تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘درس بخاری، اول’ Category

تحریک منہاج القرآن برطانیہ کے زیرِ اہتمام ہونے والا درسِ بخاری شریف

Complete Videos of Doara of Sahih-ul-Bukhari دورہ صحیح البخاری ویڈیوز مکمل

Posted by minhajian پر جون 8, 2007

Part : 1.1

Part : 1.2

Part : 1.3

Part : 2.1

Part : 2.2

Part : 2.3

Part : 3.1

Part : 3.2

Part : 3.3

Part : 4.1

Part : 4.2

Part : 4.3

Part : 4.4

Part : 5.1

Part : 5.2

Advertisements

Posted in خطابات طاہر القادری, دروس بخاری، دوم, دروس حدیث, درس بخاری، اول | 1 Comment »

صحیح البخاری میں امام بخاری نے کل صحیح احادیث کوجمع کرنے کا التزام نہ فرمایا

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

صحیح البخاری میں امام بخاری نے کل صحیح احادیث کوجمع کرنے کا التزام نہ فرمایا

علامہ جمال الدین قاسمی نے اصول الحدیث پر کتاب ’’قواعد التحدیث‘‘ ص 118 میں بیان کیا ہے اور اس کتاب کو غیر مقلدین، سلفی، اہل حدیث ہم سے بھی زیادہ مانتے ہیں۔
اگرچہ یہ چیزیں مقدمہ ابن صلاح، تدریب الراوی، نخبۃ الفکر کی شروح، ابن حجر مکی کی شروح، امام مناوی کی شروح اور اصول الحدیث کی ہر کتاب میں موجود ہیں۔ مگر علامہ جمال الدین قاسمی نے اسے بڑے نظم کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’بخاری میں جو کچھ درج ہے وہ کل صحیح احادیث کا احاطہ نہیں ہے اس لئے کہ امام بخاری نے خود فرمایا کہ ایک لاکھ صحیح احادیث مجھے یاد ہیں اور 2 لاکھ اس کے علاوہ، جو ایک لاکھ امام بخاری نے یاد کیں کیا وہ سند کو سمجھے بغیر یاد کی ہوں گی۔ نہیں بلکہ امام بخاری خود فرماتے ہیں کہ مجھے ہر حدیث کا نہ صرف متن بلکہ سند بھی یاد ہے، اگر انہوں نے سند کو غلط دیکھا تو اس کے باوجود اس کو یاد کرنے کی زحمت کیوں کی۔ پس جس کو یاد کیا ہوگا وہ سند صحیح ہوگی تب یاد کیا ہے لیکن درج اس لئے نہیں کیا کہ انہوں نے صحیح البخاری کے لئے ایک خاص معیار مقرر کیا تھا اور صرف اس معیار والی احادیث لے لیں اور بقیہ چھوڑ دیں تاکہ باقی آئمہ درج فرمادیں۔ لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ صحیح البخاری میں کل صحیح احادیث آگئی ہیں۔

علامہ قاسمی آگے فرماتے ہیں کہ اس طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ کل صحیح احادیث بخاری ومسلم دونوں میں آگئی ہیں۔ اس لئے کہ بخاری ومسلم دونوں نے یہ اہتمام ہی نہیں کیا کہ ساری احادیث کو صحیحین میں جمع کردیا جائے۔

پس آج کے ’’صاحبان علم‘‘ کس طرح یہ بات ان سے منسوب کرنا چاہتے ہیں کہ اگر بخاری ومسلم میں نہیں تو ہم نہیں مانتے یہ بات تو ان دونوں نے بھی نہیں کہی جو بخاری ومسلم میں نہ ہو وہ قبول نہ کریں۔ امام سخاوی ’’فتح المغیث‘‘ میں بیان فرماتے ہیں کہ امام بخاری ومسلم نے بعض وہ احادیث جو دونوں کے معیار پر بھی پوری اترتی تھیں ان کو بھی بخاری ومسلم میں طوالت کے خوف سے جمع نہیں کیا پھر یہ اہتمام دار قطنی، امام حاکم، امام ابن حبان نے کیا کہ وہ احادیث لیتے ہیں اور اسکے آخر میں لکھ دیتے ہیں کہ حدیث صحیحین کی شرط پر صحیح ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، کبھی کہتے کہ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے کبھی لکھتے ھذا حدیث صحیح علی شرط غیرھما، کہ ان دونوں کی شرائط کے علاوہ صحیح ہیں۔ اس لئے یہ قول غلط ہے کہ صرف ان پر مدار کیا جائے۔ امام حاکم، مستدرک جلد 1 ص 2 پر روایت کرتے ہیں۔

امام بخاری ومسلم میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو حدیث ہماری کتابوں میں نہ ہو وہ نہ لی جائے۔ معلوم ہوا صحیح البخاری میں جو احادیث آگئی ہیں وہ اپنے اسناد کے اعتبار سے درجہ صحت میں سب کتب حدیث سے اعلیٰ ہیں۔ ایمانداری اور عدل کے اصول پر یہ مقام بخاری ہے۔ نیز ہزاروں، لاکھوں احادیث صحیحہ دیگر کتب میں بھی موجود ہیں جس میں سے بعض بخاری ومسلم کے معیار پر ہیں اور بعض اس معیار کے علاوہ بھی صحیح ہیں جنہیں دیگر آئمہ حدیث نے لیا اور انہیں ترک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بخاری ومسلم خود ان سے احادیث سے لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روایت و درایت دونوں نعمتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین (جاری ہے)

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

خلاصہ کلام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

خلاصہ کلام

پہلی نشست کے اختتام پر یہ کہنا چاہوں گا کہ خلاصہ کے طور پر یہ ذہن میں رہے کہ تراجم الابواب کے عنوانات آئمہ کے فقہی رجحانات تھے اور وہ باب ان عنوانات سے قائم نہیں فرمائے جو ان کے فقہی مذہب یا فقہی رجحان کے خلاف تھے۔ لہذا وہ احادیث جو ان ابواب کے مطابقت میں نہ تھیں ان کو روایت نہ کیا یا اگر احادیث ان ابواب کے مطابقت میں نہ تھیں لیکن ان کو بھی اس باب کے تحت درج کر دیا جس کی وجہ سے الگ تفصیل نہ ہوسکی۔

دوسری یہ بات کہ بحذف تکرار بخاری شریف کی احادیث صحیحہ کی تعداد 2513 ہے اور بخاری ومسلم میں بحذف تکرار احادیث صحیحہ کی کل تعداد 4000 ہے۔ اس طرح بقیہ کتب صحاح ستہ سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ ان چاروں میں سے تکرار کو نکال دیں تو ان میں موجود احادیث صحیحہ کی تعداد 6000 بنتی ہے۔ اس طرح صحاح ستہ میں موجود کل احادیث صحیحہ بحذف تکرار 10 ہزار ہیں۔ پس یہ شرط لگانا کہ صحاح ستہ سے اپنی بات کی دلیل کے لئے حدیث دکھاؤ تو یہ بات جہالت کی ہے اس لئے کہ کوئی اصول حدیث ایسا نہیں اور نہ ہی کسی محدث نے یہ قید لگائی ہے اور نہ ہی کبھی آئمہ اسماء الرجال نے کبھی یہ بات کہی کہ صرف صحاح ستہ سے دکھاؤ۔

یہ امر ذہن میں رہے کہ اصحاب صحاح ستہ کے اساتذہ بھی تھے امام بخاری کے 1080 شیوخ تھے، کیا وہ سارے ناقابل اعتبار تھے، غیر ثقہ تھے؟ اگر احادیث انہوں نے روایت کیں اور سند صحیح ہے تو کیوں نہ لی جائیں، اس طرح بقیہ اصحاب صحاح ستہ کے شیوخ نے کوئی حدیث روایت کی ہے تو اسے کیوں نہ لیا جائے۔ دار قطنی کی سند اگر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، مصنف عبدالرزاق کی سند اگر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، ابن ابی شیبہ کی سند صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائے، اس طرح دارمی، حاکم طبرانی، اما م ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی، امام مالک کی اسناد شرط اسناد پر صحیح ہو تو کیوں نہ لی جائیں صرف صحاح ستہ ہی کی روایت کو قبول کرنے کی شرط فقط علم اصول حدیث سے بے بہرہ اور جاہل ہونے کی علامت ہے کیونکہ اگر یہ شرط لگا دیں تو کل صحاح ستہ میں تو صرف بحذف تکرار 10 ہزار احادیث ہیں تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف 10 ہزار صحیح احادیث ثابت ہیں۔ نیز امام احمد بن حنبل نے جو 7 لاکھ احادیث یاد کیں ان کا کیا مقام و مرتبہ تھا۔ امام سیوطی کی کتاب تدریب الراوی میں ہے کہ امام احمد بن حنبل کو 7 لاکھ احادیث یاد تھیں اور 40 ہزار تو انہوں نے اپنی مسند میں روایت کیں۔ اس کو امام ابن جوزی نے بھی بیان کیا ہے۔ صحیح البخاری و مسلم میں موجود بحذف تکرار 4 ہزار احادیث موجود ہیں اور اس بات کی تصریح امام ابوالفیض محمد بن علی الفاسی نے جواہر الاصول میں کی۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

سنن الترمذی اور آمین بالجہر

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنن الترمذی اور آمین بالجہر

اس حدیث کو امام ترمذی اور امام حاکم نے روایت کیا اور امام ترمذی نے کہا کہ ھذا حدیث صحیح (یہ حدیث صحیح ہے) لیکن اس حدیث کو جس میں آمین آہستہ کہنے کا ذکر موجود ہے اس کو امام ترمذی نے باب ماجآء فی التامین (آمین کہنے کے باب میں) درج کیا۔

اب یہاں ’’الجہر باالتامین‘‘ والاباب بنانا ممکن نہ تھا اس لئے کہ حدیث میں آواز کو پست کرنے کا ذکر موجود تھا تو بہت اچھا ہوتا اگر امام ترمذی اس کے لئے ’’اخفاء باالتامین‘‘ کا باب قائم فرما دیتے مگر وہ قائم نہ فرمایا کیونکہ مذہب فقہی اور رجحان کے خلاف ہے لہذا اس کو عمومی باب بنا کر آمین کے باب میں درج کردیا۔ اب آمین کے باب میں فضیلتیں بھی ہیں کسی کو معلوم نہیں کہ اونچی اور نیچی آواز میں کہنے کی احادیث بھی اس میں موجود ہیں یا نہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ آئمہ حدیث نے احادیث کو روایت کرنے میں عدل کے خلاف کام نہیں کیا۔ تمام آئمہ حدیث عدل، ایمان، تقویٰ، ثقاہت، ایمانداری کے پہاڑ ہیں اگر ان میں یہ کمی ہوتی تو دین کی عمارت گر جاتی، احادیث لی ہیں، فرق ترجمۃ الابواب میں آیا کیونکہ ابواب کو انہوں نے اپنے فقہی اجتہاد کے مطابق قائم کیا۔ نتیجتاً اس کے معانی و مطالب مختلف ہوگئے۔

ان مثالوں کے بعد یہ کہنا کہ صرف بخاری سے دکھائیں ہم نہیں مانتے، امام اعظم کا مذہب، بخاری ومسلم میں ثابت نہیں یہ باتیں حقیقتاً کوئی وجود نہیں رکھتیں۔ امام اعظم، امام بخاری کے بعد ہوتے تو اعتراض کا جواز بھی بنتا وہ تو امام بخاری سے دو نسلیں پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان کے پاس تو ان سے اعلیٰ سندیں ہیں۔ ان کی بات زیادہ معتبر ہے، وہ براہ راست یا صحابہ سے سن کر روایت کرتے ہیں یا تابعین سے سن کر روایت کرتے ہیں۔ امام بخاری اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان تو 4 یا 5 واسطے ہوئے ہیں تب روایت کرتے ہیں۔ امام اعظم نے وہ روایات بیان کیں اور ان کے تراجم الابواب نفس حدیث کے مطابق مقرر کئے جس سے فقہ حنفی وجود میں آئی۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

آمین بالجہر اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

آمین بالجہر اور صحیح البخاری

صحیح البخاری میں جتنی احادیث ’’امین بالجہر‘‘ کی ہیں ان کے بارے امام بخاری نے ’’الجہر بالتامین‘‘ (اونچی آواز سے آمین کہنا) کے عنوان سے باب قائم کئے ہیں اور پوری بخاری شریف میں اونچی آواز میں آمین کہنے کی ایک بھی حدیث درج نہیں کی ہے۔ امام بخاری نے صحیح البخاری میں کتاب الاذان ، باب 111، جہر الامام باالتامین‘‘ (امام کا اونچی آواز میں آمین کہنا) قائم کرنے کے بعد عطاء بن یسار کا قول بیان کیا کہ ابن زبیر بیان فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پیچھے تھے کہ جب مسجد میں آمین کہتے تو اونچی آواز بلند ہوتی اور پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت نافع کا قول بیان کیا کہ وہ اونچی آواز میں آمین کہنے کو ترک نہ کرتے۔ اس باب کے تحت حدیث امام بخاری صرف ایک لے کر آئے اور اس حدیث میں اونچی آواز میں آمین کہنے کا سرے سے کوئی ذکر ہی موجود نہیں ہے حدیث مبارکہ ہے۔

عن ابي هريرة ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه، تامين الملائکه غفرله ماتقدم من ذنبه.

’’جب امام آمین کہے مقتدیوں تم بھی آمین کہو، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کی زندگی کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے‘‘۔

میں آئمہ حدیث کی پیروی میں عرض کر رہا ہوں کہ کاش اچھا ہوتا اور بہت اچھا ہوتا اگر امام بخاری اس حدیث کو باب ’’فی فضل التامین‘‘ (آمین کہنے کی فضیلت) میں لاتے کیونکہ اس حدیث کے مضمون میں ’’الجہر باالتامین‘‘ (اونچی آواز میں آمین کہنے) کا تو ذکر ہی موجود نہیں ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے محدثین نے ترجمۃ الباب سے اختلاف کیا ہے، حدیث سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا۔ اس طرح باب 113 ’’جہر المامون بالتامین‘‘ (مقتدی اونچی آواز سے آمین کہنے) کے تحت بھی امام بخاری ایک ہی حدیث لائے ہیں۔

عن ابي هريرة ان رسول الله قال اذا قال الامام غير المغضوب عليهم والضالين فقولوا امين، فانه من وافق قوله قول الملائکة غفرله ماتقدم من ذنبه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام ’’غیر المغضوب علیھم والضالین‘‘ کہے تو تم آمین کہا کرو، جس کی آمین فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گئی اس کے پچھلے گناہ بخشیں جائیں گے‘‘۔

اس حدیث کے مضمون میں بھی کہیں اونچی یا نیچی آواز میں آمین کہنے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اچھا ہوتا کہ امام بخاری اس حدیث کو بھی ’’باب فی فضل التامین‘‘ میں ذکر کرتے اور ’’جہر باالتامین‘‘ کا باب قائم ہی نہ کیا جاتا اور فقہا پر چھوڑ دیا جاتا وہ قرائن دیکھ کر فیصلے کرلیتے۔ یہ درایت حدیث کا تو مسئلہ ہے لیکن روایت حدیث کا نہیں ہے۔

اسی طرح ایک حدیث مبارکہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ’’غیرالمغضوب علیھم والضالین‘‘ پڑھا اور اس کے بعد آمین کہا اور آمین آہستہ آواز میں کہی۔

عن وائل بن حجر قال سمعت ان النبي قرا غير المغضوب عليهم والضالين فقال امين وخفدبها صوته.

’’میں نے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’غیرالمغضوب علیہم والضالین‘‘ کی قرات کی اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آمین کہا اور اپنی آواز کو پست کرلیا‘‘۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

آئمہ حدیث کے تراجم الابواب کے قائم کرنے کے حوالے سے محدثین کا ردِّ عمل

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

آئمہ حدیث کے تراجم الابواب کے قائم کرنے کے حوالے سے محدثین کا ردِّ عمل

آئمہ حدیث کے ایسے اقدامات پر آپ امام عسقلانی، امام کرمانی، امام عینی، شاہ ولی اللہ، امام قسطلانی، امام نووی، شروح بخاری، شروح مسلم، شروح ترمذی، شروح ابی داؤد کو پڑھ لیں ہر محدث بیان کرتا ہے کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب مختلف ہے اور دونوں آپس میں ملتے نہیں ہیں۔ آئمہ حدیث لکھتے ہیں کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب ثابت نہیں ہوتا ہے، کبھی محدث بیان کرتا ہے کہ حدیث الباب سے ترجمۃ الباب مختلف ہے۔ مطابقت نہیں ہے۔ پس تراجم الابواب پر لکھنے والے کل محدثین اس بات کو بیان کرتے ہیں۔

میں بھی ان کے تتبع میں ادباً عرض کررہا ہوں کہ جہاں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ صحیح البخاری اور دیگر صحاح ستہ میں سے کثرت سے مذہب امام اعظم ثابت نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ درج شدہ احادیث اور تراجم الابواب میں مطابقت نہیں ہے۔ احادیث وہی ہیں کسی اور کتاب کو نہ لیں صرف صحاح ستہ پر مدار کریں اور انکے تراجم الابواب بدل ڈالیں پورا مذہب امام اعظم ابوحنیفہ ثابت ہوجائے گا کیونکہ تراجم الابواب آئمہ حدیث کے اجتہاد ہیں، حدیث رسول نہیں ہیں اور ہم اجتہاد بخاری کے مقلد نہیں ہیں ہم اجتہاد ابوحنیفہ کے مقلد ہیں۔ امام بخاری ہمارے امام ہیں، امیرالمومنین فی الحدیث ہیں، امام مطلق ہیں امام الائمہ ہیں، امام الحفاظ ہیں، سب سے بڑے سرتاج ہیں مگر روایت حدیث کے، فقہ کے نہیں۔ فقہ کے امام ابوحنیفہ ہیں، جن کا ہر کوئی عیال ہے، جن کا ہر کوئی محتاج ہے۔ پس سمجھ لیں کہ یہ مسائل جو پیدا ہوئے ہیں وہ احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ تراجم الابواب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے میں نے جب احادیث کی کتب مرتب کیں تو انکے تراجم الابواب خود قائم کئے اور یہ حق ہے اور اس میں کوئی عمل ناجائز نہیں ہے جو حدیث کی کتاب مرتب کرے اس کا حق ہے وہ ترجمۃ الباب کو قائم کرے۔

جس طرح امام بخاری تراجم الابواب قائم کرکے اپنے فقہی مذہب کی تائید میں آیت، حدیث، قول وغیرہ میں سے کچھ لاتے ہیں اس طرح امام مالک بھی احادیث کو روایت کرنے کے بعد اپنا فقہی مذہب بیان کرتے ہیں۔ امام مالک کا اپنا طریق یہ تھا کہ وہ جہری میں قرات امام کے پیچھے نہ کرتے سری میں کرتے تھے۔ درج بالا حدیث کو بیان کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں۔

’’ہمارا مذہب یہ ہے کہ جہری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرات ترک کردی جائے اور اگر سری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرات کی جائے‘‘

چونکہ مذہب یہ ہے اسلئے اس حدیث کو بھی اس باب میں لے آئے اور اس حدیث کا مفہوم بھی اپنے فقہی مذہب کے مطابق سمجھا۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

امام مالک اور قرات خلف الامام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

امام مالک اور قرات خلف الامام

اسی طرح موطا میں امام مالک نے کتاب الصلاۃ میں باب نمبر 8 ماجاء فی امم القرآن (سورۃ فاتحہ کے بارے میں) قائم فرمایا اس میں قرات خلف الامام کے الفاظ کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اس باب میں امام مالک حدیث 191 بیان کرتے ہیں۔

انه سمع جابر بن عبدالله يقول من صلي رکعتا لم يقراء فيها بام القرآن فلم يصلي الا ورآء الامام.(موطا امام مالک، ج 1، ص 86 حديث 191)

اس حدیث میں بھی امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے بارے میں ہے مگر امام مالک نے اس کا الگ باب قائم نہ فرمایا اچھا ہوتا کہ اس کو الگ باب کے عنوان سے بیان فرمادیتے کیونکہ نفس حدیث میں وہ بات نہ تھی جس عنوان سے باب قائم کر رہے ہیں۔ اس طرح باب 50، کتاب 10 میں باب کاعنوان درج کرتے ہیں۔

ترک القرآة خلف الامام فيما جهر فيه.

’’امام کے پیچھے اس نماز میں قرات نہ کرنا جس میں وہ جہری قرات کرتا ہے‘‘۔
اور اس باب کے تحت امام مالک حدیث لائے ہیں۔

ان عبدالله بن عمر کان اذا سئل هل يقرا احد خلف الامام قال اذ صلي احدکم خلف الامام فحسبه قرات الامام واذا صلي وحده فليقرا.

’’حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی شخص امام کے پیچھے قرات کرے انہوں نے کہا جب کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرات اسے کافی ہوتی ہے اور جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو تب قرات کرے‘‘۔

یہاں مطلقاً سوال پوچھا گیا جہری یا سری نمازوں میں قرات کا سوال نہ کیا گیا مگر باب کا عنوان اپنے فقہی مذہب کے مطابق جہری نماز کے حوالے سے باندھا گیا۔ پس یہ ایک فقہی رجحان ہے اور یہ حق ہے کہ ترجمۃ الباب کو آئمہ اپنے فقہی مذہب کے مطابق درج کرتے ہیں۔ اس طرح امام اعظم کا بھی ایک فقہی رجحان ہے۔ اگر فقہی رجحان کے مطابق ابواب بنانا اور انکے مطابق احادیث لانے کا حق امام بخاری، امام مالک، امام مسلم، امام ترمذی اور دیگر تمام آئمہ کو حاصل ہے تو امام اعظم پر اعتراض کرنے والے یہ حق امام اعظم کو کیوں نہیں دیتے۔

درج بالا حدیث اپنے معنی میں اپنے مفہوم میں اپنے ابلاغ میں بڑی واضح ہے، مبہم نہیں ہے، شک و شبہ اور التباس سے بالاتر ہے مگر اس کے باوجود امام مالک نے دیگر آئمہ حدیث کی طرح اس حدیث کو باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جہر فیہ کے تحت درج کر دیا گیا کاش وہ اس حدیث کو اس کے نفس مضمون کے اعتبار سے الگ باب کے عنوان کے تحت درج کرتے۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

سنن الترمذی اور قرات خلف الامام

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنن الترمذی اور قرات خلف الامام

اس طرح سنن الترمذی میں حدیث مبارکہ ہے کہ جسے حسن صحیح کا درجہ حاصل ہے۔

انه سمع جابر بن عبدالله يقول من صلي رکعتا لم يقرا فيها ام القرآن فلم يصلي الا ان يکون ورآء الامام.(سنن الترمذي جلد 1، ص 346 حديث 312)

’’حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جس نے ایک رکعت بھی پڑھی اور اس میں سورہ الفاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو‘‘۔

اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنا جائز ہے اس کو امام ترمذی نے کتاب الصلاۃ میں روایت کیا مگر اس کے لئے جو باب کا عنوان قائم کیا ہے وہ ہے۔

ماجاء في ترک قرات خلف الامام اذا جهر الامام بالقراة

(جب امام جہری نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے پیچھے قرات نہ کی جائے)

حالانکہ حدیث مبارکہ میں جہر اور سر کا بالکل ذکر ہی موجود نہیں ہے پس باب کا عنوان حدیث نہیں ہوتا بلکہ امام الحدیث کا اپنا اجتہاد ہوتا ہے اب ہم حدیث کو دیکھیں کہ جس میں الا ان یکون ورآء الامام (سوائے اس کے کہ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو) کے الفاظ قرات خلف الامام کی نفی کر رہے ہیں یا محدث کے ترجمۃ الباب کو دیکھیں جو کہ اس کا اپنا اجتہاد ہے پس ہم حدیث مبارکہ کو دیکھتے ہوئے باب کے عنوان کی بجائے حدیث مبارکہ پر اپنے مذہب کے مطابق پیروی کرتے ہیں۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

فقہ حنفی احادیثِ صحیحہ پر قائم ہے

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

فقہ حنفی احادیثِ صحیحہ پر قائم ہے

 

اب بتانا یہ چاہتا ہوں کہ یہ باب جو آئمہ حدیث نے قائم کئے یہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نہیں ہے بلکہ آئمہ حدیث کے اجتہاد ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ یہ احادیث امام اعظم ابوحنیفہ کو پہنچیں تو انہوں نے باب ’’ترک القراۃ خلف الامام‘‘ قائم کرکے یہ حدیث لکھ دیں اور یہ احادیث امام بخاری ومسلم کو پہنچیں تو انہوں نے دوسرا عنوان قائم کرکے احادیث لکھ دیں، ترجمۃ الباب بدل گئے اور حدیث وہی رہی پس اسی طرح فقہ حنفی میں شامل دیگر عقائد بھی احادیث صحیحہ پر قائم ہیں۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »

قرات خلف الامام اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

قرات خلف الامام اور صحیح البخاری

اس طرح امام کے پیچھے قرات کرنے کے حوالے سے امام بخاری نے کوئی باب ایسا قائم نہیں کیا جس میں ترک قرات کا ذکر موجود ہو اور جب انہوں نے اس حوالے سے کوئی باب ہی نہیں بنایا تو اس کا مطلب ہے کہ قرات خلف الامام ان کا فقہی مذہب ہے اور یہ کہنا کہ اس بارے کوئی صحیح حدیث نہ تھی اس لئے باب نہیں بنایا تو یہ بات غلط ہوگی کیونکہ امام بخاری نے خود کو یاد ساڑھے 97 ہزار احادیث صحیحہ کو بھی صحیح البخاری کا حصہ نہیں بنایا۔

امام کے پیچھے قرات نہ کرنے والی حدیث کو امام مسلم نے ذکر کیا ہے حالانکہ امام مسلم خود قرات خلف الامام کے قائل تھے اور امام مسلم نے اس ’’ترک قرات خلف الامام‘‘ والی حدیث کو اس بات کے عنوان سے ذکر نہیں کیا بلکہ سجود التلاوۃ کے عنوان سے قائم باب میں ذکر کر دیا کیونکہ اس حدیث میں سجدہ تلاوت کا مضمون بھی مذکور تھا۔ لہذا سجدہ تلاوت کے مضمون کی وجہ سے امام مسلم نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے والی حدیث اس باب میں بیان کردی حالانکہ سجدہ تلاوت کے مضمون سے قبل امام کے ساتھ یا پیچھے قرات نہ کرنے کا مضمون آیا ہے اس کا الگ باب نہیں بنایا۔

عن عطا بن يسار انه سال زيد بن ثابت عن القراة مع الامام قال لاقرات مع الامام في اي شيء.

’’حضرت عطا بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت سے سوال کیا کہ امام کے ساتھ قرات کا حکم کیا ہے؟ انہوں نے کہا کسی چیز میں بھی امام کے ساتھ قرات جائز نہیں‘‘۔

اس حدیث میں آگے آتاہے کہ والنجم کی تلاوت کی اور میں نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ اس سجدہ تلاوت کے مضمون کی وجہ سے اسے اس باب میں ذکر کر دیا اور چونکہ امام مسلم کا اپنا موقف بھی قرات خلف الامام بارے اثبات میں ہے اس لئے انہوں نے ’’لاقرات مع الامام‘‘ کے عنوان سے باب قائم نہیں کیا کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ جب امام حدیث کسی عنوان کے ایک پہلو پر تو باب قائم کرتا ہے اور دوسرے پہلو پر باب قائم نہیں کرتا تو پڑھنے والے کا ذہن بھی اس دوسری طرف التفات نہیں کرتا کہ اگر وہ چیز جائز ہوئی تو امام الحدیث اس کو یہاں ذکر ضرور کرتا۔ امام مسلم نے قتادہ سے روایت کیا۔

فاذا قراء ا فانصتوا

(جب امام قرات کرے تو تم چپ ہو جایا کرو)

(صحيح المسلم، ج 1، ص 304، حديث 404)

اگر یہ حدیث الگ کا باب قائم کرکے اس کے نیچے درج کی جاتی تو فاتحہ یا قرات خلف الامام کا مسئلہ سمجھ میں آجاتا مگر اس باب کو قائم کرنے کی بجائے اس حدیث کو امام مسلم ’’التشہد فی الصلاۃ‘‘ کے باب میں لے گئے۔ اب جبکہ حدیث مختلف باب کے عنوان کے تحت درج ہوگی تو دھیان اس طرف کیسے جاسکتا ہے۔

Posted in درس بخاری، اول | Leave a Comment »