تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

قرات خلف الامام اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

قرات خلف الامام اور صحیح البخاری

اس طرح امام کے پیچھے قرات کرنے کے حوالے سے امام بخاری نے کوئی باب ایسا قائم نہیں کیا جس میں ترک قرات کا ذکر موجود ہو اور جب انہوں نے اس حوالے سے کوئی باب ہی نہیں بنایا تو اس کا مطلب ہے کہ قرات خلف الامام ان کا فقہی مذہب ہے اور یہ کہنا کہ اس بارے کوئی صحیح حدیث نہ تھی اس لئے باب نہیں بنایا تو یہ بات غلط ہوگی کیونکہ امام بخاری نے خود کو یاد ساڑھے 97 ہزار احادیث صحیحہ کو بھی صحیح البخاری کا حصہ نہیں بنایا۔

امام کے پیچھے قرات نہ کرنے والی حدیث کو امام مسلم نے ذکر کیا ہے حالانکہ امام مسلم خود قرات خلف الامام کے قائل تھے اور امام مسلم نے اس ’’ترک قرات خلف الامام‘‘ والی حدیث کو اس بات کے عنوان سے ذکر نہیں کیا بلکہ سجود التلاوۃ کے عنوان سے قائم باب میں ذکر کر دیا کیونکہ اس حدیث میں سجدہ تلاوت کا مضمون بھی مذکور تھا۔ لہذا سجدہ تلاوت کے مضمون کی وجہ سے امام مسلم نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے والی حدیث اس باب میں بیان کردی حالانکہ سجدہ تلاوت کے مضمون سے قبل امام کے ساتھ یا پیچھے قرات نہ کرنے کا مضمون آیا ہے اس کا الگ باب نہیں بنایا۔

عن عطا بن يسار انه سال زيد بن ثابت عن القراة مع الامام قال لاقرات مع الامام في اي شيء.

’’حضرت عطا بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت سے سوال کیا کہ امام کے ساتھ قرات کا حکم کیا ہے؟ انہوں نے کہا کسی چیز میں بھی امام کے ساتھ قرات جائز نہیں‘‘۔

اس حدیث میں آگے آتاہے کہ والنجم کی تلاوت کی اور میں نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ اس سجدہ تلاوت کے مضمون کی وجہ سے اسے اس باب میں ذکر کر دیا اور چونکہ امام مسلم کا اپنا موقف بھی قرات خلف الامام بارے اثبات میں ہے اس لئے انہوں نے ’’لاقرات مع الامام‘‘ کے عنوان سے باب قائم نہیں کیا کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ جب امام حدیث کسی عنوان کے ایک پہلو پر تو باب قائم کرتا ہے اور دوسرے پہلو پر باب قائم نہیں کرتا تو پڑھنے والے کا ذہن بھی اس دوسری طرف التفات نہیں کرتا کہ اگر وہ چیز جائز ہوئی تو امام الحدیث اس کو یہاں ذکر ضرور کرتا۔ امام مسلم نے قتادہ سے روایت کیا۔

فاذا قراء ا فانصتوا

(جب امام قرات کرے تو تم چپ ہو جایا کرو)

(صحيح المسلم، ج 1، ص 304، حديث 404)

اگر یہ حدیث الگ کا باب قائم کرکے اس کے نیچے درج کی جاتی تو فاتحہ یا قرات خلف الامام کا مسئلہ سمجھ میں آجاتا مگر اس باب کو قائم کرنے کی بجائے اس حدیث کو امام مسلم ’’التشہد فی الصلاۃ‘‘ کے باب میں لے گئے۔ اب جبکہ حدیث مختلف باب کے عنوان کے تحت درج ہوگی تو دھیان اس طرف کیسے جاسکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: