تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘اسلامی آرٹیکلز’ Category

اسلامی معلومات پر مبنی مضامین، دین اسلام کی اہم شخصیات وغیرہ

مقام محمود

Posted by naveedbcn پر مئی 31, 2007

 

مقام محمود

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت سے معمور
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا علمی و تحقیقی خصوصی خطاب

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًاO

(بني اسرائيل، 17 : 79)

’’اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی) قرآن کے ساتھ (شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)o‘‘

اس آیت کریمہ میں ’’عسٰی‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عام طور پر شک کا معنی دیتا ہے۔ مگر جب اس کی نسبت اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہو تو پھر اس میں یقین کا معنی پایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ شک والی بات کرے اُس کی ہر بات حتمی اور قطعی ہوتی ہے۔ اس لئے ’’عسٰی‘‘ یہاں یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اس آیت میں ایک خاص نکتہ پوشیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب! آپ نمازِ تہجد ادا کیجئے جو کہ نفلی نماز ہے اور آپ کی اس نفلی نماز کا صلہ یہ ہو گا کہ اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرما دے گا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوافل میں سے ایک نفلی نماز تہجد کا صلہ یہ دیا کہ انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما دیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرائض کے صلے کا عالم کیا ہو گا؟ یہ مقام محمود کیا ہے؟ اس پر ذیل میں تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔

مقامِ محمود کا معنی

محمود ایک مقام ہے جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فائز کیا جائے گا۔ بعض علماء نے اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام فرما ہونا مراد لیا ہے کہ مقام چونکہ ظرف ہے اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت جس مقام پر کھڑا کیا جائے گا وہ مقامِ محمود ہے۔ جبکہ بعض علماء نے مذکورہ معنی کی بجائے یہ کہا ہے کہ مقامِ محمود سے مراد وہ خاص مقام، منصب، درجہ، مرتبہ اور منزلت ہے جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت فائز کیا جائے گا۔ اس معنی میں زیادہ وسعت، زیادہ صحت اور زیادہ بلاغت ہے۔ مقامِ محمود کی تمام روایات اور احادیث جو مقامِ محمود کو بیان کرتی ہیں انہیں جمع کیا جائے تو یہی معنی ان کی مراد کو سموتا ہے۔ اکثر علماء اور ائمہ تفسیر نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے۔ یہی معنی مذہبِ مختار ہے۔ اس مقام کو مقامِ محمود کیوں کہا گیا؟ اس کی تفصیل و تعبیر کتبِ حدیث میں بھی آئی ہے اور تمام تفاسیر میں بھی موجود ہے۔ لیکن سب سے نفیس اور اعلیٰ بات امامِ ابن کثیر نے کہی ہے۔

امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ (700 ۔ 774ھ) مقامِ محمود کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

إفعل هذا الّذي أمرتک به، لنقيمک يوم القيامة مقامًا يحمدک فيه الخلائق کلّهم وخالقهم تبارک وتعالي.

(ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 5 : 103)

’’اے محبوب! آپ یہ عمل (نماز تہجد) ادا کیجئے جس کا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے تاکہ روزِ قیامت آپ کو اس مقام پر فائز کیا جائے جس پر تمام مخلوقات اور خود خالقِ کائنات بھی آپ کی حمد و ثناء بیان فرمائے گا۔‘‘

محمود کا معنی

جب ہم قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز کرتے ہیں تو اس آیت سے کرتے ہیں : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن‘‘ ’’تمام تعریفیں اﷲ رب العزت کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔ محمود، حمد سے ہے اور اﷲ تعالیٰ کا اپنا اسم گرامی بھی محمود ہے ’’جس کی تعریف کی جائے‘‘۔ محمود اس کو کہتے ہیں جس کے ذاتی کمالات، خصائص، فضائل اور عظمت و کمال کی حمد کی جائے۔

حمد و شکر میں فرق

حمد کسی کے ذاتی کمال پر کی جانے والی تعریف کو کہتے ہیں جبکہ شکر اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی کے احسان پر کی جائے۔ حمد کسی کی ذاتی عظمت کی تعریف کرنا ہے۔ یہ کہنا کہ وہ ہر نقص سے پاک ہے یہ حمد ہے۔ کسی کی ذاتی خوبیوں، ذاتی حسن، ذاتی عظمت، ذاتی سطوت، ذاتی جلال و جمال کو سراہنا اور اس کی تعریف کرنا اور کیے جانا یہ حمد ہے۔ اُس کے احسانات پر تعریف کرنا یہ شکر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کا آغاز ان الفاظ سے نہیں کیا : ’’الشکر للّٰہ رب العالمین‘‘ کہ شکر ہے اس اﷲ رب العزت کا جو سارے جہانوں کا رب ہے۔۔۔ شکر کیوں نہیں کہا؟ اس لئے کہ شکر کی نسبت تو شکر ادا کرنے والے کی طرف ہو گئی کہ وہ شکر ادا کرے گا تو شکر ثابت ہو گا جبکہ ساری دنیا شکر گزار نہیں ہے۔ شاکر بھی ہیں اور شاکی بھی ہیں۔۔۔ کچھ ایسے ہیں کہ ملتا ہے تو اس پر شکر ادا نہیں کرتے بلکہ جو نہیں ملتا اس پر شکوہ کناں رہتے ہیں۔ پھر کافر بھی ہیں وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ وہ تو اس کی ربوبیت کو ہی نہیں مانتے، اس کے احسانات کو ہی نہیں مانتے تو اس کا شکر کیسے ادا کریں گے۔ لہٰذا اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ ’’الشکر للّٰہ رب العالمین‘‘ تو اس کی تعریف محدود ہو جاتی۔ لا محدود کی تعریف محدود ہو جائے یہ اسے پسند نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ شکر وہی کرے گا جسے اُس کے احسان کا شعور بھی ہوگا۔ بہت لوگ ایسے ہیں جنہیں اس کے احسانات کا شعور ہی نہیں ہے، اس لئے اس نے شکر کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ حمد کا لفظ استعمال کیا کہ اس کے معنی میں وسعت ہے۔ شکر، حمد کا حصہ ہے مگر حمد، شکر میں شامل نہیں ہے۔ حمد کا دائرہ وسیع ہے اور شکر کا دائرہ محدود ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے جب اپنے کلام کا آغاز فرمایا تو اپنا تعارف ان الفاظ میں کروایا : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن‘‘ ۔ حمد بڑی عظیم شے ہے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس بناء پر وہ محمود بھی ہے۔ وہ اس وقت بھی محمود تھا جب اس کی تعریف کرنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ حمد چونکہ اس کی ذاتی خوبی ہے۔ ذاتی خوبی مخلوق کی احتیاج سے بھی ماوراء ہے۔ وہ تعریف کرنے والوں کا محتاج نہیں ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ سب تعریف کرنے والوں کی تعریف اﷲ تعالیٰ کے لئے ہے۔ اس نے تعریف کرنے والوں کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ کوئی حامد تعریف کرے یا نہ کرے وہ اپنی ذات میں ہر حمد کا حق دار ہے ہر خوبی کا سزاوار وہ ہے۔ اس حمد کی بناء پر وہ محمود ہے۔ اب جو وسعت، جامعیت، ہمہ گیریت اس حمد میں ہے وہی شان محمود میں ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام مبعوث فرمائے مگر کسی کے مقام کا نام مقامِ محمود نہیں رکھا کیونکہ محمود اس کا اپنا ذاتی نام ہے۔ جو حمد کا سزاوار ہے اور حقیقی محمود وہی ہے اس لئے اس نے مقامِ محمود کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چنا ہے۔ آپ غور کیجئے ادھر قرآن حمد سے شروع ہو رہا ہے اور الحمد ﷲ کہہ کر اعلان ہو رہا ہے کہ محمودِ حقیقی صرف اﷲ تعالیٰ ہے۔ حمد سے شروع ہونے والا اس کا کلام اور محمود پر ختم ہو جانے والی ساری تعریفیں، ادھر قیامت پر ختم ہو جانے والی ساری کائنات، ساری مخلوقات و کائنات کا خاتمہ قیامت پر ہو گا اور ساری حمد کا خاتمہ محمود کی ذات پر ہے۔ جب وہ انتہائے کائنات کا دن ہو گا تو مقامِ محمود انتہائے حمد کا مقام ہے وہ مقام کسی اور نبی اور ولی کو نہیں دیا بلکہ فرمایا محبوب! تیری شانِ حمد کا عالم یہ ہے کہ یہاں اس دنیا میں محمود میرا نام ہے اس کو روزِ قیامت تیرا مقام بنا دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کو مقامِ محمود کہہ دینا کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے۔ بلکہ اﷲ رب العزت نے قرآن مجید کے نزول کے وقت یہ کہہ دیا کہ محبوب تو رات کی خلوت میں میری بارگاہ میں حاضر ہوا کر میں تجھے روزِ قیامت پوری مخلوق کے درمیان مقامِ محمود پر فائز فرما دوں گا۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو مقامِ محمود کا معنی بیان کیا اس کی وضاحت یہ ہے کہ انہوں نے کہا : مقامِ محمود کو مقامِ محمود اس لئے کہا گیا کہ ادھر ساری مخلوق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کر رہی ہو گی اور خود باری تعالیٰ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کر رہا ہو گا۔

لفظِ حمد کا اطلاق

جب ہم حمد کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے اطلاق کے بارے میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ یہ لفظ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے بولا جا سکتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس لفظ کو استعمال کرنا جائز نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نعت کا لفظ تو ٹھیک ہے، حمد کا لفظ ٹھیک نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی محمد رکھا ہے۔ محمد مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے جس کی بار بار اور بے حد و حساب حمد کی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد ہی اﷲ تعالیٰ کی حمد ہے۔ بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی اور اعلیٰ حمد ہے۔

مثال کے طور ایک کاریگر ہے وہ کوئی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ لوگ اس کی تعمیر کردہ عمارت کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اس کے حُسنِ تعمیر کو سراہیں تو کیا کاریگر اس تعریف سے ناراض ہو گا؟ پیرس میں ایفل ٹاور ہے، لاہور کی بادشاہی مسجد ہے، شالامار باغ ہے، آگرہ میں تاج محل ہے آپ ان عمارات کی تعریف کریں اور بے حد و حساب اور مبالغہ کی حد تک ان عمارتوں کی تعریف کریں تو کیا اس تعریف سے ان عمارتوں کے معمار ناراض ہوں گے۔ ہاں اگر ساتھ کوئی دوسری عمارت ہے اس کی تعریف کی جائے تو وہ کاریگر ناراض ہو گا لیکن اگر عمارت ہی ایک ہو اور آپ ساری عمر اس کی تعریف کرتے رہیں تو اس عمارت کا تعمیر کرنے والا کبھی ناراض نہ ہو گا۔ کاریگر کو تو کسی نے دیکھا، کسی نے نہیں دیکھا لیکن عمارت تو سب نے دیکھی ہے تو گویا عمارت کی تعریف دراصل کاریگر کی تعریف ہے۔ اسی طرح اﷲ رب العزت کو تو کسی نے نہیں دیکھا لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو سب نے دیکھا۔ اب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرنا دراصل اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔

اسی طرح شاعر کی مثال ہے آپ اس کے دیوان کی تعریف کریں اس کی شاعری کی تعریف کریں تو وہ اس بات پر خوش ہو گا۔ شاعری کی تعریف ہی دراصل شاعر کی تعریف ہے۔ آپ علامہ اقبال کی تعریف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا کلام بہت عظیم ہے۔ کلام بڑا ہے تو صاحبِ کلام بڑا ہے۔ آپ کوئی پراڈکٹ لے لیں، دنیا کی کوئی صنعت لے لیں جب اس کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ اس کی کمپنی کی تعریف ہوتی ہے۔ یہ پوری کائنات کا قاعدہ ہے۔لہٰذا اب اس بات کا جھگڑا نہیں بنتا کہ اگر کوئی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتا جائے اور کرتا ہی رہے اﷲ تعالیٰ اس کو سو سال عمر دے اور وہ ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتا رہے تو اس بات سے اﷲ رب العزت کبھی ناراض نہیں ہو گا۔ اس سے بڑھ کر اس کی خوشی کیا ہو گی کہ میں نے ایک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنایا ہے اور ساری کائنات اسی کی تعریف کر رہی ہے۔ مخلوق کی تعریف کرنا دراصل خالق کی ہی تعریف ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں اگر کوئی یہ کہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے حسین ہیں تو یہ دراصل اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے کہ اس نے حسین بنایا ہے۔ اولاد کی تعریف سے ہمیشہ ماں باپ خوش ہوتے ہیں، تصویر کی تعریف سے مصوّر خوش ہوتا ہے، شاگرد کی تعریف سے استاد خوش ہوتا ہے۔ اگر اولاد کی تعریف پر والد ناراض ہو کہ میری اولاد کی تعریف کیے جا رہے ہیں میری کوئی تعریف ہی نہیں کر رہا۔ مصنف کی کتابوں کی تعریف کریں اور مصنف ناراض ہو جائے کہ میری کتابوں کی تعریف کر رہے ہیں میری تعریف ہی کوئی نہیں کر رہا تو ایسا کہنا دراصل دماغ کی خرابی کا باعث ہے ورنہ اولاد کی تعریف والدین کی ہی تعریف ہے اور کتاب کی تعریف دراصل مصنف کی ہی تعریف ہے۔

اس لئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’الحمد للّٰہ‘‘ ساری تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ یہ سن کر ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ باری تعالیٰ تُو ساری تعریفوں کا حق دار کیوں ہے اس کی کوئی دلیل بھی تو ہو گی؟ اس نے ساتھ ہی جواب دیا : ’’رب العالمین‘‘ اس لئے کہ میں سارے جہانوں کا رب ہوں۔ میں نے سارے جہانوں کو بنایا ہے۔ جو کچھ میں نے بنایا ہے اس کو دیکھ لو کہ میں قابلِ تعریف ہوں یا نہیں۔ جو اﷲ تعالیٰ بناتا ہے اگر وہ قابلِ تعریف ہے تو یہ اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ ہر شے میں اﷲ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ اگر کسی نے اولیاء کی تعریف کی تو اﷲ تعالیٰ کبھی ناراض نہ ہو گا کہ اسی نے ہی تو ولایت دی ہے۔ کسی نے انبیاء کرام کی تعریف کی تو اﷲ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہو گا کہ اسی نے ہی تو نبوت دی ہے لہٰذا ان کی تعریف اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تعریف کرتا رہے تو اس سے اﷲ تعالیٰ ناراض نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف جس جس جہت سے کرتے رہیں وہ سب الحمد للہ کے ضمن میں ہے۔ وہ اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف ہے۔ کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کے بنانے سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خالق و معمار اﷲ تعالیٰ ہے۔ اس لئے ذہن میں یہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ حمد کا لفظ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے جائز ہے۔

پھر تعریفوں کی بھی ایک حد ہے۔ تعریف کرنے والوں کی بھی ایک حدہے۔ فرمایا : حمد کا حق دار میں ہوں اور میں ہی محمود ہوں۔ قیامت تک محمود میرا نام رہے گا جب یہ کائنات ختم ہو گی تو محمود اپنے محبوب کا مقام کر دوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک شانِ اُلوہیت کو چھوڑ کر، کیونکہ خالق اور اﷲ تعالیٰ ایک ہے، اﷲ تعالیٰ کی جو بھی تعریف کی جاتی رہی روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان ساری تعریفوں کا عکس بنا دیا جائے گا۔ ساری اُمت مل کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ محمود پر فائز نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ اﷲ تعالیٰ کا نام ہے اس لئے اُس نے اپنے نام کو اپنے محبوب کا مقام بنا دیا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی ہی شان ہے، اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی اپنے بہت سے نام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر رکھے ہیں۔ جیسے اﷲ تعالیٰ شہید ہے اور اُس نے یہ نام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی عطا کر رکھا ہے۔ وہ رحیم ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی رحیم بنا دیا ہے، وہ روف ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی روف بنا دیا، وہ سمیع و بصیر ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس نے سمیع و بصیر بنا دیا ہے۔ اُس نے بہت سے نام جو اس کی شان کے لائق اُس کے تھے پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی شان کے لائق عطا کر دئیے ہیں۔ نام تو پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر رکھے ہیں لیکن روزِ قیامت جو اپنا نام ہو گا اُسے حضور کا مقام بنا دیا جائے گا۔

حافظ ابن کثیر کے بیان کردہ معنی کے مطابق ساری مخلوقات اور ان کا خالق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کر رہے ہوں گے۔ قیامت کا قانون بدل گیا۔ دنیا میں تو اﷲ تعالیٰ کی حمد ہوتی تھی جبکہ قیامت کے روز سب مخلوق اپنے خالق سمیت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کر رہے ہوں گے، ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حمد ایک عمل صالح ہے، یہ زبان کی عبادت ہے، جو اﷲ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے اُسے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے اجر ملتا ہے۔ لیکن جس دن قیامت قائم ہو گی سارے عمل ختم ہو جائیں گے اور اُن پر ملنے والا اجر بھی ختم ہو جائے گا، قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہو گا مگر اس دن پانچ نمازیں فرض نہیں ہوں گی۔ جو عمل ہو چکا اُس کی جزا و سزا کا دن یومِ قیامت ہے۔ اب اس دنیا میں جو اﷲ کی حمد کرتے تھے اﷲ تعالیٰ اس کا اجر دیتا تھا۔ قیامت کے دن قانون بدل دیا جائے گا کہ آج اجر ختم، آج مخلوق بھی آپ کی حمد کرے گی اور میں بھی آپ کی حمد کروں گا۔ ساری کائنات حامد، محبوب تو محمود ہے۔ بے شک اﷲ تعالیٰ کی بھی حمد گی انبیاء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کریں گے۔ لیکن ساری مخلوق اور خالق مل کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کریں گے۔ اس لئے روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیے جانے والے مقام کا نام محمود رکھا اور اس دنیا میں اس مقامِ محمود کے حامل کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا۔

محمد مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے جس کی بہت زیادہ کثرت کے ساتھ تعریف کی جائے۔ محمود کا معنی ہے جس کی تعریف کی جائے۔

ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے باری تعالیٰ بہت زیادہ تعریف تو تیری ہے۔ اس لئے کہ تو خالق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جتنا بھی مرتبہ ہو بہر صورت وہ تیری مخلوق ہیں، تیرے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور تیرے مقرب و محبوب بندے ہیں۔ ایمان اور معرفت کے بغیر عقلِ مادی یہ سوچتی ہے کہ باری تعالیٰ محمد تو تیرا نام ہونا چاہئے تھا کہ سب سے زیادہ تعریف تو تیری ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے اﷲ تعالیٰ بصورتِ معرفت جواب دیتا ہے کہ یہ سوال غلط ہے، میں نے بھی کبھی کوئی نام غلط رکھا ہے، میں غلطی سے پاک ہوں۔ میں نے اگر اپنا نام محمود اور اپنے محبوب کا نام محمد رکھا ہے تو درست رکھا ہے۔ اس لئے کہ میری تعریف ساری مخلوق کرتی ہے۔ اگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میری تعریف کرتے ہیں تو وہ بھی میری مخلوق ہی ہیں۔ جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں بھی کرتا ہوں اور ساری مخلوق بھی کرتی ہے تو جس کی تعریف میں کروں اس کی بہت زیادہ تعریف ہو گی یا جس کی تعریف صرف تم کرو اس کی بہت زیادہ تعریف ہو گی؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محمدیت کا مقام اس لئے ملا کہ اﷲ رب العزت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان کرتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف نہ کرتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمدیت تک نہ پہنچتے۔ مقامِ محمود تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوافل کا صلہ تھا اور مقامِ محمدیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرائض کا صلہ ہے۔ مگر اصل بات اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ حمد کسی عمل کے صلہ میں نہیں ہوتی، حمد عمل کے صلہ سے بے نیاز ہے۔ اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی حمد کرنے والے تو بعد میں بنے لیکن اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول دن سے محمد کر دیا۔ جس کی تعریف اﷲ کر دے اس کی تعریف حد سے بڑھ گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف تو اﷲ تعالیٰ نے حد سے بڑھا دی ہم کون ہوتے ہیں حد سے بڑھانے والے۔ ہم خود محدود ہیں، محدود کسی کو حد سے کیسے بڑھا سکتا ہے۔ ہم تو خود حد میں ہیں، ہمارا بیان، ہمارا فہم، ہمارا شعور، ہمارا کلام سب حد میں ہے۔ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی بھی تعریف کریں ہم حد سے آگے جا ہی نہیں سکتے۔ ہم انہیں حد سے بڑھا ہی نہیں سکتے۔ حد سے تو اُس نے بڑھایا ہے جس نے بنایا ہے اور نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے کلام کی ابتداء حمد سے کی، اپنا نام بھی حمد سے نکالا اور نام محمود رکھا ، اور مخلوقات کے نقشِ اول کا نام احمد اور محمد رکھا، سارے لفظ حمد سے نکالے اپنی پہچان بھی محمود کر کے کرائی، اپنا کلام بھی حمد سے شروع کیا، نام بھی محمود رکھا اور محبوب کو مقام بھی محمود دیا۔ اپنے اور اپنے محبوب کے جملہ معاملات و مقامات حمد کے گرد گھمائے۔

حمد نری تعریف کو کہتے ہیں اور جہاں نری تعریف ہو وہاں نقص ہو ہی نہیں سکتا۔ مثلاً جاننا خوبی ہے اور نہ جاننا نقص ہے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محمد بنا دیا سب سے بڑھ کر تعریف کر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں علم ہی علم منسوب ہو گا، عدمِ علم کی نسبت ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں کر سکتے، نسبت کر دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد نہیں رہتے۔ کوئی کام کر سکنا یہ خوبی ہے، نہ کر سکنا یہ نقص ہے۔ نقص ہو تو حمد نہیں ہوتی اگر ایک گوشے سے حمد نکل گئی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ رہے۔ عطا کرنا خوبی ہے اگر عطا نہ کر سکیں تو یہ نقص ہے اگر نقص آ جائے تو وہ محمد نہ رہے۔ ہم درود و سلام پڑھیں اور وہ وہاں سے سنیں یہ خوبی ہے اگر نہ سن سکیں تو یہ نقص ہے، نقص آ گیا تو حمد نہ رہی، حمد نہ رہی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے مطلق حمد اور حمد ہی حمد۔

محمد کے نام میں وہ خوبی ہے جو اس نے اپنے نام سبحان میں رکھی ہے۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہے وہ ذات، ہر نقص، ہر کمی، ہر کجی سے پاک، ہر اس کمزوری سے پاک جو اس کی شان کو گھٹا دے۔ اﷲ تعالیٰ کی شانِ سبحانیت ہے اس کا عکس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محمدیت پر ہے۔ یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اے باری تعالیٰ! تو جو روزِ قیامت اپنے محبوب کی تعریف کرے گا تو کیا تیرا یہ عمل صرف یومِ قیامت کے ساتھ خاص ہے یا یہ کام پہلے بھی کیا ہے؟ فرمایا : مقام کا نام آج رکھا ہے کام پہلے سے کرتا چلا آ رہا ہوں ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ (ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کر دیا)۔ محبوب کی حمد تو میں ہمیشہ سے کرتا چلا آ رہا ہوں اُسی سے تو ذکر بلند ہوتا آ رہا ہے۔ کام ایک ہی رہا ہے عنوان بدلتے رہے ہیں۔ کبھی اس کو ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ کے پردے میں سمجھا دیا، کبھی ’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاO‘‘ کے حکم میں بیان کر دیا اور کبھی ’’عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًاO‘‘ کے نام سے اُجاگر کر دیا کہ میں حمد تو اوّل دن سے کر رہا ہوں اور روزِ قیامت بھی کروں گا۔ حمد کر رہا ہوں تو نام محمد رکھا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعتِ کبریٰ فرمائیں گے، جملہ مخلوق آپ کی تعریف کرے گی۔ کیا رفیع الشان مقام ہو گا جب شانِ محمدیت کا کامل ظہور ہو گا اور جملہ اولین و آخرین حمد و ثنائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کر رہے ہوں گے۔ کرمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجلیاں افزوں تر ہوں گی۔ تمام اہلِ محشر تو پل صراط سے گزرنے میں مشغول ہوں گے مگر حضور شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط کے کنارے کھڑے کمال گریہ و زاری سے اپنی عاصی و گنہگار اُمت کی نجات کی فکر میں غلطاں و پیچاں اپنے خالق و مالک سے دعا کر رہے ہوں گے ’’ربّ سلم، ربّ سلم‘‘ پروردگارِ عالم انہیں سلامتی و عافیت سے پار لگا دے۔ مولا! ان خطا کاروں کو بچا لے انہیں اپنے دامنِ عفو و کرم میں پناہ عطا فرما دے۔ اے احکم الحاکمین! تجھے تیری رحمت کا واسطہ ان عاصیوں اور سیاہ کاروں کو نجات عطا فرما۔

نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ باپ بیٹے سے بھاگ رہا ہو گا۔ بیٹا باپ کو نہیں پہچانتا ہو گا۔ جن سے کچھ توقّع اور اُمید تھی وہ سب بیگانے ہو چکے ہوں گے۔ ہاتھ پاؤں اور جسمانی طاقت جواب دے گئی ہوگی۔ ٹوٹی ہوئی کمریں اور اُوپر سے گناہوں کا بوجھ عجیب ندامت کا سماں ہو گا۔ کوئی پھسلے اور بھٹکے تو سنبھلنا کیسا؟ اب تمام اوّلین و آخرین کا بار حضور شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر آن پڑے گا۔ ایک اکیلی جانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گی اور جہان بھر کا سامان ہو گا۔ یومِ حشر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مقامات کا دورہ فرمائیں گے۔ کبھی میزان پر جلوہ افروزی فرمائیں گے۔ میزان قائم ہوگی، نامۂ اعمال کھولے جا رہے ہوں گے، ہنگامہ دار وگیر گرم ہو گا اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے اعمال حسنہ میں کمی دیکھیں گے اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور کبھی دیکھو توحوضِ کوثر پر تشریف فرما ہیں اور تشنہ لب پیاسوں کو سیراب فرما رہے ہیں کہ پانی پی کر ہوش و حواس باقی رکھیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی جگہ پر جلوہ افروز رہتے تو اﷲ جانے میزان پر آفت رسیدوں اور غم زدوں پر کیا گزرتی۔ کون سا پلہ بھاری ہو جائے۔ ادھر کرم نہ فرمائیں تو یہ بے کس و بے چارے، بے یار و مددگار برباد ہو جائیں۔ پھر وہاں سے پل صراط پر رونق افروز ہوئے اور گرتوں کو تھام لیا۔ غرض ہر جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی دُہائی ہو گی۔ ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم ہو گا اور جہاں بھر کی خبر گیری ہو گی۔ اتنا عظیم اژدھام اور اس قدر مختلف کام اور پھر عطائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر بیز ضوفشانیاں عجیب سماں بندھا ہو گا۔ اس درجہ فاصلوں پر مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر ایک دوسرے سے اس طرح زیادہ پیارا ہے جیسے ماں کا اکلوتا بچہ۔ قلبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجومِ آلام ہو گا لیکن زبان پر خدا کا نام ہو گا۔ آنکھوں سے اشک رواں ہوں گے اور ہر طرف بے تابانہ دواں ہوں گے۔ اِدھر گرتے کو سنبھال رہے ہوں گے اور اُدھر ڈوبتوں کو نکال رہے ہوں گے۔ یہاں روتوں کے آنسو پونچھے جا رہے ہوں گے اور وہاں آگ میں جلتوں کو دوزخ سے نکالا جا رہا ہو گا۔ الغرض ہر جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دہائی ہو گی۔ ہر شخص عام و خاص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو پکار رہا ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمود پر فائز ہو کر اوّلین و آخرین کو فیضیاب فرما رہے ہوں گے۔

Advertisements

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

Posted by NaveedBCN پر مئی 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

لاہور، 30 مئي 2007ء

گزشتہ روز تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کا کام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔ اس موقع پر امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم، مرکزی صدر منہاج القرآن یوتھ لیگ بلال مصطفوی، سینئر نائب امیر تحریک منہاج القرآن پنجاب سردار شاکر مزاری، چوہدری مشتاق، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, اسلامی آرٹیکلز, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 6, 2007

مظہر شان نبوت
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ.
(النحل : 60)

’’اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے‘‘۔

اللہ کی بلند تر صفت / سب سے بڑی شان سے کیا مراد ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نبوت، الوہیت کی دلیل ہوتی ہے اور ولایت امت میں نبوت کی دلیل ہوتی ہے۔ نبی، اللہ کی شان ہوتا ہے اور ولی اپنے نبی کی شان ہوتا ہے جیسی شان کا حامل نبی ہو اسی کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کو بڑے بڑے ولی ملے جس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کو آصف بن برخیا جیسے ولی بھی ملے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میلوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت حاضر کرتے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے مگر کسی نبی کو غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی جیسا ولی نہیں ملا اس لئے کہ کوئی نبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوا۔ جو نبی کی شان ہوتی ہے وہ ولی اس شان کی برہان ہوتا ہے۔ ولی، نبی کی شان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح نبی کا مرتبہ ہوگا اس کی امت میں ولایت بھی اس کے مرتبے کا عکس ہوگی۔ نبوت حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نکتہ کمال پر جاپہنچی اور نبوت کا کمال نکتہ وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے حرکت نہیں کرسکتا۔ نبوت کا ارتقاء مقام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ولایت کا ارتقاء اور ولایت کا کمال نکتہ وجود غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم کو سلطان الاولیاء بنایا جیسے آقا خود سلطان الانبیاء ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی شان ہوتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں لہذا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور اللہ فرما رہا ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْليٰ ’’اللہ کی شان سب سے بڑی ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑا ہے۔ خدا کے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کائنات میں کوئی نہیں ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اللہ کی شان کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ اللہ کی رحمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کے ذکر کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کا عنوان محمد ہیں، اللہ کی محبت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح اللہ کی قدرت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کی عظمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ پاک نے فرمایا :

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO(الرعد : 28)

’’جان لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر ہیں۔ گویا اللہ فرما رہا ہے لوگو دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہو جاؤ کہ میرا ذکر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں سب دلوں کا چین ہے۔

سورہ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO

’’ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدھی راہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔ یہ عظیم قول حضرت امام حسن بصری تک پہنچا تو امام حسن بصری رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے کہنے لگے خدا کی قسم درست معنی کیا ہے۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا.(آل عمران : 103)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حَبْلِ اللّٰہ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی رسی جس کو تھامنا ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا : ’’محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘۔ پس حبل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ ذکر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ نور اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اطاعت اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ وجہ اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ بس اک رب، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ بس ایک رب کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب نہ کہو باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ایمان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ا سلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، کعبے کا کعبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جس کی طرف ہاتھ کرکے کہہ دیا یہ کعبہ ہے وہی کعبہ ہوگیا، جس سمت اشارہ کر دیا وہ قبلہ ہوگیا، جس کو قرآن کہہ دیا وہ قرآن ہوگیا، کسی نے قرآن اور جبرئیل کو اترتے، وحی کا نزول ہوتے نہیں دیکھا، جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دیا وہی قرآن اور وہی کعبہ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا بن دیکھے کہہ دو خدا ہے۔ ۔ ۔ سب نے کہا خدا ہے اور چودہ سو سال گذر گئے کسی نے خدا کو دیکھا نہیں ہر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر مانتا چلا آرہا ہے پس یہ عقیدہ ایمان ہے۔

ہر نبی اللہ کی شان ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی شان۔ اسی طرح حضور کی امت میں ہر ولی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور غوث الاعظم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ جس نے خدا کو اور خدا کی شان کو دیکھنا ہو تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے اور جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھنی ہو وہ سرکار بغداد غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کو دیکھے۔ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان کا عنوان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ کائنات نبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی شان اور کائنات ولایت میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔

 

میثاق نبوت اور میثاق ولایت

عالم ارواح میں سب انبیاء علیھم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے میثاق لیا فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَO(آل عمران : 81)

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘۔

اس میثاق پر رب نے خود کو گواہ قرار دیا۔ کیوں کہ اللہ کی سب سے بڑی شان تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ گویا اپنی شان پر خدا خود گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا معاملہ آیا تو سب نبیوں نے گردنیں جھکالیں۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب وعدہ ہو رہا تھا۔ اچانک ایک نور چمکا اور سب انبیاء کے اُوپر بادل کی طرح چھا گیا تو انبیاء علیھم السلام نے پوچھا یہ نور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس کی نبوت کی وفاداری کا عہد کیا ہے یہ اُسی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے۔

گویا نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو سب نبیوں نے گردنیں جھکا دیں اور اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بات آئی تو سب ولیوں نے گردنیں جھکا دیں وہ میثاق نبوت تھا اور یہ میثاقِ ولایت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے لئے نبیوں کی گردنیں نہ جھکیں اور سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور ولی کے لئے ولیوں کی گردنیں نہ جھکیں۔ ایک واقعہ کائناتِ نبوت میں ہوا اور ایک واقعہ کائناتِ ولایت میں ہوا۔ اس لئے میں نے کہا نبوت کی دُنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور ولایت کی دُنیا میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ کوئی اعتراض کرے کہ تم شاہِ جیلاں، غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کرتے ہو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ ہم تو صرف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا نام پکارتے ہیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صفت اور شان کا تذکرہ کرتے ہیں اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف اور شمائل کا ذکر کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی مالا جپتے ہیں تو حقیقت میں خدا کی شان کا ورد کرتے ہیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں کائناتِ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان بنایا۔ لہٰذا آپ کی ولایت کو ولایتِ عظمیٰ اور آپ کی غوثیت کو غوثیتِ عظمیٰ بنایا اور آپ کی قطبیت کو قطبیتِ کبریٰ سے نوازا اور اس کا اقرار حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اﷲ پاک نے قَدَمِيْ هٰذِه عَلٰي رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيِّ اﷲ کے کلمات سے کروایا۔ یہ اَمر کسی اور کے لئے نہ کروایا۔ سب انبیاء کو معجزات دیئے مگر کثرتِ معجزات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیئے۔ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی کثرتیں دیں کہ کثرتیں بھی ختم ہو گئیں۔ کثرتوں کی اِنتہا کر دی تو شانِ نبوت میں کوثر منصبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور شانِ ولایت میں کوثر منصبِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ وہاں معجزات کی کثرت ہے۔ یہاں کرامات کی کثرت ہے۔ ولی کی ہر کرامت اس کے نبی کے معجزے کا تسلسل ہوتی ہے۔ ان کی ساری کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کے تذکرے میں لکھی جاتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب ولیوں کی کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب معجزہ کی فصلیں بنتی ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ولی نبی کی شان ہوتا ہے۔ اس لئے قاعدہ ہے کہ ولی کی کرامت اپنے نبی کا معجزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے نبی کا معجزہ اﷲ کی قدرت ہوتی ہے۔ نبی کا معجزہ رب کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا اظہار ہوتی ہے۔

 

حلقہ ارادت میں وسعت کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ امت عطا کی۔ حدیث پاک ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں جنتیوں کی 120 صفیں ہو نگیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی اُمتیں ہیں۔ سب نبیوں کی اُمتوں میں کچھ نہ کچھ اُمتی جنت میں جائیں گے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔ فرمایا کل انبیاء کی امت کے جنتی لوگوں کی ٹوٹل صفیں 120 ہونگیں اُن 120 صفوں میں 80 صفیں میری اُمت کی ہونگیں اور باقی ایک لاکھ چوبیس ہزار باقی انبیاء کی اُمتوں میں 40 صفیں تقسیم ہونگیں۔ جس طرح کثرتِ امت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئی اس طرح حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو کثرتِ ارادت کی نعمت ملی یعنی سلسلہ قادریہ میں کثیر تعداد میں مریدین عطا کئے گئے۔ اِس کائنات دُنیا میں جتنے مرید حضور غوثِ پاک کے ہوئے اوّل سے آخر تک کسی ولی کے نہ ہوئے اور نہ کبھی ہونگے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہو گزرے، ایمان لانے کے خواہشمند تھے مگر کلمہ نہ پڑھ سکے وہ بھی امت میں سے ہیں اور جملہ انبیاء بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہیں۔ اِسی طرح جنہوں نے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔ جو زبان سے کہہ دے یا غوث میں آپ کا مرید ہوں وہ غوث پاک کا مرید ہو گیا اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی حضور غوثِ پاک کے زیرِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔

 

سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

خواجہ ہند حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔ بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔

 

سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہ ہوئے۔ بعد ازاں زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام محمد باقر رضی اللہ عنہ، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک کے فیض کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک ہوئے۔

سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔

 

سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔

مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔

بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی Appoint ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔

 

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ

کائنات نبوت میں اللہ کی مثلِ اعلیٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے کائنات ولایت میں حضور کی مثل اعلیٰ حضور غوث پاک کی ذات ہے۔ اس دور میں، پورے زمانے میں، پورے عالم کے اندر غوث پاک کی مثل اعلیٰ حضور قدوۃ الاولیاء سیدنا ومرشدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤالدین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ یہ دعویٰ میں اس لئے نہیں کر رہا کہ میں ان کا مرید ہوں، ان کا غلام ہوں، ان کے در کا منگتا ہوں، ان کی خیرات پر پلنے والا ہوں۔ اس وجہ سے نہیں بلکہ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین جیسا میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ ظاہر میں، نہ باطن میں، نہ حسن میں، نہ جمال میں، نہ ولایت میں، نہ کمال میں، نہ تقویٰ میں اور نہ طہارت میں، نہ اتباع سیرت میں، نہ پاکیزگی کردار میں۔ ان کو جس طرف سے دیکھتے حضور غوث پاک کی مثل اعلیٰ نظر آتے۔ ان کی عزت نفس دیکھ کر غوث پاک کی عزت نفس یاد آجاتی، وہ کسی دنیا کے در کے محتاج نہ تھے، سائل نہ تھے ہر کوئی ان کا سائل تھا، ساری زندگی میں نے اپنے شیخ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کو جس پہلو سے بھی دیکھا ان کو پہاڑ پایا اور خود کو ذرہ پایا۔ ۔ ۔ ان کو سمندر پایا۔ ۔ ۔ خود کو قطرہ۔ ۔ ۔ حضور قدوۃ الاولیاء اپنی سولہ پشتوں میں کسی کی بات نہ کرتے مگر جب بولتے تو غوث پاک کی بات کرتے یا سیدنا سلطان الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتے۔

آپ نے کبھی دنیا والوں سے کچھ بھی طلب نہ کیا۔ کوئٹہ میں شروع شروع میں جب خدا داد روڈ پر حضور قدوۃ الاولیاء آباد ہوئے تو ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان نے خصوصی نمائندے کو بھیجا، عرض کیا : آپ پاکستان تشریف لائے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، جو حکم کریں آپ کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا ہم فقیر ہے، اس کا خیرات بہت ہے جب اس کا ختم ہوجائے گا تو آپ سے مانگ لے گا۔ یہ اولیاء کاملین اور سلف صالحین کا کردار تھا، آپ مقام تکوین پر فائز تھے۔ ۔ ۔ وہ کیا تھے۔ ۔ ۔ میں نے بات اس لئے یہ کہہ کر ختم کردی کہ حضور غوث پاک کے مثل اعلیٰ تھے۔ ۔ ۔ حضور غوث پاک کی شان تھے۔ ۔ ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دامن سے وابستگی، ان کی نوکری اور ان کی خیرات پر پلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

(اقتباس خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری)

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »

سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 4, 2007

مظہر شان نبوت
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ.
(النحل : 60)

’’اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے‘‘۔

اللہ کی بلند تر صفت / سب سے بڑی شان سے کیا مراد ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نبوت، الوہیت کی دلیل ہوتی ہے اور ولایت امت میں نبوت کی دلیل ہوتی ہے۔ نبی، اللہ کی شان ہوتا ہے اور ولی اپنے نبی کی شان ہوتا ہے جیسی شان کا حامل نبی ہو اسی کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کو بڑے بڑے ولی ملے جس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کو آصف بن برخیا جیسے ولی بھی ملے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میلوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت حاضر کرتے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے مگر کسی نبی کو غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی جیسا ولی نہیں ملا اس لئے کہ کوئی نبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوا۔ جو نبی کی شان ہوتی ہے وہ ولی اس شان کی برہان ہوتا ہے۔ ولی، نبی کی شان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح نبی کا مرتبہ ہوگا اس کی امت میں ولایت بھی اس کے مرتبے کا عکس ہوگی۔ نبوت حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نکتہ کمال پر جاپہنچی اور نبوت کا کمال نکتہ وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے حرکت نہیں کرسکتا۔ نبوت کا ارتقاء مقام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ولایت کا ارتقاء اور ولایت کا کمال نکتہ وجود غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم کو سلطان الاولیاء بنایا جیسے آقا خود سلطان الانبیاء ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی شان ہوتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں لہذا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور اللہ فرما رہا ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْليٰ ’’اللہ کی شان سب سے بڑی ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑا ہے۔ خدا کے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کائنات میں کوئی نہیں ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اللہ کی شان کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ اللہ کی رحمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کے ذکر کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کا عنوان محمد ہیں، اللہ کی محبت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح اللہ کی قدرت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کی عظمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ پاک نے فرمایا :

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO

(الرعد : 28)

’’جان لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر ہیں۔ گویا اللہ فرما رہا ہے لوگو دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہو جاؤ کہ میرا ذکر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں سب دلوں کا چین ہے۔

سورہ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO

’’ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدھی راہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔ یہ عظیم قول حضرت امام حسن بصری تک پہنچا تو امام حسن بصری رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے کہنے لگے خدا کی قسم درست معنی کیا ہے۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا.

(آل عمران : 103)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حَبْلِ اللّٰہ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی رسی جس کو تھامنا ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا : ’’محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘۔ پس حبل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ ذکر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ نور اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اطاعت اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ وجہ اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ بس اک رب، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ بس ایک رب کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب نہ کہو باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ایمان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ا سلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، کعبے کا کعبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جس کی طرف ہاتھ کرکے کہہ دیا یہ کعبہ ہے وہی کعبہ ہوگیا، جس سمت اشارہ کر دیا وہ قبلہ ہوگیا، جس کو قرآن کہہ دیا وہ قرآن ہوگیا، کسی نے قرآن اور جبرئیل کو اترتے، وحی کا نزول ہوتے نہیں دیکھا، جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دیا وہی قرآن اور وہی کعبہ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا بن دیکھے کہہ دو خدا ہے۔ ۔ ۔ سب نے کہا خدا ہے اور چودہ سو سال گذر گئے کسی نے خدا کو دیکھا نہیں ہر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر مانتا چلا آرہا ہے پس یہ عقیدہ ایمان ہے۔

ہر نبی اللہ کی شان ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی شان۔ اسی طرح حضور کی امت میں ہر ولی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور غوث الاعظم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ جس نے خدا کو اور خدا کی شان کو دیکھنا ہو تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے اور جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھنی ہو وہ سرکار بغداد غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کو دیکھے۔ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان کا عنوان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ کائنات نبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی شان اور کائنات ولایت میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔

 

میثاق نبوت اور میثاق ولایت

عالم ارواح میں سب انبیاء علیھم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے میثاق لیا فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَO

(آل عمران : 81)

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘۔

اس میثاق پر رب نے خود کو گواہ قرار دیا۔ کیوں کہ اللہ کی سب سے بڑی شان تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ گویا اپنی شان پر خدا خود گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا معاملہ آیا تو سب نبیوں نے گردنیں جھکالیں۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب وعدہ ہو رہا تھا۔ اچانک ایک نور چمکا اور سب انبیاء کے اُوپر بادل کی طرح چھا گیا تو انبیاء علیھم السلام نے پوچھا یہ نور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس کی نبوت کی وفاداری کا عہد کیا ہے یہ اُسی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے۔

گویا نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو سب نبیوں نے گردنیں جھکا دیں اور اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بات آئی تو سب ولیوں نے گردنیں جھکا دیں وہ میثاق نبوت تھا اور یہ میثاقِ ولایت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے لئے نبیوں کی گردنیں نہ جھکیں اور سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور ولی کے لئے ولیوں کی گردنیں نہ جھکیں۔ ایک واقعہ کائناتِ نبوت میں ہوا اور ایک واقعہ کائناتِ ولایت میں ہوا۔ اس لئے میں نے کہا نبوت کی دُنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور ولایت کی دُنیا میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ کوئی اعتراض کرے کہ تم شاہِ جیلاں، غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کرتے ہو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ ہم تو صرف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا نام پکارتے ہیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صفت اور شان کا تذکرہ کرتے ہیں اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف اور شمائل کا ذکر کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی مالا جپتے ہیں تو حقیقت میں خدا کی شان کا ورد کرتے ہیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں کائناتِ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان بنایا۔ لہٰذا آپ کی ولایت کو ولایتِ عظمیٰ اور آپ کی غوثیت کو غوثیتِ عظمیٰ بنایا اور آپ کی قطبیت کو قطبیتِ کبریٰ سے نوازا اور اس کا اقرار حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اﷲ پاک نے قَدَمِيْ هٰذِه عَلٰي رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيِّ اﷲ کے کلمات سے کروایا۔ یہ اَمر کسی اور کے لئے نہ کروایا۔ سب انبیاء کو معجزات دیئے مگر کثرتِ معجزات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیئے۔ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی کثرتیں دیں کہ کثرتیں بھی ختم ہو گئیں۔ کثرتوں کی اِنتہا کر دی تو شانِ نبوت میں کوثر منصبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور شانِ ولایت میں کوثر منصبِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ وہاں معجزات کی کثرت ہے۔ یہاں کرامات کی کثرت ہے۔ ولی کی ہر کرامت اس کے نبی کے معجزے کا تسلسل ہوتی ہے۔ ان کی ساری کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کے تذکرے میں لکھی جاتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب ولیوں کی کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب معجزہ کی فصلیں بنتی ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ولی نبی کی شان ہوتا ہے۔ اس لئے قاعدہ ہے کہ ولی کی کرامت اپنے نبی کا معجزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے نبی کا معجزہ اﷲ کی قدرت ہوتی ہے۔ نبی کا معجزہ رب کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا اظہار ہوتی ہے۔

 

حلقہ ارادت میں وسعت کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ امت عطا کی۔ حدیث پاک ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں جنتیوں کی 120 صفیں ہو نگیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی اُمتیں ہیں۔ سب نبیوں کی اُمتوں میں کچھ نہ کچھ اُمتی جنت میں جائیں گے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔ فرمایا کل انبیاء کی امت کے جنتی لوگوں کی ٹوٹل صفیں 120 ہونگیں اُن 120 صفوں میں 80 صفیں میری اُمت کی ہونگیں اور باقی ایک لاکھ چوبیس ہزار باقی انبیاء کی اُمتوں میں 40 صفیں تقسیم ہونگیں۔ جس طرح کثرتِ امت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئی اس طرح حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو کثرتِ ارادت کی نعمت ملی یعنی سلسلہ قادریہ میں کثیر تعداد میں مریدین عطا کئے گئے۔ اِس کائنات دُنیا میں جتنے مرید حضور غوثِ پاک کے ہوئے اوّل سے آخر تک کسی ولی کے نہ ہوئے اور نہ کبھی ہونگے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہو گزرے، ایمان لانے کے خواہشمند تھے مگر کلمہ نہ پڑھ سکے وہ بھی امت میں سے ہیں اور جملہ انبیاء بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہیں۔ اِسی طرح جنہوں نے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔ جو زبان سے کہہ دے یا غوث میں آپ کا مرید ہوں وہ غوث پاک کا مرید ہو گیا اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی حضور غوثِ پاک کے زیرِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔

 

سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

خواجہ ہند حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔ بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔

 

سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہ ہوئے۔ بعد ازاں زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام محمد باقر رضی اللہ عنہ، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک کے فیض کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک ہوئے۔

سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔

 

سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ

اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔

مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔

بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی Appoint ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔

 

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ

کائنات نبوت میں اللہ کی مثلِ اعلیٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے کائنات ولایت میں حضور کی مثل اعلیٰ حضور غوث پاک کی ذات ہے۔ اس دور میں، پورے زمانے میں، پورے عالم کے اندر غوث پاک کی مثل اعلیٰ حضور قدوۃ الاولیاء سیدنا ومرشدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤالدین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ یہ دعویٰ میں اس لئے نہیں کر رہا کہ میں ان کا مرید ہوں، ان کا غلام ہوں، ان کے در کا منگتا ہوں، ان کی خیرات پر پلنے والا ہوں۔ اس وجہ سے نہیں بلکہ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین جیسا میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ ظاہر میں، نہ باطن میں، نہ حسن میں، نہ جمال میں، نہ ولایت میں، نہ کمال میں، نہ تقویٰ میں اور نہ طہارت میں، نہ اتباع سیرت میں، نہ پاکیزگی کردار میں۔ ان کو جس طرف سے دیکھتے حضور غوث پاک کی مثل اعلیٰ نظر آتے۔ ان کی عزت نفس دیکھ کر غوث پاک کی عزت نفس یاد آجاتی، وہ کسی دنیا کے در کے محتاج نہ تھے، سائل نہ تھے ہر کوئی ان کا سائل تھا، ساری زندگی میں نے اپنے شیخ قدوۃ الاولیاء حضور سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کو جس پہلو سے بھی دیکھا ان کو پہاڑ پایا اور خود کو ذرہ پایا۔ ۔ ۔ ان کو سمندر پایا۔ ۔ ۔ خود کو قطرہ۔ ۔ ۔ حضور قدوۃ الاولیاء اپنی سولہ پشتوں میں کسی کی بات نہ کرتے مگر جب بولتے تو غوث پاک کی بات کرتے یا سیدنا سلطان الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتے۔

آپ نے کبھی دنیا والوں سے کچھ بھی طلب نہ کیا۔ کوئٹہ میں شروع شروع میں جب خدا داد روڈ پر حضور قدوۃ الاولیاء آباد ہوئے تو ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان نے خصوصی نمائندے کو بھیجا، عرض کیا : آپ پاکستان تشریف لائے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، جو حکم کریں آپ کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا ہم فقیر ہے، اس کا خیرات بہت ہے جب اس کا ختم ہوجائے گا تو آپ سے مانگ لے گا۔ یہ اولیاء کاملین اور سلف صالحین کا کردار تھا، آپ مقام تکوین پر فائز تھے۔ ۔ ۔ وہ کیا تھے۔ ۔ ۔ میں نے بات اس لئے یہ کہہ کر ختم کردی کہ حضور غوث پاک کے مثل اعلیٰ تھے۔ ۔ ۔ حضور غوث پاک کی شان تھے۔ ۔ ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دامن سے وابستگی، ان کی نوکری اور ان کی خیرات پر پلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

(اقتباس خطاب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری)

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »

اعلیٰ حضرت احمد رضاخان بریلوی

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

پیکر علم وعمل
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

 

تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں افق سند پر ایک ایسی شخصیت اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نظر آتی ہے جس کی ہمہ گیر اسلامی خدمات اسے تمام معاصرین میں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہے۔ شخص واحد جو عظمت الوہیت، ناموس رسالت، مقام صحابہ و اہلبیت اور حرمت ولایت کا پہرہ دیتا ہوا نظر آیا۔ عرب و عجم کے ارباب علم جسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی 10 شوال المکرم 1272ھ بمطابق 14 جون 1856ء کو بریلی (یو۔ پی بھارت) میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد مولانا شاہ نقی علی خان اور جد امجد مولانا رضا علی خاں اپنے دور کے اکابر علماء و اہلسنت اور اولیاء اللہ میں سے ہیں۔

فطری طور پر آپ علم وعمل کی طرف مائل تھے۔ حیرت انگیز ذہانت کے سبب آپ بہت جلد علم کی اعلیٰ منازل طے کرنے لگے چنانچہ آپ نے چار سال کی ننھی عمر میں پورا کلام پاک ناظرہ پڑھ لیا۔ 6 سال کی عمر میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر مجمع عام میں سیرت پاک پر طویل تقریر کی۔ آٹھ سال کی عمر میں ہدایہ کی عربی زبان میں شرح کی چودہ برس کی عمر میں آپ پورے عالم بن گئے اور بحیثیت مفتی فتوے جاری کر دیئے، کلام پاک یاد کرنے پر آئے تو رمضان شریف میں روزانہ ایک پارہ حفظ کرکے تراویح میں سنا دیا۔ اس طرح پورا کلام پاک ایک ماہ میں حفظ کرلیا، خدادا حافظے ہی کے سبب چودہ برس تک کی کتب پر آپ کی گہری نظر تھی۔ وہ جامع علوم و فنون شخصیت کے مالک تھے۔ علماء عرب و عجم آپ کو چودھویں صدی کا مجدد قرار دیتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق آپ کی کتابوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زائد ہے بعض علوم تو آپ نے خود ایجاد کئے جن کے نام تک سے لوگ ناواقف ہیں مندرجہ ذیل علوم میں مہارت آپ کے علمی مرتبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ترجمہ قرآن کنزالایمان

1911ء میں آپ نے شاندار ترجمہ قرآن کنزالایمان کے نام سے کیا جو تراجم قرآن کے ذخیرے میں ایک خوشگوار اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔

تفسیر قران

تفسیر میں امام اہلسنت کی یہ شان ہے کہ صرف سورہ الضحٰی کی علمی تفسیر کی چند آیات کی تفسیر چھ سو صفحات سے تجاوز کرگئیں۔

علم فقہ

فتویٰ نویسی میں آپ کا کوئی جواب نہ تھا دنیا بھر سے ایک دن میں پانچ پانچ سو نویس آتے جس زبان میں فتویٰ آتا جواب بھی اسی زبان میں دیتے۔ انگریزی فتوؤں کا جواب انگریزی اور منظوم کا جواب منظوم ہی دیتے۔ فتاویٰ عالمگیری کے بعد فقہ اسلامی کی دوسری عظیم کتاب فتاویٰ رضویہ ہے جسے علامہ اقبال یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے فتاویٰ ان کی ذہانت و فطانت فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں ان کے فتاویٰ سے ظاہر ہے کہ وہ کس قدر اعلیٰ اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور تھے۔

علم رجال

اپنی بے پناہ قوت حافظہ کے سبب آپ کو علم رجال میں وہ دسترس حاصل تھی کہ ایک ایک راوی کے حالات نوک زبان پر تھے اسی سبب سے آپ ایک ہزار سے زائد کتب لکھ سکے جنکا عمر بھر میں پڑھ لینا ہی مشکل ہے۔

تاریخ گوئی

فن تاریخ گوئی میں آپ امام تھے جتنی دیر میں کوئی مفہوم لفظوں میں ادا کرتا آپ اتنی دیر میں بلا تکلف تاریخی مادے فرما دیا کرتے تھے۔

خوش نویسی

خطاطی میں بھی آپ اپنا جواب نہ رکھتے تھے مختلف قسم کے رسم الخط بڑی روانی سے لکھے چلے جاتے تھے۔ آج بھی آپ کے نورانی مخطوطات اس فن میں آپ کی مہارت کاملہ کا آئینہ دار ہیں۔

علم مناظرہ

علم مناظرہ میں آپ کی ہر چہار طرف وہ دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ ساری زندگی کوئی مخالف آپ کے مدمقابل آنے کی جرات نہ کرسکا آپ نے جو تحریری مواد چھوڑا اس مواد کے رد میں آج تک ایک لفظ نہ لکھا جاسکا۔

شعرو شاعری

آپ ایک فطری شاعر تھے انتہا یہ کہ فصیح الملک داغ دہلوی نے بھی آپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہتے ہیں علمی تحقیقات اور شاعرانہ نازک خیالی بیک وقت شخص واحد میں جمع نہیں ہوسکتی مگر حضرت رضا بریلوی ایک ہی وقت میں بہترین نازک خیال شاعر بھی تھے اور ساتھ ہی جید عالم وفاضل و محقق کامل بھی تھے اگر آپ ایک بھی شعر اور نا لکھتے تو بھی سلام رضا کے سبب ہمیشہ زندہ رہتے ’’حدائق بخشش‘‘ آپ کی نعتیہ شاعری کا شاہکار ہے۔

علم توقیت

آپ نے علم توقیت میں اس قدر مہارت بہم پہنچائی تھی کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے۔

حساب، جیومیٹری اور الجبرا

ریاضی، جیومیٹری اور الجبرا میں ایسی حیرت انگیز مہارت رکھتے تھے کہ دنیا کے چوٹی کے ماہر حسابیات ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے وہ خود اعتراف کرتے ہیں۔ صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے۔

اردو میں سائنس

پاکستان میں عرصہ دراز تک یہی بحث چلتی رہی کہ آیا اردو زبان جدید سائنسی علوم کے بیان پر قادر ہے یا نہیں مگر پچھتر سال پہلے آپ نے حرکت زمین کے سلسلے میں ایک ایسا محققانہ مقالہ فوزمبین بامحاورہ اور رواں اردو میں لکھا کہ آج پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔

فونو گرافی اور فوٹو گرافی

آپ نے اپنی کتاب البیان شافیا یفونو غرافیا 1908ء میں فوٹو گرافی اور فونو گرافی کے فرق کو واضح کیا ہے فوٹو گرافی پر بحث کرتے ہوئے دو تحقیقی مقدمے لکھے ہیں اس کے علاوہ بھی آپ نے بیسیوں سائنسی مسائل پر تحقیق کی۔ آپ نے پوری شدت و قوت کے ساتھ بدعات کا رد کیا اور احیاء سنت کا فریضہ ادا کیا۔ علماء عرب و عجم آپ کو مدبر اعظم امام اہلسنت اور مجدد اسلام کا لقب دیتے ہیں۔ آپ ہندو اور انگریز دونوں سے نفرت کرتے تھے بقول مشہور صحافی شوکت صدیقی وہ انگریزوں اور انکی حکومت کے اس قدر کٹر دشمن تھے کہ لفافہ پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ میں نے چارج پنجم کا سر نیچا کر دیا احمد رضا خان بریلوی نے اس دور پرفتن میں بھی وحدت ملی کا چراغ بہر حال روشن رکھا۔ آپ برق رفتاری سے لکھتے تھے۔ 1856ء سے 1921ء تک آپ نے پچاس سے زائد علوم و فنون پر ایک ہزار سے زائد کتابیں لکھیں اگر آپ کی پینسٹھ سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر پانچ گھنٹے میں آپ ایک کتاب ہمیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گویا جو کام ایک کمپیوٹرائزڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا تھا وہ آپ نے تن تنہا انجام دیا۔

غرضیکہ آپ کی لامحدود وسعتوں کو دیکھ کر ماہرین فن کو اعتراف کرنا پڑا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی کی شخصیت ایسی پہلو دار اور جامع العلوم ہے کہ آپ کے کسی ایک پہلو پر بحث کرنے کے لئے اس فن کا ماہر ہی اس سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ (ڈاکٹر وحید قریشی، بڑودہ یونیورسٹی بھارت)

ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں کہ راقم کو امام رضا پر تحقیق کرتے 24 سال گزر چکے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ساحل سمندر تک بھی رسائی حاصل نہ ہوسکی۔ شناسائی تو دور کی بات ہے۔

محبت و عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا طرہ امتیاز ہے فرماتے ہیں میرے دل کے دو ٹکڑے کریں تو ایک پر لا الہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ لکھا ہوگا۔ آپ نے اپنے وصال کی پیشین گوئی قرآن پاک کی اس آیت سے کی۔

وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ.

خدام چاندی کے کٹورے اور گلاس لئے ان کو گھیرے ہیں۔

چنانچہ 25 صفر 1340ھ بمطابق 1921ء کو بروز جمعہ بوقت 2 بجکر 38 منٹ اذان جمعہ کے وقت ادھر حی علی الفلاح کی آواز بلند ہوئی ادھر آپ کی روح پاک مالک حقیقی سے واصل ہوگئی۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَO

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را

 

تحریر : عفت وحید

Posted in اسلامی آرٹیکلز | Leave a Comment »