تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

صحیح البخاری میں امام بخاری نے کل صحیح احادیث کوجمع کرنے کا التزام نہ فرمایا

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

صحیح البخاری میں امام بخاری نے کل صحیح احادیث کوجمع کرنے کا التزام نہ فرمایا

علامہ جمال الدین قاسمی نے اصول الحدیث پر کتاب ’’قواعد التحدیث‘‘ ص 118 میں بیان کیا ہے اور اس کتاب کو غیر مقلدین، سلفی، اہل حدیث ہم سے بھی زیادہ مانتے ہیں۔
اگرچہ یہ چیزیں مقدمہ ابن صلاح، تدریب الراوی، نخبۃ الفکر کی شروح، ابن حجر مکی کی شروح، امام مناوی کی شروح اور اصول الحدیث کی ہر کتاب میں موجود ہیں۔ مگر علامہ جمال الدین قاسمی نے اسے بڑے نظم کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’بخاری میں جو کچھ درج ہے وہ کل صحیح احادیث کا احاطہ نہیں ہے اس لئے کہ امام بخاری نے خود فرمایا کہ ایک لاکھ صحیح احادیث مجھے یاد ہیں اور 2 لاکھ اس کے علاوہ، جو ایک لاکھ امام بخاری نے یاد کیں کیا وہ سند کو سمجھے بغیر یاد کی ہوں گی۔ نہیں بلکہ امام بخاری خود فرماتے ہیں کہ مجھے ہر حدیث کا نہ صرف متن بلکہ سند بھی یاد ہے، اگر انہوں نے سند کو غلط دیکھا تو اس کے باوجود اس کو یاد کرنے کی زحمت کیوں کی۔ پس جس کو یاد کیا ہوگا وہ سند صحیح ہوگی تب یاد کیا ہے لیکن درج اس لئے نہیں کیا کہ انہوں نے صحیح البخاری کے لئے ایک خاص معیار مقرر کیا تھا اور صرف اس معیار والی احادیث لے لیں اور بقیہ چھوڑ دیں تاکہ باقی آئمہ درج فرمادیں۔ لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ صحیح البخاری میں کل صحیح احادیث آگئی ہیں۔

علامہ قاسمی آگے فرماتے ہیں کہ اس طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ کل صحیح احادیث بخاری ومسلم دونوں میں آگئی ہیں۔ اس لئے کہ بخاری ومسلم دونوں نے یہ اہتمام ہی نہیں کیا کہ ساری احادیث کو صحیحین میں جمع کردیا جائے۔

پس آج کے ’’صاحبان علم‘‘ کس طرح یہ بات ان سے منسوب کرنا چاہتے ہیں کہ اگر بخاری ومسلم میں نہیں تو ہم نہیں مانتے یہ بات تو ان دونوں نے بھی نہیں کہی جو بخاری ومسلم میں نہ ہو وہ قبول نہ کریں۔ امام سخاوی ’’فتح المغیث‘‘ میں بیان فرماتے ہیں کہ امام بخاری ومسلم نے بعض وہ احادیث جو دونوں کے معیار پر بھی پوری اترتی تھیں ان کو بھی بخاری ومسلم میں طوالت کے خوف سے جمع نہیں کیا پھر یہ اہتمام دار قطنی، امام حاکم، امام ابن حبان نے کیا کہ وہ احادیث لیتے ہیں اور اسکے آخر میں لکھ دیتے ہیں کہ حدیث صحیحین کی شرط پر صحیح ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، کبھی کہتے کہ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے کبھی لکھتے ھذا حدیث صحیح علی شرط غیرھما، کہ ان دونوں کی شرائط کے علاوہ صحیح ہیں۔ اس لئے یہ قول غلط ہے کہ صرف ان پر مدار کیا جائے۔ امام حاکم، مستدرک جلد 1 ص 2 پر روایت کرتے ہیں۔

امام بخاری ومسلم میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو حدیث ہماری کتابوں میں نہ ہو وہ نہ لی جائے۔ معلوم ہوا صحیح البخاری میں جو احادیث آگئی ہیں وہ اپنے اسناد کے اعتبار سے درجہ صحت میں سب کتب حدیث سے اعلیٰ ہیں۔ ایمانداری اور عدل کے اصول پر یہ مقام بخاری ہے۔ نیز ہزاروں، لاکھوں احادیث صحیحہ دیگر کتب میں بھی موجود ہیں جس میں سے بعض بخاری ومسلم کے معیار پر ہیں اور بعض اس معیار کے علاوہ بھی صحیح ہیں جنہیں دیگر آئمہ حدیث نے لیا اور انہیں ترک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بخاری ومسلم خود ان سے احادیث سے لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روایت و درایت دونوں نعمتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین (جاری ہے)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: