تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

موزوں پر مسح کرنے کی مدت اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

موزوں پر مسح کرنے کی مدت اور صحیح البخاری

اسی طرح امام بخاری نے صحیح البخاری میں موزوں پر مسح کرنے کی احادیث ذکر کی ہیں مگر ’’توقیت‘‘ کی کوئی حدیث بخاری میں نہیں لائے یعنی مختلف حالتوں میں کتنے وقت تک موزوں پر مسح قائم رہتا ہے اس کا ذکر بخاری شریف میں کہیں موجود نہیں۔ اس کی وجہ امام بخاری کا فقہی رجحان ہے کیونکہ امام بخاری کے نزدیک موزوں پر مسح مطلق ہے اس میں وقت کی قید نہیں۔ اب ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ اگر مقیم ہے تو موزوں پر مسح ایک دن کے لئے ہوتا ہے اور اگر مسافر ہے تو موزوں پر مسح کی مدت تین دن تک ہے یہ چیز صحیح مسلم میں مذکور حدیث سے ثابت ہے، بخاری سے یہ توقیت نہیں ملتی امام مسلم نے کتاب الطہارۃ میں باقاعدہ باب قائم کیا ہے ’’التوقیت فی المسح علی الخفین‘‘ اور اس میں حدیث نمبر638 اور 639 ذکر کی ہے اور یہ احادیث بھی احادیث صحیحہ ہیں۔

ان مثالوں کو دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ احباب جو یہ سمجھتے ہیں کل صحیح احادیث بخاری میں ہیں، یہ غلط ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو صحیح البخاری میں نہیں وہ صحیح نہیں، یہ تصور بھی باطل ہے۔
_________________

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: