تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 4, 2007

مظہر شان نبوت
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ.
(النحل : 60)

’’اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے‘‘۔

اللہ کی بلند تر صفت / سب سے بڑی شان سے کیا مراد ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نبوت، الوہیت کی دلیل ہوتی ہے اور ولایت امت میں نبوت کی دلیل ہوتی ہے۔ نبی، اللہ کی شان ہوتا ہے اور ولی اپنے نبی کی شان ہوتا ہے جیسی شان کا حامل نبی ہو اسی کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کو بڑے بڑے ولی ملے جس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کو آصف بن برخیا جیسے ولی بھی ملے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میلوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت حاضر کرتے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے مگر کسی نبی کو غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی جیسا ولی نہیں ملا اس لئے کہ کوئی نبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوا۔ جو نبی کی شان ہوتی ہے وہ ولی اس شان کی برہان ہوتا ہے۔ ولی، نبی کی شان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح نبی کا مرتبہ ہوگا اس کی امت میں ولایت بھی اس کے مرتبے کا عکس ہوگی۔ نبوت حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نکتہ کمال پر جاپہنچی اور نبوت کا کمال نکتہ وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے حرکت نہیں کرسکتا۔ نبوت کا ارتقاء مقام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ولایت کا ارتقاء اور ولایت کا کمال نکتہ وجود غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم کو سلطان الاولیاء بنایا جیسے آقا خود سلطان الانبیاء ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی شان ہوتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں لہذا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور اللہ فرما رہا ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْليٰ ’’اللہ کی شان سب سے بڑی ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑا ہے۔ خدا کے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کائنات میں کوئی نہیں ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اللہ کی شان کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ اللہ کی رحمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کے ذکر کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کا عنوان محمد ہیں، اللہ کی محبت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح اللہ کی قدرت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کی عظمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ پاک نے فرمایا :

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO

(الرعد : 28)

’’جان لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر ہیں۔ گویا اللہ فرما رہا ہے لوگو دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہو جاؤ کہ میرا ذکر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں سب دلوں کا چین ہے۔

سورہ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO

’’ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدھی راہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔ یہ عظیم قول حضرت امام حسن بصری تک پہنچا تو امام حسن بصری رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے کہنے لگے خدا کی قسم درست معنی کیا ہے۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا.

(آل عمران : 103)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حَبْلِ اللّٰہ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی رسی جس کو تھامنا ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا : ’’محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘۔ پس حبل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ ذکر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ نور اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اطاعت اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ وجہ اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ بس اک رب، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ بس ایک رب کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب نہ کہو باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ایمان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ا سلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، کعبے کا کعبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جس کی طرف ہاتھ کرکے کہہ دیا یہ کعبہ ہے وہی کعبہ ہوگیا، جس سمت اشارہ کر دیا وہ قبلہ ہوگیا، جس کو قرآن کہہ دیا وہ قرآن ہوگیا، کسی نے قرآن اور جبرئیل کو اترتے، وحی کا نزول ہوتے نہیں دیکھا، جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دیا وہی قرآن اور وہی کعبہ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا بن دیکھے کہہ دو خدا ہے۔ ۔ ۔ سب نے کہا خدا ہے اور چودہ سو سال گذر گئے کسی نے خدا کو دیکھا نہیں ہر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر مانتا چلا آرہا ہے پس یہ عقیدہ ایمان ہے۔

ہر نبی اللہ کی شان ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی شان۔ اسی طرح حضور کی امت میں ہر ولی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور غوث الاعظم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ جس نے خدا کو اور خدا کی شان کو دیکھنا ہو تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے اور جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھنی ہو وہ سرکار بغداد غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کو دیکھے۔ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان کا عنوان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ کائنات نبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی شان اور کائنات ولایت میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔

 

میثاق نبوت اور میثاق ولایت

عالم ارواح میں سب انبیاء علیھم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے میثاق لیا فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَO

(آل عمران : 81)

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘۔

اس میثاق پر رب نے خود کو گواہ قرار دیا۔ کیوں کہ اللہ کی سب سے بڑی شان تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ گویا اپنی شان پر خدا خود گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا معاملہ آیا تو سب نبیوں نے گردنیں جھکالیں۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب وعدہ ہو رہا تھا۔ اچانک ایک نور چمکا اور سب انبیاء کے اُوپر بادل کی طرح چھا گیا تو انبیاء علیھم السلام نے پوچھا یہ نور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس کی نبوت کی وفاداری کا عہد کیا ہے یہ اُسی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے۔

گویا نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو سب نبیوں نے گردنیں جھکا دیں اور اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بات آئی تو سب ولیوں نے گردنیں جھکا دیں وہ میثاق نبوت تھا اور یہ میثاقِ ولایت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے لئے نبیوں کی گردنیں نہ جھکیں اور سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور ولی کے لئے ولیوں کی گردنیں نہ جھکیں۔ ایک واقعہ کائناتِ نبوت میں ہوا اور ایک واقعہ کائناتِ ولایت میں ہوا۔ اس لئے میں نے کہا نبوت کی دُنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور ولایت کی دُنیا میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ کوئی اعتراض کرے کہ تم شاہِ جیلاں، غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کرتے ہو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ ہم تو صرف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا نام پکارتے ہیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صفت اور شان کا تذکرہ کرتے ہیں اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف اور شمائل کا ذکر کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی مالا جپتے ہیں تو حقیقت میں خدا کی شان کا ورد کرتے ہیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں کائناتِ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان بنایا۔ لہٰذا آپ کی ولایت کو ولایتِ عظمیٰ اور آپ کی غوثیت کو غوثیتِ عظمیٰ بنایا اور آپ کی قطبیت کو قطبیتِ کبریٰ سے نوازا اور اس کا اقرار حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اﷲ پاک نے قَدَمِيْ هٰذِه عَلٰي رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيِّ اﷲ کے کلمات سے کروایا۔ یہ اَمر کسی اور کے لئے نہ کروایا۔ سب انبیاء کو معجزات دیئے مگر کثرتِ معجزات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیئے۔ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی کثرتیں دیں کہ کثرتیں بھی ختم ہو گئیں۔ کثرتوں کی اِنتہا کر دی تو شانِ نبوت میں کوثر منصبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور شانِ ولایت میں کوثر منصبِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ وہاں معجزات کی کثرت ہے۔ یہاں کرامات کی کثرت ہے۔ ولی کی ہر کرامت اس کے نبی کے معجزے کا تسلسل ہوتی ہے۔ ان کی ساری کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کے تذکرے میں لکھی جاتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب ولیوں کی کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب معجزہ کی فصلیں بنتی ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ولی نبی کی شان ہوتا ہے۔ اس لئے قاعدہ ہے کہ ولی کی کرامت اپنے نبی کا معجزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے نبی کا معجزہ اﷲ کی قدرت ہوتی ہے۔ نبی کا معجزہ رب کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا اظہار ہوتی ہے۔

 

حلقہ ارادت میں وسعت کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ امت عطا کی۔ حدیث پاک ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں جنتیوں کی 120 صفیں ہو نگیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی اُمتیں ہیں۔ سب نبیوں کی اُمتوں میں کچھ نہ کچھ اُمتی جنت میں جائیں گے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔ فرمایا کل انبیاء کی امت کے جنتی لوگوں کی ٹوٹل صفیں 120 ہونگیں اُن 120 صفوں میں 80 صفیں میری اُمت کی ہونگیں اور باقی ایک لاکھ چوبیس ہزار باقی انبیاء کی اُمتوں میں 40 صفیں تقسیم ہونگیں۔ جس طرح کثرتِ امت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئی اس طرح حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو کثرتِ ارادت کی نعمت ملی یعنی سلسلہ قادریہ میں کثیر تعداد میں مریدین عطا کئے گئے۔ اِس کائنات دُنیا میں جتنے مرید حضور غوثِ پاک کے ہوئے اوّل سے آخر تک کسی ولی کے نہ ہوئے اور نہ کبھی ہونگے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہو گزرے، ایمان لانے کے خواہشمند تھے مگر کلمہ نہ پڑھ سکے وہ بھی امت میں سے ہیں اور جملہ انبیاء بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہیں۔ اِسی طرح جنہوں نے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔ جو زبان سے کہہ دے یا غوث میں آپ کا مرید ہوں وہ غوث پاک کا مرید ہو گیا اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی حضور غوثِ پاک کے زیرِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔

 

سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

خواجہ ہند حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔ بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔

 

سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہ ہوئے۔ بعد ازاں زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام محمد باقر رضی اللہ عنہ، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک کے فیض کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک ہوئے۔

سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔

 

سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔

مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔

بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی Appoint ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔

 

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ

کائنات نبوت میں اللہ کی مثلِ اعلیٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے کائنات ولایت میں حضور کی مثل اعلیٰ حضور غوث پاک کی ذات ہے۔ اس دور میں، پورے زمانے میں، پورے عالم کے اندر غوث پاک کی مثل اعلیٰ حضور قدوۃ الاولیاء سیدنا ومرشدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤالدین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ یہ دعویٰ میں اس لئے نہیں کر رہا کہ میں ان کا مرید ہوں، ان کا غلام ہوں، ان کے در کا منگتا ہوں، ان کی خیرات پر پلنے والا ہوں۔ اس وجہ سے نہیں بلکہ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین جیسا میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ ظاہر میں، نہ باطن میں، نہ حسن میں، نہ جمال میں، نہ ولایت میں، نہ کمال میں، نہ تقویٰ میں اور نہ طہارت میں، نہ اتباع سیرت میں، نہ پاکیزگی کردار میں۔ ان کو جس طرف سے دیکھتے حضور غوث پاک کی مثل اعلیٰ نظر آتے۔ ان کی عزت نفس دیکھ کر غوث پاک کی عزت نفس یاد آجاتی، وہ کسی دنیا کے در کے محتاج نہ تھے، سائل نہ تھے ہر کوئی ان کا سائل تھا، ساری زندگی میں نے اپنے شیخ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کو جس پہلو سے بھی دیکھا ان کو پہاڑ پایا اور خود کو ذرہ پایا۔ ۔ ۔ ان کو سمندر پایا۔ ۔ ۔ خود کو قطرہ۔ ۔ ۔ حضور قدوۃ الاولیاء اپنی سولہ پشتوں میں کسی کی بات نہ کرتے مگر جب بولتے تو غوث پاک کی بات کرتے یا سیدنا سلطان الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتے۔

آپ نے کبھی دنیا والوں سے کچھ بھی طلب نہ کیا۔ کوئٹہ میں شروع شروع میں جب خدا داد روڈ پر حضور قدوۃ الاولیاء آباد ہوئے تو ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان نے خصوصی نمائندے کو بھیجا، عرض کیا : آپ پاکستان تشریف لائے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، جو حکم کریں آپ کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا ہم فقیر ہے، اس کا خیرات بہت ہے جب اس کا ختم ہوجائے گا تو آپ سے مانگ لے گا۔ یہ اولیاء کاملین اور سلف صالحین کا کردار تھا، آپ مقام تکوین پر فائز تھے۔ ۔ ۔ وہ کیا تھے۔ ۔ ۔ میں نے بات اس لئے یہ کہہ کر ختم کردی کہ حضور غوث پاک کے مثل اعلیٰ تھے۔ ۔ ۔ حضور غوث پاک کی شان تھے۔ ۔ ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دامن سے وابستگی، ان کی نوکری اور ان کی خیرات پر پلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

(اقتباس خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: