تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

کتاب البدء الوحی

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

کتاب البدء الوحی

باب الاول : کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا آغاز کیسے ہوا‘‘۔

سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ رضي الله عنه عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئ مَا نَوٰي وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُه اِلٰي دُنْيَا يُصِيْبُهَا اَوْ اِلٰي اِمْرَاَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُه اِلٰی مَاهَاجَرَ اِلَيْه.

’’میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہو تاکہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کی جانب ہو کہ اس سے شادی کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی‘‘۔

یہ حدیث مبارکہ صحیح البخاری میں سات مقامات پر مذکور ہے۔ امام بخاری نے صحیح البخاری کی ابتداء ’’کتاب البدء الوحی‘‘ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی ابتداء) سے کی اور پہلی حدیث جو اس کتاب میں لائے ہیں اس میں وحی کا کوئی ذکر نہیں۔ جہاں ایسی صورت ہو تو محدثین ترجمۃ الباب اور حدیث الباب کے درمیان ربط کو واضح کرتے ہیں کہ مصنف نے ایسا کیوں کیا؟ مصنف بذاتِ خود اس ربط کو بیان نہیں کرتا۔ امام بخاری کے ہاں کبھی بھی ترجمۃ الباب اور حدیث الباب میں بے ربطگی نہیں پائی جاتی، کوئی نہ کوئی ربط ضرور ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس ترجمۃ الباب کے تحت اس حدیث کو ذکر کرتے ہیں۔ محدث اس کے بعض پہلوؤں سے اتفاق و اختلاف کرسکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: