تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن

Posted by NaveedBCN پر مئی 4, 2007

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن

تحریک منہاج القرآن کے عظیم انقلابی پروگرام اور دعوت کے فروغ کےلیے فلاحی اور سماجی بہبود کے میدان میں کام کرنے کے لئے الگ سے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) قائم ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا قیام اکتوبر1989ء کو عمل میں لایا گیا جو بلا امتیاز رنگ ونسل اورجنس ومذہب ہمہ وقت خدمت انسانیت کےلیے مصروف عمل ہے۔

قیام کا مقصد

تحریک منہاج القرآن کے “نظریہ دعوت اوراسلام کے معاشرتی خدوخال” میں یہ چیز نمایاں ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور افراد کو شعوری طور پر انقلاب کےلیے تیار نہیں کرتی اور جس قدر ممکن ہو سکے ان کی محرومیوں اور مجبوریوں کے خاتمہ کےلیے عملی کاوش نہیں کرتی۔

قائد انقلاب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے محروم اور مجبور طبقات کی ہر ممکن مدد کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کی بنیاد رکھی اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ تمام انسانوں کے اندر انسانی ہمدردی کے جذبہ کو فروغ دیا جائے۔ باہمی محبت اور بھائی چارے کی فضاء قائم کی جائے اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر ایک حقیقی اسلامی معاشرے کی تشکیل کےلیے ایک عملی جدوجہد کی جائے۔ جس کے تحت ایسے منصوبہ جات کا آغاز کیا جائے۔ جن سے عوام الناس کی فلاح ہو سکے۔

نعرہ

ہمارا عزم ہمارا کام تعلیم، صحت، فلاح عام

بنیادی اہداف

  1. ملک گیر سطح پر با مقصد، معیاری اور سستی تعلیم کا فروغ۔
  2. صحت کی بنیادی ضروریات سے محروم افراد کےلیے معیاری اور سستی طبی امداد کی فراہمی۔
  3. خواتین کے حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام۔
  4. بچوں کے بنیادی حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام۔
  5. یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم وتربیت اور رہائش کا بہترین بندوبست کرنا۔
  6. قدرتی آفات میں متاثرین کی بحالی۔
  7. بنیادی انسانی حقوق کے شعور کی بیداری کی عملی کوشش کرنا۔
  8. بیت المال کے ذریعے مجبور اور حقدار لوگوں کی مالی امداد۔

تحریک کا بنیادی فلسفہء فلاح وبہبود

مختلف ادوار میں فلاحی خدمات سرانجام دینے کےلیے مختلف نظریات پیش کیے گئے۔ جن میں سے ایک نظریہ “مسائل کا فوری حل” جس کے تحت مسائل میں گھرے ہوئے فرد کی مدد اس طریقہ سے کی جائے کہ اس کو اپنے مسائل کا فوری حل مل جائے۔ مثلاً کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور کسی زخمی شخص کو فوراً مرہم پٹی کرنے کو سماجی خدمت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے نظریہ “مسائل کا مستقل حل” کے مطابق کسی بھوکے کو کھانا کھلانے سے بہتر ہے کہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا کر کانٹا خرید دیا جائے۔ کسی زخمی کی مرہم پٹی کے ساتھ ساتھ اس کو مرہم پٹی کا طریقہ سکھا دیا جائے تاکہ وہ خود اپنی بھوک مٹانے اور مرہم پٹی کرنے کے قابل ہو سکے جبکہ تحریک منہاج القرآن نے تیسرا نظریہ “مسائل کا مستقل حل اور ان میں کمی” پیش کیا ہے۔ جس کے تحت کسی بھوکے کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ تو ضرور بتایا جائے مگر اس کے ساتھ اس کی بھوک کے اسباب کو سمجھا جائے۔ ان اسباب سے اس بھوکے کو آگاہ کیا جائے اور معاشرتی نظام کی جس خرابی کی وجہ نے اسے بھوک کا شکار کیا ہے۔ اس کی اصلاح کی عملی کاوش کےلیے تیار کرنا تاکہ اگر آج کسی ایک کو بھوک کی وجہ سے ہاتھ پھیلانے پڑے ہیں تو معاشرتی عدم توازن کی وجہ سے کسی دوسرے اور بعد میں تیسرے فرد کو ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں اور اس طرح شعور کی بیداری سے غریب عوام کے مسائل میں کمی واقع ہو۔

تنظیمی سطحیں

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس وقت پاکستان اور بیرون ملک بیک وقت کام کر رہی ہے۔

بیرون ملک

تحریک منہاج القرآن کے ڈائریکٹوریٹ آف فارن افیئرز (نظامت امور خارجہ) کے تعاون سے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس وقت پاکستان سے باہر 35 ممالک میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت دنیا کے چار براعظموں امریکہ، جنوبی امریکہ، ایشیاء اور یورپ میں منہاج القرآن کے تحت ویلفیئر کا کام جاری ہے۔ بیرون ملک منہاج القرآن کے تحت مسلمانوں کی نوجوان نسلوں کی تربیت اور راہنمائی کےلیے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جس میں نوجوانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت و تعلیمات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دیار غیر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میں نوجوانوں کو عملی طور پر شریک کیا جاتا ہے۔ بیرون ملک فوت ہو جانے والوں کی میتوں کو ان کے ملکوں میں پہنچانے کےلیے منہاج القرآن نے خصوصی انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے جاری منصوبہ جات کےلیے مالی وسائل کی فراہمی میں منہاج القرآن کے بیرون ملک ممبران کا ہمیشہ اہم اور نمایاں کردار ہوتا ہے۔

وسائل کہاں سے آتے

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے ابتدائی دن سے کسی ملکی یا غیر ملکی ایجنسی، فلاحی ادارے، حکومت یا حکومتی ادارے سے اپنے منصوبہ جات کےلیے فنڈز نہیں لیے تحریک منہاج القرآن کے کارکنان اور ممبران ہی اس کے منصوبہ جات کےلیے فنڈز فراہم کرتے ہیں خصوصی طور پر پاکستان سے باہر منہاج القرآن کی تنظیمات اورافراد اس کے وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

پاکستان کے اندر فنڈز جمع کرنے کےلیے درج ذیل ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

  • قربانی کی کھالوں کی ملک گیر مہم
  • زکوٰۃ اکٹھا کرنے کی ملک گیر مہم
  • عمومی عطیات (Donations)
  • خصوصی عطیات (کسی پراجیکٹ کےلیے)

وضاحت

ادارہ منہاج القرآن پاکستان کے آئین کے مطابق ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اور قانون کے مطابق ہر سال اس کے اکاؤنٹس کا باضابطہ آڈٹ کروایا جاتا ہے۔ منہاج القرآن کو دیئے گئے عطیات کا باضابطہ حساب اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

ملک پاکستان یا پاکستان سے باہر جس سطح پر بھی خدانخواستہ کو ئی قدرتی آفت آتی ہے تو نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس قدرتی آفت کے متاثرین کی بحالی اور امداد کےلیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔

اندرون ملک (پاکستان)

پاکستان کے اندر کام کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا باضابطہ ایک نظام ہے جس کا سٹرکچر درج ذیل ہے:

سطح تنظیم مشاورتی کونسل
مرکزی مرکزی تنظیم مشاورتی کونسل، ویلفیئرایگزیکٹو، ویلفیئر بورڈ۔
صوبائی صوبائی تنظیم صوبائی ایگزیکٹو
تحصیلی تحصیلی تنظیم تحصیلی ایگزیکٹو
پراجیکٹ بورڈ ہر منصوبہ کا ایک پراجیکٹ بورڈ ہوتا ہے۔

وسائل کی تقسیم کا طریق

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) میں دیگر تنظیموں کی طرح تمام وسائل کو مرکز (ہیڈ کوارٹر) پر جمع کرنے کا نظام نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نظام کے تحت ملک بھر میں جمع ہونے والے تمام وسائل مقامی سطح پر جمع اور مقامی سطح پر ہی خرچ کیے جاتے ہیں۔ تاکہ عوام کا دیا ہوا پیسہ ان کی نگرانی میں ان کے علاقوں کی فلاح کےلیے خرچ ہو سکے۔

جبکہ مرکزی منصوبہ جات کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) الگ سے فنڈز کا بندوبست کرتی ہے۔

سابقہ ذمہ داران وعہدیداران

اس موقع پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) میں کام کرنے والے ان سابقہ عہدیداران کو اگر خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تومناسب نہ ہوگا۔ ایسے تمام لوگ جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس کی بنیاد رکھی اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا ان کے نام یہ ہیں:

  • محترم الحاج محمد سلیم شیخ
  • محترم خالد محمود درانی
  • محترم راحت حبیب قادری
  • محترم طاہر محمودانجم
  • محترم محمد شعیب ہاشمی
  • محترم حاجی ولایت قیصر
  • محترم مہر خالد جاوید
  • محترم انوار اختر ایڈوؤکیٹ
  • محترم خادم حسین شاہ بخاری
  • محترم بریگیڈیئر (ر) محمد یوسف
  • محترم میجر مشہود اختر
  • محترم بریگیڈیئر طارق محمود
  • محترم شفیق احمد چوہدری
  • محترم ساجد محمود بھٹی
  • محترم شکیل احمد طاہر
  • محترم کرنل (ر) محمد احمد
  • محترم صابر حسین

موجودہ تنظیم

  • محترم شیخ زاہد فیاض (ناظم)
  • محترم ملک شمیم احمد خان (سینئر نائب ناظم)
  • محترم صفدر عباس (نائب ناظم)
  • محترم قیصر نواز قیس (آفس سیکرٹری)
  • محترم محمد عاقب (نائب قاصد)

نظامت ویلفیئر ماضی کے آئینہ میں

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا قیام اکتوبر1989ء کو عمل میں لایا گیا۔ اس طرح نظامت ویلفیئر کی 16 سالہ کارکردگی پیش خدمت ہے۔

16 سالہ کارکردگی اور منصوبہ جات کا تعارف

نظامت ویلفیئر کے کام کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ اور اس کے تمام تر منصوبہ جات اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔

  1. تعلیم
  2. صحت
  3. فلاح عام

1۔ تعلیم

قائد انقلاب پروفیسرڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نظریہ کے مطابق اس قوم کے تمام مسائل (بے روزگاری، نشہ، انتہاپسندی، دہشت گردی، فساد، گھریلو ناچاقی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، چوری ڈکیتی) کا اصل سبب صرف جہالت ہے اور ان تمام مسائل کا حل صرف فروغ تعلیم سے ممکن ہے۔ اس لیے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا اعلان ہے “سرسید احمد خان نے قوم کو ایک علیگڑھ دیا تھا۔ میں ان شاء اللہ اس قوم کو 100 علیگڑھ دوں گا” اسی لیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے تعلیم کے عنوان کے تحت ایسے منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس سے لوگوں کے اندر شعور بیدار کیا جاسکے ان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور سے منور کیا جاسکے۔ غریب مگر ہونہار طلباء کی تعلیم کےلیے سکالر شپ کا انتظام کیا جاسکے اور نادار بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جاسکیں۔

الف: فروغ تعلیم کے اداروں کا قیام

اس کےلیے نظامت ویلفیئر کے تحت ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے تقریباً 9 سال کی کم مدت میں ملک بھر میں 572 سکولز اور 41 کالجز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کی مکمل تفصیلات منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کی رپورٹ میں درج ہیں۔ جبکہ اجمالی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ اس منصوبہ کےلئے تمام وسائل مقامی تنظیمات نے جمع کئے اور مقامی سطح پر ہی خرچ کئے گئے۔

تعلیمی منصوبہ

سطح تعداد سکولز قیام فی سکول قیام پر کل خرچ توسیع پر اخراجات طلبہ کی فیس رعایت کل خرچ
منہاج پبلک سکولز 319 75,000 2,39,25,0000 3,95,56,000 1,60,00,000 8,94,81,000
منہاج ماڈل سکولز 253 1,50,000 3,79,50,000 5,06,00,000 2,13,00,000 10,98,50,000
منہاج آئی ٹی کالجز 17 3,00,000 1,23,00,000 2,05,00,000 86,00,000 4,14,80,000
589 7,41,75,000 11,06,56,000 5,59,00,000 24,07,31,000

خصوصیات

  1. ان تعلیمی اداروں کے قیام کےلیے تمام تر وسائل نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) فراہم کرتی ہے۔
  2. ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کم ازکم 25 فیصد غریب مگر ہونہار طلبہ کے اخراجات نظامت ویلفیئر برداشت کرتی ہے۔
  3. مستحق اور نادار طلباء کو سکول کی کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
  4. ملک بھر میں جاری مروجہ نصاب کی جگہ بامقصد اپنا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
  5. تعلیمی میعار برقرار رکھنے کےلیے تمام کلاسز کے سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں اور بورڈ کے تحت ہی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔
  6. ان تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم برائے تعلیم نہیں ہے اور نہ صرف ڈگریوں اور اسناد کا جاری کرنا ہے بلکہ بنیادی مقصد طالب علم کو ایک مثبت سوچ کا حامل پاکستانی شہری بنانا ہے۔
  7. ان اداروں میں طلباء کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ب۔ سٹوڈنٹس سکالرشپ

ایسے نادار طلباء جو پڑھائی میں انتہائی بہترین ہیں لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا حصول مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے کےلیے سٹوڈنٹ سکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے جس کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے زیر اہتمام سٹوڈنٹ ویلفیئر بورڈ SWB بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کےلیے طلباء کو وظائف دیئے جاتے ہیں اس وقت تک اس بورڈ کے تحت سکالر شپ لینے والے فارغ التحصیل طلباء کی تعداد درج ذیل ہے:

  • حفظ قرآن 620
  • میٹرک 478
  • بی۔اے 473
  • ماسٹر 193
  • پی ایچ ڈی 02ٹوٹل 1766

اس پر اب تک کل لاگت 2,22,69,200 (دو کروڑ بائیس لاکھ انہتر ہزار دو صد روپے) آئی ہے جس سے 1766 طلباء و طالبات مستفید ہوئے۔ اس وقت 187 طلباء کو فیس معافی کی سہولت حاصل ہے۔ MES کے تحت سکو لوں میں دیئے جانے والے سکالر شپ اس میں شامل نہیں ہے۔ اور نہ ہی کالجز کی طرف سے دی جانے والی رعایت شامل ہے جو کہ لاکھوں روپے بنتی ہے۔

طریقہ کار

اس پراجیکٹ کے تحت طلباء سے باضابطہ مخصوص فارم پر درخواست وصول کی جاتی ہے اور طالب علم کی تعلیمی، معاشی حالت غیر نصابی سرگرمیوں، پرنسپل ریمارکس اور تحریکی وابستگی/ تحریکی تصدیق کی بنیاد پر میرٹ بنایا جاتا ہے اور صرف میرٹ پر آنے والے طلباء کو ہی سکالر شپ دیا جاتا ہے ہر بچہ کسی ایک ڈونر کے ساتھ منسوب ہو جاتا ہے اکثر ڈونر از خود بچے کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور اس ڈونر کو بچے کی تعلیمی کارکردگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سکالر شپ سالانہ بنیادوں پر دیا جاتا ہے اور صر ف ان طلباء کو اگلے سال سکالر شپ دیا جاتا ہے جو تعلیمی معیار پر پورا اتریں۔ ڈونر کی سہولت کےلیے سٹوڈنٹس سکا لر شپ کے درج ذیل پیکج بنائے گئے ہیں۔ اگر کوئی بھی فرد کسی بچے کوسپانسر کرنا چاہے تو کسی پیکج کو چن کر ڈونیشن (عطیہ) نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر باضابطہ ڈونر بن سکتا ہے۔ اس ڈونر کو حسب ضابطہ طالب علم کے کوائف اور کارکردگی سے آگاہ رکھا جائے گا۔

سٹوڈنٹ سپانسر پیکج:

تعلیمی درجہ تفصیل ماہانہ خرچہ بمعہ قیام و طعام سالانہ خرچ بمعہ قیام و طعام کورس کا کل خرچ کیفیت
حفظ قرآن پرائمری کے بعد(3 + 1 سال) 1820 22,000 88,000 دوران کورس طلباء وطالبات کو قرآن حفظ کے ساتھ مڈل بھی کروایا جاتا ہے۔
سیکنڈری سکول چھٹی تا میٹرک(5سال) 1500 18,000 90,000 کلاس 6 تا 10 تک تعلیمی بورڈ کی رسمی تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈگری کالج FA تا BA(4سال) 1820 22,000 88,000 میڑک پاس طلباء و طالبات کو BA تک تعلیم دی جاتی ہے۔
MA (عربی و اسلامیات) (شہادۃ العالمیہ) FA تا MA(7سالہ کورس) 1820 22,000 1,54,000 میڑک پاس طلباء و طالبات کو MA اور شہادۃ العامیہ کروایا جاتا ہے یہ ڈگری HEC سے باقاعدہ منظور شدہ ہے۔

نوٹ: مندرجہ بالا کور سز منہاج القرآن کے مرکزی تعلیمی اداروں واقع ٹاون شپ لاہور میں کروائے جاتے ہیں۔ جہاں پر طلباء و طالبات کےلیے علیحدہ علیحدہ تحفیظ القرآن ماڈل سکولز اور کالجز موجود ہیں۔ جن میں اخلاقی اور روحانی تربیت کا خاص اہتمام ہے۔

اس کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی اور میڈیکل کالجز کے مستحق طلباء و طالبات کو case to case ڈیل کیا جاتا ہے۔ اور حسب ضابطہ ان کی مدد کی جاتی ہے۔

ج۔ خصوصی سیمنارز اور کانفرنسز

شعور کی بیداری کےلیے ضلعی/ تحصیلی اور ملکی سطح پر سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کے اندرمسائل کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل عنوانات کے تحت مختلف سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں ہزاروں لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

  • ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ملک گیر مہم
  • ملکی سطح پر “چراغ علم جلاؤ بڑا اندھیرا ہے” کے عنوان کے تحت سیمنارز کی مہم
  • مرکزی سطح پر “بے روزگار کانفرنس” کا انعقاد
  • ملکی سطح پر “اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے” کا انعقاد

2۔ صحت

الف۔ فری میڈیکل ڈسپنسریز/ بلڈبنکس

عوام کی فلاح وبہبود کےلیے ملک بھر میں ڈسپنسریز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں منہاج فری کلینکس اور بلڈ بنکس کی تعداد مجموعی طور پر 102 ہے۔ اب تک اس منصوبہ کے تحت ہزارہا لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

اس نیٹ ورک پر اس وقت تک لاکھوں روپے لاگت آچکی ہے۔ اور اس سے ہزار ہا افراد روزانہ مستفید ہو رہے ہیں۔

ب۔ منہاج میڈیکل کمپلیکس (ساہیوال)

1989ء میں مقامی تنظیم نے ضلع ساہیوال کے اندر ایک میڈیکل کمپلیکس کا آغاز کیا جس سے اس وقت تک ہزاروں لوگ مستفید ہو چکے ہیں اس میڈیکل کمپلیکس میں درج ذیل شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔

  • طاہر القادری آئی ڈیپارٹمنٹ
  • جنرل میڈیکل ڈیپارٹمنٹ
  • فری لیبارٹری
  • فری آئی سی جی ڈیپارٹمنٹ
  • فری ٹی بی کلینک
  • آئی اپریشن تھیٹر
  • ایکسرے ڈیپارٹمنٹ

اس میڈیکل کمپلیکس میں آنے والے غریب اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ میعاری ادویات اور ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے۔ اس منصوبہ کے تحت اب تک 19,312 مریض استفادہ حاصل کر چکے ہیں اور اب تک ایک کروڑ سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔

د۔ ایمبولینس سروس

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے تحت مقامی طور پرکچھ عرصہ قبل منہاج القرآن فری ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا۔ جس کے تحت 19 شہروں میں فری ایمبولینسز قائم کر دی گئی ہیں۔ اس سروس کے تحت غریب اور نادار مریضوں کو ایمبولینس کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ کسی بھی ناگہانی صورت میں ہماری فری ایمبولینس سروس ہر وقت فون کال پر دستیاب ہوتی ہے۔ اس منصوبہ پر اب تک ایک کروڑ سولہ لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

ر۔ سالانہ فری آئی سرجری کیمپ (نارووال)

پاکستان میں مروجہ فری آئی کیمپ سے مراد کسی ایک دن ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا اور اس سے دوائی کا نسخہ کا حاصل کرنا لیا جاتا ہے۔ جبکہ نظامت ویلفیئر نارووال کے زیر انتظام مقامی وسائل سے گذشتہ آٹھ سال سے سالانہ فری آئی سرجری کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس سے ہر سال سینکڑوں مریض مستفید ہوتے ہیں۔ جس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔

اس کیمپ کی چند اہم خصوصیات

  1. لاہور کے بڑے ہسپتالوں سے تجربہ کار ڈاکٹرز کی نگرانی میں کیمپ منعقد ہوتا ہے۔ محترم ڈاکٹر امانت علی اس کیمپ کے روح رواں ہیں اور ہرسال کیمپ کے انچارج ہوتے ہیں۔
  2. اس کیمپ میں بین الاقوامی معیار کی ادویات اور سامان استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اعلیٰ معیار کے جدید ترین طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔
  3. یہ ضلع (نارووال) نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ(NCHD) کے میعار میں ایک پسماندہ ضلع ہے لہٰذا نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن OPD کیمپس لگانے کےلیے ضلع کے دور دراز علاقوں کوخصوصی طور پر فوکس کرتی ہے۔ جہاں سے لوگوں کا غربت اور جہالت کی وجہ سے علاج کےلیے شہر میں آنا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح نظامت ویلفیئر کے ذریعے انکو Door Step پر صحت کی یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
  4. ہمارے ڈاکٹرز کی ٹیمیں سرجری کیمپ سے دو ماہ قبل دیہاتی سطح کے دورہ جات کر کے OPD کیمپ لگاتی ہیں۔ جہاں یہ ابتدائی طبی امداد کے مستحق افراد کو موقع پر ہی دوائی فراہم کر دی جاتی ہے۔ جبکہ آپریشن کے قابل مریضوں کوسرجری کیمپ کی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ اس طرح سالانہ تقریباً 3000 مریضوں کی آنکھیں چیک کی جاتی ہیں۔
  5. OPD ابتدائی کیمپوں سے بھیجے گئے مریضوں کے تین دن تک آپریشن ہوتے ہیں جس کی نگرانی پروفیسر سطح کے ماہر ڈاکٹر کر رہے ہوتے ہیں۔
  6. آپریشن کے بعد ایک دن تک مریض کو ڈاکٹرز کی نگرانی میں وہیں رکھا جاتا ہے۔ رہائش اور کھانا نظامت ویلفیئر کے ذمہ ہوتا ہے۔
  7. ایسے مستحق مریض جن کو آپریشن کے ساتھ ساتھ لینز کی ضرورت ہوتی ہے نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن ان کو مفت لینز فراہم کرتی ہے اور پوسٹ آپریشن آئی ڈراپس اور ادویات دی جاتی ہیں۔
  8. سالانہ بنیادوں پر تقریباً 500 مریضوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔
  9. متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض بھی اس کیمپ سے مستفید ہوتے ہیں۔
  10. مستحق مریضوں کے مفت آپریشن اور لینز ڈالے جاتے ہیں۔ اس کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ جو مستحق مریضوں کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے کلیئر کردہ مریضوں کے بالکل مفت اپریشن کیے جاتے ہیں۔
  11. منہاج القرآن کے اس کیمپ سے آپریشن کروانے والے مریضوں کو لاوارث نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ تین ماہ تک مسلسل فالو اپ (چیک اپ) رکھا جاتا ہے۔ جس میں ہمارے ماہر ڈاکٹر ہر پندرہ روز بعد ان مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور حسب ضرورت دوائی اور احتیاطی تدابیریں مہیا کی جاتی ہیں۔
  12. ضلع نارووال کی ضلعی حکومت اس فری آئی کیمپ کو نارووال کی تاریخ میں سب سے منظم اور بڑا فلاحی کیمپ قرار دے چکی ہے۔ ضلع انتظامیہ نارووال علاقے کے غریب عوام کو اس کیمپ کے ذریعے زبر دست ریلیف فراہم کرنے پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا کئی مرتبہ باضابطہ شکریہ اد ا کر چکی ہے۔

اب تک کی مکمل رپورٹ

  • 1998ء سے فری آئی سرجری کیمپس کی تعداد = 7
  • چیک اپ کرانے والے مریض = 26,251 عدد
  • آپریشنز کی کل تعداد = 2,032 عدد
  • آپریشن + جنرل آئی چیک اپ کی کل تعداد = 28,283 عدد
  • اب تک کا کل خرچ = 55,30,000روپے
  • ایک مریض پر آنے والا اوسط خرچ = 2000 (لینز کے اخراجات 10,000 روپے)

سال 1998 1999 2000 2001 2002 2003 2004 ٹوٹل
اپریشنز(سادہ+IOL) 192 212 261 292 318 355 402 2,032
آئی چیک اپ کی تعداد 2,313 2,927 3,500 3,982 4,217 4,400 4,912 26,251
کل خرچ 540,300 625,000 751,411 811,370 878,420 914,719 1,008,780 55,300,000

س۔ مستحق مریضوں کی عملی معاونت

ایسے مریض جن کو ہسپتالوں میں داخلہ، دیکھ بھال اور دوائیوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) عملی طور پر خود ڈاکٹروں سے مل کر مریضوں کی مشکلات حل کرواتی ہے۔ اور اگر ضرورت پڑے تو خود مالی تعاون کر کے مریض کے علاج کو یقینی بناتی ہے۔ اس وقت تک 732 مریضوں کی عملی معاونت کی جا چکی ہے۔

عوامی شعور کی بیداری

اس پروگرام کے تحت عوام الناس کےلیے بنیادی طبی مشوروں کی مہم چلائی جاتی ہے۔ جس میں ہمارے ماہرین کے ذریعے بیماریوں کی علامات، وجوہات اور احتیاطوں کے بارے میں لیکچرز اور لٹریچر تیار کر کے تقسیم کیا جاتا ہے۔ صحت، صفائی اور بنیادی صحت کے بارے میں شعور کےلیے لوگوں کی خصوصی کوچنگ کی جاتی ہے۔

3۔ فلاح عام

یہ ایک وسیع اور جامع عنوان ہے۔ اس کے تحت درج ذیل امور سرانجام دیئے جاتے ہیں:

  1. بیت المال
  2. اجتماعی شادیاں
  3. قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی
  4. غرباءمیں تحائف اور خوراک کی تقسیم
  5. پینے کے صاف پانی کی فراہمی
  6. یتیم بچوں کی کفالت کے لئے ”آغوش“
  7. سلائی مشینوں کی فراہمی

1۔بیت المال

اسلامی معاشرے میں بیت المال کی نہایت اہمیت ہے۔ یہ غریب اور نادار لوگوں کی امداد اور بحالی کا ادارہ ہوتا ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن ) نے شریعت محمدی کی روشنی میں “بیت المال ” قائم کیا ہے۔ اس سے ایسے افراد کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ جو کہ ایک دفعہ کی فوری امداد سے اس پریشانی کی کیفیت سے نکل سکیں۔ مثلاً

  • چھوٹے کاروبار کےلیے امداد
  • علاج کےلیے دوائیوں کی فراہمی
  • بچیوں کی شادی کےلیے معاونت
  • راشن وغیرہ کی فراہمی
  • روزگارکی فراہمی

درج بالا مدات پر سال 1990ء تا 2004ء تک تقریباً پچاس لاکھ روپے اخراجات آئے۔

طریقہ کار

باضابطہ درخواست فارم پر تحریری درخواست وصول کی جاتی ہے۔ سائل کو درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات کی نقول لف کرنا ہوتی ہیں۔ ہمارا نمائندہ خود تصدیق کرتا ہے۔ ویلفیئر بورڈ حتمی منظوری دیتا ہے۔

قیام سے اب تک اس سلسلہ میں درج ذیل رقم خرچ کی گئی ہے۔

  • طبی امداد کےلیے دی گئی رقم 41,61,500 روپے
  • جہیز فنڈ کےلیے دی جانے والی رقم 36,38,000 روپے
  • مالی طور پر مجبور لوگوں کو دی گئی رقم 39,78,000 روپے
  • ٹوٹل 1,17,77500 روپے

2۔اجتماعی شادیاں

ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ اس میں بیٹی کی شادی جیسا مقدس فریضہ بھی والدین پر بوجھ بن چکا ہے لڑکے والے منہ مانگے جہیز کے منتظر ہیں جبکہ دوسری طرف والدین بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے جہیز کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ باپ اور بھائی پندرہ سے بیس سال محنت کر کے ایک بچی کے جہیز کے سامان کی بمشکل صورت بنا سکتے ہیں۔ اور اگر کسی گھر میں ایک سے زیادہ بیٹیاں ہیں تو والدین کو مزید (20) بیس سال چاہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ والدین کی کل زندگی بچیوں کی رخصتی کی نظر ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی سب والدین کےلیے ایسا ممکن نہیں ہوتا والدین اور بھائی انتہائی کوشش کے باوجود لڑکے والوں کی ڈیمانڈ کے مطابق جہیز تیار نہیں کر سکتے۔ اور یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ مایوس ہو کر والدین یا بھائی خود کشی کر لیتے ہیں اور بعض دفعہ تو لڑکی خود کوخاندان پر بوجھ سمجھ کر خود کشی کر لیتی ہے اور معاشرہ بے حسی کا پیکر بنا ہوا اس برائی کے ہاتھوں پس رہا ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے والدین کے اس بوجھ اور پریشانی کے خاتمہ کےلیے دو سطح پر جہاد کا آغاز کیا ہے۔

  • جہیز کے خلاف بھر پور مہم
  • نادار بچیوں کی اجتماعی شادیاں

٭ نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن کے تحت جہیز کی لعنت کے خاتمہ کےلیے ایک منظم مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

نظامت ویلفیئر (تحریک منہا ج القرآن) کی تنظیمات نے مقامی وسائل سے ایسی غریب اور نادار بچیاں جن کے والدین ان کی رخصتی کےلیے جہیز کا سامان نہیں کرسکتے کےلیے اجتماعی شادیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ جس کےلیے ہمیں مخیر حضرات مالی معاونت کرتے ہیں۔ ان اجتماعی شادیوں کی چند بنیادی معلومات اور تفصیلات درج ذیل ہیں۔

  • دلہن کو گھر کی ضرورت کا مکمل جہیز فراہم کیا جاتا ہے۔
  • دلہا اور دلہن دونوں طرف کے 50/50 مہمانوں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
  • دلہا اور دلہن دونوں کے مہمانوں کی بھر پور آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹھنے کےلیے عالی شان انتظام کیا جاتا ہے۔
  • اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی سطح پر دلہا، دلہن یا ان کے رشتہ داروں کو احساس محرومی نہ ہو اور وہ عزت کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔

مجموعی طور پر اس وقت تک 135 بچیوں کی شادیاں نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے زیر انتظام ہو چکی ہیں۔ جبکہ ایک بچی کی شادی پر تقریباً 50,000روپے خرچ آیا ہے اور ٹوٹل خرچ 6,053,300روپے ہے۔ مقامی سطح پر ان شادیوں کےلیے مخیر حضرات کا تعاون منہاج القرآن پر اعتماد کی علامت ہے۔

جہیز پیکج

  1. جائے نماز
  2. قرآن پاک
  3. ڈنر سیٹ (پلاسٹک)
  4. ٹی سیٹ + کیٹلری سیٹ
  5. سلائی مشین
  6. چارپائیاں
  7. رضائیاں
  8. ٹفن
  9. آٹے والی پیٹی
  10. بکس/ سوٹ کیس/ بریف کیس
  11. دلہا دلہن کےلیے سوٹ
  12. بڑی پیٹی لوہے والی
  13. گریلو استعمال کیلئے دیگچی سیٹ
  14. تیل والا چولہا
  15. سینری مکہ ومدینہ
  16. واشنگ مشین
  17. چار کرسیاں + ایک ٹیبل
  18. پانی والی ٹینکی
  19. پیڈسٹل فین
  20. سونے کا سیٹ
  21. 50 افراد کے کھانے کا اہتمام

3۔ قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی

ملک پاکستان یا پاکستان سے باہر جس سطح پر بھی خدانخواستہ کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس قدرتی آفت کے متاثرین کی بحالی اور امداد کےلیے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ اس کی کارکردگی درج ذیل ہے۔نوٹ: یہ کوائف مقامی تنظیمات سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں جو کہ انہوں نے خود ارسال کیا۔

  1. افغان اور کشمیری مہاجرین کی امداد 47,00,000روپے
  2. متاثرین سیلاب (اندرون سندھ) 20,10,000روپے
  3. متاثرین قحط سالی (بلوچستان) 25,10,000روپے
  4. متاثرین بارش (گلگت) 2,00,000روپے
  5. متاثرین سیلاب (نالہ لئی راولپنڈی) 9,00,000روپے
  6. متاثرین زلزلہ(بام ایران) 55,00,000روپے
  7. متاثرین سونامی (انڈونیشیاء) 1,00,00,000روپے
  8. متاثرین برف باری (مری، ایبٹ آباد، مانسہرہ) 10,00,000روپے
  9. متاثرین بارش نصیر آباد۔ پسنی وغیرہ 5,00,000روپے
  10. متاثرین زلزلہ کشمیر + ہزارہ 10,00,00,000روپے سے زائد(جاری ہے)

قیام سے اب تک ان تمام آفات میں مجوعی طور پر 12کروڑ 73لاکھ 20ہزار روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

4۔ غرباء میں تحائف اور خواراک کی تقسیم

ہمارے معاشرے میں ایک طرف تو لوگ کروڑوں روپے کے محلات میں رہ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کسی کو سر چھپانے کےلیے جھونپڑی بھی دستیاب نہیں۔ ایک طرف گھوڑوں اور کتوں کو سیبوں کے مربے اور ایمپورٹڈ کھانے دستیاب ہیں جبکہ اسی شہر میں لاکھوں غریب بچوں کو چند قطرے دودھ بھی میسر نہیں۔ اور غربت کے مارے ہوئے لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہیں۔ غریب کا بچہ عید کے موقع پر نئے کپڑوں سے محروم ہے۔ اس کی بچی دوسری عورتوں کو بازار میں مہندی لگواتے یا چوڑیاں خریدتے اور پہنتے ہوئے دیکھ سکتی ہے مگرخود اس کی اتنی چھوٹی سی خوشی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک حسرت بن کر رہ جاتی ہے۔ عید والے دن کئی گھروں میں سویاں تک پکنے کی چھوٹی خوشی اور رسم نہیں ہو سکتی۔ اکثر غریب لوگوں کی فاقوں کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس مشکل گھڑی سے لوگوں کو نکالنے کےلیے یقیناً حکومتی سطح پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔نظامت ویلفیئر کے تحت ایسے ہی غریب اور مجبور افراد میں خوشیاں تقسیم کرنے کےلیے عید گفٹ اور راشن سکیم کا آغاز کیا جاتا ہے۔اس کے تحت غریب اور نادار گھرانوں میں عید کے موقع پر راشن،سویاں،کپڑے،مہندی اور مٹھائی اور اس کے علاوہ دیگر فری چیزیں فراہم کی جاتی ہیں۔جب کہ مستقل بنیادوں پر بھی راشن کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اس کے تحت اب تک مجموعی طور پرلاکھوں روپے خرچ کے گئے ہیں۔

5۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی

پاکستان کے اندر اس وقت تقریباً نصف سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اکثر جگہ پر گندہ پانی ہی پینے کو دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے خطر ناک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے بعض جگہوں پر خواتین کئی کئی میل کا فاصلہ طے کر کے پینے کےلیے ایک وقت کا پانی لے کر آتی ہیں اس ضرورت کے پیش نظر ملک بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1500 واٹرپمپ لگوانے کا منصوبہ زیر تکمیل ہے اس وقت تک مجموعی طور پر تقریباً 600 پمپ لگا دیئے گئے ہیں جس پر اٹھنے والے کل اخراجات 25,69000 (پچیس لاکھ انہتر ہزار) روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ جبکہ ابھی پمپس کی تنصیب جاری ہے اس منصوبہ کے تحت درج ذیل اضلاع میں واٹر پمپس لگائے گئے ہیں۔

  1. لاہور
  2. شیخوپورہ
  3. راولپنڈی
  4. اسلام آباد
  5. پلندری (آزاد کشمیر)
  6. میر پور ( آزاد کشمیر)
  7. تراڑ کھل (آزاد کشمیر)
  8. جھنگ
  9. لیہ
  10. ڈیرہ غازی خان
  11. بہاولپور
  12. مظفر گڑھ
  13. ملتان
  14. سرگودھا
  15. گوجرنوالہ
  16. جہلم
  17. گجرات
  18. فیصل آباد
  19. راجن پور
  20. مانسہرہ (سرحد)
  21. کوہاٹ(سرحد)
  22. میانوالی
  23. جعفر آباد (بلوچستان)
  24. نصیر آباد(بلوچستان)

سال 2003 2004 2005 ٹوٹل
تعداد واٹر پمپ 113 240 147 600
اخراجات 5,73,000 9,87,000 10,09,000 25,69,000

6۔ آغوش (Orphan Home)

ایسے غریب اور بے سہارا بچے جن کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے ان کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت اس معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر ایسے کسی ایک بچے کی مناسب تربیت نہ ہو سکے تو وہ بگڑ کر معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے اورا س کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں یتیموں کے ساتھ رحم اور شفقت کرنے کے احکامات جگہ جگہ ملتے ہیں۔ ان ہی تعلیمات کی روشنی میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جس کی تعمیر جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ عنقریب افتتاح کر دیا جائے گا۔

چند خصوصیات

  • 500 یتیم بچوں کی پرورش کا ادارہ ہو گا۔
  • منہاج دارالرحمت میں یتیم بچوں کو ہی لیا جائے گا۔
  • بچے کی بہترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا جائے گا۔
  • بچے کی رہائش فری ہوگی۔
  • بچے کو میعاری اور ضروری خوراک مثلاً (دودھ اور پھل وغیرہ) بھی فراہم کی جائے گی۔
  • ہر پانچ بچوں کی نگرانی کےلیے ایک آیا (ماں) کا تقرر کیا جائے گا۔
  • بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے کےلیے باقاعدہ قاری کی تقرری کی جائے گی۔
  • شام کے اوقات میں تعلیم دینے کےلیے باقاعدہ اساتذہ کا تقرر کیا جائے گا۔
  • بچوں کو ایک گھر کا ماحول دیا جائے گا تاکہ ان کے اندر احساس محرومی پیدا نہ ہو سکے۔
  • داخلے کے بعد بچے کی تمام تعلیم و تربیت، جوان ہونے پر کاروبار اور شادی کی ذمہ داری بھی ادارہ پر ہوگی۔
  • ہر بچے کا باقاعدہ طور پر کفیل (Doner) کے زیرسرپرستی اندراج کیا جائے گا اور ہر لمحہ اس کی کارکردگی سے اس کو آگاہ رکھا جائے گا۔
  • 7۔ سلائی مشینوں کی فراہمی

    بیوہ خواتین کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھنے کےلیے سلائی مشینوں کی فراہمی کا منصوبہ شروع گیا ہے۔ تاکہ وہ بیوہ محنت مزدوری کر کے پیٹ پال سکے اور عزت کی زندگی گذارے۔ اب تک 113 مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ جن پر کل لاگت 3,95,500روپے آچکی ہے۔

    اجتماعی قربانی

    مرکز پر کی جانے والی اجتماعی قربانی کے ذریعے مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ اس اجتماعی قربانی میں اندرون اور بیرون ملک دونوں جگہ سے لوگ حصص جمع کرواتے ہیں۔ ان کی ہدایات کے مطابق جانور ( گائے، بکرا، چھترا) خرید کر ذبح کئے جاتے ہیں اور حسب ہدایات گوشت ان کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ یا پھر غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس مہم کے ذریعے غریب لوگوں میں تقریباً 400 من گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ تقریباً 300 کارکنان 15 دن تک مسلسل محنت کرکے قربانی کے اس عمل کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس قربانی کے ذریعے حاصل ہونے والی کھالیں ویلفیئر کی آمدن کا ذریعہ ہیں۔ الحمدللہ عوام کی بھر پور تائید اور اعتماد کی وجہ سے ہر سال اجتماعی قربانی میں حصہ جمع کروانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس وقت ہمیں سالانہ لاکھوں روپے کی قربانی موصول ہوتی ہے۔

    دعوت عمل

    آئیے! مل کر دکھی انسانیت کی خدمت کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔ اپنی زکوٰۃ، صدقات، عطیات نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن ) کو دیں۔

    آپ کی سہولت کےلیے درج ذیل پیکج دیئے جا رہے ہیں آپ کسی ایک پیکج کا انتخاب کر کے اس نیکی کے کام میں مالی معاونت کر سکتے ہیں۔

    نام منصوبہ

    ماہانہ خرچ سالانہ خرچ کل خرچ
    سکالر شپ برائے حفظ قرآن 1820 22,000 88,000
    سکالر شپ برائے سیکنڈری سکول 1500 18,000 90,000
    سکالر شپ برائے ڈگری کالج 1820 22,000 88,000
    سکالر شپ برائے ڈبل MA (شہادۃ العالمیہ) 1820 22,000 154,000
    فری میڈیکل ڈسپنسری 15,000 180,000 (قیام) 200,000
    فری ایمبولینس (چھوٹی وین) 20,000 ۔۔۔۔۔ (قیام) 500,000
    فری ایمبولینس (بڑی وین) 25,000 ۔۔۔۔۔ (قیام) 18,00,000
    آنکھوں کا آپریشن (سادہ عینک والا) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 2,000
    آنکھوں کا آپریشن + لینز ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    غریب بچی کی شادی کےلیے امداد ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    غریب بچی کی شادی کا مکمل سامان ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 50,000
    بے روزگار فرد کے کاروبار کےلیے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 25,000 تا 50,000
    تحائف اور راشن سکیم (فی گھرانہ) 2,000 ۔۔۔۔۔ سالانہ 24,000
    پینے کے صاف پانی کی فراہمی (فی واٹر پمپ) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    پینے کے صاف پانی کی فراہمی (کنواں) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 25,000
    بیوہ خواتین کےلیے سلائی مشین ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 4,500
    یتیم بچے کی کفالت 3,000 ۔۔۔۔۔ 36,000

    نوٹ: ہم آپ کو اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کا دیا ہوا ایک ایک روپیہ ہمارے پاس قوم کی امانت ہے اور آپ کی ہدایات کے مطابق پراجیکٹ پر ہی خرچ ہوتے ہیں نیز یہ کہ آپ کی زکوٰۃ وصدقات شرعی اصولوں کے عین مطابق خرچ کیے جاتے ہیں۔

    ڈاکو منٹریز

    نظامت ویلفیئر کے زیر اہتمام جاری منصوبہ جات کی تفصیلات عوام تک پہنچانے کےلیے اب تک دو ڈاکومنڑیز تیار کی گئی ہیں۔

    1. طلوع فجر
    2. MWF 2004

    اس کے علاوہ مختلف 6 سب ڈاکومنڑیز تیار کی گئی ہیں۔ ہر مہم پر اشتہار تیار کروائے جاتے ہیں جن کو TV اور کیبل کے ذریعے نشر کروایا جاتا ہے۔ اب تک تیار ہونے والے اشتہارات کی تعداد 28 ہو چکی ہیں۔

    ویب سائٹ

    منصوبہ جات اور معلومات کی عوام تک رسائی کےلیے ایک ویب سائٹ تیار کی گئی ہے۔ جس پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے تمام موجودہ اور آئندہ منصوبہ جات کی تفصیل، جاری مہمات کی تفصیلات، اپیل، رپورٹس اور تصاویر مہیا کی گئی ہیں۔

    نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کی تمام سرگرمیوں کی پریس کوریج دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیمات اور معلوماتی امور کے لیے E-mail ایڈریسز بنائے گئے ہیں۔ جس سے لوگ ویلفیئر آفس میں براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ کو سالانہ 7,000 افراد وزٹ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک 1,87,000 افراد وزٹ کر چکے ہیں۔ جبکہ E-mail ایڈریس کے ذریعے اوسطاً سالانہ 800 افراد رابطہ کرتے ہیں۔ اور مجموعی طور پر تقریباً 18,000 افراد رابطہ کر کے معلو مات کا تبادلہ کر چکے ہیں۔

    www.welfare.org.pk
    E-mail: info@welfare.org.pk
    director@welfare.org.pk

    جواب دیں

    Fill in your details below or click an icon to log in:

    WordPress.com Logo

    آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

    Twitter picture

    آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

    Facebook photo

    آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

    Google+ photo

    آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

    Connecting to %s

     
    %d bloggers like this: