تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘دروس حدیث’ Category

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے دروس صحیح البخاری – برمنگھم، برطانیہ

Complete Videos of Doara of Sahih-ul-Bukhari دورہ صحیح البخاری ویڈیوز مکمل

Posted by minhajian پر جون 8, 2007

Part : 1.1

Part : 1.2

Part : 1.3

Part : 2.1

Part : 2.2

Part : 2.3

Part : 3.1

Part : 3.2

Part : 3.3

Part : 4.1

Part : 4.2

Part : 4.3

Part : 4.4

Part : 5.1

Part : 5.2

Posted in خطابات طاہر القادری, دروس بخاری، دوم, دروس حدیث, درس بخاری، اول | 1 Comment »

دروسِ بخاری شریف، برطانیہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

درسِ بخاری شریف حصہ اول

درسِ بخاری شریف حصہ دوم

Posted in دروس حدیث | 1 Comment »

امام بخاری اور ادبِ شیخ کی تعلیم

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

کتاب بدء الوحی کی پہلی حدیث میں موجود مضمونِ ہجرت کے علاوہ بقیہ چھ مقامات پر مذکور حدیث کا مضمونِ ہجرت تفصیلی ہے اور یہاں اختصار ہے۔ امام بخاری نے اُن تفصیلی مقامات میں سے کسی ایک کو ذکر کرنے کی بجائے اس ہجرت پر مبنی مختصر مضمون کو پہلے کیوں بیان کیا؟

اس سوال کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ امام بخاری چونکہ اہلسنت میں صاحب تصوف، صاحب طریقت، صاحب سلوک، صاحب محبت اور کمال درجہ کے صاحب ادب ہیں اور یہ حدیث مبارکہ چونکہ امام بخاری نے اپنے سب سے اعلیٰ استاد شیخ حمیدی سے سنی، اس لئے حدیث کے مختصر مضمون کے باوجود ادب شیخ کی وجہ سے اس مضمون پر ان سے سنی گئی حدیث کو پہلے ذکر کیا اور ادب شیخ کی تعلیم کی طرف اشارہ کیا۔ (جاری ہے)
_________________
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

Posted in دروس بخاری، دوم | Leave a Comment »

ہجرت، وحی اور نیت کا باہمی ربط

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

ہجرت، وحی اور نیت کا باہمی ربط

حدیث کا مضمون ہجرت ہے، باب کا عنوان ہے بدء الوحی، اس کے درمیان ربط کے کئی گوشے ہیں ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ ہجرت کا معنی کسی عمل یا جگہ کو چھوڑ دینا اور اس سے علیحدہ ہو جانا ہے۔ وحی کا معنی ہے کہ نبی کا اللہ کے ساتھ ایسا جڑ جانا کہ اللہ کے کلام کے ساتھ ان کا اتصال ہوجائے یعنی وحی، اللہ سے ایسے تعلق کی شکل میں پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کلام الہٰی کا حصول و وصول ہوسکے۔ پس ترجمۃ الباب اور حدیث الباب میں ربط یہ بنا کہ جب کسی سے تعلق بنانا ہو تو کسی سے تعلق چھوڑنا پڑتا ہے، گویا دنیا سے تعلق جب تک نہیں توڑیں گے اس وقت تک رب سے تعلق جوڑا نہیں جاسکتا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ کے الفاظ میں نیت کا بھی ذکر ہے، اس ربط کا نیت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ نیت کے ساتھ ربط یہ ہے کہ کسی کو چھوڑ دینا تاکہ اس مالاء اعلیٰ کے ساتھ جڑ سکیں یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک آپ کی نیت اللہ کے لئے خالص نہ ہوجائے، نیت میں خالصیت اور للہیت ہو تبھی انسان کو کچھ چھوڑنا نفع دیتا ہے اور کہیں جڑنا نفع دیتا ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شہری، گھریلو حتی کہ ازدواجی زندگی ترک کرکے غار حراء میں چلے جاتے اور طویل وقت اس تعلق سے ہجرت فرماکر خلوت میں یکسوئی کے ساتھ اس تعلق کو جوڑتے اور اس تعلق میں اخلاص اور للہیت اس کمال تک جاپہنچی کہ پھر پردے ہٹادیئے گئے اور اللہ نے اس حراء میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام کیا۔ یہ ہجرت، وحی اور اخلاص فی النیت کا باہمی تعلق و ربط ہے۔

لغت عربی میں وحی کے کئی معانی ہیں۔ ان معانی میں ایک معنی ’’تیزی سے خفیہ اشارہ کرنا‘‘ بھی ہے۔ امام بخاری نے صحیح البخاری کو ’’البدء الوحی‘‘ کے الفاظ سے شروع کرکے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جب اللہ سے تعلق قائم ہوتا ہے تو بہت سی باتیں اشارات میں ہوتی ہیں چونکہ وحی کے معنی میں اشارہ ہے، ہر چیز کو ظاہر نہیں کیا جاتا چانچہ اولیائے کرام، عرفاء عظام اور صوفیاء کے ہاں کثرت سے اشارات پائے جاتے ہیں اور ان احباب کے یہ اشارات، انبیاء پر نازل ہونے والی وحی کے فیوضات میں سے ایک فیض ہوتا ہے اور یہ فیوضات نبوت میں سے ایک حصہ ہے۔ اس لئے صوفیاء کہتے ہیں کہ صوفیاء کی زبان اشارہ کی زبان ہوتی ہے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وحی بند ہوگئی اور اشارات، امت اور اہل اللہ کے لئے برقرار رہے۔ یہ وحی کے معنی اشارہ میں اشارہ ہے۔

اس طرح وحی کا ایک معنی کتابت بھی ہے اور اس سے مراد کتاب بھی ہے کیونکہ قرآن پاک وحی الہٰی ہے اس لئے اس بارے کہا گیا کہ ذلک الکتاب لاریب فیہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ وحی کا ایک معنی مکتوب (لکھا گیا) بھی ہے، مکتوب کا معنی خط ہے۔ پس اس معنی سے اشارہ یہ ملا کہ وحی اللہ اور نبی کے درمیان خط و کتابت بھی ہے۔ اس طرح وحی کا معنی رسالت، الہام اور القاء بھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا۔

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کے لئے ہجرت کی، گھر چھوڑا اور روانہ ہوا تو اس کا مقصود نکاح ہی ہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو سوائے نکاح کے کوئی اور اجر نہیں ملے گا مزید ارشاد فرمایا ’’جس نے دنیا کے لئے ہجرت کی اس کو سوائے دنیا کے کوئی اور اجر آخرت میں نہ ملے گا‘‘ یعنی ہجرت تو دنیا کے حصول کے لئے کرے لیکن کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کی ہے تو اس کو اسی کا اجر ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ دنیا کے لئے ہجرت کرنے سے منع نہ کیا بلکہ یہ فرمایا کہ نیتوں میں اسے خلط ملط نہ کیا جائے، نیت میں اگر دنیا کے لئے ہجرت ہے تو اسی کا اجر ہوگا ہجرت الی اللہ کا اجر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

Posted in دروس بخاری، دوم | Leave a Comment »

کتاب البدء الوحی

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

کتاب البدء الوحی

باب الاول : کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا آغاز کیسے ہوا‘‘۔

سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ رضي الله عنه عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئ مَا نَوٰي وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُه اِلٰي دُنْيَا يُصِيْبُهَا اَوْ اِلٰي اِمْرَاَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُه اِلٰی مَاهَاجَرَ اِلَيْه.

’’میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہو تاکہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کی جانب ہو کہ اس سے شادی کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی‘‘۔

یہ حدیث مبارکہ صحیح البخاری میں سات مقامات پر مذکور ہے۔ امام بخاری نے صحیح البخاری کی ابتداء ’’کتاب البدء الوحی‘‘ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی ابتداء) سے کی اور پہلی حدیث جو اس کتاب میں لائے ہیں اس میں وحی کا کوئی ذکر نہیں۔ جہاں ایسی صورت ہو تو محدثین ترجمۃ الباب اور حدیث الباب کے درمیان ربط کو واضح کرتے ہیں کہ مصنف نے ایسا کیوں کیا؟ مصنف بذاتِ خود اس ربط کو بیان نہیں کرتا۔ امام بخاری کے ہاں کبھی بھی ترجمۃ الباب اور حدیث الباب میں بے ربطگی نہیں پائی جاتی، کوئی نہ کوئی ربط ضرور ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس ترجمۃ الباب کے تحت اس حدیث کو ذکر کرتے ہیں۔ محدث اس کے بعض پہلوؤں سے اتفاق و اختلاف کرسکتا ہے۔

Posted in دروس بخاری، دوم | Leave a Comment »

دورہ صحیح البخاری (حصہ دوم)

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

دورہ صحیح البخاری (حصہ دوم)

صحیح البخاری کی روشنی میں مقام و محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تمثلِ ارواح علم الغیب حقیقتِ بدعت شخصیت پرستی محبتِ اولیاء اور تصوف
کے موضوعات پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا برمنگھم UK،
جامع مسجد گھمکول شریف میں دورہ صحیح البخاری کی
دوسری نشست میں علمی و تحقیقی خطاب

Posted in دروس بخاری، دوم | Leave a Comment »

ترجمۃ الباب کی وضاحت اور امام ابوحنیفہ پر ہونے والے اعتراض کا جواب

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007


ترجمۃ الباب کی وضاحت اور امام ابوحنیفہ پر ہونے والے اعتراض کا جواب

ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرنے والی حدیث کے تناظر میں ترجمۃ الباب کو سمجھتے ہیں۔ امام بخاری نے باب 85 ترجمۃ الباب کا عنوان بیان کیا ہے۔

الي أين يرفع يديه.

اس عنوان کے بعد آپ لکھتے ہیں۔

وَقَالَ اَبَوْ حُمَيْدِ فِي اصْحَابِه رَفَعَ النبي صلي الله عليه وآله وسلم حَذْوَ مَنْکِبَيْه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھائے‘‘۔

اس حدیث کو بیان کرنے سے قبل امام بخاری نے کوئی سند بیان نہیں کی بلکہ ابو حمید کا قول بغیر سند کے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا۔ پس ترجمۃ الباب میں مذکور ابوحمید کا قول امام بخاری کی فقہ ہے۔ آئمہ فقہ، فقہ حنفی اور امام اعظم پر سب سے بڑا اعتراض جو وارد ہوتا ہے اس کا جواب بھی امام بخاری کے اس ترجمۃ الباب کے قائم کرنے سے مل جاتا ہے۔ اعتراض کیا جاتا ہے کہ امام اعظم اور دیگر آئمہ فقہا کسی مسئلے کے اثبات کے لئے اقوال، مراسیل، (مرسل صحابی، مرسل تابعی) مقطوع روایات، (فلاں نے کہا کہ حضور ایسا کرتے تھے فلاں تابعی نے کہا کہ حضور ایسا کرتے تھے) ذکر کرتے ہیں اور حضور کا قول یا سنت بیان کر دیتے ہیں اور امام بخاری و مسلم کی طرح پوری سند روایت نہیں کرتے۔ لہذا ہم ان کی بات کو نہیں مانتے۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ تمام آئمہ فقہ (اِمام اعظم، امام شافعی، امام مالک، امام احمد حنبل)، آئمہ مذہب و مجتہد مطلق جب فقہ کا مسئلہ سمجھانا چاہتے ہیں تو یاد رکھ لیں کہ حکم فقہ سمجھانے کے لئے امام فقہ کو سند کے ساتھ حدیث بیان کرنے کی حاجت نہیں ہوتی وہ خود معتمد، ثقہ ہوتا ہے خواہ وہ تابعی ہے، تبع تابعی ہے یا خیر القرون سے ہے اور اپنی پوری محقق سند کے ساتھ وہ صحابی کو بیان کر رہا ہے یا تابعی کا قول بیان کررہا ہے کہ ابن سیرین نے کہا، شعبی نے کہا، زہری نے کہا حسن بصری نے کہا، قتادہ نے کہا، عکرمہ نے کہا، جب وہ اعتماد، وثوق اور پوری ثقاہت کے ساتھ صحابی، تابعی یا تبع تابعی کو بیان کرتے ہیں کہ

فقال رسول اللہ ھکذا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کہا) اوقال رسول اللہ ھکذا (یارسول اللہ نے ایسا کہا) اور ان کے قول کو روایت کرتے ہیں تو اعتماداً ان کا قول حکم مرفوع کی طرح ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح امام بخاری نے بخاری شریف میں اول تا آخر جو عمل ترجمۃ الباب میں کیا ہے وہ عمل امام اعظم نے کیا ہے۔ امام بخاری نے جو کچھ ترجمۃ الباب میں کیا وہی کچھ آئمہ فقہ کرتے ہیں۔ امام اعظم کا ترجمۃ الباب چونکہ بیان فقہ کے لئے ہے، بیان حکم کے لئے ہے، استنباط احکام کے لئے ہے اور اپنے فقہی مذہب کے اظہار کے لئے ہے اس لئے وہ ایسے قول سے روایت کرتے ہیں جن پر انہیں اعتماد ہوتا ہے۔ جس طرح امام بخاری کو ابوحمید پر اعتبار ہے اور ابوحمید کو اس سند پر اعتماد ہے جس سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل لیا۔ لہذا آئمہ فقہ کے بیان وہ درجہ رکھتے ہیں جو امام بخاری کے ترجمۃ الباب کا ہے اور جہاں وہ پوری سند کے سند حدیث روایت کر دیں تو اس کا وہ درجہ ہوتا ہے جو کتب حدیث میں اسناد حدیث کا ہے اس قول کو بیان کرنے کے بعد امام بخاری حدیث روایت کرتے ہیں۔

عن عبدالله بن عمر قال رايت النبي صلي الله عليه وآله وسلم افتتح التکبير في الصلاة ورفع يديه حين يکبر حتي يجعلهما حذو منکبيه.

(صحيح البخاري جلد 1 حديث 787)

’’حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کا افتتاح کیا، تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے‘‘۔
امام بخاری نے کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کی حدیث کو بخاری شریف میں بیان ہی نہیں کیا اور بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اوپر ترجمۃ الباب میں اپنا فقہی مذہب بیان کرچکے ہیں۔ اب حدیث صرف وہ بیان کریں گے جو ان کے بیان کردہ فقہی مذہب کو ثابت کر رہی ہو۔ گویا صحیح البخاری، کتاب الحدیث بھی ہے اور کتاب الفقہ بھی ہے اس فرق کو سمجھے بغیر بخاری پڑھیں گے تو مغالطہ پیدا ہوگا۔ سمجھ کر پڑھیں گے تو مغالطے دور ہوجائیں گے۔

کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کی حدیث، حدیث صحیحہ ہے اور اس کو امام مسلم نے صحیح مسلم میں بیان کیا ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب 9 استحباب رفع الیدین میں امام مسلم نے پہلے وہ احادیث بیان کی ہیں جن میں کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر موجود ہے اور اس کے بعد حدیث 863 اور864 نمبر حدیث ذکر کی ہے۔

عن مالک بن حويرس ان رسول الله کان اذا اکبر رفع يديه حتي حذو اذنيه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تکبیر کہی اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنے بلند کئے کہ کانوں کے برابر کردیئے‘‘۔

اب ہمارے فقہی مذہب کو تقویت دینے والی حدیث امام مسلم لے آئے اور امام بخاری نہیں لائے اور اس طرح دوسری حدیث میں بھی کانوں تک ہاتھ بلند کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرنے والی حدیث کو دیگر آئمہ میں سے امام ترمذی، امام مالک (الموطا) اور دیگر آئمہ نے بیان کیا ہے مگر امام بخاری نے بیان نہیں کیا اور اس لئے نہیں بیان کیا کہ ترجمۃ الباب میں ان کا فقہی مذہب درج ہے اور اس کے مطابق ایک حدیث درج کردی ہے۔

لہذا حدیث کے ثقہ ہونے کے لئے یہ پیمانہ نہیں کہ وہ کسی کتاب میں ہے اور کسی میں نہیں ہے بلکہ حدیث کے معتبر اور ثقہ ہونے کا دارومدار سند پر ہے اور دیگر اسناد کے ساتھ اس کی تائید ہے۔ (منہاج السوی میں ان تمام احادیث کو بمعہ حوالہ جات ذکر کردیا گیا ہے جس میں نماز کے افتتاح کے علاوہ رفع یدین کا ذکر نہیں ہے) اس طرح دیگر آئمہ حدیث اس طرح کے مسائل کے حوالے سے دونوں پہلوؤں سے احادیث لاتے ہیں جیسے ’’رفع الیدین‘‘ اور ’’ترک رفع الیدین‘‘ کے حوالے سے امام نسائی نے الگ الگ باب قائم کئے۔ صحاح ستہ کے بعض امام دونوں طرف کے باب بتاتے ہیں اور دونوں طرف کی احادیث لاتے ہیں یا ایک ہی باب میں دونوں طرف کی احادیث لاتے ہیں، امام بخاری صرف ایک طرف کی احادیث لائے ہیں کیونکہ ترجمۃ الباب میں اپنا فقہی مذہب بیان فرما چکے ہیں اور یہ اعتراض کی بات نہیں ہے وہ محدث بھی ہیں اور مجتہد بھی ہیں اور اپنے اجتہاد کی تائید میں احادیث لائے ہیں۔ لہذا بخاری شریف میں سے کسی حدیث کو بطور ثبوت مانگنے کا سوال ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیز امام بخاری کے اجتہاد سے مختلف ہے اسے امام بخاری کیوں لائیں گے۔ اسے تو دیگر آئمہ لائیں گے۔ اسناد کا صحیح ہونا ضروری ہے کسی کتاب کو قبولیت و عدم قبولیت کا پیمانہ نہ قرار دینا ضروری نہیں۔

Posted in دروس حدیث | Leave a Comment »

رفع یدین اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

رفع یدین اور صحیح البخاری

 

اس طرح امام بخاری نے صحیح البخاری میں کتاب الاذان، باب نمبر 85 الی این یرفع یدیہ (نماز میں ہاتھ کس جگہ تک اٹھائے جائیں) میں حدیث نمبر 738 کے ضمن میں ذکر کرتے ہیں کہ رفع یدین کرتے وقت ہاتھ صرف کندھوں تک اٹھائیں جائیں۔ اس حدیث کے سوا کوئی اور حدیث امام بخاری اس حوالے سے نہیں لائے۔ اس حدیث سے بھی امام بخاری کا فقہی رجحان سامنے آرہا ہے۔ ترجمۃ الباب قائم کر دیا کہ ’’ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں‘‘۔ اس سے پڑھنے والے کا ایک ذہن بن گیا۔ کمزور علم رکھنے والوں کی غلطی کیا ہوئی کہ انہوں نے باب کا عنوان پڑھا، اس سے ایک ذہن بن گیا جو حدیث اس کے نیچے پڑھی اس حدیث کو بغیر سوچے سمجھے اس باب کے عنوان کے مضمون میں ملا دیا۔ (میں نے المنہاج السوی میں محدثانہ طرز پر جو کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام تراجم الابواب نئے قائم کئے ہیں۔)

پس امام بخاری کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کی حدیث لائے ہیں اور کان کی لو تک ہاتھ بلند کرنے کی کوئی حدیث بیان نہیں کی۔ نیز یہ کہ رفع یدین نہ کرنے کی کوئی حدیث بھی امام بخاری نہیں لائے۔ بعض اہل علم اعتراض کرتے ہیں کہ آپ رفع یدین نہیں کرتے حالانکہ رفع یدین نہ کرنے یا ترک کرنے کی کوئی حدیث بخاری میں نہیں ہے۔ اس کا ایک جواب گذشتہ صفحات پر گزر چکا کہ ہاں رفع یدین نہ کرنے کی کوئی حدیث بخاری میں نہیں ہے اسی طرح جس طرح بیٹھ کر پیشاب کرنے اور موزوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اوقات کا تعین بھی بخاری شریف میں نہیں ہے تو کیا ہوا، کیا کوئی قیامت آگئی ہے۔ بخاری شریف میں صرف 2513 بحذف تکرار احادیث موجود ہیں۔ امام بخاری نے ایک معیار مقرر کیا ہے اور خود کو یاد صحیح احادیث تقریباً ساڑھے 97 ہزار کو بھی بخاری شریف میں ذکر نہیں کیا۔ بخاری شریف میں اگر مذکور نہیں تو دیگر کتب آئمہ سے دیکھ لیتے ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ بقیہ کتابیں غلط ہیں۔
_________________

Posted in دروس حدیث | Leave a Comment »

موزوں پر مسح کرنے کی مدت اور صحیح البخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

موزوں پر مسح کرنے کی مدت اور صحیح البخاری

اسی طرح امام بخاری نے صحیح البخاری میں موزوں پر مسح کرنے کی احادیث ذکر کی ہیں مگر ’’توقیت‘‘ کی کوئی حدیث بخاری میں نہیں لائے یعنی مختلف حالتوں میں کتنے وقت تک موزوں پر مسح قائم رہتا ہے اس کا ذکر بخاری شریف میں کہیں موجود نہیں۔ اس کی وجہ امام بخاری کا فقہی رجحان ہے کیونکہ امام بخاری کے نزدیک موزوں پر مسح مطلق ہے اس میں وقت کی قید نہیں۔ اب ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ اگر مقیم ہے تو موزوں پر مسح ایک دن کے لئے ہوتا ہے اور اگر مسافر ہے تو موزوں پر مسح کی مدت تین دن تک ہے یہ چیز صحیح مسلم میں مذکور حدیث سے ثابت ہے، بخاری سے یہ توقیت نہیں ملتی امام مسلم نے کتاب الطہارۃ میں باقاعدہ باب قائم کیا ہے ’’التوقیت فی المسح علی الخفین‘‘ اور اس میں حدیث نمبر638 اور 639 ذکر کی ہے اور یہ احادیث بھی احادیث صحیحہ ہیں۔

ان مثالوں کو دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ احباب جو یہ سمجھتے ہیں کل صحیح احادیث بخاری میں ہیں، یہ غلط ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو صحیح البخاری میں نہیں وہ صحیح نہیں، یہ تصور بھی باطل ہے۔
_________________

Posted in دروس حدیث | Leave a Comment »

کھڑے اور بیٹھ کر پیشاب کرنے پر مذہبِ امام بخاری

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

مثلاً امام بخاری نے صحیح البخاری میں کتاب الوضو، باب 63 البول قائما وقاعدا (کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر پیشاب کرنا) حدیث نمبر 224 میں امام بخاری نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے متعلق حدیث ذکر کی ہے اور پوری بخاری شریف میں امام بخاری نے کسی مقام پر بیٹھ کر پیشاب کرنے کے متعلق حدیث ذکر نہیں کی۔ وہ لوگ جو بخاری شریف کے علاوہ کوئی اور حدیث ماننے کو تیار نہیں اور سمجھتے ہیں کہ بخاری کے باہر کوئی اور حدیث صحیح نہیں انہیں آج سے چاہئے کہ وہ بیٹھ کر پیشاب کرنا بند کردیں اور وہ یورپین، امریکن کلچرکی طرف آجائیں کیونکہ بخاری شریف میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کی کوئی حدیث نہیں، باب ضرور قائم ہے ’’البول قائماً و قاعداً‘‘ باب میں دونوں لفظ بیان کئے، حدیث صرف کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی لائے۔

(صحیح البخاری جلد 1 ص 90 حدیث 222)

اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیوں کیا اس بارے کچھ ذکر نہیں کیا۔ امام حاکم نے المستدرک میں بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھٹنوں میں درد تھا جس بناء پر آپ نے ایک دفعہ کھڑے ہوکر پیشاب کیا نیز آپ اس وقت ایک سفرکے دوران صحرا سے گزر رہے تھے۔ اگر صحیح البخاری کو ہی کل علم تصور کر لیا اور بقیہ کتب سے آنکھیں بند کرلیں تو اس پر جو اعتراض وارد ہوگا اہل علم اس کا کیا جواب دیں گے؟ یہاں پر اسی طرح کے اعتراض کے جواب کے لئے امام حاکم کی المستدرک کی طرف اور دیگر کتب حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑا۔

دیگر آئمہ نے بیٹھ کر اور کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے متعلق احادیث پر مبنی الگ الگ باقاعدہ ابواب قائم کئے اور انکے ذریعے ہم نے بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سنت کو سمجھتے ہیں اور اگر صرف صحیح البخاری پر رہیں تو بیٹھ کر پیشاب کرنے کے حوالے سے کوئی سنت سمجھ میں نہ آسکے۔ دوسری کتب حدیث میں قاعداً بول کرنے کی احادیث مذکور ہیں، صحیح البخاری میں نہیں ہیں۔ امام بخاری نے ترجمۃ الباب میں قائماً و قاعداً (کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر) دونوں کو ذکر کر دیا، اس سے یہ بات بتادی کہ دونوں طریقے جائز ہیں مگر قاعداً کے حوالے سے حدیث نہیں لاسکے اور صرف قائماً کے حوالے سے ایک حدیث دی کیونکہ ان کا اپنا فقہی رجحان اسی طرف تھا لہذا بیٹھ کر پیشاب کرنے کی حدیث کو بیان ہی نہیں کیا۔
_________________

Posted in دروس حدیث | Leave a Comment »