تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

سنن الترمذی اور رفع یدین

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنن الترمذی اور رفع یدین

اسی طرح سنن ترمذی باب 76 میں باب کا عنوان امام ترمذی نے قائم کیا ہے۔ باب رفع الیدین عند الرکوع (رکوع کے وقت رفع یدین کرنا) اب جو احادیث رکوع کے وقت رفع یدین کی ہیں وہ تو اس باب کے تحت آنی چاہئیں اور وہ احادیث جن میں رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر ہی نہیں بہتر ہوتا کہ وہ اس باب کے تحت درج نہ فرماتے ان کے لئے الگ باب قائم ہوتا اور اسطرح حنفیہ پر اعتراض نہ آتا لیکن امام ترمذی اس باب کے تحت دوسری احادیث کے ساتھ یہ حدیث بھی لائے ہیں۔

قال عبدالله بن مسعود رضي الله عنه ألا اصلي بکم صلاة رسول الله، فصلي فلم يرفع يديه الا في اول مرة.

’’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں، عرض کیا : دکھائیں، پس انہوں نے نماز پڑھی اور سوائے پہلی مرتبہ کے رفع یدین نہ کیا‘‘۔
امام ترمذی ہمارے امام ہیں، ہمارے سر اور آنکھوں پر ہیں، میں تنقید نہیں کر رہا، ہماری کیا مجال کہ ان کے بارے کچھ کہیں کیونکہ ان کے بارے کچھ کہنا گناہ کے ضمرے میں آئے گا۔ ان کے قدموں کی خاک ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے۔ صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ کاش یہ حدیث امام ترمذی اس باب کے تحت درج نہ فرماتے کیونکہ یہ حدیث اس باب کے تحت بنتی ہی نہیں اس باب میں وہی احادیث لاتے جو رکوع کے وقت رفع یدین کو ثابت کرتی ہیں اور ایسی احادیث کے لئے آپ دوسرا باب قائم فرما دیتے اس طرح باب قائم نہ کرنے کی وجہ سے احادیث چھپ گئیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: