تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

سیدنا طاہر علاؤالدین قادری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

حیات و تعلیمات
حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ

 

ماخوذ از ’’تذکرہ قادریہ‘‘

برصغیر پاک وہند کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فیوض وبرکات کا سلسلہ ان کی زندگی میں ہی اس سرزمین میں پہنچ گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان کے بڑے فرزند سیدنا شیخ عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد واپس بغداد تشریف لے گئے۔ اس کے بعد سے آج تک برصغیر پاک وہند سے کسب فیض کے لئے مشائخ، اولیاء، صلحاء، امراء و سلاطین اور عوام الناس کی بغداد آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر عہد میں اہل دل حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد کو ہندوستان تشریف لانے کی دعوت دیتے رہے اور وقتاً فوقتاً خاندان گیلانیہ کے اکابر اور مشائخ ہندوستان تشریف لاتے رہے۔ آل النقیب قدوۃ الاولیاء سیدالسادات شیخ المشائخ قطب العالم حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی قدس سرہ العزیز کی پاکستان تشریف آوری اور سکونت اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

ولادت، بچپن اور تعلیم

آپ کی ولادت باسعادت 18 ربیع الاول 1352ھ کو عراق کے دارالحکومت اور انوار و تجلیات غوث صمدانی رضی اللہ عنہ کے مرکز بغداد میں ہوئی۔ جس گھر میں آپ پیدا ہوئے وہی حرم دیوان خانہ قادریہ ہے۔ آپ کی دینی تعلیم مسجد سلطان علی میں مکمل ہوئی۔ یہ مسجد بغداد میں شاہراہ الرشید پر دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔ آپ کے اساتذہ کرام میں ملا سید اسد آفندی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی قاسم النقیبی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ خلیل الراوی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔ مدرسہ دربار غوثیہ میں آپ نے مفتی اعظم عراق سے بھی تفسیر، حدیث اور فقہ میں کسب علم کیا۔ ان کے علاوہ مختلف علوم و فنون میں متعدد دیگر اساتذہ بھی آپ کے اتالیق رہے۔

روحانی فیض

سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا پورا خاندان اور گھرانہ مشائخ و نقباء پر مشتمل تھا اسی عالی قدر خاندان سے فیض کی کرنیں عالم عرب سے نکل کر مشرق بعید یورپ افریقہ اور امریکہ تک پھیلیں۔ اس فیض کا اصل مرکز اور سرچشمہ ان کے جد امجد حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی تھی۔ جہاں سے اب بھی دنیا بھر کے طالبان حق فیضان سمیٹتے ہیں اور قیامت تک اس مرکز انوار کی خیرات بٹتی رہے گی۔ آپ نے سب سے پہلے روحانی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی حضرت سیدنا شیخ محمود حسام الدین الگیلانی سے حاصل کی اور انہی کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ وہ دربار غوثیہ کے متولی، نقیب الاشراف اور خاندان گیلانیہ کی اپنے عہد کی سب سے عظیم شخصیت تھے۔ انہیں ان کے والد بزرگوار قطب الاقطاب حضرت سیدنا شیخ عبدالرحمن النقیب نے اپنی زندگی میں ہی نقیب الاشراف کی اہم ذمہ داری سے سرفراز کر دیا تھا۔ یہی وہ ہستی ہے جسے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے روحانی طور پر براہ راست اپنی خلافت سے نوازا تھا اور اس عہد کے بیشتر اولیاء کرام نے اس امر کی تصدیق کی تھی۔ پورا عالم اسلام ان کی علمی روحانی اور سیاسی بصیرت کا معترف تھا چنانچہ انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کی خصوصی تربیت کی اور خرقہ خلافت عطا فرمایا۔ اپنے والد گرامی کے علاوہ بھی آپ نے بغداد شریف کے کئی مشائخ سے اکتساب فیض کیا۔

نسبت غوثیت میں استغراق

حضور قدوۃ الاولیاء بچپن سے حصول علم کے ساتھ ساتھ ذکر وفکر اور عبادت و ریاضت میں اپنے قابل فخر اسلاف کا نمونہ رہے۔ آپ کے اس مبارک وصف کی گواہی برصغیر پاک وہند کی مشہور علمی و روحانی اور سیاسی شخصیت مولانا عبدالقدیر بدایونی اپنے ذاتی مشاہدے کی بناء پر دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ’’ہم جب 1943ء میں متحدہ ہندوستان سے ایک وفد کی شکل میں بغداد شریف حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر حاضری کے لئے گئے اثنائے زیارت و حاضری ہم نے دیکھا کہ ایک دس گیارہ سالہ معصوم اور نوخیز شہزادہ مزار پاک کے پاس چہرہ مبارک کی طرف نماز عشاء کے بعد کھڑا ہوا اور ساری رات اسی حالت میں کھڑا مناجات کرتا رہا حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا۔ ہم اس نوخیز اور معصوم بچے کی یہ استقامت اور مجاہدانہ رنگ دیکھ کر لرزہ براندام ہوگئے کہ آخر یہ بچہ ہے کون؟ پوچھنے پر خدام نے بتایا کہ یہ نقیب الاشراف سیدنا محمود حسام الدین الگیلانی کے چھوٹے صاحبزادے سیدنا طاہر علاؤالدین ہیں۔ مولانا عبدالقدیر بدایونی فرماتے ہیں ہم دس پندرہ روز مزار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ پر حاضری کے لئے بغداد شریف رکے رہے ہر رات جب بھی مزار اقدس پر حاضری ہوتی رہی ہم یہی نظارہ کرتے رہے۔ آپ روزانہ پورے عزم و استقامت کے ساتھ چہرہ مبارک کیطرف محو ریاضت رہتے۔

یہ معمول جہاں بچپن میں آپ کی غیر معمولی استقامت اور ریاضت کی دلیل ہے وہاں نسبت غوثیت مآب میں حد درجہ استغراق اور فنائیت کی علامت بھی ہے۔

پاکستان میں تشریف آوری

حضور قدوۃ الاولیاء، حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے حکم پر 1956ء میں پاکستان تشریف لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کو حضور غوث صمدانی رضی اللہ عنہ نے پاکستان کی اقلیم ولایت سپرد کرنے کے لئے لاہور میں حضور داتا گنج بخش سیدنا علی الہجویری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ بغداد شریف سے سیدھا لاہور تشریف لائے اور چند دنوں کے لئے حضور داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس پر چلہ کش ہوگئے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حضرت خواجہ اجمیر معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ چلہ کش ہوئے تھے اور ہر زمانہ میں اکابر و اصاغر سب اولیاء کرام حاضری دیتے رہے۔

حضور قدوۃ الاولیاء کی جوانی کا زمانہ تھا۔ آپ احاطہ مزار میں چند دن خیمہ زن رہے۔ بالآخر یہاں سے تقرری کا حکم نامہ جاری ہوا اور کوئٹہ (صوبہ بلوچستان) میں سکونت اختیار کرنے کا اشارہ ملا۔ آپ نے کوئٹہ میں سکونت اختیار فرمائی جو بعد میں مستقل قیام میں بدل گئی۔ یہاں آ کر آپ نے سلسلہ قادریہ میں ایک نئی روح پھونکی۔ شب و روز دین کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور بہت تھوڑے عرصے میں پاکستان سمیت برصغیر کے کونے کونے میں آپ کے روحانی مقام و مرتبہ کا شہرہ ہوگیا اور مسافران راہ عشق اور طالبان راہ حق کشاں کشاں کوئٹہ میں آپ کے آستانہ عالیہ میں حاضر ہونے لگے جہاں قدم قدم پر تقویٰ، طہارت اور پاکیزگی کے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے اور فعال تصوف کی خوشبو مشام جاں کو معطر کر رہی تھی۔ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے آپ کی نسبی قربت آپ کا منفرد اعزاز تو تھا ہی لیکن آپ نے اپنے حسن خلق، پاکیزہ سیرت، اتباع شریعت وطریقت، انوار معرفت و حقیقت اور برکات و کرامات کے باعث ایک جہان زندہ کر دیا۔

علماء و مشائخ ہند کی قدر دانی

ہندو پاک کے جملہ مشائخ اور علماء ومحدثین عظام آپ رحمۃ اللہ علیہ کی اس قدر تعظیم و تکریم کرتے کہ اس کی مثال عصر حاضر میں ملنا مشکل ہے۔ حضور قدوۃ الاولیاء جب حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان کی دعوت پر بریلی شریف (ہندوستان) تشریف لے گئے تو حضرت مفتی اعظم ہند نے بریلی شریف کے ریلوے سٹیشن پر آپ کا فقیدالمثال استقبال کیا۔ لاکھوں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حاضر تھا۔ آپ کی گاڑی کو لمبے لمبے بانسوں کے ذریعے ہزارہا مسلمانوں نے عظیم مشائخ و علماء سمیت اپنے کاندھوں پر اٹھالیا اور کئی میل کا سفر اسی طرح طے کرکے عقیدت واحترام کا ایک نیا باب رقم کیا۔ مولانا مفتی تقدس علی خان مرحوم نے بیان فرمایا کہ میں خود بھی آپ کی گاڑی کو کندھوں پر اٹھانے والوں میں شامل تھا۔ آپ نے بریلی شریف میں تین دن قیام فرمایا اس دوران مفتی اعظم ہند آپ کی تعظیم میں تینوں دن ننگے پاؤں رہے اور آپ کے وضو اور طہارت کے لئے ہر وقت خود خدمت بجالاتے رہے۔ اسی دوران آپ کے صاحبزادگان بشمول مولانا اختر رضا خان، حضور قدوۃ الاولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔

اسی طرح حضور قدوۃ الاولیاء جب محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد کی دعوت پر فیصل آباد تشریف لائے تو انہوں نے ریلوے اسٹیشن سے جامعہ رضویہ جھنگ بازار تک راستوں پر سفید کپڑوں کے تھان بچھوائے جس پر آپ کی گاڑی چلتی تھی۔ ایک مرتبہ حضور قدوۃ الاولیاء جلسہ گاہ میں تشریف لائے تو رش کی وجہ سے زمین پر بچھائی گئی سفید چادر ہٹ گئی، زمین ننگی ہوگئی حضرت محدث اعظم پاکستان حضور قدوۃ الاولیاء کے سامنے زمین پر گر پڑے اور اپنی ریش مبارک سے جگہ کو صاف کرنے لگے۔ موقع پر موجود علماء کرام حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد اطہار کے لئے حضرت محدث اعظم رضی اللہ عنہ کا حد درجہ ادب اور کمال تواضع اور انکساری دیکھ کر دھاڑیں مار کر رونے لگے۔

یہی حال دیگر علماء کرام اور مشائخ کا تھا۔ غزالی زماں حضرت علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کراچی میں آپ کے در دولت پر بغرض زیارت حاضر ہوئے تو قدم بوسی کے لئے نیچے گر پڑے اور حضرت کی قدم بوسی کی۔

لاہور میں حزب الاحناف کے سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے چند گھونٹ نوش فرمانے کے بعد آپکی چائے مانگی اور چائے کی دیگ میں ڈال دی تمام مشائخ عظام اور علماء کرام اس میں سے ایک ایک دو دو گھونٹ تبرکاً لے کر پیتے رہے۔ الغرض حضور قدوۃ الاولیاء کی شخصیت میں قدرت نے وہ تمام خوبیاں سمودی تھیں جن کی وجہ سے طول العمر آپ اکابر مشائخ و علماء کی عقیدتوں کا مرکز رہے۔

نقیب الاشراف کا منصب جلیلہ

آپ کا تعلق جس خانوادہ گیلانیہ کی شاخ سے ہے۔ اسے حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وصال سے لے کر اب تک دربار غوثیہ کی تولیت اور اوقاف کی نگرانی کے ساتھ منصب نقابت کا شرف حاصل رہا ہے۔ نقیب الاشراف کی ذمہ داریوں میں دربار کے جملہ انتظامی معاملات اوقاف کی دیکھ بھال، زائرین کی خبر گیری اور فقراء ومساکین میں وظائف کی تقسیم جیسے اہم امور شامل ہیں۔ اہل عراق کسی بادشاہ کے سامنے اپنی گردن جھکاتے ہیں اور نہ کسی صاحب اقتدار و حکومت کے رعب اور دبدبے کو تسلیم کرتے ہیں جتنا کہ وہ نقیب الاشراف کے اثر اور روحانی اقتدار و حکومت کو مانتے ہیں۔

خاندانی سیادت و نجابت

ہمارے شیخ سیدنا طاہر علاؤالدین حسنی اور حسینی سید تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب 16 واسطوں کے بعد حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے اور 28 واسطوں کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاملتا ہے جبکہ آپ کا سلسلہ طریقت 19 واسطوں کے بعد سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ تک اور 36 واسطوں کے بعد قدوۃ الاولیاء کا سلسلہ طریقت سید دو عالم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاملتا ہے۔

سلسلہ قادریہ کی سرپرستی

آپ کو بجا طور پر سلسلہ عالیہ قادریہ کا مجدد کہا جاسکتا ہے۔ آپنے دنیا کے بیشتر ممالک میں سلسلہ قادریہ کا فیض پہنچایا اور زندگی بھر سلسلہ قادریہ کی سرپرستی فرمائی۔ دین کی دعوت و تبلیغ اور حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا فیض پہنچانے کے لئے آپ نے عالم اسلام کے علاوہ افریقہ، امریکہ، یورپ، انگلینڈ، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، مغربی جرمنی، مناکو، بلجیم، کینیڈا، کوریا، سائیگان، انڈونیشیا، برما، جاپان، سری لنکا، سنگاپور اور بھارت کے دورے کئے۔ مشرق وسطیٰ کے جملہ عرب ممالک اور ریاستوں میں تو بارہا آپکا آنا جانا رہتا تھا۔

وصال مبارک

آخر عمر میں آپ کی طبیعت مبارکہ علیل رہنے لگی تھی۔ آپ کو دراصل گردوں کی تکلیف تھی کوئٹہ اور کراچی کے دوران قیام مقامی معالجوں نے کافی کوشش کی لیکن جانبر نہ ہوئے پھر آپ جرمنی میں مقیم پاکستانی عقیدت مند ڈاکٹر حبیب اللہ اور ڈاکٹر محمد امیر خان نیازی مرحوم کی خواہش پر وہاں تشریف لے گئے ان دونوں حضرات نے آخری ایام میں حضور قدوۃ الاولیاء کی خوب خدمت کی اور فیوضات سمیٹے، بالآخر 7جون 1991ء بروز جمعۃ المبارک صبح 9 بجے شہزادہ غوث الوریٰ جرمنی میں اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی نمازہ جنازہ پہلے کراچی میں نشتر پارک میں پڑھائی گئی جس کی امامت کی سعادت آپ کے روحانی فرزند اور اسلام کے بطل جلیل شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے حصے میں آئی اور بعد اسی شام لاہور میں منہاج القرآن پارک میں حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی۔ دونوں مقامات پر مخلوق خدا اور آپ کے عقیدت مندوں کا جم غفیر دیدنی تھا۔ آپ کو تحریک منہاج القرآن کے عظیم تربیتی مرکز ’’جامع المنہاج‘‘ ٹاؤن شپ میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں ایک شاندار زیر تعمیر دربار غوثیہ اب مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

تعلیمات

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ نے اپنی تصنیف ’’تذکرہ قادریہ‘‘میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے خطبات و مواعظ کو بھی درج فرمایا: آپ فرماتے ہیں کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے درج ذیل چیزوں کا ایک مسلمان میں ہونا لازم قرار دیا:

1۔ احکام کی پابندی اور تعمیل کرنا۔
2۔ ان چیزوں سے جن کے لئے اللہ تعالی منع فرماتا ہے اجتناب کرنا۔
3۔ قضا و قدر پہ راضی رہنا اور کبھی تقدیر کا شاکی نہ ہونا۔

ان تینوں خصوصیتوں سے کبھی خالی نہ رہنا اسلام کا پہلا درجہ ہے لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان کا پابند رہے اور ہمیشہ اپنے دل میں ان کا خیال رکھے اور ان پر کاربند رہے۔

اعمال صالح کی تلقین

سنت کی پیروی کرنا اور بدعت سے بچنا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ماننا، خدا کو واحد مطلق سمجھنا، اسکے ساتھ شرک نہ کرنا اور اسکی ذات ستودہ صفات کو منزہ جاننا، اس پر کوئی تہمت نہ لگانا، بغیر کسی شک و شبہ کے دین اسلام کو سچا ماننا، مصیبت کے وقت صبر کرنا اور ہر حالت میں ثابت قدم رہنا، اللہ سے اس کا فضل و کرم طلب کرنا، ناکامی پر مایوس نہ ہونا اور اس کی ذات سے ہر وقت امید رکھنا، باہم بھائیوں کی طرح میل جول رکھنا، دشمنی و کینہ سے احتراز کرنا، ہم جماعت ہو کر عبادت الہی بجا لانا اور خدا کے واسطے آپس میں محبت رکھنا، گناہوں سے بچنا اور بندگی الہی سے زینت حاصل کرنا، ہر وقت اسی کی جانب متوجہ رہنا اور اس سے کبھی روگردانی نہ کرنا، توبہ میں عجلت کرنا، شب و روز میں اسکی یاد سے غافل نہ رہنا اور عذر سے سستی نہ کرنا، ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور ہر شخص کو ایسا کرنا چاہئے اس امید پر کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہے ہم پر رحم فرمائے اور نیک بختی عطا فرمائے۔ وہ اس دوزخ سے امان دے اور نعمت ہائے بہشت عطا فرمائے۔

دنیاداروں سے تعلق

جب تم دنیا داروں کو دیکھو کہ ان کے ہاتھ میں جھوٹے سامانوں اور مکر و فریبوں اور مہلک زہروں کے ساتھ مال دنیا جمع ہے جس کا ظاہر نرم اور باطن خشک ہے اور ان لوگوں کو جن کے ہاتھ میں فی الحال مال ہے اور جو مغرور اور بے فکرہیں دنیا بہت جلد ہلاک کر ڈالے گی اور اپنی بدعہدی کی وجہ سے ان کو مبتلائے مصائب کر دے گی تو اس کو اس طرح سمجھو جس طرح کوئی شخص پاخانہ پر برہنہ بیٹھا ہے اور جیسا کہ اس کو برہنہ دیکھنے کے بعد آنکھیں بند کر لو گے اور نجاست کی بدبو سے بچنے کے لئے ناک بند کر لو گے۔ اسی طرح یہاں بھی دنیا کو دنیا دار کے ہاتھوں میں دیکھ کر ناک آنکھ بند کرلو تاکہ اس کی فریب دہ زینت نہ دیکھ سکو اور اس کی شہوتوں اور لذتوں کی مغز شکن بدبو نہ سونگھ سکو۔ اس طرح ان کی آفات سے نجات ملے گی اور وہ خوشگوار حصہ بھی جو تمہارے نصیب کا ہے تم کو مل جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتا ہے:

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىO

’’اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان (ہی چیزوں) میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہےo‘‘۔

ہوا و ہوس سے گریز

تو بہت کہتا ہے کہ وہ نزدیک کیا گیا ہے اور مین دور ہوں یا وہ عطا کیا گیا میں محروم ہوں یا وہ غنی ہے میں مفلس ہوں یا وہ تندرست ہے میں بیمار ہوں یاوہ معزز ہے اور میں خوار ہوں یا وہ راست باز مشہور ہے پر میں دروغ گو سمجھا جاتا ہوں۔ اے شخص تم کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور وحدانیت ہی کو پسند کرتا ہے اور اس کو دوست جانتا ہے جو صرف اسی سے محبت رکھتاہے جب اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی دوسرے شخص کے قریب کرتا ہے یعنی کچھ عطا فرماتا ہے تو تیری محبت اللہ تعالیٰ کے لئے کم ہوجاتی ہے اور باہم محبت ہو جاتی ہے یعنی اکثر اوقات تیرے دل میں اس شخص کی رغبت اور محبت بھی پیدا ہوتی ہے جس کے ذریعے سے وہ نعمت اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دی اور اس طرح محبت الہی کم ہو جاتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت غیور ہے، وہ شرکت نہیں چاہتا لہذا دوسروں کے ہاتھوں کو تیری امداد سے، ان کی زبان کو تیری صفت و ثناء سے اور پیروں کو تیری طرف آنے سے روک دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کراس کی محبت میں نہ پھنس جائے۔ کیا تونے ارشاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں سنا کہ دل، اس کی محبت کے لئے جو ان سے احسان کرے اور اس کی دشمنی کے لئے جو ان سے برائی کرے پیدا کئے گئے ہیں۔

الحاصل اللہ تعالیٰ مخلوق کو تجھ پر ہر طرح احسان کرنے سے روکتا ہے حتیٰ کہ تو اس کو تنہا جانے اور اسی سے دل لگائے اور ظاہر و باطن میں اسی کا ہو رہے تو سوائے اس کے نہ دیکھے، نہ سنے اور تو خلق، نفس ہوا اور ارادہ وغیرہ سب سے فانی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ماسوائے سب کو ترک کر دے۔ اس وقت لوگوں کے ہاتھ تیری جانب فراخ ہو جائیں گے بخشش کے لئے اور زبانیں تیری ثناء میں رطب اللسان ہو جائیں گی پس تو ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا اور دنیا و آخرت میں سب قسم کے عیش پائے گا۔

پس اے شخص بے ادب نہ ہو اور اس کی جانب دیکھ جو تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہو جس کی تجھ پر توجہ ہے، اس سے محبت کر جو تجھ کو محبت کرتا ہے، اس کے ہاتھوں میں ہاتھ دے جو تجھ کو گرنے سے بچا دے، اسکا سہارا لے جو تجھ کو سنبھالے، وہ تجھ کو جہالت کی تاریکی سے نکالے گا، تجھ کو نجات دے گا اور تجھ کو ہلاکت سے بچائے گا، وہ تجھ سے تیری ناپاکیاں دور کرے گا اور تجھ کو گندگیوں سے صاف کرے گا، وہ تیری پست ہمتی کو دور کرے گا، وہ بد حکم دینے والے نفس اور برا راستہ دکھانے والے دوستوں سے جو اخوان الشیاطین ہیں اور ہوا و ہوس سے جو تیرے اور سعادتوں کے درمیان حجاب ہیں تجھ کو بچائے گا۔

دعا کی قبولیت

اگر اللہ تعالیٰ بندہ کی دعا قبول کرتا ہے اور اس کی مطلوبہ شے اس کو عطا فرماتا ہے تو اس سے یہ خیال کرنا چاہئے کہ اس سے اس کا ارادہ ٹوٹ جاتاہے اور جو چیز تقدیر میں آچکی وہ بدل جاتی ہے۔ بات یہ ہوتی ہے کہ اس کا سوال اور دعا ارادہ الہی اور تقدیر کے موافق آن پڑتا ہے۔ اس وقت حاجت روائی ہو جاتی ہے مگر اسی وقت میں جو اس کے لئے مقرر ہو چکا ہے کہ فلاں وقت یہ تقدیر پہنچے جیسا کہ اہل علم نے اللہ کے اس قول کو کہا ہے:

’’ہر وقت وہ شان میں ہے کہ پہنچاتاہے مقد رات کو وقتوں تک، پس اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی کو کوئی چیز صرف دعا سے نہیں دیتا اور اسی طرح صرف دعا سے کوئی برائی دفع نہیں کرتا‘‘

اور حدیث شریف جو آیا ہے کہ نہیں رد کرتا قضاء کو مگر دعاسے، اس سے یہ مراد ہے کہ قضاء کو نہیں رد کرتا مگر وہ دعا جو تقدیر ہو چکی ہے اس سے قضاء رد ہوگی اور سب طرح صرف اپنے اعمال سے قیامت کے روز کوئی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے مگر اللہ تعالیٰ اعمال کے موافق جنت میں بندوں کو درجات عطا فرمائے گا۔ جیسا حدیث شریف میں آیا ہے کہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، کیا کوئی شخص اپنے اعمال سے بھی داخل جنت ہو سکے گا؟ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’نہیں، صرف رحمت الہی سے‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بھی، فرمایا :میں بھی نہیں مگر اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو چھپائے اپنے دامان رحمت میں اور اپنے سر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ رکھا۔

اس پر کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں اور نہ اس کو عہد وفا لازمی ہے جو چاہے کرے جس کو چاہے بخشے اور جس کو چاہے عذاب میں رکھے، جس کو چاہے نعمت دے اور جس پر چاہے رحم کرے، وہ جو کچھ کرتا ہے اس کا کوئی پوچھنے والا نہیں، جو جس کو چاہے بے حساب رزق عطا فرما دے اپنے فضل و کرم سے اور جس کو چاہے بالکل نہ دے اپنے عدل سے، ایسا کیوں نہ ہو جب کہ عرش سے لے کر زمین کے نیچے تک تمام خلقت اسی کی ملکیت اور صنعت ہے نہ اس کے سوا کوئی مالک ہے اور نہ کوئی خالق۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے:

’’کیا اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی پیدا کرنے والا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور بھی معبود بر حق ہے؟ کیا تواس کے واسطے کوئی اور بھی ہم نام جانتا ہے۔ کہہ دے یا اللہ، ملک الملک تو جس کو چاہے ملک دیتا ہے اور جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلت دیتا ہے۔ تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے، تحقیق تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘

جیسا کہ خود تو اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے:

’’اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہے بغیر حساب کے اور تو اس پر قادر ہے۔‘‘
_________________

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: