تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

سنن الترمذی اور قرات خلف الامام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنن الترمذی اور قرات خلف الامام

اس طرح سنن الترمذی میں حدیث مبارکہ ہے کہ جسے حسن صحیح کا درجہ حاصل ہے۔

انه سمع جابر بن عبدالله يقول من صلي رکعتا لم يقرا فيها ام القرآن فلم يصلي الا ان يکون ورآء الامام.(سنن الترمذي جلد 1، ص 346 حديث 312)

’’حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جس نے ایک رکعت بھی پڑھی اور اس میں سورہ الفاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو‘‘۔

اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنا جائز ہے اس کو امام ترمذی نے کتاب الصلاۃ میں روایت کیا مگر اس کے لئے جو باب کا عنوان قائم کیا ہے وہ ہے۔

ماجاء في ترک قرات خلف الامام اذا جهر الامام بالقراة

(جب امام جہری نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے پیچھے قرات نہ کی جائے)

حالانکہ حدیث مبارکہ میں جہر اور سر کا بالکل ذکر ہی موجود نہیں ہے پس باب کا عنوان حدیث نہیں ہوتا بلکہ امام الحدیث کا اپنا اجتہاد ہوتا ہے اب ہم حدیث کو دیکھیں کہ جس میں الا ان یکون ورآء الامام (سوائے اس کے کہ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو) کے الفاظ قرات خلف الامام کی نفی کر رہے ہیں یا محدث کے ترجمۃ الباب کو دیکھیں جو کہ اس کا اپنا اجتہاد ہے پس ہم حدیث مبارکہ کو دیکھتے ہوئے باب کے عنوان کی بجائے حدیث مبارکہ پر اپنے مذہب کے مطابق پیروی کرتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: