تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

درسِ بخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

صحیح البخاری کے حوالے سے عقائدِ اہلسنت اور فقہ حنفی سے متعلق اشکالات کا ازالہ

 

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
کا برمنگھم یو۔کے، جامع مسجد گھمگول شریف
میں دورہ صحیح البخاری شریف

سند/ اسناد کی اہمیت

 

عَنْ ثابت ابنِ قَيْسٍ تَسْمَعُوْن وَيُسْمَعُ مِنْکُمْ وَيُسْمَعُ مِنَ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ مِنْکُمْ وَيُسْمَعُ مِنَ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْن مِنْکُمْ.

حضرت ثابت بن قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’تم مجھ سے سنو گے اور پھر آگے تم سے سنا جائے گا اور جنہوں نے تم سے سنی ہوں گی پھر آگے ان سے سنا جائے گا اور پھر ان سے میری حدیث سنی جائے گی جن لوگوں نے پہلے سنانے والوں سے سنا ہوگا‘‘۔

(مجمع الزوائد، جلد 1 ص 137)

اس حدیث مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایت اور سماع حدیث کو بیان فرمایا۔ حدیث اور قرآن کے علم کو حاصل کرنا اور آگے پہنچانا اور نہ صرف پہنچانا بلکہ متصل، معتمد و معتبر اسناد کے ساتھ پہنچانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے اور انبیاء ماسبق کی امت کو اسناد کے ساتھ ابلاغ دین کی نعمت نصیب نہیں ہوئی تھی۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے ہے۔

سند، دین ہے

امام مسلم نے امام محمد بن سیرین (امام تابعین) کا قول صحیح مسلم کے مقدمہ میں درج کیا ہے کہ

اِنَّ هٰذَا الْعِلْمَ دِيْنٌ (اَي عِلْمَ الْاِسْنَادِ)، فَانْظُرُوْا امَنْ تَاخذوا دِيْنَکُمْ.

’’بے شک یہ علم (یعنی اسناد کا علم) دین ہے، پس دیکھو کہ تم کس سے اپنے دین کو حاصل کرتے ہو‘‘

چند اہل علم جو اکابر علماء، مشائخ، آئمہ، محدثین کے حوالے اور ان پر اعتماد کرنے اور اپنے علم اور عقیدہ کی صحت کو ان کے حوالے سے قائم کرنے کو شخصیت پرستی سمجھتے ہیں ان کے نزدیک دین صرف قرآن و سنت کے متن یعنی نص پر مشتمل ہے۔ ان حضرات کے اس تصور کی امام محمد بن سیرین نے نفی کی ہے۔ حدیث دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

1۔ سند
2۔ متن

متن وہ حصہ حدیث ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ہوتا ہے۔ مثلاً

الصلاة عمادالدين

(نماز دین کا ستون ہے)

لا يومن احدکم حتي اکون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين.

یہ احادیث کے متن ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان، فعل، عمل، تقریر حدیث کا متن ہیں اور سند یا اسناد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمات مبارکہ میں سے ایک لفظ بھی شامل نہیں ہوتا۔ اسناد میں دین کی کوئی تعلیم نہیں ہوتی، دین کا کوئی مضمون نہیں ہوتا، احکام شریعت میں سے کوئی شے اسناد میں بیان نہیں ہوتی اور تعلیمات اسلام میں سے کوئی تعلیم اسناد کا حصہ نہیں ہوتی۔ اسناد شخصیتوں کے ناموں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان شخصیتوں کے ناموں کے سلسلہ کو امام مسلم اور امام ابن سیرین نے ’’ان ھذا العلم دین ای علم الاسناد‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

ان اللہ کے بندوں کے ناموں کی فہرست کو جاننا اور ان کے ناموں کو یاد کرنا اور ان کے ناموں کے سلسلے سے منسلک ہونا دین ہے۔ جبکہ ہمارے مقرر کردہ پیمانے کے مطابق یہ ناموں کا سلسلہ جہاں ختم ہوتا ہے اور قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہ کے کلمات آتے ہیں اور بیان شروع ہوتا ہے وہاں سے دین شروع ہوتا ہے۔ امام مسلم و امام ابن سیرین نے اس تصور کی نفی کردی اور فرمایا کہ تم نے جسے دین سمجھا ہے اس تصور کا مدار ان شخصیتوں پر ہے جنہوں نے وہ تصور تم تک پہنچایا ہے، اگر وہ شخصیتیں معتبر نہ رہیں تو متن کہاں سے معتبر ہوگا۔ اگر وہ شخصیتیں خود قابل اعتماد نہ رہیں تو متن کہاں سے قابل اعتماد ہوگا۔ لہذا فرمایا بے شک متن میں تعلیم ہے مگر دین، تعلیم کے متن کا نہیں بلکہ تعلیم کی سند کا نام ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: