ اَبَوْ حُمَيْدِ فِي اصْحَابِه رَفَعَ النبي صلي الله عليه وآله وسلم حَذْوَ مَنْکِبَيْه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھائے‘‘۔

اس حدیث کو بیان کرنے سے قبل امام بخاری نے کوئی سند بیان نہیں کی بلکہ ابو حمید کا قول بغیر سند کے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا۔ پس ترجمۃ الباب میں مذکور ابوحمید کا قول امام بخاری کی فقہ ہے۔ آئمہ فقہ، فقہ حنفی اور امام اعظم پر سب سے بڑا اعتراض جو وارد ہوتا ہے اس کا جواب بھی امام بخاری کے اس ترجمۃ الباب کے قائم کرنے سے مل جاتا ہے۔ اعتراض کیا جاتا ہے کہ امام اعظم اور دیگر آئمہ فقہا کسی مسئلے کے اثبات کے لئے اقوال، مراسیل، (مرسل صحابی، مرسل تابعی) مقطوع روایات، (فلاں نے کہا کہ حضور ایسا کرتے تھے فلاں تابعی نے کہا کہ حضور ایسا کرتے تھے) ذکر کرتے ہیں اور حضور کا قول یا سنت بیان کر دیتے ہیں اور امام بخاری و مسلم کی طرح پوری سند روایت نہیں کرتے۔ لہذا ہم ان کی بات کو نہیں مانتے۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ تمام آئمہ فقہ (اِمام اعظم، امام شافعی، امام مالک، امام احمد حنبل)، آئمہ مذہب و مجتہد مطلق جب فقہ کا مسئلہ سمجھانا چاہتے ہیں تو یاد رکھ لیں کہ حکم فقہ سمجھانے کے لئے امام فقہ کو سند کے ساتھ حدیث بیان کرنے کی حاجت نہیں ہوتی وہ خود معتمد، ثقہ ہوتا ہے خواہ وہ تابعی ہے، تبع تابعی ہے یا خیر القرون سے ہے اور اپنی پوری محقق سند کے ساتھ وہ صحابی کو بیان کر رہا ہے یا تابعی کا قول بیان کررہا ہے کہ ابن سیرین نے کہا، شعبی نے کہا، زہری نے کہا حسن بصری نے کہا، قتادہ نے کہا، عکرمہ نے کہا، جب وہ اعتماد، وثوق اور پوری ثقاہت کے ساتھ صحابی، تابعی یا تبع تابعی کو بیان کرتے ہیں کہ

فقال رسول اللہ ھکذا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کہا) اوقال رسول اللہ ھکذا (یارسول اللہ نے ایسا کہا) اور ان کے قول کو روایت کرتے ہیں تو اعتماداً ان کا قول حکم مرفوع کی طرح ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح امام بخاری نے بخاری شریف میں اول تا آخر جو عمل ترجمۃ الباب میں کیا ہے وہ عمل امام اعظم نے کیا ہے۔ امام بخاری نے جو کچھ ترجمۃ الباب میں کیا وہی کچھ آئمہ فقہ کرتے ہیں۔ امام اعظم کا ترجمۃ الباب چونکہ بیان فقہ کے لئے ہے، بیان حکم کے لئے ہے، استنباط احکام کے لئے ہے اور اپنے فقہی مذہب کے اظہار کے لئے ہے اس لئے وہ ایسے قول سے روایت کرتے ہیں جن پر انہیں اعتماد ہوتا ہے۔ جس طرح امام بخاری کو ابوحمید پر اعتبار ہے اور ابوحمید کو اس سند پر اعتماد ہے جس سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل لیا۔ لہذا آئمہ فقہ کے بیان وہ درجہ رکھتے ہیں جو امام بخاری کے ترجمۃ الباب کا ہے اور جہاں وہ پوری سند کے سند حدیث روایت کر دیں تو اس کا وہ درجہ ہوتا ہے جو کتب حدیث میں اسناد حدیث کا ہے اس قول کو بیان کرنے کے بعد امام بخاری حدیث روایت کرتے ہیں۔

عن عبدالله بن عمر قال رايت النبي صلي الله عليه وآله وسلم افتتح التکبير في الصلاة ورفع يديه حين يکبر حتي يجعلهما حذو منکبيه.

(صحيح البخاري جلد 1 حديث 787)

’’حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کا افتتاح کیا، تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے‘‘۔
امام بخاری نے کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کی حدیث کو بخاری شریف میں بیان ہی نہیں کیا اور بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اوپر ترجمۃ الباب میں اپنا فقہی مذہب بیان کرچکے ہیں۔ اب حدیث صرف وہ بیان کریں گے جو ان کے بیان کردہ فقہی مذہب کو ثابت کر رہی ہو۔ گویا صحیح البخاری، کتاب الحدیث بھی ہے اور کتاب الفقہ بھی ہے اس فرق کو سمجھے بغیر بخاری پڑھیں گے تو مغالطہ پیدا ہوگا۔ سمجھ کر پڑھیں گے تو مغالطے دور ہوجائیں گے۔

کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کی حدیث، حدیث صحیحہ ہے اور اس کو امام مسلم نے صحیح مسلم میں بیان کیا ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب 9 استحباب رفع الیدین میں امام مسلم نے پہلے وہ احادیث بیان کی ہیں جن میں کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر موجود ہے اور اس کے بعد حدیث 863 اور864 نمبر حدیث ذکر کی ہے۔

عن مالک بن حويرس ان رسول الله کان اذا اکبر رفع يديه حتي حذو اذنيه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تکبیر کہی اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنے بلند کئے کہ کانوں کے برابر کردیئے‘‘۔

اب ہمارے فقہی مذہب کو تقویت دینے والی حدیث امام مسلم لے آئے اور امام بخاری نہیں لائے اور اس طرح دوسری حدیث میں بھی کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرنے والی حدیث کو دیگر آئمہ میں سے امام ترمذی، امام مالک (الموطا) اور دیگر آئمہ نے بیان کیا ہے مگر امام بخاری نے بیان نہیں کیا اور اس لئے نہیں بیان کیا کہ ترجمۃ الباب میں ان کا فقہی مذہب درج ہے اور اس کے مطابق ایک حدیث درج کردی ہے۔

لہذا حدیث کے ثقہ ہونے کے لئے یہ پیمانہ نہیں کہ وہ کسی کتاب میں ہے اور کسی میں نہیں ہے بلکہ حدیث کے معتبر اور ثقہ ہونے کا دارومدار سند پر ہے اور دیگر اسناد کے ساتھ اس کی تائید ہے۔ (منہاج السوی میں ان تمام احادیث کو بمعہ حوالہ جات ذکر کردیا گیا ہے جس میں نماز کے افتتاح کے علاوہ رفع یدین کا ذکر نہیں ہے) اس طرح دیگر آئمہ حدیث اس طرح کے مسائل کے حوالے سے دونوں پہلوؤں سے احادیث لاتے ہیں جیسے ’’رفع الیدین‘‘ اور ’’ترک رفع الیدین‘‘ کے حوالے سے امام نسائی نے الگ الگ باب قائم کئے۔ صحاح ستہ کے بعض امام دونوں طرف کے باب بتاتے ہیں اور دونوں طرف کی احادیث لاتے ہیں یا ایک ہی باب میں دونوں طرف کی احادیث لاتے ہیں، امام بخاری صرف ایک طرف کی احادیث لائے ہیں کیونکہ ترجمۃ الباب میں اپنا فقہی مذہب بیان فرما چکے ہیں اور یہ اعتراض کی بات نہیں ہے وہ محدث بھی ہیں اور مجتہد بھی ہیں اور اپنے اجتہاد کی تائید میں احادیث لائے ہیں۔ لہذا بخاری شریف میں سے کسی حدیث کو بطور ثبوت مانگنے کا سوال ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیز امام بخاری کے اجتہاد سے مختلف ہے اسے امام بخاری کیوں لائیں گے۔ اسے تو دیگر آئمہ لائیں گے۔ اسناد کا صحیح ہونا ضروری ہے کسی کتاب کو قبولیت و عدم قبولیت کا پیمانہ نہ قرار دینا ضروری نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: