تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘خبریں’ Category

ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے : پاکستان عوامی تحریک

Posted by naveedbcn پر نومبر 11, 2007

ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے : پاکستان عوامی تحریک

لاہور، 10 نومبر 2007ء صدر پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کا اجلاس زیرصدارت فیض الرحمان خان درانی منعقد ہوا جس میں موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر نے کہا کہ جمہوری اداروں کا وجود کسی بھی ملک کی بقاء اور ترقی کے لئے ناگزیر ہوا کرتا ہے جبکہ ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس اور مارشل لاء قوموں کے لئے زہرہلاہل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین عوام کے حقوق کو تحفظ دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس آئین کی معطلی انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوری عمل کے تعطل، آئین کی معطلی، عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے، آزادی اظہار پر قدغن لگانے اور میڈیا پر پابندی کی حمایت نہیں کر سکتی اس لئے وطن عزیز میں ایمرجنسی کے نفاذ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سے قبل کے حالات جس میں سیاستدانوں، حکومت اور ریاست کے دیگر ستونوں کے درمیان شرمناک محاذ آرائی ہو رہی تھی، بھی مثالی نہ تھے۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ عدلیہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کریں تاکہ عدالتیں عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلدازجلد ایمرجنسی کو ختم کرے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاک فوج کا امیج عوام الناس کی نظر میں دن بدن خراب ہو رہا ہے اور یہ ادارہ اپنی ساکھ گنوا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ حکومت، اپوزیشن، عوام الناس اور خود پاک آرمی کو چاہئے کہ وہ اس ادارہ کے وقار کی بحالی کے لئے کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کئی جماعتیں مذموم سیاسی کردار ادا کر رہی ہیں اور اندرون خانہ پاکستان دشمن غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں اور دکھاوے کا شورو غوغا کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی پیدا کرنے والے عوامل کا حقیقی معنوں میں قلع قمع کیا جائے اور ملک کو ایمرجنسی سے جلد چھٹکارا دلایا جائے۔

ميڈيا ونگ
تحريکِ منہاج القرآن

Posted in تحریک منہاج القرآن, خبریں | 1 Comment »

گوشہ درود کی عمارت

Posted by naveedbcn پر اگست 8, 2007

گوشہ درود کی عمارت

رپورٹ: ایم ایس پاکستانی

تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود کی عمارت "مینارۃ السلام” کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں تہہ خانے کی تعمیر شروع ہوئی تھی اس حصے میں کنکریٹ کے لینٹر کی تعمیر کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس مرحلے میں گوشہ درود کے تہہ خانے میں کھدائی کی جگہ پر کنکریٹ سے لینٹر بچھا دیا گیا ہے۔ اب اس لینٹر کے اوپر بھاری سریوں اور آہنی گرلوں سے دیگر تعمیری کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے مرکزی سیکرٹریٹ کے لان کے مغربی سمت دیوار کے ساتھ بڑے بڑے سریے لگا دیئے گئے ہیں۔گوشہ درود کی تعمیر کے لیے مزدور اور تعمیراتی عملہ الگ الگ شفٹوں میں دن رات کام کر رہا ہے۔

 اس تعمیری کام کے لیے ماہر انجینئرز اور ماہر تعمیرات ہمہ وقت یہاں موجود ہیں اور اپنی نگرانی میں یہ کام مکمل کروا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلی ڈاکٹر رحیق احمد عباسی اور دیگر مرکزی قائدین بھی اس تعمیراتی کام کی دیکھ بھال اور وقتاً فوقتاً خود جائزہ لے رہے ہیں۔

گوشہ درود کی عمارت مینارۃ السلام کی جلد تعمیر کے لیے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہر دیوراوں کے ساتھ بجری، سیمنٹ، اینٹیں، سریہ اور دیگر تعمیراتی میڑیل کا سٹاک بھی لگا دیا گیا ہے۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »

منہاج ماڈل سکول شیخوپورہ کے طالب علم محمد بلال کا اعزاز

Posted by naveedbcn پر اگست 8, 2007

منہاج ماڈل سکول شیخوپورہ کے طالب علم محمد بلال کا اعزاز

لاہور، 06 اگست 2007ءمنہاج ماڈل سکول طاہر آباد ضلع شیخوپورہ کے ہونہار طالب علم محمد بلال نے میٹرک کے امتحان میں لاہور بورڈ کی طرف سے تحصیل شیخوپورہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ انہوں نے لاہور بورڈ کے امتحان میں رولنمبر 119311 کے تحت میٹرک کے امتحان سال 2007ء میں 718 نمبر حاصل کیے ہیں۔ اس شاندار کامیابی پر سکول انتظامیہ اور بالخصوص منہاج ایجوکیشن سوسائٹی لاہور نے محمد بلال کو خصوصی مبارکباد دی ہے۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »

صاحبزادہ حسین محی الدین قادری کی شاعری کا پہلا مجموعہ نقش اول شائع ہو گیا

Posted by naveedbcn پر اگست 8, 2007

صاحبزادہ حسین محی الدین قادری کی شاعری کا پہلا مجموعہ نقش اول شائع ہو گیا

رپورٹ: ایم ایس پاکستانیصاحبزادہ حسین محی الدین قادری کا شاعری پر مشتمل پہلا مجموعہ "نقش اول” کے نام سے شائع ہو گیا ہے۔ شاعری کی اس کتاب میں صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے 100 سے زائد کلام جمع کیے ہیں۔ ان میں حمد، نعت، منقبت، تحسین، نظمیں، قطعات، فردیات، غزلیات اور آزاد شاعری کے ساتھ شاعری کی ہر صنف شامل ہے۔ اس کتاب میں ملک کے نامور شاعر سید الطاف حسین گیلانی اور ریاض حسین چوھدری کی تقاریز شامل ہیں۔ شاعر کا جامع تعارف ڈائریکٹر شعبہ ادبیات فرید ملت (رح) ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ضیاء نیر نے لکھا ہے۔

شاعر صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے اس شعری مجموعے کا انتساب اپنے والد گرامی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے نام کیا ہے۔ شاعر کے تعارف میں ضیاء نیر نے لکھا ہے کہ "حسین محی الدین قادری کی شاعری کا اجمالی جائزہ لیں تو اس میں دینی، فکری، روحانی اور انقلابی خیالات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ اپنے والد گرامی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے افکار عالیہ سے حد درجہ متاثر ہیں اور ان کے اشعار میں اس کا پرتو واضح طور پر جھلکتا ہے۔ ”

"حسین محی الدین قادری نے شعر کہنے کا ملکہ اپنے بزرگوں سے ورثہ سے پایا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت یہ مجموعہ کلام ہے جو حمد و نعت، مناقب، نظمیں، غزلیات، قطعات اور فردیات پر مشتمل ہے۔ اس شعری مجموعے کی ایک منفرد اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ موصوف نے اپنے شاعری کے سفر کا آغاز 13 سال کی عمر میں دوران رمضان المبارک حالت اعتکاف میں ان قطعہ بند اشعار سے کیا:

دانا کبھی دریا کو سمندر نہیں کہتے
بھٹکے ہوئے انساں کو قلندر نہیں کہتے
بت خانہ جہاں یاد خدا آئے کسی کو
بھولے سے بھی یارو اسے مندر نہیں کہتے

اس حوالے سے یہ شعری مجموعہ صاحبِ کلام کے 13 سال سے 19 سال تک صرف نوعمری کی چھ سالہ کلمی نگارشات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ اس کے بعد بھی ان کا شعری سفر جاری و ساری ہے لیکن ابتدائی چھ سالوں کی کاوشوں کا ثمر "نقش اول” کی صورت میں قارئین ادب کی ضیافت طبع کے لئے حاضر ہے۔

جناب حسین محی الدین قادری کا تعلیمی پس منظر مختصراً یہ ہے کہ انہوں نے انٹر تک تعلیم پاکستان میں حاصل کی اس کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے جہاں انہوں نے گریجویشن مینیجمنٹ اور پولیٹیکل سائنس کے موضوع پر York یونیورسٹی ٹورانٹو سے کی۔ بعد ازاں فرانس کی مشہور ترین یونیورسٹی Sciences-Po پیرس سے عالمی معیشت میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ آج کل عالمی معیشت اور سیاست (Global Political Economy) کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان ماڈرن علوم کے ساتھ ساتھ شروع سے ہی مختلف اساتذہ سے شریعت اور علومِ اسلامیہ کی بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس کتاب کے حرف اول میں نامور شاعر ریاض حسین چوھدری لکھتے ہیں کہ "حسین محی الدین قادری کو یہ بال و پر تصوف نے عطا کیے ہیں۔ ان کے تمام تر اساسی رویے تصوف کی گود میں پروان چڑھے ہیں۔ تصوف کا نور انہیں وراثت میں ملا ہے۔ آپ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے صاحبزادے ہیں، میں ڈاکٹر صاحب کو اپنے عہد کی دانش سے تعبیر کرتا ہوں۔ دانش عصر کی جملہ تخلیقی توانائیاں انہیں ورثہ میں ملی ہیں۔ شاعر کے شعری وژن کی حنا بندی انہی تخلیقی توانائیوں سے ہوئی ہے۔ ”

لاہور کی مٹی سے کیا کیا ہے سحر پھوٹی
اس مٹی کی خوشبو بھی سانسوں میں اتر آئی

صاحبزادہ حسین محی الدین قادری کے مجموعہ کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات قاری کو ذہن نشین رہنی چاہیے کہ شاعر ایک واضح پیغام لیکر اُفق ادب پر طلوع ہوا ہے۔ ان کی شاعری جذبوں کے تیز بہاؤ کا نام ہے۔

ملک کے نامور شاعر سید الطاف حسین گیلانی کا شاعر کے بارے کہنا ہے کہ "بلاشبہ صاحبزادہ صاحب کا یہ مجموعہ کلام حب الہی، عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور محبت آل اطہار و اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے معمور ہے۔ ان کے کلام میں منفرد بات واضح طور پر جلوہ گر رہی کہ وہ ملک میں رائج غیر اسلامی نظام حکومت کے باعث معاشرتی ناانصافیوں اور عوام کے حقوق کی پامالی کا درد ہے۔ شاعر کی چشم بینا گردونواح میں سسکتی، تڑپتی، دکھی انسانیت کے کربناک مشاہدہ میں ہمہ وقت مصروف اور حساس دل مبتلائے آزار ہے۔ مگر وہ کہیں بھی اس پر محض آنسو بہاتے نظر نہیں آّتے بلکہ بھر پور عزم، طاقت، جوش اور ولولے کے ساتھ اس دیو استبداد کا خونی پنجہ مروڑ دینا چاہتے ہیں۔ اور اپنے محبوب قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک ایسا بھر پور اسلامی انقلاب دیکھنے کے خواہاں ہیں جس میں اللہ کی سرزمین پر خالصتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نظام نافذ ہو۔ ”

اس کتاب میں صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے شاعری کو ہر پہلو میں پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے یہ ایک منفرد شاہکار ہے۔ تحریک منہاج القرّآن کے مرکزی سیل سنٹر کے علاوہ ملک بھر میں تحریک کے مقرر کر دہ سیل پوائنٹس پر ابتدائی طور پر یہ کتاب دستیاب ہے۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »

لال مسجد کا معاملہ

Posted by naveedbcn پر جولائی 7, 2007

لال مسجد سانحہ سے اسلام اور پاکستان دونوں کو شدید نقصان پہنچا: پاکستان عوامی تحریک

لاہور، 03 جولائي 2007ءپاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ نے لال مسجد سانحہ کو پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوس ناک واقعہ قرار دیا دیتے ہوئے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر انتہائی دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ محض پاکستانی فورسز اور لال مسجد کے طلباء کا تصادم نہیں بلکہ اس کو بین الاقوامی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد کے سانحہ کے پیچھے جو عوامل بھی کارفرما ہوں ان سے قطع نظر عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انوار اختر ایڈووکیٹ نے کہا کہ عالمی سطح پر اسلام دشمن سازشی عناصر پہلے ہی مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، مذکورہ واقعہ ان کی اسلام کے خلاف جاری مذموم کاوشوں کو مزید تقویت دینے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں ایک معقول تعداد ہونے کے باوجود مذہبی جماعتوں نے لال مسجد کے تنازعہ کو حل کرنے کی مخلصانہ کوشش نہیں کی جس کے نتیجے میں باہمی تصادم کی وہ گھڑی آن پہنچی جس نے پوری قوم کو انتہائی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع نہایت تکلیف دہ ہے اور اس سے زیادہ اذیت ناک امر یہ ہے کہ دونوں جانب اسلام کے نام لیوا جانیں گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور لال مسجد انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ مزید تصادم سے گریز کریں، معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور تنازعے کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ انہوں نے دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ ایسے معاملات پر سیاست کرنا کسی طور بھی درست نہیں، اگر اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اے پی سی بلا سکتے ہیں تو ایسے گھمبیر اور توجہ طلب مسائل کی طرف بھی تعمیری توجہ دیں جو اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

Posted in خبریں | 1 Comment »

رشدی کو سر کا خطاب دینے کیخلاف پاکستان عوامی تحریک کے تحت ملک گیر احتجاجی مظاہرے

Posted by naveedbcn پر جون 29, 2007

رشدی کو سر کا خطاب دینے کیخلاف پاکستان عوامی تحریک کے تحت ملک گیر احتجاجی مظاہرے

پاکستان عوامی تحریک نے برطانیہ کی طرف سے ملعون سلمان رشدی کو ’’سر،، کا خطاب دیئے جانے کے خلاف چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر میں ضلعی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ مرکزی سطح پر لاہور پریس کلب کے سامنے ہونیوالے پُرامن احتجاجی مظاہرے کی قیادت مرکزی صدر فیض الرحمن درانی، سیکرٹری جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ اور سینئر نائب صدر چودھری محمد شریف نے کی جبکہ ڈپٹی چیف آرگنائزر محمد اشتیاق چودھری، صوبائی جنرل سیکرٹری لہراسب خان گوندل، آرگنائزر لاہور پروفیسر ذوالفقار علی، حافظ صفدر محمود، جنرل سیکرٹری لاہورحافظ غلام فرید اور صدر لاہور چودھری محمد افضل گجر نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ ملک بھر میں دیگر شہروں میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مرکزی میڈیا آفس کو موصولہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، جہلم اور ملتان میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی قیادت بالترتیب مرزا آصف محمود، مشتاق احمد قادری، عمران علی ایڈووکیٹ، زاہد نعمان قاضی، چودھری اسماعیل سندھو، رفیق نجم، پروفیسر سلیم احمد اور قمر عباس چودھری نے کی۔ کراچی، حیدرآباد، گھوٹکی، میرپورخاص، سیہون شریف میں ہونیوالے مظاہروں میں قیادت ڈاکٹر ایس ایم ضمیر، قیصر اقبال قادری، سید اوسط علی شاہ اور خان محمود بلوچ نے کی۔ اسی طرح ایبٹ آباد، پشاور، کوہاٹ، پہاڑ پور، نوشہرہ، میرپور، مظفرآباد، کوٹلی، کوئٹہ، دالبندین کے پریس کلبز کے سامنے ہونیوالے پرامن مظاہروں کی قیادت بالترتیب حاجی محمد ارشاد، ضیاء الرحمن، مشتاق علی سہروردی، خالد محمود درانی، سید امجد علی شاہ، علامہ عبدالشکور، پروفیسر رشید صدیقی، علامہ پروفیسر پرویز قریشی، سجاد ملک، مالک انقلابی، جی ایم صدیقی، نبی احمد باجوہ ایڈووکیٹ، نور محمد اور حفیظ بلوچ نے کی۔ مظاہروں میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے رشدی سے سر کا خطاب واپس لینے کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ شاتم رسول رشدی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان عوامی تحریک فیض الرحمن خان درانی نے کہا کہ رشدی سے ’’سر،، کا اعزاز واپس لیے بغیر برطانیہ کا مسلمانوں سے اظہار افسوس کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ملعون رشدی کو ’’سر،، کا خطاب دے کر امت مسلمہ کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی توہین کی ہے اس لیے فوری طور پر ’’سر،، کا خطاب واپس لیا جائے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رشدی جیسے ملعون کو سر کا خطاب دینا بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے شدید خطرہ ہے اور یہ تہذیبوں کو متصادم کرنے کی سازش ہے۔ برطانیہ نے رشدی کو سر کا خطاب دے کر مسلمانوں کے جذبات کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ رشدی امت مسلمہ کیلئے ’’ناپسندیدہ ترین،، شخصیت ہے، برطانیہ کی طرف سے اسے ’’سر،، کا خطاب دینا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور غیرسنجیدہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان رشدی کو ’’سر،، کا خطاب دینا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک شخص جس نے پوری امت مسلمہ کو دکھی کیا ہو اس کیلئے عزت کے اعلیٰ ترین اعزاز کا اعلان کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی نظر میں برطانیہ کا امیج بہت متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک کے حکمران او آئی سی کے پلیٹ فارم سے برطانیہ سے مطالبہ کریں کہ ملعون رشدی کو دیا جانے والا خطاب واپس لے۔ اس حوالے سے یو این او بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں قرارداد مذمت منظور کرائی جائے گی اور جمعہ کو یوم مذمت کے طور پر منایا جائے گا۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »

مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا تسلسل انتہائی مذموم فعل ہے : ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

Posted by naveedbcn پر جون 16, 2007

مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا تسلسل انتہائی مذموم فعل ہے : ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

لاہور، 14 جون 2007ءتحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے بغداد میں بم دھماکے میں امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ کے مزار کے ایک حصے اور دومیناروں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام دشمن عناصر کی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کے اندر انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ ایسے واقعات سے اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی سرزمین اہل بیت اطہار کے مزارات کی بدولت ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے انتہائی مقدس ہے اور اس خطے سے مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے اس لیے مزارات کو نشانہ بنا کر شرپسند قوتیں امت مسلمہ کے جذبات بھڑکا کر مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے امن کو سوچی سمجھی سازش کے تحت وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے تباہ کیا گیا اور اب مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا تسلسل انتہائی مذموم فعل ہے۔ فساد پھیلانے کیلئے اسلام دشمن عناصر مقدس مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ مسلمان متحد نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی حفاظت کا مناسب بندوبست کرنا عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں شدید غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ عراق میں ایسے واقعات کے تسلسل کو نہ روکا گیا تو اس کی ذمہ داری بڑی طاقتوں پر ہو گی۔ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے مطالبہ کیا کہ یو این او عراق میں امن و امان کی بحالی اور مقدس مقامات کی حفاظت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں قیام امن اور مزارات کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے مسلم ممالک کے حکمران او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مؤثر کردار ادا کریں۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »

الیکٹرانک میڈیا پر پابندی کا حکومتی فیصلہ آزادئ صحافت پر شب خون ہے

Posted by naveedbcn پر جون 1, 2007

الیکٹرانک میڈیا پر پابندی کا حکومتی فیصلہ آزادئ صحافت پر شب خون ہے

وردی اور فوج، اسلام اور نظریہ پاکستان سے زیادہ مقدس نہیں
حکومت پیمرا کو وزارت اطلاعات کے تحت کرنے کا فیصلہ واپس لے
پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی قائدین کا ردعمل پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر فیض الرحمن خان درانی، سیکرٹری جنرل انوار اختر ایڈووکیٹ اور ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلک ریلشنز ڈاکٹر شاھد محمود نے وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے الیکڑانک میڈیا کی براہ راست نشریات پر پابندی عائد کرنے اور پیمرا کو وزارت اطلاعات کے تحت دینے کے فیصلہ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی بین الاقوامی صحافتی اصولوں اور بنیادی آئینی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی اور آزادئ صحافت پر شب خون ہے۔ حکومت فوری طور پر الیکڑانک میڈیا پر پابندیوں کا فیصلہ واپس لے اورحکومت اپنی میڈیا پالیسی کو اسلام، آئین اور قانون کے تابع بنائے۔ انہوں نے کہا کہ وردی اور فوج کے خلاف بولنے والے افراد کو سزا دینے سے پہلے پاکستان، نظریہ پاکستان اور اسلامی شعائر اور حدود کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں کو سزا دی جائے اور فوج کے خلاف بولنے پر پابندی عائد کرنے سے قبل اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر پابندی لگائی جائے۔ قائدین نے کہا کہ اسلامی حدود، دینی نظریات وتصورات، نظریہ پاکستان اور بانیان پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے افراد اور ایسے پروگراموں پر ضرور پابندی عائد کرنی چاہئے۔ حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ وردی اور فوج اسلام و پاکستان سے مقدس نہیں ہے۔ آج میڈیا پر حکومتی ایما پر ایسے پروگرامز نشر کیے جا رہے ہیں جواسلامی تعلیمات اور نظریہ پاکستان سے متصادم ہیں اور نوجوان نسل کے اخلاق کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے نام پر ایسے پروگرامز دکھائے جارہے ہیں جن میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ دین کی الف ب سے نابلد لوگوں کو محقق اور دانشور بنا کر قوم کے سامنے لایا جاتا ہے اور وہ اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں اور اب میڈیا کے جائز آئینی وقانونی حق کا گلا محض اس لئے دبایا جا رہا ہے کہ وردی اور فوج کو میڈیا پر ڈسکس نہ کیا جاسکے۔ حکومت پیمرا کو وزرات اطلاعات کے ماتحت کرنے کی بجائے دینی نظریات، اسلامی وملکی کلچر کے خلاف جاری پروگرامز کے سلسلہ پر پابندی عائد کرے کیونکہ حکومت کی موجودہ میڈیا روش کی وجہ سے قوم میں شدید اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔

Posted in خبریں | Leave a Comment »