تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘تحریک منہاج القرآن’ Category

تحریک منہاج القرآن کا تعارف، تحریک منہاج القرآن کیا ہے؟

ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے : پاکستان عوامی تحریک

Posted by naveedbcn پر نومبر 11, 2007

ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے : پاکستان عوامی تحریک

لاہور، 10 نومبر 2007ء صدر پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کا اجلاس زیرصدارت فیض الرحمان خان درانی منعقد ہوا جس میں موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر نے کہا کہ جمہوری اداروں کا وجود کسی بھی ملک کی بقاء اور ترقی کے لئے ناگزیر ہوا کرتا ہے جبکہ ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین عوام کے حقوق کو تحفظ دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس آئین کی معطلی انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوری عمل کے تعطل، آئین کی معطلی، عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے، آزادی اظہار پر قدغن لگانے اور میڈیا پر پابندی کی حمایت نہیں کر سکتی اس لئے وطن عزیز میں ایمرجنسی کے نفاذ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سے قبل کے حالات جس میں سیاستدانوں، حکومت اور ریاست کے دیگر ستونوں کے درمیان شرمناک محاذ آرائی ہو رہی تھی، بھی مثالی نہ تھے۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ عدلیہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کریں تاکہ عدالتیں عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلدازجلد ایمرجنسی کو ختم کرے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاک فوج کا امیج عوام الناس کی نظر میں دن بدن خراب ہو رہا ہے اور یہ ادارہ اپنی ساکھ گنوا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ حکومت، اپوزیشن، عوام الناس اور خود پاک آرمی کو چاہئے کہ وہ اس ادارہ کے وقار کی بحالی کے لئے کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کئی جماعتیں مذموم سیاسی کردار ادا کر رہی ہیں اور اندرون خانہ پاکستان دشمن غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں اور دکھاوے کا شورو غوغا کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی پیدا کرنے والے عوامل کا حقیقی معنوں میں قلع قمع کیا جائے اور ملک کو ایمرجنسی سے جلد چھٹکارا دلایا جائے۔

ميڈيا ونگ
تحريکِ منہاج القرآن

Posted in تحریک منہاج القرآن, خبریں | 1 Comment »

صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن

Posted by naveedbcn پر مئی 31, 2007

صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن

مورخہ 27 مئی بروز اتوار دن 10:00 بجے ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ یہاں پر ورکرز کو امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم نے دعوت بذریعہ کیسٹ اور سی ڈی ایکسچینج سنٹرز کی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کاکام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔
تحریک منہاج القرآن دنیا بھر میں اسلام کی تعلیمات کی حقیقی روح کیساتھ تبلیغ میں مصروف ہے۔ اس موقع پر چوہدری مشتاق، سردار شاکر مزاری، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

Posted by NaveedBCN پر مئی 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

لاہور، 30 مئي 2007ء

گزشتہ روز تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کا کام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔ اس موقع پر امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم، مرکزی صدر منہاج القرآن یوتھ لیگ بلال مصطفوی، سینئر نائب امیر تحریک منہاج القرآن پنجاب سردار شاکر مزاری، چوہدری مشتاق، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, اسلامی آرٹیکلز, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن

Posted by NaveedBCN پر مئی 4, 2007

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن

تحریک منہاج القرآن کے عظیم انقلابی پروگرام اور دعوت کے فروغ کےلیے فلاحی اور سماجی بہبود کے میدان میں کام کرنے کے لئے الگ سے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) قائم ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا قیام اکتوبر1989ء کو عمل میں لایا گیا جو بلا امتیاز رنگ ونسل اورجنس ومذہب ہمہ وقت خدمت انسانیت کےلیے مصروف عمل ہے۔

قیام کا مقصد

تحریک منہاج القرآن کے "نظریہ دعوت اوراسلام کے معاشرتی خدوخال” میں یہ چیز نمایاں ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور افراد کو شعوری طور پر انقلاب کےلیے تیار نہیں کرتی اور جس قدر ممکن ہو سکے ان کی محرومیوں اور مجبوریوں کے خاتمہ کےلیے عملی کاوش نہیں کرتی۔

قائد انقلاب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے محروم اور مجبور طبقات کی ہر ممکن مدد کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کی بنیاد رکھی اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ تمام انسانوں کے اندر انسانی ہمدردی کے جذبہ کو فروغ دیا جائے۔ باہمی محبت اور بھائی چارے کی فضاء قائم کی جائے اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر ایک حقیقی اسلامی معاشرے کی تشکیل کےلیے ایک عملی جدوجہد کی جائے۔ جس کے تحت ایسے منصوبہ جات کا آغاز کیا جائے۔ جن سے عوام الناس کی فلاح ہو سکے۔

نعرہ

ہمارا عزم ہمارا کام تعلیم، صحت، فلاح عام

بنیادی اہداف

  1. ملک گیر سطح پر با مقصد، معیاری اور سستی تعلیم کا فروغ۔
  2. صحت کی بنیادی ضروریات سے محروم افراد کےلیے معیاری اور سستی طبی امداد کی فراہمی۔
  3. خواتین کے حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام۔
  4. بچوں کے بنیادی حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام۔
  5. یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم وتربیت اور رہائش کا بہترین بندوبست کرنا۔
  6. قدرتی آفات میں متاثرین کی بحالی۔
  7. بنیادی انسانی حقوق کے شعور کی بیداری کی عملی کوشش کرنا۔
  8. بیت المال کے ذریعے مجبور اور حقدار لوگوں کی مالی امداد۔

تحریک کا بنیادی فلسفہء فلاح وبہبود

مختلف ادوار میں فلاحی خدمات سرانجام دینے کےلیے مختلف نظریات پیش کیے گئے۔ جن میں سے ایک نظریہ "مسائل کا فوری حل” جس کے تحت مسائل میں گھرے ہوئے فرد کی مدد اس طریقہ سے کی جائے کہ اس کو اپنے مسائل کا فوری حل مل جائے۔ مثلاً کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور کسی زخمی شخص کو فوراً مرہم پٹی کرنے کو سماجی خدمت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے نظریہ "مسائل کا مستقل حل” کے مطابق کسی بھوکے کو کھانا کھلانے سے بہتر ہے کہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا کر کانٹا خرید دیا جائے۔ کسی زخمی کی مرہم پٹی کے ساتھ ساتھ اس کو مرہم پٹی کا طریقہ سکھا دیا جائے تاکہ وہ خود اپنی بھوک مٹانے اور مرہم پٹی کرنے کے قابل ہو سکے جبکہ تحریک منہاج القرآن نے تیسرا نظریہ "مسائل کا مستقل حل اور ان میں کمی” پیش کیا ہے۔ جس کے تحت کسی بھوکے کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ تو ضرور بتایا جائے مگر اس کے ساتھ اس کی بھوک کے اسباب کو سمجھا جائے۔ ان اسباب سے اس بھوکے کو آگاہ کیا جائے اور معاشرتی نظام کی جس خرابی کی وجہ نے اسے بھوک کا شکار کیا ہے۔ اس کی اصلاح کی عملی کاوش کےلیے تیار کرنا تاکہ اگر آج کسی ایک کو بھوک کی وجہ سے ہاتھ پھیلانے پڑے ہیں تو معاشرتی عدم توازن کی وجہ سے کسی دوسرے اور بعد میں تیسرے فرد کو ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں اور اس طرح شعور کی بیداری سے غریب عوام کے مسائل میں کمی واقع ہو۔

تنظیمی سطحیں

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس وقت پاکستان اور بیرون ملک بیک وقت کام کر رہی ہے۔

بیرون ملک

تحریک منہاج القرآن کے ڈائریکٹوریٹ آف فارن افیئرز (نظامت امور خارجہ) کے تعاون سے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس وقت پاکستان سے باہر 35 ممالک میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت دنیا کے چار براعظموں امریکہ، جنوبی امریکہ، ایشیاء اور یورپ میں منہاج القرآن کے تحت ویلفیئر کا کام جاری ہے۔ بیرون ملک منہاج القرآن کے تحت مسلمانوں کی نوجوان نسلوں کی تربیت اور راہنمائی کےلیے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جس میں نوجوانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت و تعلیمات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دیار غیر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میں نوجوانوں کو عملی طور پر شریک کیا جاتا ہے۔ بیرون ملک فوت ہو جانے والوں کی میتوں کو ان کے ملکوں میں پہنچانے کےلیے منہاج القرآن نے خصوصی انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے جاری منصوبہ جات کےلیے مالی وسائل کی فراہمی میں منہاج القرآن کے بیرون ملک ممبران کا ہمیشہ اہم اور نمایاں کردار ہوتا ہے۔

وسائل کہاں سے آتے

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے ابتدائی دن سے کسی ملکی یا غیر ملکی ایجنسی، فلاحی ادارے، حکومت یا حکومتی ادارے سے اپنے منصوبہ جات کےلیے فنڈز نہیں لیے تحریک منہاج القرآن کے کارکنان اور ممبران ہی اس کے منصوبہ جات کےلیے فنڈز فراہم کرتے ہیں خصوصی طور پر پاکستان سے باہر منہاج القرآن کی تنظیمات اورافراد اس کے وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

پاکستان کے اندر فنڈز جمع کرنے کےلیے درج ذیل ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

  • قربانی کی کھالوں کی ملک گیر مہم
  • زکوٰۃ اکٹھا کرنے کی ملک گیر مہم
  • عمومی عطیات (Donations)
  • خصوصی عطیات (کسی پراجیکٹ کےلیے)

وضاحت

ادارہ منہاج القرآن پاکستان کے آئین کے مطابق ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اور قانون کے مطابق ہر سال اس کے اکاؤنٹس کا باضابطہ آڈٹ کروایا جاتا ہے۔ منہاج القرآن کو دیئے گئے عطیات کا باضابطہ حساب اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

ملک پاکستان یا پاکستان سے باہر جس سطح پر بھی خدانخواستہ کو ئی قدرتی آفت آتی ہے تو نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس قدرتی آفت کے متاثرین کی بحالی اور امداد کےلیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔

اندرون ملک (پاکستان)

پاکستان کے اندر کام کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا باضابطہ ایک نظام ہے جس کا سٹرکچر درج ذیل ہے:

سطح تنظیم مشاورتی کونسل
مرکزی مرکزی تنظیم مشاورتی کونسل، ویلفیئرایگزیکٹو، ویلفیئر بورڈ۔
صوبائی صوبائی تنظیم صوبائی ایگزیکٹو
تحصیلی تحصیلی تنظیم تحصیلی ایگزیکٹو
پراجیکٹ بورڈ ہر منصوبہ کا ایک پراجیکٹ بورڈ ہوتا ہے۔

وسائل کی تقسیم کا طریق

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) میں دیگر تنظیموں کی طرح تمام وسائل کو مرکز (ہیڈ کوارٹر) پر جمع کرنے کا نظام نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نظام کے تحت ملک بھر میں جمع ہونے والے تمام وسائل مقامی سطح پر جمع اور مقامی سطح پر ہی خرچ کیے جاتے ہیں۔ تاکہ عوام کا دیا ہوا پیسہ ان کی نگرانی میں ان کے علاقوں کی فلاح کےلیے خرچ ہو سکے۔

جبکہ مرکزی منصوبہ جات کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) الگ سے فنڈز کا بندوبست کرتی ہے۔

سابقہ ذمہ داران وعہدیداران

اس موقع پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) میں کام کرنے والے ان سابقہ عہدیداران کو اگر خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تومناسب نہ ہوگا۔ ایسے تمام لوگ جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس کی بنیاد رکھی اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا ان کے نام یہ ہیں:

  • محترم الحاج محمد سلیم شیخ
  • محترم خالد محمود درانی
  • محترم راحت حبیب قادری
  • محترم طاہر محمودانجم
  • محترم محمد شعیب ہاشمی
  • محترم حاجی ولایت قیصر
  • محترم مہر خالد جاوید
  • محترم انوار اختر ایڈوؤکیٹ
  • محترم خادم حسین شاہ بخاری
  • محترم بریگیڈیئر (ر) محمد یوسف
  • محترم میجر مشہود اختر
  • محترم بریگیڈیئر طارق محمود
  • محترم شفیق احمد چوہدری
  • محترم ساجد محمود بھٹی
  • محترم شکیل احمد طاہر
  • محترم کرنل (ر) محمد احمد
  • محترم صابر حسین

موجودہ تنظیم

  • محترم شیخ زاہد فیاض (ناظم)
  • محترم ملک شمیم احمد خان (سینئر نائب ناظم)
  • محترم صفدر عباس (نائب ناظم)
  • محترم قیصر نواز قیس (آفس سیکرٹری)
  • محترم محمد عاقب (نائب قاصد)

نظامت ویلفیئر ماضی کے آئینہ میں

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا قیام اکتوبر1989ء کو عمل میں لایا گیا۔ اس طرح نظامت ویلفیئر کی 16 سالہ کارکردگی پیش خدمت ہے۔

16 سالہ کارکردگی اور منصوبہ جات کا تعارف

نظامت ویلفیئر کے کام کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ اور اس کے تمام تر منصوبہ جات اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔

  1. تعلیم
  2. صحت
  3. فلاح عام

1۔ تعلیم

قائد انقلاب پروفیسرڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نظریہ کے مطابق اس قوم کے تمام مسائل (بے روزگاری، نشہ، انتہاپسندی، دہشت گردی، فساد، گھریلو ناچاقی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، چوری ڈکیتی) کا اصل سبب صرف جہالت ہے اور ان تمام مسائل کا حل صرف فروغ تعلیم سے ممکن ہے۔ اس لیے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا اعلان ہے "سرسید احمد خان نے قوم کو ایک علیگڑھ دیا تھا۔ میں ان شاء اللہ اس قوم کو 100 علیگڑھ دوں گا” اسی لیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے تعلیم کے عنوان کے تحت ایسے منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس سے لوگوں کے اندر شعور بیدار کیا جاسکے ان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور سے منور کیا جاسکے۔ غریب مگر ہونہار طلباء کی تعلیم کےلیے سکالر شپ کا انتظام کیا جاسکے اور نادار بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جاسکیں۔

الف: فروغ تعلیم کے اداروں کا قیام

اس کےلیے نظامت ویلفیئر کے تحت ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے تقریباً 9 سال کی کم مدت میں ملک بھر میں 572 سکولز اور 41 کالجز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کی مکمل تفصیلات منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کی رپورٹ میں درج ہیں۔ جبکہ اجمالی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ اس منصوبہ کےلئے تمام وسائل مقامی تنظیمات نے جمع کئے اور مقامی سطح پر ہی خرچ کئے گئے۔

تعلیمی منصوبہ

سطح تعداد سکولز قیام فی سکول قیام پر کل خرچ توسیع پر اخراجات طلبہ کی فیس رعایت کل خرچ
منہاج پبلک سکولز 319 75,000 2,39,25,0000 3,95,56,000 1,60,00,000 8,94,81,000
منہاج ماڈل سکولز 253 1,50,000 3,79,50,000 5,06,00,000 2,13,00,000 10,98,50,000
منہاج آئی ٹی کالجز 17 3,00,000 1,23,00,000 2,05,00,000 86,00,000 4,14,80,000
589 7,41,75,000 11,06,56,000 5,59,00,000 24,07,31,000

خصوصیات

  1. ان تعلیمی اداروں کے قیام کےلیے تمام تر وسائل نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) فراہم کرتی ہے۔
  2. ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کم ازکم 25 فیصد غریب مگر ہونہار طلبہ کے اخراجات نظامت ویلفیئر برداشت کرتی ہے۔
  3. مستحق اور نادار طلباء کو سکول کی کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
  4. ملک بھر میں جاری مروجہ نصاب کی جگہ بامقصد اپنا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
  5. تعلیمی میعار برقرار رکھنے کےلیے تمام کلاسز کے سالانہ امتحانات منہاج ایجوکیشن بورڈ کے تحت لیے جاتے ہیں اور بورڈ کے تحت ہی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔
  6. ان تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم برائے تعلیم نہیں ہے اور نہ صرف ڈگریوں اور اسناد کا جاری کرنا ہے بلکہ بنیادی مقصد طالب علم کو ایک مثبت سوچ کا حامل پاکستانی شہری بنانا ہے۔
  7. ان اداروں میں طلباء کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ب۔ سٹوڈنٹس سکالرشپ

ایسے نادار طلباء جو پڑھائی میں انتہائی بہترین ہیں لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا حصول مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے کےلیے سٹوڈنٹ سکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے جس کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے زیر اہتمام سٹوڈنٹ ویلفیئر بورڈ SWB بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کےلیے طلباء کو وظائف دیئے جاتے ہیں اس وقت تک اس بورڈ کے تحت سکالر شپ لینے والے فارغ التحصیل طلباء کی تعداد درج ذیل ہے:

  • حفظ قرآن 620
  • میٹرک 478
  • بی۔اے 473
  • ماسٹر 193
  • پی ایچ ڈی 02ٹوٹل 1766

اس پر اب تک کل لاگت 2,22,69,200 (دو کروڑ بائیس لاکھ انہتر ہزار دو صد روپے) آئی ہے جس سے 1766 طلباء و طالبات مستفید ہوئے۔ اس وقت 187 طلباء کو فیس معافی کی سہولت حاصل ہے۔ MES کے تحت سکو لوں میں دیئے جانے والے سکالر شپ اس میں شامل نہیں ہے۔ اور نہ ہی کالجز کی طرف سے دی جانے والی رعایت شامل ہے جو کہ لاکھوں روپے بنتی ہے۔

طریقہ کار

اس پراجیکٹ کے تحت طلباء سے باضابطہ مخصوص فارم پر درخواست وصول کی جاتی ہے اور طالب علم کی تعلیمی، معاشی حالت غیر نصابی سرگرمیوں، پرنسپل ریمارکس اور تحریکی وابستگی/ تحریکی تصدیق کی بنیاد پر میرٹ بنایا جاتا ہے اور صرف میرٹ پر آنے والے طلباء کو ہی سکالر شپ دیا جاتا ہے ہر بچہ کسی ایک ڈونر کے ساتھ منسوب ہو جاتا ہے اکثر ڈونر از خود بچے کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور اس ڈونر کو بچے کی تعلیمی کارکردگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سکالر شپ سالانہ بنیادوں پر دیا جاتا ہے اور صر ف ان طلباء کو اگلے سال سکالر شپ دیا جاتا ہے جو تعلیمی معیار پر پورا اتریں۔ ڈونر کی سہولت کےلیے سٹوڈنٹس سکا لر شپ کے درج ذیل پیکج بنائے گئے ہیں۔ اگر کوئی بھی فرد کسی بچے کوسپانسر کرنا چاہے تو کسی پیکج کو چن کر ڈونیشن (عطیہ) نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر باضابطہ ڈونر بن سکتا ہے۔ اس ڈونر کو حسب ضابطہ طالب علم کے کوائف اور کارکردگی سے آگاہ رکھا جائے گا۔

سٹوڈنٹ سپانسر پیکج:

تعلیمی درجہ تفصیل ماہانہ خرچہ بمعہ قیام و طعام سالانہ خرچ بمعہ قیام و طعام کورس کا کل خرچ کیفیت
حفظ قرآن پرائمری کے بعد(3 + 1 سال) 1820 22,000 88,000 دوران کورس طلباء وطالبات کو قرآن حفظ کے ساتھ مڈل بھی کروایا جاتا ہے۔
سیکنڈری سکول چھٹی تا میٹرک(5سال) 1500 18,000 90,000 کلاس 6 تا 10 تک تعلیمی بورڈ کی رسمی تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈگری کالج FA تا BA(4سال) 1820 22,000 88,000 میڑک پاس طلباء و طالبات کو BA تک تعلیم دی جاتی ہے۔
MA (عربی و اسلامیات) (شہادۃ العالمیہ) FA تا MA(7سالہ کورس) 1820 22,000 1,54,000 میڑک پاس طلباء و طالبات کو MA اور شہادۃ العامیہ کروایا جاتا ہے یہ ڈگری HEC سے باقاعدہ منظور شدہ ہے۔

نوٹ: مندرجہ بالا کور سز منہاج القرآن کے مرکزی تعلیمی اداروں واقع ٹاون شپ لاہور میں کروائے جاتے ہیں۔ جہاں پر طلباء و طالبات کےلیے علیحدہ علیحدہ تحفیظ القرآن ماڈل سکولز اور کالجز موجود ہیں۔ جن میں اخلاقی اور روحانی تربیت کا خاص اہتمام ہے۔

اس کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی اور میڈیکل کالجز کے مستحق طلباء و طالبات کو case to case ڈیل کیا جاتا ہے۔ اور حسب ضابطہ ان کی مدد کی جاتی ہے۔

ج۔ خصوصی سیمنارز اور کانفرنسز

شعور کی بیداری کےلیے ضلعی/ تحصیلی اور ملکی سطح پر سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کے اندرمسائل کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل عنوانات کے تحت مختلف سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں ہزاروں لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

  • ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ملک گیر مہم
  • ملکی سطح پر "چراغ علم جلاؤ بڑا اندھیرا ہے” کے عنوان کے تحت سیمنارز کی مہم
  • مرکزی سطح پر "بے روزگار کانفرنس” کا انعقاد
  • ملکی سطح پر "اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے” کا انعقاد

2۔ صحت

الف۔ فری میڈیکل ڈسپنسریز/ بلڈبنکس

عوام کی فلاح وبہبود کےلیے ملک بھر میں ڈسپنسریز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں منہاج فری کلینکس اور بلڈ بنکس کی تعداد مجموعی طور پر 102 ہے۔ اب تک اس منصوبہ کے تحت ہزارہا لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

اس نیٹ ورک پر اس وقت تک لاکھوں روپے لاگت آچکی ہے۔ اور اس سے ہزار ہا افراد روزانہ مستفید ہو رہے ہیں۔

ب۔ منہاج میڈیکل کمپلیکس (ساہیوال)

1989ء میں مقامی تنظیم نے ضلع ساہیوال کے اندر ایک میڈیکل کمپلیکس کا آغاز کیا جس سے اس وقت تک ہزاروں لوگ مستفید ہو چکے ہیں اس میڈیکل کمپلیکس میں درج ذیل شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔

  • طاہر القادری آئی ڈیپارٹمنٹ
  • جنرل میڈیکل ڈیپارٹمنٹ
  • فری لیبارٹری
  • فری آئی سی جی ڈیپارٹمنٹ
  • فری ٹی بی کلینک
  • آئی اپریشن تھیٹر
  • ایکسرے ڈیپارٹمنٹ

اس میڈیکل کمپلیکس میں آنے والے غریب اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ میعاری ادویات اور ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے۔ اس منصوبہ کے تحت اب تک 19,312 مریض استفادہ حاصل کر چکے ہیں اور اب تک ایک کروڑ سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔

د۔ ایمبولینس سروس

نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے تحت مقامی طور پرکچھ عرصہ قبل منہاج القرآن فری ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا۔ جس کے تحت 19 شہروں میں فری ایمبولینسز قائم کر دی گئی ہیں۔ اس سروس کے تحت غریب اور نادار مریضوں کو ایمبولینس کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ کسی بھی ناگہانی صورت میں ہماری فری ایمبولینس سروس ہر وقت فون کال پر دستیاب ہوتی ہے۔ اس منصوبہ پر اب تک ایک کروڑ سولہ لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

ر۔ سالانہ فری آئی سرجری کیمپ (نارووال)

پاکستان میں مروجہ فری آئی کیمپ سے مراد کسی ایک دن ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا اور اس سے دوائی کا نسخہ کا حاصل کرنا لیا جاتا ہے۔ جبکہ نظامت ویلفیئر نارووال کے زیر انتظام مقامی وسائل سے گذشتہ آٹھ سال سے سالانہ فری آئی سرجری کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس سے ہر سال سینکڑوں مریض مستفید ہوتے ہیں۔ جس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔

اس کیمپ کی چند اہم خصوصیات

  1. لاہور کے بڑے ہسپتالوں سے تجربہ کار ڈاکٹرز کی نگرانی میں کیمپ منعقد ہوتا ہے۔ محترم ڈاکٹر امانت علی اس کیمپ کے روح رواں ہیں اور ہرسال کیمپ کے انچارج ہوتے ہیں۔
  2. اس کیمپ میں بین الاقوامی معیار کی ادویات اور سامان استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اعلیٰ معیار کے جدید ترین طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔
  3. یہ ضلع (نارووال) نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ(NCHD) کے میعار میں ایک پسماندہ ضلع ہے لہٰذا نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن OPD کیمپس لگانے کےلیے ضلع کے دور دراز علاقوں کوخصوصی طور پر فوکس کرتی ہے۔ جہاں سے لوگوں کا غربت اور جہالت کی وجہ سے علاج کےلیے شہر میں آنا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح نظامت ویلفیئر کے ذریعے انکو Door Step پر صحت کی یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
  4. ہمارے ڈاکٹرز کی ٹیمیں سرجری کیمپ سے دو ماہ قبل دیہاتی سطح کے دورہ جات کر کے OPD کیمپ لگاتی ہیں۔ جہاں یہ ابتدائی طبی امداد کے مستحق افراد کو موقع پر ہی دوائی فراہم کر دی جاتی ہے۔ جبکہ آپریشن کے قابل مریضوں کوسرجری کیمپ کی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ اس طرح سالانہ تقریباً 3000 مریضوں کی آنکھیں چیک کی جاتی ہیں۔
  5. OPD ابتدائی کیمپوں سے بھیجے گئے مریضوں کے تین دن تک آپریشن ہوتے ہیں جس کی نگرانی پروفیسر سطح کے ماہر ڈاکٹر کر رہے ہوتے ہیں۔
  6. آپریشن کے بعد ایک دن تک مریض کو ڈاکٹرز کی نگرانی میں وہیں رکھا جاتا ہے۔ رہائش اور کھانا نظامت ویلفیئر کے ذمہ ہوتا ہے۔
  7. ایسے مستحق مریض جن کو آپریشن کے ساتھ ساتھ لینز کی ضرورت ہوتی ہے نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن ان کو مفت لینز فراہم کرتی ہے اور پوسٹ آپریشن آئی ڈراپس اور ادویات دی جاتی ہیں۔
  8. سالانہ بنیادوں پر تقریباً 500 مریضوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔
  9. متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض بھی اس کیمپ سے مستفید ہوتے ہیں۔
  10. مستحق مریضوں کے مفت آپریشن اور لینز ڈالے جاتے ہیں۔ اس کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ جو مستحق مریضوں کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے کلیئر کردہ مریضوں کے بالکل مفت اپریشن کیے جاتے ہیں۔
  11. منہاج القرآن کے اس کیمپ سے آپریشن کروانے والے مریضوں کو لاوارث نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ تین ماہ تک مسلسل فالو اپ (چیک اپ) رکھا جاتا ہے۔ جس میں ہمارے ماہر ڈاکٹر ہر پندرہ روز بعد ان مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور حسب ضرورت دوائی اور احتیاطی تدابیریں مہیا کی جاتی ہیں۔
  12. ضلع نارووال کی ضلعی حکومت اس فری آئی کیمپ کو نارووال کی تاریخ میں سب سے منظم اور بڑا فلاحی کیمپ قرار دے چکی ہے۔ ضلع انتظامیہ نارووال علاقے کے غریب عوام کو اس کیمپ کے ذریعے زبر دست ریلیف فراہم کرنے پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کا کئی مرتبہ باضابطہ شکریہ اد ا کر چکی ہے۔

اب تک کی مکمل رپورٹ

  • 1998ء سے فری آئی سرجری کیمپس کی تعداد = 7
  • چیک اپ کرانے والے مریض = 26,251 عدد
  • آپریشنز کی کل تعداد = 2,032 عدد
  • آپریشن + جنرل آئی چیک اپ کی کل تعداد = 28,283 عدد
  • اب تک کا کل خرچ = 55,30,000روپے
  • ایک مریض پر آنے والا اوسط خرچ = 2000 (لینز کے اخراجات 10,000 روپے)

سال 1998 1999 2000 2001 2002 2003 2004 ٹوٹل
اپریشنز(سادہ+IOL) 192 212 261 292 318 355 402 2,032
آئی چیک اپ کی تعداد 2,313 2,927 3,500 3,982 4,217 4,400 4,912 26,251
کل خرچ 540,300 625,000 751,411 811,370 878,420 914,719 1,008,780 55,300,000

س۔ مستحق مریضوں کی عملی معاونت

ایسے مریض جن کو ہسپتالوں میں داخلہ، دیکھ بھال اور دوائیوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کےلیے نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) عملی طور پر خود ڈاکٹروں سے مل کر مریضوں کی مشکلات حل کرواتی ہے۔ اور اگر ضرورت پڑے تو خود مالی تعاون کر کے مریض کے علاج کو یقینی بناتی ہے۔ اس وقت تک 732 مریضوں کی عملی معاونت کی جا چکی ہے۔

عوامی شعور کی بیداری

اس پروگرام کے تحت عوام الناس کےلیے بنیادی طبی مشوروں کی مہم چلائی جاتی ہے۔ جس میں ہمارے ماہرین کے ذریعے بیماریوں کی علامات، وجوہات اور احتیاطوں کے بارے میں لیکچرز اور لٹریچر تیار کر کے تقسیم کیا جاتا ہے۔ صحت، صفائی اور بنیادی صحت کے بارے میں شعور کےلیے لوگوں کی خصوصی کوچنگ کی جاتی ہے۔

3۔ فلاح عام

یہ ایک وسیع اور جامع عنوان ہے۔ اس کے تحت درج ذیل امور سرانجام دیئے جاتے ہیں:

  1. بیت المال
  2. اجتماعی شادیاں
  3. قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی
  4. غرباءمیں تحائف اور خوراک کی تقسیم
  5. پینے کے صاف پانی کی فراہمی
  6. یتیم بچوں کی کفالت کے لئے ”آغوش“
  7. سلائی مشینوں کی فراہمی

1۔بیت المال

اسلامی معاشرے میں بیت المال کی نہایت اہمیت ہے۔ یہ غریب اور نادار لوگوں کی امداد اور بحالی کا ادارہ ہوتا ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن ) نے شریعت محمدی کی روشنی میں "بیت المال ” قائم کیا ہے۔ اس سے ایسے افراد کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ جو کہ ایک دفعہ کی فوری امداد سے اس پریشانی کی کیفیت سے نکل سکیں۔ مثلاً

  • چھوٹے کاروبار کےلیے امداد
  • علاج کےلیے دوائیوں کی فراہمی
  • بچیوں کی شادی کےلیے معاونت
  • راشن وغیرہ کی فراہمی
  • روزگارکی فراہمی

درج بالا مدات پر سال 1990ء تا 2004ء تک تقریباً پچاس لاکھ روپے اخراجات آئے۔

طریقہ کار

باضابطہ درخواست فارم پر تحریری درخواست وصول کی جاتی ہے۔ سائل کو درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات کی نقول لف کرنا ہوتی ہیں۔ ہمارا نمائندہ خود تصدیق کرتا ہے۔ ویلفیئر بورڈ حتمی منظوری دیتا ہے۔

قیام سے اب تک اس سلسلہ میں درج ذیل رقم خرچ کی گئی ہے۔

  • طبی امداد کےلیے دی گئی رقم 41,61,500 روپے
  • جہیز فنڈ کےلیے دی جانے والی رقم 36,38,000 روپے
  • مالی طور پر مجبور لوگوں کو دی گئی رقم 39,78,000 روپے
  • ٹوٹل 1,17,77500 روپے

2۔اجتماعی شادیاں

ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ اس میں بیٹی کی شادی جیسا مقدس فریضہ بھی والدین پر بوجھ بن چکا ہے لڑکے والے منہ مانگے جہیز کے منتظر ہیں جبکہ دوسری طرف والدین بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے جہیز کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ باپ اور بھائی پندرہ سے بیس سال محنت کر کے ایک بچی کے جہیز کے سامان کی بمشکل صورت بنا سکتے ہیں۔ اور اگر کسی گھر میں ایک سے زیادہ بیٹیاں ہیں تو والدین کو مزید (20) بیس سال چاہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ والدین کی کل زندگی بچیوں کی رخصتی کی نظر ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی سب والدین کےلیے ایسا ممکن نہیں ہوتا والدین اور بھائی انتہائی کوشش کے باوجود لڑکے والوں کی ڈیمانڈ کے مطابق جہیز تیار نہیں کر سکتے۔ اور یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ مایوس ہو کر والدین یا بھائی خود کشی کر لیتے ہیں اور بعض دفعہ تو لڑکی خود کوخاندان پر بوجھ سمجھ کر خود کشی کر لیتی ہے اور معاشرہ بے حسی کا پیکر بنا ہوا اس برائی کے ہاتھوں پس رہا ہے۔ نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) نے والدین کے اس بوجھ اور پریشانی کے خاتمہ کےلیے دو سطح پر جہاد کا آغاز کیا ہے۔

  • جہیز کے خلاف بھر پور مہم
  • نادار بچیوں کی اجتماعی شادیاں

٭ نظامت ویلفیئر تحریک منہاج القرآن کے تحت جہیز کی لعنت کے خاتمہ کےلیے ایک منظم مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

نظامت ویلفیئر (تحریک منہا ج القرآن) کی تنظیمات نے مقامی وسائل سے ایسی غریب اور نادار بچیاں جن کے والدین ان کی رخصتی کےلیے جہیز کا سامان نہیں کرسکتے کےلیے اجتماعی شادیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ جس کےلیے ہمیں مخیر حضرات مالی معاونت کرتے ہیں۔ ان اجتماعی شادیوں کی چند بنیادی معلومات اور تفصیلات درج ذیل ہیں۔

  • دلہن کو گھر کی ضرورت کا مکمل جہیز فراہم کیا جاتا ہے۔
  • دلہا اور دلہن دونوں طرف کے 50/50 مہمانوں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
  • دلہا اور دلہن دونوں کے مہمانوں کی بھر پور آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹھنے کےلیے عالی شان انتظام کیا جاتا ہے۔
  • اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی سطح پر دلہا، دلہن یا ان کے رشتہ داروں کو احساس محرومی نہ ہو اور وہ عزت کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔

مجموعی طور پر اس وقت تک 135 بچیوں کی شادیاں نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے زیر انتظام ہو چکی ہیں۔ جبکہ ایک بچی کی شادی پر تقریباً 50,000روپے خرچ آیا ہے اور ٹوٹل خرچ 6,053,300روپے ہے۔ مقامی سطح پر ان شادیوں کےلیے مخیر حضرات کا تعاون منہاج القرآن پر اعتماد کی علامت ہے۔

جہیز پیکج

  1. جائے نماز
  2. قرآن پاک
  3. ڈنر سیٹ (پلاسٹک)
  4. ٹی سیٹ + کیٹلری سیٹ
  5. سلائی مشین
  6. چارپائیاں
  7. رضائیاں
  8. ٹفن
  9. آٹے والی پیٹی
  10. بکس/ سوٹ کیس/ بریف کیس
  11. دلہا دلہن کےلیے سوٹ
  12. بڑی پیٹی لوہے والی
  13. گریلو استعمال کیلئے دیگچی سیٹ
  14. تیل والا چولہا
  15. سینری مکہ ومدینہ
  16. واشنگ مشین
  17. چار کرسیاں + ایک ٹیبل
  18. پانی والی ٹینکی
  19. پیڈسٹل فین
  20. سونے کا سیٹ
  21. 50 افراد کے کھانے کا اہتمام

3۔ قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی

ملک پاکستان یا پاکستان سے باہر جس سطح پر بھی خدانخواستہ کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) اس قدرتی آفت کے متاثرین کی بحالی اور امداد کےلیے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ اس کی کارکردگی درج ذیل ہے۔نوٹ: یہ کوائف مقامی تنظیمات سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں جو کہ انہوں نے خود ارسال کیا۔

  1. افغان اور کشمیری مہاجرین کی امداد 47,00,000روپے
  2. متاثرین سیلاب (اندرون سندھ) 20,10,000روپے
  3. متاثرین قحط سالی (بلوچستان) 25,10,000روپے
  4. متاثرین بارش (گلگت) 2,00,000روپے
  5. متاثرین سیلاب (نالہ لئی راولپنڈی) 9,00,000روپے
  6. متاثرین زلزلہ(بام ایران) 55,00,000روپے
  7. متاثرین سونامی (انڈونیشیاء) 1,00,00,000روپے
  8. متاثرین برف باری (مری، ایبٹ آباد، مانسہرہ) 10,00,000روپے
  9. متاثرین بارش نصیر آباد۔ پسنی وغیرہ 5,00,000روپے
  10. متاثرین زلزلہ کشمیر + ہزارہ 10,00,00,000روپے سے زائد(جاری ہے)

قیام سے اب تک ان تمام آفات میں مجوعی طور پر 12کروڑ 73لاکھ 20ہزار روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

4۔ غرباء میں تحائف اور خواراک کی تقسیم

ہمارے معاشرے میں ایک طرف تو لوگ کروڑوں روپے کے محلات میں رہ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کسی کو سر چھپانے کےلیے جھونپڑی بھی دستیاب نہیں۔ ایک طرف گھوڑوں اور کتوں کو سیبوں کے مربے اور ایمپورٹڈ کھانے دستیاب ہیں جبکہ اسی شہر میں لاکھوں غریب بچوں کو چند قطرے دودھ بھی میسر نہیں۔ اور غربت کے مارے ہوئے لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہیں۔ غریب کا بچہ عید کے موقع پر نئے کپڑوں سے محروم ہے۔ اس کی بچی دوسری عورتوں کو بازار میں مہندی لگواتے یا چوڑیاں خریدتے اور پہنتے ہوئے دیکھ سکتی ہے مگرخود اس کی اتنی چھوٹی سی خوشی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک حسرت بن کر رہ جاتی ہے۔ عید والے دن کئی گھروں میں سویاں تک پکنے کی چھوٹی خوشی اور رسم نہیں ہو سکتی۔ اکثر غریب لوگوں کی فاقوں کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس مشکل گھڑی سے لوگوں کو نکالنے کےلیے یقیناً حکومتی سطح پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔نظامت ویلفیئر کے تحت ایسے ہی غریب اور مجبور افراد میں خوشیاں تقسیم کرنے کےلیے عید گفٹ اور راشن سکیم کا آغاز کیا جاتا ہے۔اس کے تحت غریب اور نادار گھرانوں میں عید کے موقع پر راشن،سویاں،کپڑے،مہندی اور مٹھائی اور اس کے علاوہ دیگر فری چیزیں فراہم کی جاتی ہیں۔جب کہ مستقل بنیادوں پر بھی راشن کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اس کے تحت اب تک مجموعی طور پرلاکھوں روپے خرچ کے گئے ہیں۔

5۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی

پاکستان کے اندر اس وقت تقریباً نصف سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اکثر جگہ پر گندہ پانی ہی پینے کو دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے خطر ناک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے بعض جگہوں پر خواتین کئی کئی میل کا فاصلہ طے کر کے پینے کےلیے ایک وقت کا پانی لے کر آتی ہیں اس ضرورت کے پیش نظر ملک بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1500 واٹرپمپ لگوانے کا منصوبہ زیر تکمیل ہے اس وقت تک مجموعی طور پر تقریباً 600 پمپ لگا دیئے گئے ہیں جس پر اٹھنے والے کل اخراجات 25,69000 (پچیس لاکھ انہتر ہزار) روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ جبکہ ابھی پمپس کی تنصیب جاری ہے اس منصوبہ کے تحت درج ذیل اضلاع میں واٹر پمپس لگائے گئے ہیں۔

  1. لاہور
  2. شیخوپورہ
  3. راولپنڈی
  4. اسلام آباد
  5. پلندری (آزاد کشمیر)
  6. میر پور ( آزاد کشمیر)
  7. تراڑ کھل (آزاد کشمیر)
  8. جھنگ
  9. لیہ
  10. ڈیرہ غازی خان
  11. بہاولپور
  12. مظفر گڑھ
  13. ملتان
  14. سرگودھا
  15. گوجرنوالہ
  16. جہلم
  17. گجرات
  18. فیصل آباد
  19. راجن پور
  20. مانسہرہ (سرحد)
  21. کوہاٹ(سرحد)
  22. میانوالی
  23. جعفر آباد (بلوچستان)
  24. نصیر آباد(بلوچستان)

سال 2003 2004 2005 ٹوٹل
تعداد واٹر پمپ 113 240 147 600
اخراجات 5,73,000 9,87,000 10,09,000 25,69,000

6۔ آغوش (Orphan Home)

ایسے غریب اور بے سہارا بچے جن کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے ان کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت اس معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر ایسے کسی ایک بچے کی مناسب تربیت نہ ہو سکے تو وہ بگڑ کر معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے اورا س کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں یتیموں کے ساتھ رحم اور شفقت کرنے کے احکامات جگہ جگہ ملتے ہیں۔ ان ہی تعلیمات کی روشنی میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جس کی تعمیر جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ عنقریب افتتاح کر دیا جائے گا۔

چند خصوصیات

  • 500 یتیم بچوں کی پرورش کا ادارہ ہو گا۔
  • منہاج دارالرحمت میں یتیم بچوں کو ہی لیا جائے گا۔
  • بچے کی بہترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا جائے گا۔
  • بچے کی رہائش فری ہوگی۔
  • بچے کو میعاری اور ضروری خوراک مثلاً (دودھ اور پھل وغیرہ) بھی فراہم کی جائے گی۔
  • ہر پانچ بچوں کی نگرانی کےلیے ایک آیا (ماں) کا تقرر کیا جائے گا۔
  • بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے کےلیے باقاعدہ قاری کی تقرری کی جائے گی۔
  • شام کے اوقات میں تعلیم دینے کےلیے باقاعدہ اساتذہ کا تقرر کیا جائے گا۔
  • بچوں کو ایک گھر کا ماحول دیا جائے گا تاکہ ان کے اندر احساس محرومی پیدا نہ ہو سکے۔
  • داخلے کے بعد بچے کی تمام تعلیم و تربیت، جوان ہونے پر کاروبار اور شادی کی ذمہ داری بھی ادارہ پر ہوگی۔
  • ہر بچے کا باقاعدہ طور پر کفیل (Doner) کے زیرسرپرستی اندراج کیا جائے گا اور ہر لمحہ اس کی کارکردگی سے اس کو آگاہ رکھا جائے گا۔
  • 7۔ سلائی مشینوں کی فراہمی

    بیوہ خواتین کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھنے کےلیے سلائی مشینوں کی فراہمی کا منصوبہ شروع گیا ہے۔ تاکہ وہ بیوہ محنت مزدوری کر کے پیٹ پال سکے اور عزت کی زندگی گذارے۔ اب تک 113 مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ جن پر کل لاگت 3,95,500روپے آچکی ہے۔

    اجتماعی قربانی

    مرکز پر کی جانے والی اجتماعی قربانی کے ذریعے مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ اس اجتماعی قربانی میں اندرون اور بیرون ملک دونوں جگہ سے لوگ حصص جمع کرواتے ہیں۔ ان کی ہدایات کے مطابق جانور ( گائے، بکرا، چھترا) خرید کر ذبح کئے جاتے ہیں اور حسب ہدایات گوشت ان کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ یا پھر غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس مہم کے ذریعے غریب لوگوں میں تقریباً 400 من گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ تقریباً 300 کارکنان 15 دن تک مسلسل محنت کرکے قربانی کے اس عمل کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس قربانی کے ذریعے حاصل ہونے والی کھالیں ویلفیئر کی آمدن کا ذریعہ ہیں۔ الحمدللہ عوام کی بھر پور تائید اور اعتماد کی وجہ سے ہر سال اجتماعی قربانی میں حصہ جمع کروانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس وقت ہمیں سالانہ لاکھوں روپے کی قربانی موصول ہوتی ہے۔

    دعوت عمل

    آئیے! مل کر دکھی انسانیت کی خدمت کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔ اپنی زکوٰۃ، صدقات، عطیات نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن ) کو دیں۔

    آپ کی سہولت کےلیے درج ذیل پیکج دیئے جا رہے ہیں آپ کسی ایک پیکج کا انتخاب کر کے اس نیکی کے کام میں مالی معاونت کر سکتے ہیں۔

    نام منصوبہ

    ماہانہ خرچ سالانہ خرچ کل خرچ
    سکالر شپ برائے حفظ قرآن 1820 22,000 88,000
    سکالر شپ برائے سیکنڈری سکول 1500 18,000 90,000
    سکالر شپ برائے ڈگری کالج 1820 22,000 88,000
    سکالر شپ برائے ڈبل MA (شہادۃ العالمیہ) 1820 22,000 154,000
    فری میڈیکل ڈسپنسری 15,000 180,000 (قیام) 200,000
    فری ایمبولینس (چھوٹی وین) 20,000 ۔۔۔۔۔ (قیام) 500,000
    فری ایمبولینس (بڑی وین) 25,000 ۔۔۔۔۔ (قیام) 18,00,000
    آنکھوں کا آپریشن (سادہ عینک والا) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 2,000
    آنکھوں کا آپریشن + لینز ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    غریب بچی کی شادی کےلیے امداد ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    غریب بچی کی شادی کا مکمل سامان ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 50,000
    بے روزگار فرد کے کاروبار کےلیے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 25,000 تا 50,000
    تحائف اور راشن سکیم (فی گھرانہ) 2,000 ۔۔۔۔۔ سالانہ 24,000
    پینے کے صاف پانی کی فراہمی (فی واٹر پمپ) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 10,000
    پینے کے صاف پانی کی فراہمی (کنواں) ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 25,000
    بیوہ خواتین کےلیے سلائی مشین ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 4,500
    یتیم بچے کی کفالت 3,000 ۔۔۔۔۔ 36,000

    نوٹ: ہم آپ کو اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کا دیا ہوا ایک ایک روپیہ ہمارے پاس قوم کی امانت ہے اور آپ کی ہدایات کے مطابق پراجیکٹ پر ہی خرچ ہوتے ہیں نیز یہ کہ آپ کی زکوٰۃ وصدقات شرعی اصولوں کے عین مطابق خرچ کیے جاتے ہیں۔

    ڈاکو منٹریز

    نظامت ویلفیئر کے زیر اہتمام جاری منصوبہ جات کی تفصیلات عوام تک پہنچانے کےلیے اب تک دو ڈاکومنڑیز تیار کی گئی ہیں۔

    1. طلوع فجر
    2. MWF 2004

    اس کے علاوہ مختلف 6 سب ڈاکومنڑیز تیار کی گئی ہیں۔ ہر مہم پر اشتہار تیار کروائے جاتے ہیں جن کو TV اور کیبل کے ذریعے نشر کروایا جاتا ہے۔ اب تک تیار ہونے والے اشتہارات کی تعداد 28 ہو چکی ہیں۔

    ویب سائٹ

    منصوبہ جات اور معلومات کی عوام تک رسائی کےلیے ایک ویب سائٹ تیار کی گئی ہے۔ جس پر نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کے تمام موجودہ اور آئندہ منصوبہ جات کی تفصیل، جاری مہمات کی تفصیلات، اپیل، رپورٹس اور تصاویر مہیا کی گئی ہیں۔

    نظامت ویلفیئر (تحریک منہاج القرآن) کی تمام سرگرمیوں کی پریس کوریج دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیمات اور معلوماتی امور کے لیے E-mail ایڈریسز بنائے گئے ہیں۔ جس سے لوگ ویلفیئر آفس میں براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ کو سالانہ 7,000 افراد وزٹ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک 1,87,000 افراد وزٹ کر چکے ہیں۔ جبکہ E-mail ایڈریس کے ذریعے اوسطاً سالانہ 800 افراد رابطہ کرتے ہیں۔ اور مجموعی طور پر تقریباً 18,000 افراد رابطہ کر کے معلو مات کا تبادلہ کر چکے ہیں۔

    www.welfare.org.pk
    E-mail: info@welfare.org.pk
    director@welfare.org.pk

    Posted in تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

    خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ

    Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

    خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ، کراچی

    شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا مکمل خطاب، جس میں خوابوں اور بشارات کے حوالے سے کئے جانے والے تمام اعتراضات کا علمی محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔

    خوابوں اور بشارات والی وہ کیسٹ فتنہ پرور عناصر کے ہاتھ لگ گئی۔ سیاق و سباق سے جدا کرکے تین گھنٹے کے دورانیے کو آدھ پون گھنٹے کا کرکے ابتدائیے اور متعلقہ وضاحتوں کو کاٹ کر عامۃ الناس میں بدگمانیوں پیدا کرنے کے لئے منظم طریق سے پھیلایا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن حکیم کی یہ آیت کریمہ

    لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلوۃَ وَأَنتُمْ سُكَارَى. (النساء، 4 : 43)
    اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ۔

    کا آدھا آخری حصہ کاٹ دیا جائے اور کہا جائے کہ دیکھو قرآن کہہ رہا ہے کہ ’’نماز کے قریب مت جاؤ‘‘ آپ ذرا تحریف کے مرتکب اس شخص کے ایمان کا اندازہ کر لیں۔ اس سے بڑی بد دیانتی وخیانت اور کیا ہوگی؟
    خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ (مکمل کتاب)

    ایک شخص نے جو دعوی ہی نہیں کیا، اسے اس کی طرف منسوب کرنا آزادی رائے نہیں بلکہ الزام تراشی ہے۔ محض سنی سنائی باتوں پر سیخ پا ہونے کی بجائے پہلے براہ راست ذرائع سے بات کی تہہ تک پہنچیں ورنہ تاجدار کائنات (ص) کا فرمان ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیان کرنے لگے۔ (اوکماقال)

    Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن, خطابات طاہر القادری | Leave a Comment »

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کہانی ان کی زبانی

    Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

    شیخ الاسلام کی زندگی کی کہانی انہی کی زبانی

    حصہ اول

    حصہ دوم

    حصہ سوم

     

    Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن, خطابات طاہر القادری | 2 Comments »

    منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب

    Posted by minhajian پر مئی 1, 2007

    منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب
     

    www.MinhajBooks.com

    تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر منہاج انٹرنیٹ بیورو میں مؤرخہ 9 اپریل 2007ء بروز سوموار منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر منہاج انٹرنیٹ بیورو عبدالستار منہاجین، منیجر ملٹی میڈیا بصیر احمد، کونٹنٹ منیجر صابرحسین اور ویب پروگرامر شہزاد احمد نے شرکت کی۔صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ تحریک منہاج القرآن ایک مشن، فکر اور پیغام ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سربراہی میں قائم یہ مشن ایک درخت کی مانند ہے اور تمام شعبہ جات اس کی شاخیں ہیں۔ ہر شاخ کو پانی برابر ملتا ہے۔ منہاج انٹرنیٹ بیورو کو بھی اتنا ہی فیض مل رہا ہے جتنا کہ دوسرے شعبہ جات کو۔ انہوں نے فرمایا کہ منہاج انٹرنیٹ بیورو بین الاقوامی سطح پر تحریک کا پیغام پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان سے باہر تمام دنیا کو مرکز سے مربوط کرنے والا شعبہ ہے۔ یہ سب اللہ رب العزت کی عطاء، تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصدق اور حضور شیخ السلام کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ کم وسائل میں اتنے اچھے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

    محترم حسین محی الدین قادری نے مزید فرمایا کہ منہاج بکس ڈاٹ کوم کے ذریعے ان شاء اللہ پوری دنیا میں امت مسلمہ اور غیر مسلموں کو اسلام کے ہر گوشے کے حوالے سے وافر مواد ملے گا اور اس کی مدد سے ہر قسم کے اشکالات دور ہوں گے۔ انہوں نے کہا تحریک منہاج القرآن کی جنگ فرقہ واریت، تنگ نظری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ تحریک عالمی سطح پر فرقہ واریت کے خاتمہ اور اسلام کے حقیقی تشخص کی بحالی پر محنت کر رہی ہے اور اس قلمی جہاد میں منہاج انٹرنیٹ بیورو کی خدمات نمایاں ہیں۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر منہاج انٹرنیٹ بیورو عبدالستار منہاجین نے منہاج بکس ڈاٹ کوم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ ویب سائٹ یونیکوڈ میں ہزاروں صفحات پر مشتمل نایاب ذخیرہ فراہم کرتی ہے کیوں کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں مطلوبہ مواد کی تلاش صرف اِسی صورت میں ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تصویری روپ میں بھی مواد فراہم کرتی ہے تاکہ استعمال کنندگان اپنی حسب منشاء و ذوق کسی بھی شکل میں کتب کا مطالعہ کر سکیں۔ سردست یہاں 21,000 سے زائد صفحات پر مبنی 128 کتب تصویری و تحریری روپ میں شائع کی گئی ہیں، جن میں ان شاء اللہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ تحریک منہاج القرآن علمی و فکری میدان کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لانے میں بھی رہنما کی حیثیت رکھتی، اور آج سے بارہ سال قبل جب پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوا تو یہ پاکستان کی سب سے پہلی اسلامی تحریک تھی جس نے اپنی ویب سائٹ قائم کی اور اپنی سرگرمیاں شائع کرنے کے علاوہ اسلام مخالف پراپیگنڈے کا جواب دینے کی بنیاد رکھی۔ مگر حاسدین کو یہ روش پسند نہ آئی اور انہوں نے تحریک منہاج القرآن اور شیخ الاسلام کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کا اظہار کرنے کے لیے بے بنیاد پراپیگنڈا کیا اور حضرت شیخ الاسلام کی علمی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس اور ڈسکشن فورمز پر کیچڑ اچھالا۔

    انہوں نے کہا کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے اہل علم اور عامۃ الناس تک حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے افکار و نظریات اور تعلیمات ہزاروں صفحات پر مشتمل اس ڈیجیٹل لائبریری کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے متلاشیانِ علم مختلف موضوعات پر سیر حاصل مواد تلاش کر سکتے ہیں۔ اب انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کو چاہیے کہ نہ صرف خود حضور شیخ الاسلام کی کتب کا مطالعہ کریں اور دوستوں کو مطالعہ کی دعوت دیں بلکہ اسلام و بانئ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ آلہ وسلم پر کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب دینے کے لیے حسبِ ضرورت دوسری ویب سائٹس اور ڈسکشن فورمز پر مواد نقل بھی کریں تاکہ اس مشن کا نور چہار دانگ عالم میں ہر سو پھیلے۔

    بعد ازاں فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منہاج انٹرنیٹ بیورو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ عشائیہ کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ محمد فاروق رانا نے منہاج انٹرنیٹ بیورو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ FMRi کے زیر اہتمام حضور شیخ الاسلام کی شائع ہونے والی کتب کی آن لائن اشاعت ایک گراں قدر خدمت ہے۔ منہاج انٹرنیٹ بیورو نے عرفان القرآن کی آن لائن اشاعت کے ٹھیک ایک سال بعد ایک اور عظیم کارنامہ سرانجام دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو زبان میں خدمتِ دین کے سلسلہ میں انہیں ایک رہنما کی حیثیت حاصل ہے۔ تحریک منہاج القرآن عمل پر یقین رکھتی ہے اور زمینی و برقی ہر سطح پر اِسلام کی ترویج و اِشاعت میں مصروفِ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

    آخر میں فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مکمل اسٹاف نے منہاج انٹرنیٹ بیورو کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔ پروگرام کا اِختتام دعائے خیر کے ساتھ ہوا۔

    Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب یونیکوڈ

    Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

    ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتب – تحریری روپ میں

    قرآنیات
    العرفان فی فضائل و آداب القرآن
    فلسفہ تسمیہ
    لفظِ ربُ العالمین کی علمی و سائنسی تحقیق

    الحديث
    تکمِیلُ الصَّحِیفَۃ بِاَسَانِیدِ الحَدِیث فِی الآمام ابی حَنِیفَۃ
    الانوارُ النَّبَوِیَّۃ فِی الاسانیدِ الحَنَفِیَّۃ (مَعَ احادِیاتِ الآمام الاعظم)
    البدر التمام فی الصلوٰۃ علیٰ صاحبِ الدُّنُوّ و المقام
    غایۃ الاجابۃ فی مناقب القرابۃ (اہلِ بیتِ اطہار سلام اﷲ علیہم کے فضائل و مناقب)
    العِقد الثّمین فی مناقب امھات المؤمنین (اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہن کے فضائل و مناقب)
    الاربعین: القول الوثیق فی مناقب الصدیق
    القَولُ الصَّوَاب فِی مَنَاقِب عُمَرَ بنِ الخَطَّاب
    رَوضُ الجِنَان فِی مَنَاقِبِ عُثمَانَ بنِ عَفَّان
    کَنزُ المَطَالِبِ فِی مَنَاقِبِ عَلِیِ بنِ ابِی طَالِب
    الاربعین: مرج البحرین فی مناقب الحسنین علیہما السلام
    اَلاِنتِبَاہُ لِلْخَوَارِجِ وَالْحَرُوْرَاءِ …. گستاخانِ رسول کی علامات

    اِعتقادیات
    عقائد میں احتیاط کے تقاضے
    مبادیات عقیدۂ توحید
    عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور
    عقیدۂ توحید کے سات ارکان
    عقیدۂ توحید چند اہم موضوعات
    البِدعَۃ عِندَ الائِمَّۃ وَ المُحَدِّثِین (بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں)
    وسائط شرعیہ
    مسئلہ اِستغاثہ اور اُس کی شرعی حیثیت
    زیارت قبور
    تبرک کی شرعی حیثیت
    خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ

    سیرت و فضائلِ نبوی (ص)
    مطالعۂ سیرت کے بنیادی اصول
    میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    برکاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    اَسیرانِ جمالِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

    عبادات
    التَّصْرِيْحُ فِي صَلَاۃِ التَّرَاوِيْحِ بيس رکعت نمازِ تراويح کا ثبوت
    الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَاۃِ نماز کے بعد اُٹھا کر دعا مانگن

    شخصیات
    السیف الجلی علٰی منکر ولایۃ علی
    القول المعتبر فی الامام المنتظر
    ذبحِ عظیم (ذبحِ اسماعیل سےذبح حسین تک)

    اِسلام اور سائنس
    تخلیقِ کائنات (قرآن اور جدید سائنس کا تقابلی مطالعہ)
    شانِ اَولیاء (قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں)

    عصریات
    میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ
    اِسلام کا تصوّرِ علم
    اسلام میں اقلیتوں کے حقوق
    اسلام میں خواتین کے حقوق
    اسلام میں بچوں کے حقوق
    اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق

    تعلیماتِ اِسلام
    سلسلہ اِشاعت (٢): اِیمان
    سلسلہ اِشاعت (٣): اِسلام
    سلسلہ اِشاعت (٤): اِحسان

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب – تصویری روپ میں

    قرآنیات
    عرفان القرآن
    العرفان فی فضائل و آداب القرآن
    تفسیر منہاجُ القرآن (سورۃ الفاتحہ، جزو اَوّل)
    فلسفہ تسمیہ

    الحديث
    المِنہاجُ السَّوِی مِنَ الحَدِیثِ النَّبَوِیِّ
    تکمِیلُ الصَّحِیفَۃ بِاَسَانِیدِ الحَدِیث فِی الآمام ابی حَنِیفَۃ
    الانوارُ النَّبَوِیَّۃ فِی الاسانیدِ الحَنَفِیَّۃ (مَعَ احادِیاتِ الآمام الاعظم)
    الاربعین فی فضائلِ النبی الامین
    البدر التمام فی الصلوٰۃ علیٰ صاحبِ الدُّنُوّ و المقام
    الاربعین: بُشریٰ للمومنین فی شفاعۃ سیدِ المرسلین
    العَبْدِيۃ فِي الْحَضْرَۃِ الصَّمَدِيَّۃ بارگاہِ اِلٰہی سےتعلقِ بندگی
    غایۃ الاجابۃ فی مناقب القرابۃ (اہلِ بیتِ اطہار سلام اﷲ علیہم کے فضائل و مناقب)
    العِقد الثّمین فی مناقب امھات المؤمنین (اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہن کے فضائل و مناقب)
    الاربعین: القول الوثیق فی مناقب الصدیق
    القَولُ الصَّوَاب فِی مَنَاقِب عُمَرَ بنِ الخَطَّاب
    رَوضُ الجِنَان فِی مَنَاقِبِ عُثمَانَ بنِ عَفَّان
    کَنزُ المَطَالِبِ فِی مَنَاقِبِ عَلِیِ بنِ ابِی طَالِب
    الاربعین: مرج البحرین فی مناقب الحسنین علیہما السلام
    اَلاِنتِبَاہُ لِلْخَوَارِجِ وَالْحَرُوْرَاءِ …. گستاخانِ رسول کی علامات
    احسن السبل فی مناقب الانبیاء و الرسل
    روضۃ السّالکین فی مناقب الاولیاء والصّالحین (اولیاء کرام اور صالحین عظام کےفضائل و مناقب)
    الکنزالثمین فی فضیلۃ الذکر و الذاکرین
    البَيِّنَاتُ فِي الْمَنَاقِبِ وَ الْکَرَامَاتِ فضائل و کرامات…. اَحاديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
    اللُّبَابُ فِي الْحُقُوْقِ وَ الآدَابِ اِنسانی حقوق و آداب …. اَحاديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں

    اِعتقادیات
    عقائد میں احتیاط کے تقاضے
    مبادیات عقیدۂ توحید
    عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور
    عقیدۂ توحید کے سات ارکان
    عقیدۂ توحید چند اہم موضوعات
    البِدعَۃ عِندَ الائِمَّۃ وَ المُحَدِّثِین (بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں)
    وسائط شرعیہ
    عقیدہ توسل
    التوسل عند الائمۃ والمحدثین
    مسئلہ اِستغاثہ اور اُس کی شرعی حیثیت
    شہرِ مدینہ اور زیارتِ رسول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    زیارت قبور
    تبرک کی شرعی حیثیت

    سیرت و فضائلِ نبوی (ص)
    مطالعۂ سیرت کے بنیادی اصول
    مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ اول)
    مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ دوم)
    سیرۃ الرسول کی دینی اہمیت
    سیرۃ الرسول کا جمالیاتی بیان
    سیرۃ الرسول کی علمی و سائنسی اہمیت
    سیرۃ الرسول کی ریاستی اہمیت
    سیرۃ الرسول کی آئینی و دستوری اہمیت
    سیرۃ الرسول کی انتظامی اہمیت
    سیرتِ نبوی کی عصری و بین الاقوامی اَہمیت
    میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    اَسمائے مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    خصائصِ مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    شمائلِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    برکاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    اَسیرانِ جمالِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

    عبادات
    الصَّلَاۃُ عِنْدَ الْحَنَفِيَّۃِ فِي ضَوءِ السُّنَّۃِ النَّبَوِيَّۃِ حضور نبی اکرم صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طريقۂ نماز
    التَّصْرِيْحُ فِي صَلَاۃِ التَّرَاوِيْحِ بيس رکعت نمازِ تراويح کا ثبوت
    منہاجُ الخطبات للعیدینِ و الجمعات

    اَوراد و وظائف
    الفیوضات المحمدیۃ
    صلوات سؤر القرآن علی سید ولد عدنان
    اسماء حامل اللواء مرتبۃ علی حروف الھجاء
    احسن المورد فی صلوۃ المولد

    شخصیات
    ذبحِ عظیم (ذبحِ اسماعیل سےذبح حسین تک)

    اِسلام اور سائنس
    اِسلام اور جدید سائنس
    تخلیقِ کائنات (قرآن اور جدید سائنس کا تقابلی مطالعہ)
    شانِ اَولیاء (قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں)

    عصریات
    میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ
    اِسلام کا تصوّرِ علم
    اسلام میں اقلیتوں کے حقوق
    اسلام میں خواتین کے حقوق
    اسلام میں بچوں کے حقوق
    اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق

    تعلیماتِ اِسلام
    سلسلہ اِشاعت (١): تعلیماتِ اِسلام
    سلسلہ اِشاعت (٢): اِیمان
    سلسلہ اِشاعت (٣): اِسلام
    سلسلہ اِشاعت (٤): اِحسان

    Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

    سیدنا طاہر علاؤالدین قادری

    Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

    حیات و تعلیمات
    حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ

     

    ماخوذ از ’’تذکرہ قادریہ‘‘

    برصغیر پاک وہند کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فیوض وبرکات کا سلسلہ ان کی زندگی میں ہی اس سرزمین میں پہنچ گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان کے بڑے فرزند سیدنا شیخ عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد واپس بغداد تشریف لے گئے۔ اس کے بعد سے آج تک برصغیر پاک وہند سے کسب فیض کے لئے مشائخ، اولیاء، صلحاء، امراء و سلاطین اور عوام الناس کی بغداد آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر عہد میں اہل دل حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد کو ہندوستان تشریف لانے کی دعوت دیتے رہے اور وقتاً فوقتاً خاندان گیلانیہ کے اکابر اور مشائخ ہندوستان تشریف لاتے رہے۔ آل النقیب قدوۃ الاولیاء سیدالسادات شیخ المشائخ قطب العالم حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی قدس سرہ العزیز کی پاکستان تشریف آوری اور سکونت اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

    ولادت، بچپن اور تعلیم

    آپ کی ولادت باسعادت 18 ربیع الاول 1352ھ کو عراق کے دارالحکومت اور انوار و تجلیات غوث صمدانی رضی اللہ عنہ کے مرکز بغداد میں ہوئی۔ جس گھر میں آپ پیدا ہوئے وہی حرم دیوان خانہ قادریہ ہے۔ آپ کی دینی تعلیم مسجد سلطان علی میں مکمل ہوئی۔ یہ مسجد بغداد میں شاہراہ الرشید پر دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔ آپ کے اساتذہ کرام میں ملا سید اسد آفندی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی قاسم النقیبی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ خلیل الراوی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔ مدرسہ دربار غوثیہ میں آپ نے مفتی اعظم عراق سے بھی تفسیر، حدیث اور فقہ میں کسب علم کیا۔ ان کے علاوہ مختلف علوم و فنون میں متعدد دیگر اساتذہ بھی آپ کے اتالیق رہے۔

    روحانی فیض

    سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا پورا خاندان اور گھرانہ مشائخ و نقباء پر مشتمل تھا اسی عالی قدر خاندان سے فیض کی کرنیں عالم عرب سے نکل کر مشرق بعید یورپ افریقہ اور امریکہ تک پھیلیں۔ اس فیض کا اصل مرکز اور سرچشمہ ان کے جد امجد حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی تھی۔ جہاں سے اب بھی دنیا بھر کے طالبان حق فیضان سمیٹتے ہیں اور قیامت تک اس مرکز انوار کی خیرات بٹتی رہے گی۔ آپ نے سب سے پہلے روحانی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی حضرت سیدنا شیخ محمود حسام الدین الگیلانی سے حاصل کی اور انہی کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ وہ دربار غوثیہ کے متولی، نقیب الاشراف اور خاندان گیلانیہ کی اپنے عہد کی سب سے عظیم شخصیت تھے۔ انہیں ان کے والد بزرگوار قطب الاقطاب حضرت سیدنا شیخ عبدالرحمن النقیب نے اپنی زندگی میں ہی نقیب الاشراف کی اہم ذمہ داری سے سرفراز کر دیا تھا۔ یہی وہ ہستی ہے جسے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے روحانی طور پر براہ راست اپنی خلافت سے نوازا تھا اور اس عہد کے بیشتر اولیاء کرام نے اس امر کی تصدیق کی تھی۔ پورا عالم اسلام ان کی علمی روحانی اور سیاسی بصیرت کا معترف تھا چنانچہ انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کی خصوصی تربیت کی اور خرقہ خلافت عطا فرمایا۔ اپنے والد گرامی کے علاوہ بھی آپ نے بغداد شریف کے کئی مشائخ سے اکتساب فیض کیا۔

    نسبت غوثیت میں استغراق

    حضور قدوۃ الاولیاء بچپن سے حصول علم کے ساتھ ساتھ ذکر وفکر اور عبادت و ریاضت میں اپنے قابل فخر اسلاف کا نمونہ رہے۔ آپ کے اس مبارک وصف کی گواہی برصغیر پاک وہند کی مشہور علمی و روحانی اور سیاسی شخصیت مولانا عبدالقدیر بدایونی اپنے ذاتی مشاہدے کی بناء پر دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ’’ہم جب 1943ء میں متحدہ ہندوستان سے ایک وفد کی شکل میں بغداد شریف حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر حاضری کے لئے گئے اثنائے زیارت و حاضری ہم نے دیکھا کہ ایک دس گیارہ سالہ معصوم اور نوخیز شہزادہ مزار پاک کے پاس چہرہ مبارک کی طرف نماز عشاء کے بعد کھڑا ہوا اور ساری رات اسی حالت میں کھڑا مناجات کرتا رہا حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا۔ ہم اس نوخیز اور معصوم بچے کی یہ استقامت اور مجاہدانہ رنگ دیکھ کر لرزہ براندام ہوگئے کہ آخر یہ بچہ ہے کون؟ پوچھنے پر خدام نے بتایا کہ یہ نقیب الاشراف سیدنا محمود حسام الدین الگیلانی کے چھوٹے صاحبزادے سیدنا طاہر علاؤالدین ہیں۔ مولانا عبدالقدیر بدایونی فرماتے ہیں ہم دس پندرہ روز مزار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ پر حاضری کے لئے بغداد شریف رکے رہے ہر رات جب بھی مزار اقدس پر حاضری ہوتی رہی ہم یہی نظارہ کرتے رہے۔ آپ روزانہ پورے عزم و استقامت کے ساتھ چہرہ مبارک کیطرف محو ریاضت رہتے۔

    یہ معمول جہاں بچپن میں آپ کی غیر معمولی استقامت اور ریاضت کی دلیل ہے وہاں نسبت غوثیت مآب میں حد درجہ استغراق اور فنائیت کی علامت بھی ہے۔

    پاکستان میں تشریف آوری

    حضور قدوۃ الاولیاء، حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے حکم پر 1956ء میں پاکستان تشریف لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کو حضور غوث صمدانی رضی اللہ عنہ نے پاکستان کی اقلیم ولایت سپرد کرنے کے لئے لاہور میں حضور داتا گنج بخش سیدنا علی الہجویری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ بغداد شریف سے سیدھا لاہور تشریف لائے اور چند دنوں کے لئے حضور داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس پر چلہ کش ہوگئے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حضرت خواجہ اجمیر معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ چلہ کش ہوئے تھے اور ہر زمانہ میں اکابر و اصاغر سب اولیاء کرام حاضری دیتے رہے۔

    حضور قدوۃ الاولیاء کی جوانی کا زمانہ تھا۔ آپ احاطہ مزار میں چند دن خیمہ زن رہے۔ بالآخر یہاں سے تقرری کا حکم نامہ جاری ہوا اور کوئٹہ (صوبہ بلوچستان) میں سکونت اختیار کرنے کا اشارہ ملا۔ آپ نے کوئٹہ میں سکونت اختیار فرمائی جو بعد میں مستقل قیام میں بدل گئی۔ یہاں آ کر آپ نے سلسلہ قادریہ میں ایک نئی روح پھونکی۔ شب و روز دین کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور بہت تھوڑے عرصے میں پاکستان سمیت برصغیر کے کونے کونے میں آپ کے روحانی مقام و مرتبہ کا شہرہ ہوگیا اور مسافران راہ عشق اور طالبان راہ حق کشاں کشاں کوئٹہ میں آپ کے آستانہ عالیہ میں حاضر ہونے لگے جہاں قدم قدم پر تقویٰ، طہارت اور پاکیزگی کے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے اور فعال تصوف کی خوشبو مشام جاں کو معطر کر رہی تھی۔ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے آپ کی نسبی قربت آپ کا منفرد اعزاز تو تھا ہی لیکن آپ نے اپنے حسن خلق، پاکیزہ سیرت، اتباع شریعت وطریقت، انوار معرفت و حقیقت اور برکات و کرامات کے باعث ایک جہان زندہ کر دیا۔

    علماء و مشائخ ہند کی قدر دانی

    ہندو پاک کے جملہ مشائخ اور علماء ومحدثین عظام آپ رحمۃ اللہ علیہ کی اس قدر تعظیم و تکریم کرتے کہ اس کی مثال عصر حاضر میں ملنا مشکل ہے۔ حضور قدوۃ الاولیاء جب حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان کی دعوت پر بریلی شریف (ہندوستان) تشریف لے گئے تو حضرت مفتی اعظم ہند نے بریلی شریف کے ریلوے سٹیشن پر آپ کا فقیدالمثال استقبال کیا۔ لاکھوں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حاضر تھا۔ آپ کی گاڑی کو لمبے لمبے بانسوں کے ذریعے ہزارہا مسلمانوں نے عظیم مشائخ و علماء سمیت اپنے کاندھوں پر اٹھالیا اور کئی میل کا سفر اسی طرح طے کرکے عقیدت واحترام کا ایک نیا باب رقم کیا۔ مولانا مفتی تقدس علی خان مرحوم نے بیان فرمایا کہ میں خود بھی آپ کی گاڑی کو کندھوں پر اٹھانے والوں میں شامل تھا۔ آپ نے بریلی شریف میں تین دن قیام فرمایا اس دوران مفتی اعظم ہند آپ کی تعظیم میں تینوں دن ننگے پاؤں رہے اور آپ کے وضو اور طہارت کے لئے ہر وقت خود خدمت بجالاتے رہے۔ اسی دوران آپ کے صاحبزادگان بشمول مولانا اختر رضا خان، حضور قدوۃ الاولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔

    اسی طرح حضور قدوۃ الاولیاء جب محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد کی دعوت پر فیصل آباد تشریف لائے تو انہوں نے ریلوے اسٹیشن سے جامعہ رضویہ جھنگ بازار تک راستوں پر سفید کپڑوں کے تھان بچھوائے جس پر آپ کی گاڑی چلتی تھی۔ ایک مرتبہ حضور قدوۃ الاولیاء جلسہ گاہ میں تشریف لائے تو رش کی وجہ سے زمین پر بچھائی گئی سفید چادر ہٹ گئی، زمین ننگی ہوگئی حضرت محدث اعظم پاکستان حضور قدوۃ الاولیاء کے سامنے زمین پر گر پڑے اور اپنی ریش مبارک سے جگہ کو صاف کرنے لگے۔ موقع پر موجود علماء کرام حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد اطہار کے لئے حضرت محدث اعظم رضی اللہ عنہ کا حد درجہ ادب اور کمال تواضع اور انکساری دیکھ کر دھاڑیں مار کر رونے لگے۔

    یہی حال دیگر علماء کرام اور مشائخ کا تھا۔ غزالی زماں حضرت علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کراچی میں آپ کے در دولت پر بغرض زیارت حاضر ہوئے تو قدم بوسی کے لئے نیچے گر پڑے اور حضرت کی قدم بوسی کی۔

    لاہور میں حزب الاحناف کے سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے چند گھونٹ نوش فرمانے کے بعد آپکی چائے مانگی اور چائے کی دیگ میں ڈال دی تمام مشائخ عظام اور علماء کرام اس میں سے ایک ایک دو دو گھونٹ تبرکاً لے کر پیتے رہے۔ الغرض حضور قدوۃ الاولیاء کی شخصیت میں قدرت نے وہ تمام خوبیاں سمودی تھیں جن کی وجہ سے طول العمر آپ اکابر مشائخ و علماء کی عقیدتوں کا مرکز رہے۔

    نقیب الاشراف کا منصب جلیلہ

    آپ کا تعلق جس خانوادہ گیلانیہ کی شاخ سے ہے۔ اسے حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وصال سے لے کر اب تک دربار غوثیہ کی تولیت اور اوقاف کی نگرانی کے ساتھ منصب نقابت کا شرف حاصل رہا ہے۔ نقیب الاشراف کی ذمہ داریوں میں دربار کے جملہ انتظامی معاملات اوقاف کی دیکھ بھال، زائرین کی خبر گیری اور فقراء ومساکین میں وظائف کی تقسیم جیسے اہم امور شامل ہیں۔ اہل عراق کسی بادشاہ کے سامنے اپنی گردن جھکاتے ہیں اور نہ کسی صاحب اقتدار و حکومت کے رعب اور دبدبے کو تسلیم کرتے ہیں جتنا کہ وہ نقیب الاشراف کے اثر اور روحانی اقتدار و حکومت کو مانتے ہیں۔

    خاندانی سیادت و نجابت

    ہمارے شیخ سیدنا طاہر علاؤالدین حسنی اور حسینی سید تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب 16 واسطوں کے بعد حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے اور 28 واسطوں کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاملتا ہے جبکہ آپ کا سلسلہ طریقت 19 واسطوں کے بعد سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ تک اور 36 واسطوں کے بعد قدوۃ الاولیاء کا سلسلہ طریقت سید دو عالم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاملتا ہے۔

    سلسلہ قادریہ کی سرپرستی

    آپ کو بجا طور پر سلسلہ عالیہ قادریہ کا مجدد کہا جاسکتا ہے۔ آپنے دنیا کے بیشتر ممالک میں سلسلہ قادریہ کا فیض پہنچایا اور زندگی بھر سلسلہ قادریہ کی سرپرستی فرمائی۔ دین کی دعوت و تبلیغ اور حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا فیض پہنچانے کے لئے آپ نے عالم اسلام کے علاوہ افریقہ، امریکہ، یورپ، انگلینڈ، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، مغربی جرمنی، مناکو، بلجیم، کینیڈا، کوریا، سائیگان، انڈونیشیا، برما، جاپان، سری لنکا، سنگاپور اور بھارت کے دورے کئے۔ مشرق وسطیٰ کے جملہ عرب ممالک اور ریاستوں میں تو بارہا آپکا آنا جانا رہتا تھا۔

    وصال مبارک

    آخر عمر میں آپ کی طبیعت مبارکہ علیل رہنے لگی تھی۔ آپ کو دراصل گردوں کی تکلیف تھی کوئٹہ اور کراچی کے دوران قیام مقامی معالجوں نے کافی کوشش کی لیکن جانبر نہ ہوئے پھر آپ جرمنی میں مقیم پاکستانی عقیدت مند ڈاکٹر حبیب اللہ اور ڈاکٹر محمد امیر خان نیازی مرحوم کی خواہش پر وہاں تشریف لے گئے ان دونوں حضرات نے آخری ایام میں حضور قدوۃ الاولیاء کی خوب خدمت کی اور فیوضات سمیٹے، بالآخر 7جون 1991ء بروز جمعۃ المبارک صبح 9 بجے شہزادہ غوث الوریٰ جرمنی میں اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی نمازہ جنازہ پہلے کراچی میں نشتر پارک میں پڑھائی گئی جس کی امامت کی سعادت آپ کے روحانی فرزند اور اسلام کے بطل جلیل شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے حصے میں آئی اور بعد اسی شام لاہور میں منہاج القرآن پارک میں حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی۔ دونوں مقامات پر مخلوق خدا اور آپ کے عقیدت مندوں کا جم غفیر دیدنی تھا۔ آپ کو تحریک منہاج القرآن کے عظیم تربیتی مرکز ’’جامع المنہاج‘‘ ٹاؤن شپ میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں ایک شاندار زیر تعمیر دربار غوثیہ اب مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

    تعلیمات

    حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ نے اپنی تصنیف ’’تذکرہ قادریہ‘‘میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے خطبات و مواعظ کو بھی درج فرمایا: آپ فرماتے ہیں کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے درج ذیل چیزوں کا ایک مسلمان میں ہونا لازم قرار دیا:

    1۔ احکام کی پابندی اور تعمیل کرنا۔
    2۔ ان چیزوں سے جن کے لئے اللہ تعالی منع فرماتا ہے اجتناب کرنا۔
    3۔ قضا و قدر پہ راضی رہنا اور کبھی تقدیر کا شاکی نہ ہونا۔

    ان تینوں خصوصیتوں سے کبھی خالی نہ رہنا اسلام کا پہلا درجہ ہے لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان کا پابند رہے اور ہمیشہ اپنے دل میں ان کا خیال رکھے اور ان پر کاربند رہے۔

    اعمال صالح کی تلقین

    سنت کی پیروی کرنا اور بدعت سے بچنا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ماننا، خدا کو واحد مطلق سمجھنا، اسکے ساتھ شرک نہ کرنا اور اسکی ذات ستودہ صفات کو منزہ جاننا، اس پر کوئی تہمت نہ لگانا، بغیر کسی شک و شبہ کے دین اسلام کو سچا ماننا، مصیبت کے وقت صبر کرنا اور ہر حالت میں ثابت قدم رہنا، اللہ سے اس کا فضل و کرم طلب کرنا، ناکامی پر مایوس نہ ہونا اور اس کی ذات سے ہر وقت امید رکھنا، باہم بھائیوں کی طرح میل جول رکھنا، دشمنی و کینہ سے احتراز کرنا، ہم جماعت ہو کر عبادت الہی بجا لانا اور خدا کے واسطے آپس میں محبت رکھنا، گناہوں سے بچنا اور بندگی الہی سے زینت حاصل کرنا، ہر وقت اسی کی جانب متوجہ رہنا اور اس سے کبھی روگردانی نہ کرنا، توبہ میں عجلت کرنا، شب و روز میں اسکی یاد سے غافل نہ رہنا اور عذر سے سستی نہ کرنا، ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور ہر شخص کو ایسا کرنا چاہئے اس امید پر کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہے ہم پر رحم فرمائے اور نیک بختی عطا فرمائے۔ وہ اس دوزخ سے امان دے اور نعمت ہائے بہشت عطا فرمائے۔

    دنیاداروں سے تعلق

    جب تم دنیا داروں کو دیکھو کہ ان کے ہاتھ میں جھوٹے سامانوں اور مکر و فریبوں اور مہلک زہروں کے ساتھ مال دنیا جمع ہے جس کا ظاہر نرم اور باطن خشک ہے اور ان لوگوں کو جن کے ہاتھ میں فی الحال مال ہے اور جو مغرور اور بے فکرہیں دنیا بہت جلد ہلاک کر ڈالے گی اور اپنی بدعہدی کی وجہ سے ان کو مبتلائے مصائب کر دے گی تو اس کو اس طرح سمجھو جس طرح کوئی شخص پاخانہ پر برہنہ بیٹھا ہے اور جیسا کہ اس کو برہنہ دیکھنے کے بعد آنکھیں بند کر لو گے اور نجاست کی بدبو سے بچنے کے لئے ناک بند کر لو گے۔ اسی طرح یہاں بھی دنیا کو دنیا دار کے ہاتھوں میں دیکھ کر ناک آنکھ بند کرلو تاکہ اس کی فریب دہ زینت نہ دیکھ سکو اور اس کی شہوتوں اور لذتوں کی مغز شکن بدبو نہ سونگھ سکو۔ اس طرح ان کی آفات سے نجات ملے گی اور وہ خوشگوار حصہ بھی جو تمہارے نصیب کا ہے تم کو مل جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتا ہے:

    وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىO

    ’’اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان (ہی چیزوں) میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہےo‘‘۔

    ہوا و ہوس سے گریز

    تو بہت کہتا ہے کہ وہ نزدیک کیا گیا ہے اور مین دور ہوں یا وہ عطا کیا گیا میں محروم ہوں یا وہ غنی ہے میں مفلس ہوں یا وہ تندرست ہے میں بیمار ہوں یاوہ معزز ہے اور میں خوار ہوں یا وہ راست باز مشہور ہے پر میں دروغ گو سمجھا جاتا ہوں۔ اے شخص تم کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور وحدانیت ہی کو پسند کرتا ہے اور اس کو دوست جانتا ہے جو صرف اسی سے محبت رکھتاہے جب اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی دوسرے شخص کے قریب کرتا ہے یعنی کچھ عطا فرماتا ہے تو تیری محبت اللہ تعالیٰ کے لئے کم ہوجاتی ہے اور باہم محبت ہو جاتی ہے یعنی اکثر اوقات تیرے دل میں اس شخص کی رغبت اور محبت بھی پیدا ہوتی ہے جس کے ذریعے سے وہ نعمت اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دی اور اس طرح محبت الہی کم ہو جاتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت غیور ہے، وہ شرکت نہیں چاہتا لہذا دوسروں کے ہاتھوں کو تیری امداد سے، ان کی زبان کو تیری صفت و ثناء سے اور پیروں کو تیری طرف آنے سے روک دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کراس کی محبت میں نہ پھنس جائے۔ کیا تونے ارشاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں سنا کہ دل، اس کی محبت کے لئے جو ان سے احسان کرے اور اس کی دشمنی کے لئے جو ان سے برائی کرے پیدا کئے گئے ہیں۔

    الحاصل اللہ تعالیٰ مخلوق کو تجھ پر ہر طرح احسان کرنے سے روکتا ہے حتیٰ کہ تو اس کو تنہا جانے اور اسی سے دل لگائے اور ظاہر و باطن میں اسی کا ہو رہے تو سوائے اس کے نہ دیکھے، نہ سنے اور تو خلق، نفس ہوا اور ارادہ وغیرہ سب سے فانی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ماسوائے سب کو ترک کر دے۔ اس وقت لوگوں کے ہاتھ تیری جانب فراخ ہو جائیں گے بخشش کے لئے اور زبانیں تیری ثناء میں رطب اللسان ہو جائیں گی پس تو ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا اور دنیا و آخرت میں سب قسم کے عیش پائے گا۔

    پس اے شخص بے ادب نہ ہو اور اس کی جانب دیکھ جو تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہو جس کی تجھ پر توجہ ہے، اس سے محبت کر جو تجھ کو محبت کرتا ہے، اس کے ہاتھوں میں ہاتھ دے جو تجھ کو گرنے سے بچا دے، اسکا سہارا لے جو تجھ کو سنبھالے، وہ تجھ کو جہالت کی تاریکی سے نکالے گا، تجھ کو نجات دے گا اور تجھ کو ہلاکت سے بچائے گا، وہ تجھ سے تیری ناپاکیاں دور کرے گا اور تجھ کو گندگیوں سے صاف کرے گا، وہ تیری پست ہمتی کو دور کرے گا، وہ بد حکم دینے والے نفس اور برا راستہ دکھانے والے دوستوں سے جو اخوان الشیاطین ہیں اور ہوا و ہوس سے جو تیرے اور سعادتوں کے درمیان حجاب ہیں تجھ کو بچائے گا۔

    دعا کی قبولیت

    اگر اللہ تعالیٰ بندہ کی دعا قبول کرتا ہے اور اس کی مطلوبہ شے اس کو عطا فرماتا ہے تو اس سے یہ خیال کرنا چاہئے کہ اس سے اس کا ارادہ ٹوٹ جاتاہے اور جو چیز تقدیر میں آچکی وہ بدل جاتی ہے۔ بات یہ ہوتی ہے کہ اس کا سوال اور دعا ارادہ الہی اور تقدیر کے موافق آن پڑتا ہے۔ اس وقت حاجت روائی ہو جاتی ہے مگر اسی وقت میں جو اس کے لئے مقرر ہو چکا ہے کہ فلاں وقت یہ تقدیر پہنچے جیسا کہ اہل علم نے اللہ کے اس قول کو کہا ہے:

    ’’ہر وقت وہ شان میں ہے کہ پہنچاتاہے مقد رات کو وقتوں تک، پس اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی کو کوئی چیز صرف دعا سے نہیں دیتا اور اسی طرح صرف دعا سے کوئی برائی دفع نہیں کرتا‘‘

    اور حدیث شریف جو آیا ہے کہ نہیں رد کرتا قضاء کو مگر دعاسے، اس سے یہ مراد ہے کہ قضاء کو نہیں رد کرتا مگر وہ دعا جو تقدیر ہو چکی ہے اس سے قضاء رد ہوگی اور سب طرح صرف اپنے اعمال سے قیامت کے روز کوئی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے مگر اللہ تعالیٰ اعمال کے موافق جنت میں بندوں کو درجات عطا فرمائے گا۔ جیسا حدیث شریف میں آیا ہے کہ

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، کیا کوئی شخص اپنے اعمال سے بھی داخل جنت ہو سکے گا؟ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’نہیں، صرف رحمت الہی سے‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بھی، فرمایا :میں بھی نہیں مگر اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو چھپائے اپنے دامان رحمت میں اور اپنے سر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ رکھا۔

    اس پر کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں اور نہ اس کو عہد وفا لازمی ہے جو چاہے کرے جس کو چاہے بخشے اور جس کو چاہے عذاب میں رکھے، جس کو چاہے نعمت دے اور جس پر چاہے رحم کرے، وہ جو کچھ کرتا ہے اس کا کوئی پوچھنے والا نہیں، جو جس کو چاہے بے حساب رزق عطا فرما دے اپنے فضل و کرم سے اور جس کو چاہے بالکل نہ دے اپنے عدل سے، ایسا کیوں نہ ہو جب کہ عرش سے لے کر زمین کے نیچے تک تمام خلقت اسی کی ملکیت اور صنعت ہے نہ اس کے سوا کوئی مالک ہے اور نہ کوئی خالق۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے:

    ’’کیا اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی پیدا کرنے والا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور بھی معبود بر حق ہے؟ کیا تواس کے واسطے کوئی اور بھی ہم نام جانتا ہے۔ کہہ دے یا اللہ، ملک الملک تو جس کو چاہے ملک دیتا ہے اور جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلت دیتا ہے۔ تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے، تحقیق تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘

    جیسا کہ خود تو اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے:

    ’’اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہے بغیر حساب کے اور تو اس پر قادر ہے۔‘‘
    _________________

    Posted in تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

    سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ

    Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

    سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ
     

     

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    سب سے پہلے تو عرض کروں کہ ہماری اردو جیسے غیرجانبدار اور موقر چوپال پر بحث مباحثہ کے نام پر طعن و تشنیع کا بازار گرم کرنے کی بجائے “ باہم تبادلہ خیالات اور گفت وشنید “ کے ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیئے۔

    تاکہ کسی کی دل آزاری کرنے سے ایک دوسرے سے دور ہونے کی بجائے ہم دوست ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔

    اور دوسری بات یہ کہ گفتگو میں بنیاد قرآن وحدیث ہونا چاہیئے نہ کہ اپنے محلے کے مولوی کے فتاوی و آراء۔ کیونکہ محلے کے مولوی کے فتوے پر تو کوئی بھی قائل نہیں ہوتا۔ البتہ قرآن وحدیث کی دلیل کو ہر صاحبِ ایمان مان لیتا ہے۔

    اقتباس:
    فتنہ طاہریہ( طاہر القادری) کے عقائد

     

     

    جب گفتگو کا آغاز ہی کسی کو فتنہ و گمراہ کا فتوی لگا کر کیا جائے گا پھر حق و انصاف کی بات کیسے سامنے آئے گی۔

    اقتباس:
    موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔

     

     

     

    میرے بھائی اور دوست ! سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا تعارف کروا دیں۔ اپنے عقائد اور نظریات اور انکی بنیاد بھی یہاں بیان فرما دیں یعنی قرآن و حدیث اور کن کن اکابر آئمہ و علمائے کرام کے حوالہ جات سے آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں۔

     

    خیال رکھئے گا اپنے محلے کے مولانا صاحب کے فتوے نہ اٹھا لائیے گا بلکہ قرآن و حدیث کے دلائل اور اکابر علمائے حق کی بات کی گئی ہے۔

    اقتباس:
    اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے

     

     

     

    آپ کو معلوم ہوگا کہ امام اعظم ابو حنیفہ (رح) کے دو خاص شاگرد تھے۔ جنہیں صاحبین یا شیخین کے نام سے مکتوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امام اعظم سے اختلاف کیا۔

     

    تو کیا مناسب نہیں کہ یہی رائے اور فتوی سب سے پہلے ان کے لیے استعمال فرمائیں۔اگر ہے جراءت تو ذرا قلمِ فتاوی اٹھا کر دیکھیے !!!

    اگر آپ نے ہمارے امام اعظم کا یہ قول نہیں پڑھا کہ “اگر میری رائے کے خلاف کوئی نصِ قرآنی یا حدیث صحیح آجائے تو میری رائے چھوڑ دی جائے “ تو پھر یہ آپکے مطالعہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ کسی دوسرے کا کیا قصور ؟؟؟

    طاہر القادری بھی اختلاف رائے کے لیے قرآن وحدیث کے دلائل کی بات کرتا ہے۔

    اقتباس:
    1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔

     

     

     

    طاہرالقادری اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے بات کرتا ہے۔ اور اس مسئلے پر ہمیشہ سے تمام علمائے کرام کو دعوتِ مذاکرہ دیتا ہے کہ آئیے ہم مل بیٹھ کر علمی و تحقیقی ماحول میں اس پر گفت و شنید کریں۔

     

    آج سے کوئی 20 سال پہلے ایسی ہی ایک مجلسِ مذاکرہ شیرِ اہلسنت مولانا عبدالستارخان نیازی (رح) کی زیرِ صدارت منعقد بھی ہوئی تھی جس میں (غالباً ایک عالم دین ) مولانا عبدالمتین تشریف لائے تھے اور بقول مولانا عبدالستار خان نیازی باقی سب اپنی اپنی شرائط منوانے کے باوجود طاہرالقادری کا سامنا کرنے سے گریزاں رہے۔

    بات ذاتیات کی نہیں۔ بات تحقیقی اختلافِ رائے کی ہے۔

    اقتباس:
    2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
    ( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

     

     

    طاہر القادری کا انٹرویو پورا پڑھیں تو پوری گفتگو کا مفہوم یہ تھا “ بلکہ احیائے دینِ اسلام کے لیے کام کرتا ہوں“

     

    قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 دیکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا

    ۔۔۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا۔۔ الی الخ

    ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر دیا اور میں نے تم پر اپنا احسان تمام کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔۔۔

    اللہ تعالی اور اسکے رسول (ص) نے جو دین ہمیں دیا ہے کیا وہ حنفیت و سنیت دی ہے ؟؟؟ حنفیت اور سنیت حق ہیں لیکن دینِ اسلام کے تابع ہیں۔

    دینِ اسلام کو تو حنفیت و سنیت کے تابع نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ فرقہ پرستی کے اس گھٹے ماحول میں کوئی عالم دین ایسا ہے کہ جو ان چھوٹے چھوٹے تشخصات سے اوپر اٹھ کر قرآن و سنت کی روح کے مطابق دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے۔

    یا پھر غالباً آپ حنیفیت اور مسلک اہلسنت کو (معاذاللہ آپ کی سمجھ کے مطابق) دینِ اسلام کے متصادم کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اور آپ طاہر القادری سے اس لیے ناراض ہوگئے کہ وہ حنیفیت و اہلسنت مسلک کو چھوڑ کر دینِ اسلام کی خدمت کی بات کر رہا ہے۔

    ذرا سوچئیے ! حنفیت اور مسلک اہلسنت کو دینِ اسلام سے الگ تھلگ کچھ ثابت کر کے آپ حنفیت اور اہلسنت کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔

    اقتباس:
    3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

     

     

    آپ قرآن کی نص یا حدیث نبوی (ص) سے یہ ثابت کردیں کہ ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا شریعت کے واجبات میں سے ہے تو بات واضح ہوجائے گی۔

     

    لیکن قرآن و حدیث کی کوئی نص بھی لائیں نا۔

    اقتباس:
    اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
    (رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

    قرآن مجید میں سورہ آل عمران آیت نمبر 103 میں ارشاد ہے

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ۔۔۔ الی الخ

    ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔

    طاہرالقادری نے حکمِ خداوندی کے تحت فرقہ واریت کی مذمت کر دی تو کیا برا کر دیا ؟؟ اور خود کو ایک نبی معظم (ص) کا نمائندہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے ؟؟

    آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔

    اقتباس:
    5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

    مضمون پورا بیان کریں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا جب تک مجھے اس بات کی تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں شخص گستاخِ رسول (ص) ، گستاخِ اہلبیت (رض) اور گستاخِ صحابہ (رض) ہے میں اسے کلمہ گو مسلمان سمجھتا ہوں۔

    میرے بھائی !! فتویٰ ء کفر دراصل بربنائے گستاخی رسول (ص) ، گستاخیء اہلبیت وصحابہ کرام (رض) ہوتا ہے۔ جہاں تصدیق ہوجائے وہ کافر۔

    یہی علمی طریقہ ہے۔

    اقتباس:
    6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں۔ (بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)

     

     

     

    جیسا کہ اوپر آپ نے خود ہی بیان کردیا کہ طاہر القادری نمائندہء دینِ اسلام بن کر پوری دنیا میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ تو میرے بھائی دعوتِ دین کا یہ کام بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔

     

    قرآن مجید میں سورۃ النحل کی آیت 125 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے

    ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔۔۔۔۔۔ الی الخ

    ترجمہ :اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (ودانشمندی) اور عمدہ نصیحت سے بلائیے اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجیے۔

    تو میرے محترم بھائی اور دوست !!!

    اب میرے جیسا کوئی تنگ نظر جس نے کبھی اپنے فرقہ سے باہر نکل کر کسی غیر مسلم کو دعوت ہی نہ دی ہو اور نہ زندگی میں کبھی دینی ہے اسے کیا خبر کہ حکمت و دانشمندی کیا ہوتی ہے۔ اور دینِ اسلام کی طرف غیرمسلموں کو کیسے راغب کیا جاتا ہے ۔

    اقتباس:
    اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
    7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔

     

     

     


    مطالعہ احادیث سے یہ بات علم میں آتی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ہزاروں صحابہ کرام نے علم حدیث اور علمِ شریعت سیکھا۔

    تو کیا پردے کی حدود کو قائم رکھتے ہوئے دینی امور سیکھنے سکھانے کا حکم انہیں (معاذ اللہ ) معلوم نہیں تھا ؟؟؟

    اور میرے برادرِ محترم !!!

    لڑکی لڑکے کے ملنے کے ذکر سے اگر آپ کے ذہنِ پارسا میں صرف ایک ہی “ مقصد“ آتا ہے تو پھر آپکے ذہنِ صفا کی مزید صفائی کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

    اقتباس:

    8 ) ….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔

     

     

     

    میں نے انکی پوری تقریر “داڑھی کی شرعی حیثیت “ پر سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے کہیں بھی یہ جملہ نہیں فرمایا۔

     

    اور اگر داڑھی رکھنا انکے نزدیک غیرضروری ہوتا تو ایک “غیرضروری“ چیز کو اپنی نوجوانی کے وقت سے لے آج تک اپنے چہرے پر کیوں سجائے پھرتے ہیں ؟؟

    اقتباس:

    9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔

     

     

    اسکا جواب محترم پیا جی حدیث پاک کی روشنی میں دے چکے ہیں۔ آپ کے پاس اگر ان احادیث کی نفی میں دلائل موجود ہیں تو یہاں پیش فرما دیں۔

     

    اگر نہیں تو پھر اپنے قلبِ معطر کے اندر جھانکیے کہ کہیں طاہرالقادری کی مخالفت میں آپ بغضِ علی (رض) کے مرض میں تو مبتلا نہیں ہورہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مرض ایمان کی تباہی کے لیے کتنا موذی ہے۔

    اقتباس:

    10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

     

     

     

    اس میں اعتراض والی کیا بات ہے؟ دنیا میں بے شمار کتب ایسی ہیں جو مختلف اوقات میں مفید رہی ہیں۔ اس سے کہاں ثابت ہے کہ طاہر القادری اعلیحضرت (رح) کے خلاف ہے ؟؟؟

     

    یا کیا خود اعلیحضرت (رح) نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ حسام الحرمین قرآن وحدیث کے برابر ہے اور اس پر اعتراض کی کسی کو گنجائش نہیں؟؟

    اگر فرمایا ہوتو ہمارے علم میں اضافے کے لیے یہاں حوالہ پیش فرمادیں تاکہ ہم بھی طاہرالقادری کو مخالفِ اعلیحضرت (رح) مان لیں۔

    اقتباس:

    اپنے منہ میاں مٹھو بننا :

    قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 میں ارشاد ہے

    ۔۔۔۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

    ترجمہ : (اے اللہ !) جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے توچاہے ذلیل کرتا ہے سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز قادر ہے

    کسی کے منہ مٹھو بننے سے یا دوسرے کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔

    اس لیے آپ پریشان نہ ہوں۔ ؛)

    اقتباس:

    1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)

     

     

     

    کیا آپ کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ حضور اکرم (ص) اپنے کسی بھی ادنی سے ادنی امتی پر کرم فرما سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ اس عقیدے کے انکاری ہیں ؟؟

     

     

    اگر انکار کرتے ہیں تو آپ فوراً مسلکِ اعلیحضرت (رح) سے خارج ہوتے ہیں۔

    اور اگر آپ صرف اس بات پر معترض ہیں کہ طاہر القادری یا اسکے والد کے خواب پر حضور (ص) نے یہ کرم نوازی کیوں فرمائی تو میرے بھائی یہ تو کرم کرنے والے جانیں اور جن پر کرم ہوا ہے وہ جانیں۔ میں اور آپ کون ؟؟

    ہاں مجھ جیسا ایک ادنی امتی اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ اپنی نیت، فکر و سوچ اور اعمال درست کرنے کی کوشش کرے۔ اور خاکِ مدینہ کے ذروں سے ایسی نسبت حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ آقائے دوجہاں (ص) اس حقیر سے غلام پر بھی کبھی کرم فرما دیں۔ کیونکہ گنبدِ خضریٰ سے تو یہی صدا آتی ہے

    جھولی ہی تیری تنگ ہے میرے یہاں کمی نہیں

    اقتباس:
    ‌ ‌
    2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)

    ہر اہلسنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جہاں بھی حضور (ص) کا ذکر خیر کیا جائے۔ حضور (ص) پر درودوسلام پڑھا جائے ۔ آقا چاہیں تو وہاں تصرف و کرم فرماتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہر محفل میلاد میں اعلیحضرت (رح) کا مشہور زمانہ سلام “مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام “ ادب و تعظیم کے ساتھ کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں کہ کیا معلوم آقا کب کرم فرما دیں۔

    آپ کے ساتھ ساتھ بہت سارے دوستوں کے لیے یہ ایمان افروز اطلاع دیتا چلوں کہ منہاج القرآن کے مرکز 365 ایم ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک گوشہء درود قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر کچھ لوگ بیٹھے دن رات 24 گھنٹے حضور نبی اکرم (ص) پر درودوسلام پڑھتے رہتے ہیں۔ وہاں فرض عبادات کے بعد صرف یہی کام کیا جاتا ہے اور 31 مارچ 2007 تک اس مقام سے حضور نبی اکرم (ص) کی بارگاہ میں ایک ارب سے زائد (جی ہاں ایک ارب سے زائد مرتبہ) درود وسلام پڑھا جاچکا تھا۔

    اب سوچئیے ہم 10 بندوں کو ملا کر محفلِ میلاد کروائیں اور چند سو باردرودوسلام پڑھ لیں تو ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور (ص) کرم فرما دیتے ہیں۔ تو جہاں سینکڑوں امتی اربوں کے حساب سے بارگاہِ نبوی (ص) میں درود پڑھتے ہیں۔ وہاں آقائے مدنی سرکار (ص) کیوں تشریف نہ لائیں گے ؟؟؟؟؟

    طاہرالقادری کی مخالفت میں خدارا اپنے ہی عقیدے کا مذاق تو نہ اڑائیے۔ دوسروں کے سامنے تماشہ بن کر انہیں خود پر انگلیاں اٹھانے کا موقع تو فراہم نہ کیجئے۔

    اقتباس:
    ‌ ‌
    3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔

    اگر آپ قرآن مجید کی سورہ یوسف کی آیت 5 اور 6 ملاحظہ فرما لیں

    5۔قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
    6۔ وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ ۔۔۔ الخ

    تو بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ خواب کچھ اور ہوسکتا ہے اور اسکی تعبیر کچھ اور ہوتی ہے۔ اور تعبیرِ خواب اور تاویلِ روئیت کو اللہ تعالی نے اپنی نعمت بیان فرمایا ہے۔ اور یہ باقاعدہ ایک علم و فن ہے۔

    خواب میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے بعض اوقات وہ استعارہ و اشارہ ہوتا ہے اور اسکی تعبیر بعینہ مراد نہیں لی جاتی ۔ مثلا امام بخاری (رح) کا خواب دیکھیں۔

    امام بخاری (رح) خواب میں دیکھتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ص) کے جسدِ اقدس پر مکھیاں بیٹھ رہی ہیں اور میں (امام بخاری) وہ مکھیاں اڑا اڑا کر انہیں حضور سے دور کر رہا ہوں۔

    حضرت اب فرمائیے ؟؟ کیا فرماتے ہیں آپ اور آپکے مولانا صاحب امام بخاری (رح) کے بارے میں ؟؟؟؟ حضور (ص) کے جسم اقدس پر تو کبھی زندگی میں مکھی نہیں بیٹھی تھی اور امام بخاری نے سارا خواب ہی مکھیوں والا دیکھا۔

    اب سنیئے !! اسکی تعبیر یہ بیان کی گئی کہ امام بخاری حضور سرکارِ مدینہ (ص) کی احادیث مقدسہ پر کام کر کے غیر مستند اور غلط احادیث کو دور کر کے مستند اور صحیح احادیث کو جمع کریں گے اور یہی کام امام بخاری (رح) نے کیا۔

    اتنی بات سمجھ آجانے کے بعد سنیئے۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے خواب بتانے کے عین اسی موقع پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ٹکٹ وغیرہ سے مراد دین کی خدمت ہے۔

    اس کے آغاز میں ہی طاہر القادری نے یہ حدیث بھی بیان کر دی تھی کہ آقائے رحمت اللعلمین (ص) کا فرمان ہے کہ “جو کوئی مجھ سے جھوٹ منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ کی آگ میں بنا لے“ (او کما قال)۔

    اب ہر پڑھنے والا خود سوچ لے۔ کہ اب کونسا ایسا ادنی سے ادنی مسلمان بھی ایسا ہوگا جو اس حدیث کو جان لینے کے بعد حضور (ص) کی نسبت کچھ بھی جھوٹ منسوب کرنے کی جرات کرے گا ؟؟؟؟

    اقتباس:
    ‌ ‌
    محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے

     

     

     

    ماشاءاللہ ۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے قرآن وحدیث کی کس نص سے آپ کو یہ اختیار تفویض ہوگیا کہ جسے چاہے اہلسنت میں شامل رکھیں اور جسے چاہے خارج کردیں۔ ؟؟؟

     

    ایک ڈاکٹر بلکہ ایک ڈسپنسر (ہارون بھائی سے معذرت کے ساتھ Razz ) بھی اپنے کلینک میں کوئی نہ کوئی سرٹیفیکیٹ ضرور آویزاں کرتا ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو دوائیاں یا پڑیاں دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

    کیا آپ یا آپ کے مولانا صاحب ، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اخراج کا یہ فتوی جاری کرنے سے پہلے خود اپنے بارے میں کوئی ایسی اختیاراتی دستاویز فراہم کرسکتے ہیں جس سے یہ پتہ چل جائے کہ موصوف کے پاس ہی سنیت کا ٹھیکہ ہے ؟؟؟؟ یاد رکھیں بات قرآن وحدیث اور آئمہ کبار کی ہے۔ اس سے نیچے کی بات نہیں ہونا چاہیئے۔

    اقتباس:
    ‌ ‌‌‌‌جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔

     

     

     

    گویا آپ کو امام اعظم سے زیادہ انکی فقہ کی سمجھ بوجھ آگئی ۔کہ وہ تو فرمائیں کہ قرآن وحدیث کی نص سامنے آجانے پر میری بات کو چھوڑ دیا جائے۔

     

    اور آپ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو واقعی امام اعظم کے پائے کا فقیہ ہونا چاہیئے تھا۔

    اقتباس:
    ‌ ‌‌‌‌
    امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے ۔

     

     

    میرے پیارے بھائی بریلوی صاحب !!

     

    اللہ تعالی آپ کو خوش وخرم اور صحیح سلامت رکھے اور آپ کو دیدارِ مصطفیٰ عطا فرمائے۔ آمین

    گفتگو کے آخر میں میں آپ سے صرف ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج رات آپ عشاء کی نماز کے بعد درودوسلام پڑھتے ہوئے دھیان حضور (ص) کے گنبدِ خضری کی طرف کر کے ، اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق ایک لمحہ کے لیے صرف اتنا سوچ لیجیے گا کہ اگر واقعی آقائے دوجہاں (ص) نے خواب میں ہی سہی اگر “منہاج القرآن “ کا لفظ اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرما دیا ہو۔ اور آپ اسکو منہاج الشیطان فرما رہے ہیں۔

    تو کل بعد از مرگ قبر میں اور یوم ِ حشر سرکارمدینہ (ص) کا سامنا کرتے ہوئے کتنی ندامت ہوسکتی ہے ۔ ذرا سوچ لیجیے گا۔

    کیونکہ روح کے کانوں سے گنبدِ خضری کی صدا سنیئے۔

    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    راہ دکھلائیں کسے راہ روِ منزل ہی نہیں

     

    فتنہ طاہریہ (طاہر القادری) کے عقائد

    موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔
    اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے
    1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔
    2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
    ( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
    3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں (امام چاہے کوئی بھی ہو)امام جب قیام کرے سجود کرے ،سلام پھیرے تو مقتدی بھی وہی کچھ کرے یہا ں یہ ضروری نہیں ہے کہ امام نے ہاتھ چھوڑ رکھے ہیں اور مقتدی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے یا ہاتھ چھوڑ کر ۔
    (بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

    اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ

    4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
    (رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
    5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
    6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں ۔(بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)
    اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
    7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔
    8)….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔
    9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔
    10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

    اپنے منہ میاں مٹھو بننا :
    1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)
    2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)
    3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔
    محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔
    امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے
    ۔

    Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »