تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

خلاصہ کلام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

خلاصہ کلام

پہلی نشست کے اختتام پر یہ کہنا چاہوں گا کہ خلاصہ کے طور پر یہ ذہن میں رہے کہ تراجم الابواب کے عنوانات آئمہ کے فقہی رجحانات تھے اور وہ باب ان عنوانات سے قائم نہیں فرمائے جو ان کے فقہی مذہب یا فقہی رجحان کے خلاف تھے۔ لہذا وہ احادیث جو ان ابواب کے مطابقت میں نہ تھیں ان کو روایت نہ کیا یا اگر احادیث ان ابواب کے مطابقت میں نہ تھیں لیکن ان کو بھی اس باب کے تحت درج کر دیا جس کی وجہ سے الگ تفصیل نہ ہوسکی۔

دوسری یہ بات کہ بحذف تکرار بخاری شریف کی احادیث صحیحہ کی تعداد 2513 ہے اور بخاری ومسلم میں بحذف تکرار احادیث صحیحہ کی کل تعداد 4000 ہے۔ اس طرح بقیہ کتب صحاح ستہ سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ ان چاروں میں سے تکرار کو نکال دیں تو ان میں موجود احادیث صحیحہ کی تعداد 6000 بنتی ہے۔ اس طرح صحاح ستہ میں موجود کل احادیث صحیحہ بحذف تکرار 10 ہزار ہیں۔ پس یہ شرط لگانا کہ صحاح ستہ سے اپنی بات کی دلیل کے لئے حدیث دکھاؤ تو یہ بات جہالت کی ہے اس لئے کہ کوئی اصول حدیث ایسا نہیں اور نہ ہی کسی محدث نے یہ قید لگائی ہے اور نہ ہی کبھی آئمہ اسماء الرجال نے کبھی یہ بات کہی کہ صرف صحاح ستہ سے دکھاؤ۔

یہ امر ذہن میں رہے کہ اصحاب صحاح ستہ کے اساتذہ بھی تھے امام بخاری کے 1080 شیوخ تھے، کیا وہ سارے ناقابل اعتبار تھے، غیر ثقہ تھے؟ اگر احادیث انہوں نے روایت کیں اور سند صحیح ہے تو کیوں نہ لی جائیں، اس طرح بقیہ اصحاب صحاح ستہ کے شیوخ نے کوئی حدیث روایت کی ہے تو اسے کیوں نہ لیا جائے۔ دار قطنی کی سند اگر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، مصنف عبدالرزاق کی سند اگر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، ابن ابی شیبہ کی سند صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، اس طرح دارمی، حاکم طبرانی، اما م ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی، امام مالک کی اسناد شرط اسناد پر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائیں صرف صحاح ستہ ہی کی روایت کو قبول کرنے کی شرط فقط علم اصول حدیث سے بے بہرہ اور جاہل ہونے کی علامت ہے کیونکہ اگر یہ شرط لگا دیں تو کل صحاح ستہ میں تو صرف بحذف تکرار 10 ہزار احادیث ہیں تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف 10 ہزار صحیح احادیث ثابت ہیں۔ نیز امام احمد بن حنبل نے جو 7 لاکھ احادیث یاد کیں ان کا کیا مقام و مرتبہ تھا۔ امام سیوطی کی کتاب تدریب الراوی میں ہے کہ امام احمد بن حنبل کو 7 لاکھ احادیث یاد تھیں اور 40 ہزار تو انہوں نے اپنی مسند میں روایت کیں۔ اس کو امام ابن جوزی نے بھی بیان کیا ہے۔ صحیح البخاری و مسلم میں موجود بحذف تکرار 4 ہزار احادیث موجود ہیں اور اس بات کی تصریح امام ابوالفیض محمد بن علی الفاسی نے جواہر الاصول میں کی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: