تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

ناموں میں برکت

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

ناموں میں برکت

امام ابن ماجہ نے ایک حدیث مبارکہ اپنے مقدمہ میں درج کی ہے جس سے اسناد میں موجود ناموں کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں۔

عن عبدالسلام بن ابي صالح عن علي ابن موسي رضا عن ابيه اي موسيٰ الکاظم عن جعفر بن محمد الصادق عن ابيه اي الامام محمد الباقر عن ابيه اي علي بن حسين اي امام زين العابدين عن ابيه اي الامام حسين عن ابيه اي علي ابن ابي طالب قال قال رسول الله الايمان معرفة بالقلب وقول بلسان وعمل بالارکان.

(سنن ابن ماجه، جلد 1، ص 25، حديث 65) ( المنهاج السوي، ص 34)

اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد امام ابن ماجہ لکھتے ہیں۔

قال ابوالسلط الهروي لوقرء هذا الاسناد علي مجنون لبرء.

’’امام ابن ماجہ نے کہا کہ میرے شیخ امام ابوالسلط الھروی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی صرف سند (یعنی امام علی بن موسیٰ رضا، امام موسیٰ الکاظم، امام جعفر بن محمد الصادق، امام محمد الباقر، امام علی زین العابدین، امام حسین، سیدنا علی ابن طالب، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھ کر کسی دماغی مریض پر دم کر دیا جائے تو شفا یاب ہوجائے گا‘‘۔

اس حدیث مبارکہ کی سند میں موجود ناموں کی برکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ متن سے پہلے ناموں کا یہ سلسلہ بھی اسلام کے اندر اہمیت و عظمت کا حامل ہے۔

درج بالا گفتگو جو امام مسلم نے روایت کی اس سے ان کے عقیدہ کا بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام مسلم شخصیت پرست نہیں تھے مگر شخصیت پرست نہ ہو کر وہ فرماتے ہیں کہ ’’دین صرف اللہ والوں کے ناموں کا نام ہے‘‘ یعنی وہ اہل اللہ جن کے ذریعے دین پہنچا، ان کے اسناد کو دین کہتے ہیں۔

ان هذا العلم اي علم الاسناد دين.

یہ قول قرآن کی اس آیت کی تشریح ہے جس میں اللہ نے فرمایا کہ۔

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ.

(الفاتحه)

’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جس پر تو نے انعام فرمایا‘‘۔

اللہ رب العزت نے ’’الصراط المستقیم‘‘ نہ قرآن کو کہا اور نہ ہی حدیث و سنت کو کہا بلکہ ’’صراط المستقیم‘‘ نیک شخصیتوں اور اللہ والوں کے راستے کو کہا۔

’’ان ھذا العلم دین‘‘ پر اللہ کا ایک اور قول بھی سند ہے۔ جب اللہ نے اپنی توحید کو بیان کرنا چاہا تو سورۃ الاخلاص میں اپنی توحید کا اعلان فرمایا اور سورۃ اخلاص میں توحید کا مضمون ’’ھواللہ احد‘‘ سے شروع ہوتا ہے مگر سورۃ کا آغاز ’’قل‘‘ سے ہوتا ہے۔ ’’قل‘‘ میں نہ وحدانیت کا معنی ہے نہ توحید کا اور نہ ہی اس میں کوئی اثبات توحید ونفی شرک ہے۔ ’’قل‘‘ کا مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ فرما دیں پس ’’قل‘‘ (آپ فرما دیں) یہ سند ہے اور اگلا حصہ ’’ھوا اللہ احد‘‘ (وہ اللہ ایک ہے) یہ متن ہے۔

گویا اللہ نے فرمادیا کہ گر توحید لینی ہے تو ’’قل‘‘ سے لو چونکہ ’’قل‘‘ میں اسناد ہے، یعنی عبارع تقدیری یہ ہے:

اَخْبَرَهُ اللّٰهُ تعاليٰ عَنْ وَحْدانيتِه وَقَالَ لَه قُلْ هُوَا اللّٰه احد.

’’اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحدانیت کی خبر دی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا کہ آپ کہہ دیں میں ایک ہوں‘‘۔

پس وحدانیت کا مضمون آگے آیا اور ’’قل‘‘ بمنزلہ اسناد ہے۔

شخصیت پرستی میں ہم نے پرستی کا لفظ خود سے لگا دیا پرستش تو صرف اللہ کی ہے اگر پرستی کو نکال دیں تو دین سارا شخصیتوں کا نام ہے خواہ وہ شخصیتیں پیغمبر ہوں، صحابہ ہوں یا آئمہ ہوں۔ ارشاد فرمایا۔

عليکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين.

’’تم پر میری اور خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے‘‘۔

(سنن ابن ماجہ جلد 1، ص 15 حدیث 42)

یہ سب شخصیتیں ہیں اس طرح ارشاد فرمایا۔

اِنِّيْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ اَمَرَيْنِ کِتَابُ اللّٰهِ وَعِطْرَتِيْ.

(سنن الترمذي، جلد 5، ص 662 ص 3786)

’’میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور ایک اہل بیت‘‘۔
پس اہل بیت شخصیتیں ہیں، صحابہ، خلفاء راشدین شخصیتیں ہیں۔ گویا 75 فیصد سے زائد حصہ دین کا شخصیتوں پر ہے۔

حضرت عبداللہ بن مبارک کا قول

امام مسلم صحیح مسلم کے مقدمہ میں روایت کرتے ہیں۔

وَعَنْ عَبْدالله بن مبارک قَالَ الَاسْنَادُ مِنَ الديْنِ وَلَوْلَالْاِسْنَاد لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَاشَآءَ.

’’حضرت عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ اسناد دین میں سے ہیں (مِنْ بیانیہ بھی ہوتا ہے اس لئے الاسناد ھوالدین کہ اسناد ہی دین ہیں) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا‘‘۔

بعض لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کس نے کہا یہ دیکھو کہ کیا کہا، نہیں بلکہ امام مسلم اور امام عبداللہ بن مبارک امیرالمومنین الحدیث فرماتے ہیں کہ دونوں دیکھو، سب سے پہلے یہ دیکھو کہ کس نے کہا اور پھر دیکھو کیا کہا۔ ’’کیا کہا‘‘ یہ متن ہے اور ’’کس نے کہا‘‘ یہ سند ہے۔

٭ حضرت عبداللہ بن مبارک سے ہی روایت ہے کہ

بيننا وبين القوم القوائم يعني الاسناد

’’ہمارے اور قوم کے درمیان دین کے ستون اسناد ہیں‘‘۔

حضرت سفیان ثوری کا قول

حضرت سفیان ثوری امیرالمومنین فی الحدیث فرماتے ہیں۔

الاسناد سلاح المومنين فاذا لم يکن معه سلاح في اي شي يقاتل.

’’اسناد مومن کا اسلحہ ہے پس اگر اس کے پاس اسلحہ نہ ہو تو وہ کیسے جہاد کرے گا‘‘۔
حضرت عبداللہ بن مبارک اور حضرت سفیان ثوری دونوں کو امیرالمومنین فی الحدیث کا درجہ حاصل ہے اور انہیں امام بخاری سے بہت پہلے یہ درجہ حاصل ہوا تھا۔ مصطلحات فن حدیث میں محدثین کے ہاں سب سے اونچا اور آخری درجہ امیرالمومنین فی الحدیث کا ہے اور اس سے اونچا درجہ نہیں ہے۔ امام بخاری امیرالمومنین فی الحدیث ہوئے مگر ان دونوں اصحاب سے بہت بعد میں آئے اور امام عبداللہ بن مبارک اور امام سفیان ثوری دونوں اصحاب امام اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد تھے اور امام عبداللہ بن مبارک کا فتویٰ فقہ حنفی پر ہوتا تھا۔ پس روایت حدیث، علم حدیث، علم تفسیر اور مکمل دین کا مدار اسناد پر ہے۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کی جاتی تھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: