تحریک منہاج القرآن

پس ماندہ مذہبی ذہن کے تیارکردہ فتنہ طاہریہ کی حقیقت

Archive for the ‘ڈاکٹر طاہرالقادری’ Category

شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زندگی اور ان کے خطابات وغیرہ

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

Posted by NaveedBCN پر مئی 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی (رح) کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں : صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی

لاہور، 30 مئي 2007ء

گزشتہ روز تحریک منہاج القرآن ملتان کا ورکرز کنونشن ضلع کونسل ہال ملتان میں غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند، ملتان کی مشہور علمی و روحانی شخصیت، صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ صاحبزادہ پیر سید طاہر سعید کاظمی نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صحیح معنوں میں شیخ الاسلام ہیں، انہوں نے موجودہ دور میں عقائد اہل سنت کے تحفظ، مقام مصطفیٰ اور فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری حضرت غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و تحقیقی فیض کے امین، قسیم اور مظہر اتم ہیں اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بلاشک و شبہ تنظیمی نظم اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عالم اسلام کی عظیم تحریک ہے۔ ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آئندہ سال ملک کے 12 بڑے شہروں کو مراکزِ امن بنانے جارہی ہے۔ ان شہروں میں تحریک کی دعوت کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جائے گا اور یونین کونسل لیول پر تنظیم سازی کی جائے گی۔ ہر یونین کونسل میں سی ڈی ایکسچینج سنٹرز اور ویڈیو پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ ملتان بھی ان 12 شہروں میں سے ایک شہر ہو گا۔ اس مقصد کے لیے تمام کارکنان بھرپور محنت کریں اور دعوت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی تحریک ایسی تحریک نہیں جس کے پاس دعوت کا اتنا آسان طریقہ ہو اور کوئی قیادت ایسی قیادت نہیں جس نے موجودہ دور میں اپنے کارکنان کو اتنا علمی مواد دیا ہو۔ ہمارے قائد نے بہت علمی مواد فراہم کیا انہوں نے اپنے حصے کا کام بطریق احسن کر دیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قائد کے خطابات کو عوام الناس تک لے کر جائیں لوگوں کو قائد تحریک کے خطابات سنائیں اور ان کو تحریک میں شمولیت کی دعوت دیں ان کو کارکنان بنائیں تاکہ حصول منزل کی جدوجہد میں شریک کیا جاسکے۔ اس موقع پر امیر تحریک پنجاب احمد نواز انجم، مرکزی صدر منہاج القرآن یوتھ لیگ بلال مصطفوی، سینئر نائب امیر تحریک منہاج القرآن پنجاب سردار شاکر مزاری، چوہدری مشتاق، قمر عباس اور عبدالرشید چشتی نے بھی خطاب کیا۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, اسلامی آرٹیکلز, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

نیم حکیموں کا حسد اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

Posted by NaveedBCN پر مئی 2, 2007

 

Dr.Tahir-ul-Qadri ky khwab aur Neem HakeemoN ka Hasad

Speech by Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri CD.No.685

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطاب کا اقتباس جس میں ایک مثال دے کر واضح کیا گیا ہے کہ کیسے پاکستان کے لوگ اپنے ہمعصر لوگوں سے حسد کرنے لگتے ہیں اور اس کی مخالفت میں متفق ہو جاتے ہیں۔

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لئے

کہ یک زباں ہیں فقیھان شہر میرے خلاف

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, خطابات طاہر القادری | Leave a Comment »

خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ، کراچی

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا مکمل خطاب، جس میں خوابوں اور بشارات کے حوالے سے کئے جانے والے تمام اعتراضات کا علمی محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔

خوابوں اور بشارات والی وہ کیسٹ فتنہ پرور عناصر کے ہاتھ لگ گئی۔ سیاق و سباق سے جدا کرکے تین گھنٹے کے دورانیے کو آدھ پون گھنٹے کا کرکے ابتدائیے اور متعلقہ وضاحتوں کو کاٹ کر عامۃ الناس میں بدگمانیوں پیدا کرنے کے لئے منظم طریق سے پھیلایا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن حکیم کی یہ آیت کریمہ

لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلوۃَ وَأَنتُمْ سُكَارَى. (النساء، 4 : 43)
اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ۔

کا آدھا آخری حصہ کاٹ دیا جائے اور کہا جائے کہ دیکھو قرآن کہہ رہا ہے کہ ’’نماز کے قریب مت جاؤ‘‘ آپ ذرا تحریف کے مرتکب اس شخص کے ایمان کا اندازہ کر لیں۔ اس سے بڑی بد دیانتی وخیانت اور کیا ہوگی؟
خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ (مکمل کتاب)

ایک شخص نے جو دعوی ہی نہیں کیا، اسے اس کی طرف منسوب کرنا آزادی رائے نہیں بلکہ الزام تراشی ہے۔ محض سنی سنائی باتوں پر سیخ پا ہونے کی بجائے پہلے براہ راست ذرائع سے بات کی تہہ تک پہنچیں ورنہ تاجدار کائنات (ص) کا فرمان ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیان کرنے لگے۔ (اوکماقال)

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن, خطابات طاہر القادری | Leave a Comment »

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کہانی ان کی زبانی

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

شیخ الاسلام کی زندگی کی کہانی انہی کی زبانی

حصہ اول

حصہ دوم

حصہ سوم

 

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن, خطابات طاہر القادری | 2 Comments »

منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب

Posted by minhajian پر مئی 1, 2007

منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب
 

www.MinhajBooks.com

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر منہاج انٹرنیٹ بیورو میں مؤرخہ 9 اپریل 2007ء بروز سوموار منہاج بکس ڈاٹ کوم کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر منہاج انٹرنیٹ بیورو عبدالستار منہاجین، منیجر ملٹی میڈیا بصیر احمد، کونٹنٹ منیجر صابرحسین اور ویب پروگرامر شہزاد احمد نے شرکت کی۔صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ تحریک منہاج القرآن ایک مشن، فکر اور پیغام ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سربراہی میں قائم یہ مشن ایک درخت کی مانند ہے اور تمام شعبہ جات اس کی شاخیں ہیں۔ ہر شاخ کو پانی برابر ملتا ہے۔ منہاج انٹرنیٹ بیورو کو بھی اتنا ہی فیض مل رہا ہے جتنا کہ دوسرے شعبہ جات کو۔ انہوں نے فرمایا کہ منہاج انٹرنیٹ بیورو بین الاقوامی سطح پر تحریک کا پیغام پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان سے باہر تمام دنیا کو مرکز سے مربوط کرنے والا شعبہ ہے۔ یہ سب اللہ رب العزت کی عطاء، تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصدق اور حضور شیخ السلام کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ کم وسائل میں اتنے اچھے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

محترم حسین محی الدین قادری نے مزید فرمایا کہ منہاج بکس ڈاٹ کوم کے ذریعے ان شاء اللہ پوری دنیا میں امت مسلمہ اور غیر مسلموں کو اسلام کے ہر گوشے کے حوالے سے وافر مواد ملے گا اور اس کی مدد سے ہر قسم کے اشکالات دور ہوں گے۔ انہوں نے کہا تحریک منہاج القرآن کی جنگ فرقہ واریت، تنگ نظری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ تحریک عالمی سطح پر فرقہ واریت کے خاتمہ اور اسلام کے حقیقی تشخص کی بحالی پر محنت کر رہی ہے اور اس قلمی جہاد میں منہاج انٹرنیٹ بیورو کی خدمات نمایاں ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر منہاج انٹرنیٹ بیورو عبدالستار منہاجین نے منہاج بکس ڈاٹ کوم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ ویب سائٹ یونیکوڈ میں ہزاروں صفحات پر مشتمل نایاب ذخیرہ فراہم کرتی ہے کیوں کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں مطلوبہ مواد کی تلاش صرف اِسی صورت میں ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تصویری روپ میں بھی مواد فراہم کرتی ہے تاکہ استعمال کنندگان اپنی حسب منشاء و ذوق کسی بھی شکل میں کتب کا مطالعہ کر سکیں۔ سردست یہاں 21,000 سے زائد صفحات پر مبنی 128 کتب تصویری و تحریری روپ میں شائع کی گئی ہیں، جن میں ان شاء اللہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ تحریک منہاج القرآن علمی و فکری میدان کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لانے میں بھی رہنما کی حیثیت رکھتی، اور آج سے بارہ سال قبل جب پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوا تو یہ پاکستان کی سب سے پہلی اسلامی تحریک تھی جس نے اپنی ویب سائٹ قائم کی اور اپنی سرگرمیاں شائع کرنے کے علاوہ اسلام مخالف پراپیگنڈے کا جواب دینے کی بنیاد رکھی۔ مگر حاسدین کو یہ روش پسند نہ آئی اور انہوں نے تحریک منہاج القرآن اور شیخ الاسلام کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کا اظہار کرنے کے لیے بے بنیاد پراپیگنڈا کیا اور حضرت شیخ الاسلام کی علمی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس اور ڈسکشن فورمز پر کیچڑ اچھالا۔

انہوں نے کہا کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے اہل علم اور عامۃ الناس تک حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے افکار و نظریات اور تعلیمات ہزاروں صفحات پر مشتمل اس ڈیجیٹل لائبریری کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے متلاشیانِ علم مختلف موضوعات پر سیر حاصل مواد تلاش کر سکتے ہیں۔ اب انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کو چاہیے کہ نہ صرف خود حضور شیخ الاسلام کی کتب کا مطالعہ کریں اور دوستوں کو مطالعہ کی دعوت دیں بلکہ اسلام و بانئ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ آلہ وسلم پر کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب دینے کے لیے حسبِ ضرورت دوسری ویب سائٹس اور ڈسکشن فورمز پر مواد نقل بھی کریں تاکہ اس مشن کا نور چہار دانگ عالم میں ہر سو پھیلے۔

بعد ازاں فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منہاج انٹرنیٹ بیورو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ عشائیہ کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ محمد فاروق رانا نے منہاج انٹرنیٹ بیورو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ FMRi کے زیر اہتمام حضور شیخ الاسلام کی شائع ہونے والی کتب کی آن لائن اشاعت ایک گراں قدر خدمت ہے۔ منہاج انٹرنیٹ بیورو نے عرفان القرآن کی آن لائن اشاعت کے ٹھیک ایک سال بعد ایک اور عظیم کارنامہ سرانجام دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو زبان میں خدمتِ دین کے سلسلہ میں انہیں ایک رہنما کی حیثیت حاصل ہے۔ تحریک منہاج القرآن عمل پر یقین رکھتی ہے اور زمینی و برقی ہر سطح پر اِسلام کی ترویج و اِشاعت میں مصروفِ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

آخر میں فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مکمل اسٹاف نے منہاج انٹرنیٹ بیورو کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔ پروگرام کا اِختتام دعائے خیر کے ساتھ ہوا۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب یونیکوڈ

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتب – تحریری روپ میں

قرآنیات
العرفان فی فضائل و آداب القرآن
فلسفہ تسمیہ
لفظِ ربُ العالمین کی علمی و سائنسی تحقیق

الحديث
تکمِیلُ الصَّحِیفَۃ بِاَسَانِیدِ الحَدِیث فِی الآمام ابی حَنِیفَۃ
الانوارُ النَّبَوِیَّۃ فِی الاسانیدِ الحَنَفِیَّۃ (مَعَ احادِیاتِ الآمام الاعظم)
البدر التمام فی الصلوٰۃ علیٰ صاحبِ الدُّنُوّ و المقام
غایۃ الاجابۃ فی مناقب القرابۃ (اہلِ بیتِ اطہار سلام اﷲ علیہم کے فضائل و مناقب)
العِقد الثّمین فی مناقب امھات المؤمنین (اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہن کے فضائل و مناقب)
الاربعین: القول الوثیق فی مناقب الصدیق
القَولُ الصَّوَاب فِی مَنَاقِب عُمَرَ بنِ الخَطَّاب
رَوضُ الجِنَان فِی مَنَاقِبِ عُثمَانَ بنِ عَفَّان
کَنزُ المَطَالِبِ فِی مَنَاقِبِ عَلِیِ بنِ ابِی طَالِب
الاربعین: مرج البحرین فی مناقب الحسنین علیہما السلام
اَلاِنتِبَاہُ لِلْخَوَارِجِ وَالْحَرُوْرَاءِ …. گستاخانِ رسول کی علامات

اِعتقادیات
عقائد میں احتیاط کے تقاضے
مبادیات عقیدۂ توحید
عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور
عقیدۂ توحید کے سات ارکان
عقیدۂ توحید چند اہم موضوعات
البِدعَۃ عِندَ الائِمَّۃ وَ المُحَدِّثِین (بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں)
وسائط شرعیہ
مسئلہ اِستغاثہ اور اُس کی شرعی حیثیت
زیارت قبور
تبرک کی شرعی حیثیت
خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ

سیرت و فضائلِ نبوی (ص)
مطالعۂ سیرت کے بنیادی اصول
میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
برکاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اَسیرانِ جمالِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

عبادات
التَّصْرِيْحُ فِي صَلَاۃِ التَّرَاوِيْحِ بيس رکعت نمازِ تراويح کا ثبوت
الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَاۃِ نماز کے بعد اُٹھا کر دعا مانگن

شخصیات
السیف الجلی علٰی منکر ولایۃ علی
القول المعتبر فی الامام المنتظر
ذبحِ عظیم (ذبحِ اسماعیل سےذبح حسین تک)

اِسلام اور سائنس
تخلیقِ کائنات (قرآن اور جدید سائنس کا تقابلی مطالعہ)
شانِ اَولیاء (قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں)

عصریات
میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ
اِسلام کا تصوّرِ علم
اسلام میں اقلیتوں کے حقوق
اسلام میں خواتین کے حقوق
اسلام میں بچوں کے حقوق
اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق

تعلیماتِ اِسلام
سلسلہ اِشاعت (٢): اِیمان
سلسلہ اِشاعت (٣): اِسلام
سلسلہ اِشاعت (٤): اِحسان

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب – تصویری روپ میں

قرآنیات
عرفان القرآن
العرفان فی فضائل و آداب القرآن
تفسیر منہاجُ القرآن (سورۃ الفاتحہ، جزو اَوّل)
فلسفہ تسمیہ

الحديث
المِنہاجُ السَّوِی مِنَ الحَدِیثِ النَّبَوِیِّ
تکمِیلُ الصَّحِیفَۃ بِاَسَانِیدِ الحَدِیث فِی الآمام ابی حَنِیفَۃ
الانوارُ النَّبَوِیَّۃ فِی الاسانیدِ الحَنَفِیَّۃ (مَعَ احادِیاتِ الآمام الاعظم)
الاربعین فی فضائلِ النبی الامین
البدر التمام فی الصلوٰۃ علیٰ صاحبِ الدُّنُوّ و المقام
الاربعین: بُشریٰ للمومنین فی شفاعۃ سیدِ المرسلین
العَبْدِيۃ فِي الْحَضْرَۃِ الصَّمَدِيَّۃ بارگاہِ اِلٰہی سےتعلقِ بندگی
غایۃ الاجابۃ فی مناقب القرابۃ (اہلِ بیتِ اطہار سلام اﷲ علیہم کے فضائل و مناقب)
العِقد الثّمین فی مناقب امھات المؤمنین (اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہن کے فضائل و مناقب)
الاربعین: القول الوثیق فی مناقب الصدیق
القَولُ الصَّوَاب فِی مَنَاقِب عُمَرَ بنِ الخَطَّاب
رَوضُ الجِنَان فِی مَنَاقِبِ عُثمَانَ بنِ عَفَّان
کَنزُ المَطَالِبِ فِی مَنَاقِبِ عَلِیِ بنِ ابِی طَالِب
الاربعین: مرج البحرین فی مناقب الحسنین علیہما السلام
اَلاِنتِبَاہُ لِلْخَوَارِجِ وَالْحَرُوْرَاءِ …. گستاخانِ رسول کی علامات
احسن السبل فی مناقب الانبیاء و الرسل
روضۃ السّالکین فی مناقب الاولیاء والصّالحین (اولیاء کرام اور صالحین عظام کےفضائل و مناقب)
الکنزالثمین فی فضیلۃ الذکر و الذاکرین
البَيِّنَاتُ فِي الْمَنَاقِبِ وَ الْکَرَامَاتِ فضائل و کرامات…. اَحاديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
اللُّبَابُ فِي الْحُقُوْقِ وَ الآدَابِ اِنسانی حقوق و آداب …. اَحاديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں

اِعتقادیات
عقائد میں احتیاط کے تقاضے
مبادیات عقیدۂ توحید
عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور
عقیدۂ توحید کے سات ارکان
عقیدۂ توحید چند اہم موضوعات
البِدعَۃ عِندَ الائِمَّۃ وَ المُحَدِّثِین (بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں)
وسائط شرعیہ
عقیدہ توسل
التوسل عند الائمۃ والمحدثین
مسئلہ اِستغاثہ اور اُس کی شرعی حیثیت
شہرِ مدینہ اور زیارتِ رسول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
زیارت قبور
تبرک کی شرعی حیثیت

سیرت و فضائلِ نبوی (ص)
مطالعۂ سیرت کے بنیادی اصول
مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ اول)
مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ دوم)
سیرۃ الرسول کی دینی اہمیت
سیرۃ الرسول کا جمالیاتی بیان
سیرۃ الرسول کی علمی و سائنسی اہمیت
سیرۃ الرسول کی ریاستی اہمیت
سیرۃ الرسول کی آئینی و دستوری اہمیت
سیرۃ الرسول کی انتظامی اہمیت
سیرتِ نبوی کی عصری و بین الاقوامی اَہمیت
میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اَسمائے مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
خصائصِ مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
شمائلِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
برکاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اَسیرانِ جمالِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

عبادات
الصَّلَاۃُ عِنْدَ الْحَنَفِيَّۃِ فِي ضَوءِ السُّنَّۃِ النَّبَوِيَّۃِ حضور نبی اکرم صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طريقۂ نماز
التَّصْرِيْحُ فِي صَلَاۃِ التَّرَاوِيْحِ بيس رکعت نمازِ تراويح کا ثبوت
منہاجُ الخطبات للعیدینِ و الجمعات

اَوراد و وظائف
الفیوضات المحمدیۃ
صلوات سؤر القرآن علی سید ولد عدنان
اسماء حامل اللواء مرتبۃ علی حروف الھجاء
احسن المورد فی صلوۃ المولد

شخصیات
ذبحِ عظیم (ذبحِ اسماعیل سےذبح حسین تک)

اِسلام اور سائنس
اِسلام اور جدید سائنس
تخلیقِ کائنات (قرآن اور جدید سائنس کا تقابلی مطالعہ)
شانِ اَولیاء (قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں)

عصریات
میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ
اِسلام کا تصوّرِ علم
اسلام میں اقلیتوں کے حقوق
اسلام میں خواتین کے حقوق
اسلام میں بچوں کے حقوق
اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق

تعلیماتِ اِسلام
سلسلہ اِشاعت (١): تعلیماتِ اِسلام
سلسلہ اِشاعت (٢): اِیمان
سلسلہ اِشاعت (٣): اِسلام
سلسلہ اِشاعت (٤): اِحسان

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | Leave a Comment »

سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ

Posted by NaveedBCN پر مئی 1, 2007

سنیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سوالات اور ان کا علمی محاکمہ
 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

سب سے پہلے تو عرض کروں کہ ہماری اردو جیسے غیرجانبدار اور موقر چوپال پر بحث مباحثہ کے نام پر طعن و تشنیع کا بازار گرم کرنے کی بجائے “ باہم تبادلہ خیالات اور گفت وشنید “ کے ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیئے۔

تاکہ کسی کی دل آزاری کرنے سے ایک دوسرے سے دور ہونے کی بجائے ہم دوست ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔

اور دوسری بات یہ کہ گفتگو میں بنیاد قرآن وحدیث ہونا چاہیئے نہ کہ اپنے محلے کے مولوی کے فتاوی و آراء۔ کیونکہ محلے کے مولوی کے فتوے پر تو کوئی بھی قائل نہیں ہوتا۔ البتہ قرآن وحدیث کی دلیل کو ہر صاحبِ ایمان مان لیتا ہے۔

اقتباس:
فتنہ طاہریہ( طاہر القادری) کے عقائد

 

 

جب گفتگو کا آغاز ہی کسی کو فتنہ و گمراہ کا فتوی لگا کر کیا جائے گا پھر حق و انصاف کی بات کیسے سامنے آئے گی۔

اقتباس:
موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔

 

 

 

میرے بھائی اور دوست ! سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا تعارف کروا دیں۔ اپنے عقائد اور نظریات اور انکی بنیاد بھی یہاں بیان فرما دیں یعنی قرآن و حدیث اور کن کن اکابر آئمہ و علمائے کرام کے حوالہ جات سے آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں۔

 

خیال رکھئے گا اپنے محلے کے مولانا صاحب کے فتوے نہ اٹھا لائیے گا بلکہ قرآن و حدیث کے دلائل اور اکابر علمائے حق کی بات کی گئی ہے۔

اقتباس:
اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے

 

 

 

آپ کو معلوم ہوگا کہ امام اعظم ابو حنیفہ (رح) کے دو خاص شاگرد تھے۔ جنہیں صاحبین یا شیخین کے نام سے مکتوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امام اعظم سے اختلاف کیا۔

 

تو کیا مناسب نہیں کہ یہی رائے اور فتوی سب سے پہلے ان کے لیے استعمال فرمائیں۔اگر ہے جراءت تو ذرا قلمِ فتاوی اٹھا کر دیکھیے !!!

اگر آپ نے ہمارے امام اعظم کا یہ قول نہیں پڑھا کہ “اگر میری رائے کے خلاف کوئی نصِ قرآنی یا حدیث صحیح آجائے تو میری رائے چھوڑ دی جائے “ تو پھر یہ آپکے مطالعہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ کسی دوسرے کا کیا قصور ؟؟؟

طاہر القادری بھی اختلاف رائے کے لیے قرآن وحدیث کے دلائل کی بات کرتا ہے۔

اقتباس:
1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔

 

 

 

طاہرالقادری اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے بات کرتا ہے۔ اور اس مسئلے پر ہمیشہ سے تمام علمائے کرام کو دعوتِ مذاکرہ دیتا ہے کہ آئیے ہم مل بیٹھ کر علمی و تحقیقی ماحول میں اس پر گفت و شنید کریں۔

 

آج سے کوئی 20 سال پہلے ایسی ہی ایک مجلسِ مذاکرہ شیرِ اہلسنت مولانا عبدالستارخان نیازی (رح) کی زیرِ صدارت منعقد بھی ہوئی تھی جس میں (غالباً ایک عالم دین ) مولانا عبدالمتین تشریف لائے تھے اور بقول مولانا عبدالستار خان نیازی باقی سب اپنی اپنی شرائط منوانے کے باوجود طاہرالقادری کا سامنا کرنے سے گریزاں رہے۔

بات ذاتیات کی نہیں۔ بات تحقیقی اختلافِ رائے کی ہے۔

اقتباس:
2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

 

 

طاہر القادری کا انٹرویو پورا پڑھیں تو پوری گفتگو کا مفہوم یہ تھا “ بلکہ احیائے دینِ اسلام کے لیے کام کرتا ہوں“

 

قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 دیکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا

۔۔۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا۔۔ الی الخ

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر دیا اور میں نے تم پر اپنا احسان تمام کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔۔۔

اللہ تعالی اور اسکے رسول (ص) نے جو دین ہمیں دیا ہے کیا وہ حنفیت و سنیت دی ہے ؟؟؟ حنفیت اور سنیت حق ہیں لیکن دینِ اسلام کے تابع ہیں۔

دینِ اسلام کو تو حنفیت و سنیت کے تابع نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ فرقہ پرستی کے اس گھٹے ماحول میں کوئی عالم دین ایسا ہے کہ جو ان چھوٹے چھوٹے تشخصات سے اوپر اٹھ کر قرآن و سنت کی روح کے مطابق دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے۔

یا پھر غالباً آپ حنیفیت اور مسلک اہلسنت کو (معاذاللہ آپ کی سمجھ کے مطابق) دینِ اسلام کے متصادم کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اور آپ طاہر القادری سے اس لیے ناراض ہوگئے کہ وہ حنیفیت و اہلسنت مسلک کو چھوڑ کر دینِ اسلام کی خدمت کی بات کر رہا ہے۔

ذرا سوچئیے ! حنفیت اور مسلک اہلسنت کو دینِ اسلام سے الگ تھلگ کچھ ثابت کر کے آپ حنفیت اور اہلسنت کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔

اقتباس:
3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

 

 

آپ قرآن کی نص یا حدیث نبوی (ص) سے یہ ثابت کردیں کہ ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا شریعت کے واجبات میں سے ہے تو بات واضح ہوجائے گی۔

 

لیکن قرآن و حدیث کی کوئی نص بھی لائیں نا۔

اقتباس:
اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
(رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

قرآن مجید میں سورہ آل عمران آیت نمبر 103 میں ارشاد ہے

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ۔۔۔ الی الخ

ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔

طاہرالقادری نے حکمِ خداوندی کے تحت فرقہ واریت کی مذمت کر دی تو کیا برا کر دیا ؟؟ اور خود کو ایک نبی معظم (ص) کا نمائندہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے ؟؟

آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔

اقتباس:
5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

مضمون پورا بیان کریں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا جب تک مجھے اس بات کی تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں شخص گستاخِ رسول (ص) ، گستاخِ اہلبیت (رض) اور گستاخِ صحابہ (رض) ہے میں اسے کلمہ گو مسلمان سمجھتا ہوں۔

میرے بھائی !! فتویٰ ء کفر دراصل بربنائے گستاخی رسول (ص) ، گستاخیء اہلبیت وصحابہ کرام (رض) ہوتا ہے۔ جہاں تصدیق ہوجائے وہ کافر۔

یہی علمی طریقہ ہے۔

اقتباس:
6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں۔ (بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)

 

 

 

جیسا کہ اوپر آپ نے خود ہی بیان کردیا کہ طاہر القادری نمائندہء دینِ اسلام بن کر پوری دنیا میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ تو میرے بھائی دعوتِ دین کا یہ کام بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔

 

قرآن مجید میں سورۃ النحل کی آیت 125 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔۔۔۔۔۔ الی الخ

ترجمہ :اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (ودانشمندی) اور عمدہ نصیحت سے بلائیے اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجیے۔

تو میرے محترم بھائی اور دوست !!!

اب میرے جیسا کوئی تنگ نظر جس نے کبھی اپنے فرقہ سے باہر نکل کر کسی غیر مسلم کو دعوت ہی نہ دی ہو اور نہ زندگی میں کبھی دینی ہے اسے کیا خبر کہ حکمت و دانشمندی کیا ہوتی ہے۔ اور دینِ اسلام کی طرف غیرمسلموں کو کیسے راغب کیا جاتا ہے ۔

اقتباس:
اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔

 

 

 


مطالعہ احادیث سے یہ بات علم میں آتی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ہزاروں صحابہ کرام نے علم حدیث اور علمِ شریعت سیکھا۔

تو کیا پردے کی حدود کو قائم رکھتے ہوئے دینی امور سیکھنے سکھانے کا حکم انہیں (معاذ اللہ ) معلوم نہیں تھا ؟؟؟

اور میرے برادرِ محترم !!!

لڑکی لڑکے کے ملنے کے ذکر سے اگر آپ کے ذہنِ پارسا میں صرف ایک ہی “ مقصد“ آتا ہے تو پھر آپکے ذہنِ صفا کی مزید صفائی کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

اقتباس:

8 ) ….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔

 

 

 

میں نے انکی پوری تقریر “داڑھی کی شرعی حیثیت “ پر سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے کہیں بھی یہ جملہ نہیں فرمایا۔

 

اور اگر داڑھی رکھنا انکے نزدیک غیرضروری ہوتا تو ایک “غیرضروری“ چیز کو اپنی نوجوانی کے وقت سے لے آج تک اپنے چہرے پر کیوں سجائے پھرتے ہیں ؟؟

اقتباس:

9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔

 

 

اسکا جواب محترم پیا جی حدیث پاک کی روشنی میں دے چکے ہیں۔ آپ کے پاس اگر ان احادیث کی نفی میں دلائل موجود ہیں تو یہاں پیش فرما دیں۔

 

اگر نہیں تو پھر اپنے قلبِ معطر کے اندر جھانکیے کہ کہیں طاہرالقادری کی مخالفت میں آپ بغضِ علی (رض) کے مرض میں تو مبتلا نہیں ہورہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مرض ایمان کی تباہی کے لیے کتنا موذی ہے۔

اقتباس:

10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

 

 

 

اس میں اعتراض والی کیا بات ہے؟ دنیا میں بے شمار کتب ایسی ہیں جو مختلف اوقات میں مفید رہی ہیں۔ اس سے کہاں ثابت ہے کہ طاہر القادری اعلیحضرت (رح) کے خلاف ہے ؟؟؟

 

یا کیا خود اعلیحضرت (رح) نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ حسام الحرمین قرآن وحدیث کے برابر ہے اور اس پر اعتراض کی کسی کو گنجائش نہیں؟؟

اگر فرمایا ہوتو ہمارے علم میں اضافے کے لیے یہاں حوالہ پیش فرمادیں تاکہ ہم بھی طاہرالقادری کو مخالفِ اعلیحضرت (رح) مان لیں۔

اقتباس:

اپنے منہ میاں مٹھو بننا :

قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 میں ارشاد ہے

۔۔۔۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ : (اے اللہ !) جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے توچاہے ذلیل کرتا ہے سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز قادر ہے

کسی کے منہ مٹھو بننے سے یا دوسرے کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔

اس لیے آپ پریشان نہ ہوں۔ ؛)

اقتباس:

1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)

 

 

 

کیا آپ کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ حضور اکرم (ص) اپنے کسی بھی ادنی سے ادنی امتی پر کرم فرما سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ اس عقیدے کے انکاری ہیں ؟؟

 

 

اگر انکار کرتے ہیں تو آپ فوراً مسلکِ اعلیحضرت (رح) سے خارج ہوتے ہیں۔

اور اگر آپ صرف اس بات پر معترض ہیں کہ طاہر القادری یا اسکے والد کے خواب پر حضور (ص) نے یہ کرم نوازی کیوں فرمائی تو میرے بھائی یہ تو کرم کرنے والے جانیں اور جن پر کرم ہوا ہے وہ جانیں۔ میں اور آپ کون ؟؟

ہاں مجھ جیسا ایک ادنی امتی اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ اپنی نیت، فکر و سوچ اور اعمال درست کرنے کی کوشش کرے۔ اور خاکِ مدینہ کے ذروں سے ایسی نسبت حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ آقائے دوجہاں (ص) اس حقیر سے غلام پر بھی کبھی کرم فرما دیں۔ کیونکہ گنبدِ خضریٰ سے تو یہی صدا آتی ہے

جھولی ہی تیری تنگ ہے میرے یہاں کمی نہیں

اقتباس:
‌ ‌
2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)

ہر اہلسنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جہاں بھی حضور (ص) کا ذکر خیر کیا جائے۔ حضور (ص) پر درودوسلام پڑھا جائے ۔ آقا چاہیں تو وہاں تصرف و کرم فرماتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہر محفل میلاد میں اعلیحضرت (رح) کا مشہور زمانہ سلام “مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام “ ادب و تعظیم کے ساتھ کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں کہ کیا معلوم آقا کب کرم فرما دیں۔

آپ کے ساتھ ساتھ بہت سارے دوستوں کے لیے یہ ایمان افروز اطلاع دیتا چلوں کہ منہاج القرآن کے مرکز 365 ایم ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک گوشہء درود قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر کچھ لوگ بیٹھے دن رات 24 گھنٹے حضور نبی اکرم (ص) پر درودوسلام پڑھتے رہتے ہیں۔ وہاں فرض عبادات کے بعد صرف یہی کام کیا جاتا ہے اور 31 مارچ 2007 تک اس مقام سے حضور نبی اکرم (ص) کی بارگاہ میں ایک ارب سے زائد (جی ہاں ایک ارب سے زائد مرتبہ) درود وسلام پڑھا جاچکا تھا۔

اب سوچئیے ہم 10 بندوں کو ملا کر محفلِ میلاد کروائیں اور چند سو باردرودوسلام پڑھ لیں تو ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور (ص) کرم فرما دیتے ہیں۔ تو جہاں سینکڑوں امتی اربوں کے حساب سے بارگاہِ نبوی (ص) میں درود پڑھتے ہیں۔ وہاں آقائے مدنی سرکار (ص) کیوں تشریف نہ لائیں گے ؟؟؟؟؟

طاہرالقادری کی مخالفت میں خدارا اپنے ہی عقیدے کا مذاق تو نہ اڑائیے۔ دوسروں کے سامنے تماشہ بن کر انہیں خود پر انگلیاں اٹھانے کا موقع تو فراہم نہ کیجئے۔

اقتباس:
‌ ‌
3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔

اگر آپ قرآن مجید کی سورہ یوسف کی آیت 5 اور 6 ملاحظہ فرما لیں

5۔قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
6۔ وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ ۔۔۔ الخ

تو بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ خواب کچھ اور ہوسکتا ہے اور اسکی تعبیر کچھ اور ہوتی ہے۔ اور تعبیرِ خواب اور تاویلِ روئیت کو اللہ تعالی نے اپنی نعمت بیان فرمایا ہے۔ اور یہ باقاعدہ ایک علم و فن ہے۔

خواب میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے بعض اوقات وہ استعارہ و اشارہ ہوتا ہے اور اسکی تعبیر بعینہ مراد نہیں لی جاتی ۔ مثلا امام بخاری (رح) کا خواب دیکھیں۔

امام بخاری (رح) خواب میں دیکھتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ص) کے جسدِ اقدس پر مکھیاں بیٹھ رہی ہیں اور میں (امام بخاری) وہ مکھیاں اڑا اڑا کر انہیں حضور سے دور کر رہا ہوں۔

حضرت اب فرمائیے ؟؟ کیا فرماتے ہیں آپ اور آپکے مولانا صاحب امام بخاری (رح) کے بارے میں ؟؟؟؟ حضور (ص) کے جسم اقدس پر تو کبھی زندگی میں مکھی نہیں بیٹھی تھی اور امام بخاری نے سارا خواب ہی مکھیوں والا دیکھا۔

اب سنیئے !! اسکی تعبیر یہ بیان کی گئی کہ امام بخاری حضور سرکارِ مدینہ (ص) کی احادیث مقدسہ پر کام کر کے غیر مستند اور غلط احادیث کو دور کر کے مستند اور صحیح احادیث کو جمع کریں گے اور یہی کام امام بخاری (رح) نے کیا۔

اتنی بات سمجھ آجانے کے بعد سنیئے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے خواب بتانے کے عین اسی موقع پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ٹکٹ وغیرہ سے مراد دین کی خدمت ہے۔

اس کے آغاز میں ہی طاہر القادری نے یہ حدیث بھی بیان کر دی تھی کہ آقائے رحمت اللعلمین (ص) کا فرمان ہے کہ “جو کوئی مجھ سے جھوٹ منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ کی آگ میں بنا لے“ (او کما قال)۔

اب ہر پڑھنے والا خود سوچ لے۔ کہ اب کونسا ایسا ادنی سے ادنی مسلمان بھی ایسا ہوگا جو اس حدیث کو جان لینے کے بعد حضور (ص) کی نسبت کچھ بھی جھوٹ منسوب کرنے کی جرات کرے گا ؟؟؟؟

اقتباس:
‌ ‌
محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے

 

 

 

ماشاءاللہ ۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے قرآن وحدیث کی کس نص سے آپ کو یہ اختیار تفویض ہوگیا کہ جسے چاہے اہلسنت میں شامل رکھیں اور جسے چاہے خارج کردیں۔ ؟؟؟

 

ایک ڈاکٹر بلکہ ایک ڈسپنسر (ہارون بھائی سے معذرت کے ساتھ Razz ) بھی اپنے کلینک میں کوئی نہ کوئی سرٹیفیکیٹ ضرور آویزاں کرتا ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو دوائیاں یا پڑیاں دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

کیا آپ یا آپ کے مولانا صاحب ، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اخراج کا یہ فتوی جاری کرنے سے پہلے خود اپنے بارے میں کوئی ایسی اختیاراتی دستاویز فراہم کرسکتے ہیں جس سے یہ پتہ چل جائے کہ موصوف کے پاس ہی سنیت کا ٹھیکہ ہے ؟؟؟؟ یاد رکھیں بات قرآن وحدیث اور آئمہ کبار کی ہے۔ اس سے نیچے کی بات نہیں ہونا چاہیئے۔

اقتباس:
‌ ‌‌‌‌جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔

 

 

 

گویا آپ کو امام اعظم سے زیادہ انکی فقہ کی سمجھ بوجھ آگئی ۔کہ وہ تو فرمائیں کہ قرآن وحدیث کی نص سامنے آجانے پر میری بات کو چھوڑ دیا جائے۔

 

اور آپ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو واقعی امام اعظم کے پائے کا فقیہ ہونا چاہیئے تھا۔

اقتباس:
‌ ‌‌‌‌
امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے ۔

 

 

میرے پیارے بھائی بریلوی صاحب !!

 

اللہ تعالی آپ کو خوش وخرم اور صحیح سلامت رکھے اور آپ کو دیدارِ مصطفیٰ عطا فرمائے۔ آمین

گفتگو کے آخر میں میں آپ سے صرف ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج رات آپ عشاء کی نماز کے بعد درودوسلام پڑھتے ہوئے دھیان حضور (ص) کے گنبدِ خضری کی طرف کر کے ، اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق ایک لمحہ کے لیے صرف اتنا سوچ لیجیے گا کہ اگر واقعی آقائے دوجہاں (ص) نے خواب میں ہی سہی اگر “منہاج القرآن “ کا لفظ اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرما دیا ہو۔ اور آپ اسکو منہاج الشیطان فرما رہے ہیں۔

تو کل بعد از مرگ قبر میں اور یوم ِ حشر سرکارمدینہ (ص) کا سامنا کرتے ہوئے کتنی ندامت ہوسکتی ہے ۔ ذرا سوچ لیجیے گا۔

کیونکہ روح کے کانوں سے گنبدِ خضری کی صدا سنیئے۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے راہ روِ منزل ہی نہیں

 

فتنہ طاہریہ (طاہر القادری) کے عقائد

موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔
اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے
1)….طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔
2)….میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔
( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
3)….نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں (امام چاہے کوئی بھی ہو)امام جب قیام کرے سجود کرے ،سلام پھیرے تو مقتدی بھی وہی کچھ کرے یہا ں یہ ضروری نہیں ہے کہ امام نے ہاتھ چھوڑ رکھے ہیں اور مقتدی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے یا ہاتھ چھوڑ کر ۔
(بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)

اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ

4)….میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔
(رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
5)….میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )
6)….بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں ۔(بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)
اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :
7)….روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔
8)….داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔
9)….روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔
10)….حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

اپنے منہ میاں مٹھو بننا :
1)….طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)
2)….منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)
3)….حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔
محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے
۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »

ڈاکٹر طاہر القادری علماء و مشائخ کی نظر میں

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علماء و مشائخ کی نظر میں
 

تحریر و تحقیق: محمد حسین آزاد الازہری (ایڈیٹر مجلہ العلماء لاہور)

’’اے پروردگار! مجھے ایسا بچہ عطا فرما جو تیری اور تیرے دین کی معرفت اور محبت سے لبریز ہو۔ جو دنیا و آخرت میں تیری بے پناہ رضا کا حقدار ٹھہرے اور فیضان رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہرہ ور ہوکر دنیائے اسلام میں ایسے علمی، فکری، اخلاقی اور روحانی اسلامی انقلاب کا داعی ہو جس سے ایک عالم متمتع ہوسکے‘‘۔

مذکورہ بالا دعا جب 1948ء میں حج بیت اللہ کے موقع پر مقام ملتزم پر غلاف کعبہ کو تھام کر نہایت عاجزی و انکساری اور دلسوزی و گریہ و زاری سے فریدملت حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ مانگ رہے تھے تو منشاء ایزدی کے مطابق اسے شرف قبولیت اس طرح عطا ہوا کہ اسی سال 1948ء ہی میں آپ کو حرم کعبہ میں حالت خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک فرزند ’’محمد طاہر‘‘ کی بشارت ملی۔ جس کے بعد آپ نے مدینہ طیبہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ اطہر پر حاضر ہوکر وعدہ کیا کہ ’’محمد طاہر‘‘ جونہی سن شعور کو پہنچے گا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کر دیا جائے گا۔

جب ’’محمد طاہر‘‘ کی عمر 13 برس ہوئی تو ان کے والد گرامی کو خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زیارت سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’طاہر اب سن شعور کو پہنچ گیا ہے اسے حسب وعدہ ہمارے پاس لے آؤ‘‘

اس طرح ’’محمد طاہر‘‘ نے 1963ء میں اپنے عظیم والد گرامی کے ساتھ بشارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکر حج بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور محمد طاہر کو حسب وعدہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ پاک پر مواجھہ شریف کے سامنے پیش کیا گیا جہاں بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محمد طاہر کو مصطفوی انقلاب کے عظیم عالمگیر مشن کا اشارہ ملتا ہے۔ نشانی کے طور پر بحالت خواب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دودھ کا پیالہ عطا ہوتا ہے اور اسے لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس حکم پر عملدرآمد کے فوری بعد ’’محمد طاہر‘‘ کی پیشانی پر محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میٹھے میٹھے پیارے لبوں سے بوسہ لے رہا ہے۔ یہ سب کچھ حاضری کی قبولیت کا نکتہ کمال تھا۔

تعبیر الرؤیا کے مطابق خواب میں دودھ کے ملنے سے مراد علوم عقلی ونقلی اور علوم ظاہری وباطنی عطا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’محمد طاہر‘‘ کی رسم بسم اللہ مدینہ طیبہ ہی میں قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ اعظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ) سے پیر کے دن نماز فجر کے بعد ادا ہوتی ہے اور تعلیم و تربیت کا باقاعدہ آغاز مدینہ طیبہ ہی میں باب جبریل علیہ السلام کے سامنے عظیم مدرستہ العلوم الشریعہ سے ہوتا ہے۔ پھر کیوں نہ آپ علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور زہد و ورع کی بلندیوں پر فائز ہوں اور شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب ہوں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علم وحکمت کے لولوئے آبدار سے مزین ہونے کے علاوہ تصوف و روحانیت کے اعلیٰ ترین رتبے پر بھی فائز ہیں۔ کیونکہ آپ کے مرشد کامل شہزادہ غوث الوریٰ قدوۃ الاولیاء شیخ المشائخ حضرت پیر السید طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ جو فیضان حضور غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فیضان نہ صرف امین تھے بلکہ پاکستان میں حضرت پیران پیر دستگیر کے جانشین اور قاسم ولایت غوثیت مآب رضی اللہ عنہ کے مرتبے پر فائز تھے۔ اس عظیم روحانی خانوادے سے منسلک ہونے کے بعد اس نسبت سے آپ کا اسم گرامی ’’محمد طاہرالقادری‘‘ مکمل ہوا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری علم ومعرفت، تصوف و روحانیت، زہد و ورع، تقویٰ و طہارت اور ادب واخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کیوں نہ ہوں کہ آپ نے جن نامور علمی و روحانی ہستیوں سے اکتساب علم کیا وہ بھی اپنی مثال آپ تھے جن میں آپ کے عظیم والد گرامی فرید ملت حضرت علامہ ڈاکٹر فریدالدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ شیخ العرب والعجم حضرت علامہ محمد ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا عبدالرشید جھنگوی رحمۃ اللہ علیہ، استاذ العلماء ابوالبرکات حضرت علامہ سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ، شارح بخاری حضرت علامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ، مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمۃ اللہ علیہ، محدث حرم حضرت الشیخ السید محمد بن علوی المالکی المکی رحمۃ اللہ علیہ اور محقق عصر حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی شامل ہیں۔

زیر نظر مضمون میں ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ کے بارے میں چند ان جید علماء کرام و مشائخ عظام کی آراء کو قلمبند کریں گے جنہوں نے مختلف مواقع پر اپنے خطابات میں یا تحریک منہاج القرآن کے مرکز پر وزٹ کے دوران آپ کی علمیت تحریک اور آپ کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ المسلمین حضرت خواجہ قمرا لدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ

1966ء میں دارالعلوم سیال شریف میں جدید علوم کی کلاس کے آغاز کے وقت حضرت علامہ خواجہ قمرالدین سیالوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک علمی تقریب کا اہتمام کیا جس میں دیگر جید علماء کرام کے علاوہ فرید ملت حضرت علامہ ڈاکٹر فریدالدین قادری سے خصوصی تعلق کی بناء پر انہیں بھی مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر آپ کے صاحبزادے ’’محمد طاہرالقادری‘‘ بھی اپنے عظیم والد گرامی کے ہمراہ مدعو تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 15 سال تھی۔ حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نوجوان ’’محمد طاہرالقادری‘‘ کو بھی دعوت خطاب دی۔ انہوں نے صرف دس منٹ نہایت پر جوش علمی و فکری خطاب کیا جس کے بعد حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس نوجوان کا ماتھا چومتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر مائیک پر اپنے عظیم تاثرات سے نوازتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو! آپ نے اس بچے کا خطاب تو سن لیا ہے، میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں ہمیں اس بچے پر فخر ہے، ان شاء اللہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہی بچہ عالم اسلام اور اہلسنت کا قابل فخر سرمایہ ہوگا۔ میں تو شاید زندہ نہ ہوں لیکن آپ میں سے اکثر لوگ دیکھیں گے کہ یہ بچہ آسمانِ علم وفن پر نیّر تاباں بن کر چمکے گا۔ ان کے علم و فکر اور کاوش سے عقائد اہلسنت کو تقویت ملے گی اور علم کا وقار بڑھے گا۔ اہلسنت کا مسلک اس نوجوان کے ساتھ منسلک ہے۔ ان کی کاوشوں سے ایک جہاں مستفید ہوگا‘‘۔

غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ

1980ء کا واقعہ ہے جب مجلس رضا کے زیر انتظام ریلوے اسٹیشن لاہور کی مرکزی جامع مسجد ’’نوری‘‘ میں عرس مبارک حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر ایک پروقار علمی تقریب منعقد تھی جس کی صدارت غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی۔ مجلس رضا کے زیر اہتمام اس سالانہ علمی وفکری نشست میں دیگر جید علماء کرام کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو بھی دعوت خطاب دی جاتی تھی اور مذکورہ نشست میں بھی آپ کا خطاب تھا مگر صدر مجلس آپ کے خطاب کے بعد تشریف لائے۔ جب خطبہ صدارت فرمانے لگے تو آپ کی نظر ایک نوجوان پر پڑتے ہی اسے اپنے پاس بلاکر خطاب روک کر نہ صرف بغلگیر ہوئے، دستِ شفقت پھیرا، ماتھا چوما، خیریت دریافت کی بلکہ تقریب میں شرکت پر خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے علماء ومشائخ اور شرکاء محفل سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’ یہ نوجوان (محمد طاہرالقادری) جن سے میں ابھی ملا ہوں، ان کا خطاب آپ نے سنا ہوگا اور اسی سے ان کی قابلیت کا اندازہ بھی کرلیا ہوگا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے والد گرامی جو خود بھی ایک معتبر عالم اور معروف طبیب تھے اور میرے دوست تھے، یہ محمد طاہرالقادری ان کے بیٹے اور تربیت یافتہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو بہت ساری صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے میں نے اس نوجوان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے میں فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا نور رکھ دیا ہے جو مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہے گا اور ایک عالم کو فیضیاب کرے گا۔ کاش تم بھی اس نور کو پھلتا پھولتا دیکھ سکو۔ اللہ کرے ان کے اس علمی، فکری اور روحانی نور سے پورا عالم اسلام اور دنیائے اہلسنت روشن و منور ہوجائے۔ ان شاء اللہ ایسا ہوگا‘‘۔

ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ

1987ء میں قدوۃ الاولیاء شیخ المشائخ حضرت پیر سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر صدارت پہلی عظیم الشان منہاج القرآن کانفرنس انعقاد پذیر تھی جس سے ضیاء الامت پیر طریقت حضرت علامہ پیر جسٹس محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’خدائے قدوس کا ہم پہ احسان ہے کہ اس نے آج کے دور میں اس مرد مجاہد جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو حسنِ بیان اور دردِ دل کے ساتھ سوچ، ذہن اور دل کی وہ صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ جن کی بدولت سب طلسم پارہ پارہ ہوجائیں گے اور وہ دن دور نہیں جب غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں کامیابی کا پرچم لہرا رہا ہوگا۔ اس مرد مجاہد نے امت کی حرماں نصیبی کے علاج کے لئے وہ نسخہ تجویز کیا ہے جس کے بارے میں کسی اہل دل نے کہا تھا:

یکے دو است بہ دار الشفائے میکدہ ہا
بہ ہر مرض کہ بنالد کے شراب یکست

اس دور پرفتن میں جب میں اس نوجوان کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا دل خدا کے حضور احساس تشکر سے بھرجاتا ہے۔ میری زبان پر بے ساختہ آتا ہے کہ مولا ہماری دولت ہمارے نوجوان ہم سے چھن گئے تھے۔ یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے اس مرد مجاہد سے ہمیں سہارا عطا کیا۔ نوجوانوں کو اس کے بیانات و خطبات سننے اور اس کی تحریریں پڑھنے سے تسکین ملتی ہے اور ہمارے دلوں سے دعا نکلتی ہے کہ اے خدا! اس مرد مجاہد کو عمر خضر عطا فرما اور ادارہ منہاج القرآن کے ذریعے پیغام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری دنیا تک پھیلا دے، اس کے قلم، زبان اور نگاہ کو وہ جرات اور حوصلہ عطا فرما کہ ہماری پژمردہ روحیں سرور سرمدی سے بہرہ ور ہوجائیں، اسکے جذبے اور عشق کا علم لے کر جب ہم میدان میں نکلیں تو ہماری زبان پر آخری کلمہ یہ ہو کہ رب کعبہ کی قسم ہم تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر سرکٹا کر زندگی کی بازی جیت کر جا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ساتھیوں کو مزید حسنِ خلوص اور صدق و استقامت عطا فرمائے تاکہ راستے کی سب مشکلات آسان ہوجائیں اور ان کے قدم منزل کی طرف بڑھتے ہی چلے جائیں‘‘۔

فضیلۃ الشیخ الدکتور محمد بن علوی المالکی رحمۃ اللہ علیہ

20 نومبر 1995ء کو مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن پر منعقدہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطبہ صدارت دیتے ہوئے محدث حرم فضیلۃ الشیخ الدکتور السید محمد بن علوی المالکی المکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

تحریک منہا ج القران کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا لیکن آج یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تو محسوس ہوا کہ حقیقت کے مقابلے میں کم سنا تھا۔ یہ مبارک اور خوشنما ثمرات یقیناً ایک ستھری، زرخیز زمین اور پاکیزہ بیج کا نتیجہ ہیں قائد تحریک صاف نیت اور پاکیزہ حسن کو لیکر نکلے ہیں۔ ان کے ارادے بلند اور جذبے جواں ہیں اس لئے کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں۔ یہ اس چیز اور برکت کا حصہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر زمانے میں جاری رکھتا ہے۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکت کا تسلسل ہے جس میں کبھی انقطاع نہیں آتا۔ جب بھی باطل کی طرف سے فتنہ و فساد آیا حق کی طرف سے اسے ختم کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لئے بھی کوئی شخصیت نمودار ہوجاتی رہی۔ ان پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا لطف وکرم اور نظر عنایت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتوں کے قاسم و مختار ہیں۔ یہ تقسیم قیامت تک جاری رہے گی اور حضور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیض جاری و ساری رہے گا۔

اس عالمی اجتماع میں شیخ قادری نے آپ کو بہت کار آمد نسخہ بتا دیا ہے یعنی تہجد، جہاد اور اجتہاد کو یکجا کرلو تو تمہارا مقابلہ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ کاش یہ تینوں صفات آج پھر ہمارے علماء ومشائخ میں پیدا ہوجائیں۔ آج بعض لوگ تہجد بھی پڑھتے ہیں لیکن وہ محض عابد رہتے ہیں علم سے ان کا سروکار نہیں ہوتا۔ بعض علم اور اجتہاد کی کوشش کرتے ہیں تو شب زندہ داری کی خصوصیت ان میں نہیں ہوتی اور اگر یہ دونوں چیزیں پیدا ہوجائیں تو جہاد کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔ کئی لوگ تصوف کے گن گاتے ہیں لیکن ان کا دامن علم اور عمل سے خالی ہوتا ہے۔ وہ جہاد سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر اس نسخے پر عمل ہوجائے تو کامیابی یقینی ہے۔

علامہ مفتی منیب الرحمٰن (کراچی)

نومبر 1995ء کو مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن میں منعقدہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن میں چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان اور نامور عالم دین حضرت علامہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری سرزمین پاک میں یوں تو تمسک بالقرآن کی کئی تحریکوں نے جنم لیا مگر تحریک منہاج القرآن کا امتیازی اعزازیہ ہے کہ تمسک بالقرآن کے لئے اس نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات سے محبت کو لازمی قرار دیا اور یہی اس تحریک کی فکری اساس ہے اور قائد تحریک کے نزدیک کلام الرحمٰن پڑھنے کے لئے اس ذات گرامی کی بارگاہ میں تلمیذ رشید بن کر بیٹھنا ضروری ہے جن کے قلب منیب پر قرآن پاک نازل ہوا۔ کوئی شخص کتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو جب تک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت و اتباع اور غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں نہیں ڈالتا اس کا سارا علم غارت جائے گا۔

ابوالبیان علامہ سعید احمد مجددی (گوجرانوالہ)

عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطیب پاکستان ابوالبیان حضرت علامہ سعید احمد مجددی صاحب (ناظم اعلیٰ سنی جہاد کونسل) نے تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک منہاج القرآن جو ایک عالمگیر، ہمہ جہت، کثیرالمقاصد بین الاقوامی تحریک ہے نے ہر سطح پر عالمگیر غلبہ اسلام اور مصطفوی انقلاب، تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ اور مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ 1986ء میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی شرعی عدالت میں قائد تحریک نے مسلسل تین دن تک طویل بحث کرکے گستاخ رسول کی سزا سے متعلق قرآن وسنت کی روشنی میں یہ قانون پاس کرایا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرتد ہے اور اس کی سزا موت بصورت حد ہے۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ گستاخانِ رسول کو تلاش کرکے جہاں بھی ملیں واصل جہنم کردے۔ انہوں نے قائد تحریک کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے اس موقع پر فرمایا تھا ’’جس امت کی غیرت اس زمین پر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زندہ رہنا گوارا کرتی ہے خدا کی غیرت اس امت کا زمین پر زندہ رہنا گوارا نہیں کرتی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے کارکنان، وابستگان پوری دنیا میں تحفظ ناموس رسالت کے امین ہیں اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت وناموس کے تحفظ کی خاطر اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔

ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر

ملک کے معروف دانشور، محقق، عربی زبان کے ماہر، ڈین آف پنجاب یونیورسٹی، پرنسپل اورنٹیل کالج اور ماہرتعلیم جناب پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر صاحب نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

تحریک منہاج القرآن بحمداللہ تعالیٰ پاکستان و بیرون پاکستان دعوت و ارشاد کو عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق بہت منظم اندازمیں سرانجام دے رہی ہے۔ اس کے بانی قائد فاضل جلیل علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جس جانفشانی اور محنت سے احیائے اسلام کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں یہ ان پر اللہ کا خاص فضل وکرم ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں قادری صاحب سے ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس دور کا مجدد اور مصلح صحیح معنوں میں وہی ہوگا جو لخت لخت امت کو متحد ومتفق کرے گا کیونکہ ہمیں جتنا نقصان اس وقت فرقہ پرستی نے پہنچایا ہے اتنا اور کسی چیز نے نہیں پہنچایا۔ تحریک منہاج القرآن کو اتحاد امت کی نہ صرف دعوت دینی چاہئے بلکہ عملاً پیش رفت بھی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا نظام تعلیم تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ میں بطور ڈین یونیورسٹی اور پرنسپل اورنٹیل کالج پوری دیانت کے ساتھ یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے سرکاری و نیم سرکاری ادارے قوم کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے یہاں سیاست، غنڈہ گردی اور ہلڑ بازی نے تعلیم کے ماحول کو بری طرح تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری نظریں ایسے ہی دینی اداروں پر پڑتی ہیں جہاں محنت خلوص اور درد کے ساتھ اساتذہ اور طلباء ایک خاص تعلیمی ماحول میں مطلوبہ معیار کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے منہاج القرآن اسلامک یونیورسٹی کا تعلیمی نصاب اور اس کا تربیتی نظام قابل رشک بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ اللہ کرے یہاں کے فارغ التحصیل لوگ آگے چل کر صحیح معنوں میں امت کی راہنمائی کا فریضہ نبھا سکیں۔

علامہ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر (سندھ)

عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سندھ کی معروف علمی و روحانی شخصیت ابوالخیر علامہ صاحبزادہ ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان میں یوں تو سینکڑوں تنظیمیں ہیں لیکن تحریک منہاج القرآن کی مقبولیت اور پذیرائی کا گراف ان سے مختلف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی اساس، محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اس لئے کہ دامن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ میں رہے تھ سب کچھ ملتا ہے۔ یہ سعادت چھوٹ جائے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ علم بھی اور عمل بھی تب کسی کام کے ہیں جب محبت و عشق کی آمیزش ہو، کامیابی کا راستہ وہی ہے جو مدینہ کی گلیوں سے گزر کر جاتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی سرپرستی کرنے والے ماشاء اللہ سب ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں اس لئے اس کی کامیابی یقینی ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد مقصود احمد قادری

خطیب مرکزی جامع مسجد دربار حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمد مقصود احمد قادری نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تحریک منہاج القرآن اور پاکستان کی دیگر تحریکات میں واضح فرق یہ ہے کہ اس تحریک کی اساس و بنیاد عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فروغ اور حب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوت جگانا ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق کی خوشبو ایسی ہے جہاں بھی مہک رہی ہو لوگ کشاں کشاں چلے آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی تحریک عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی اساس بنائے بغیر کامیابی سے ہرگز ہمکنار نہیں ہوسکتی اور اس تحریک کا کوئی بھی ورکر اس وقت تک صحیح اور مخلص ورکر نہیں بن سکتا جب تک اس کے سینے میں غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسا جذبہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور اس تحریک کا خمیر بھی عشق رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اٹھا ہے لہذا وہ تمام مشائخ و علمائے کرام جو حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ حاضری دیتے ہیں ان سے میری درخواست ہے کہ وہ تحریک منہاج القرآن کے ساتھ دامے درمے قدمے سخنے تعاون فرمائیں اور اس تحریک کی سرپرستی کریں۔

(بحوالہ عالمی علماء ومشائخ کنونشن 20 نومبر1995ء)

حضرت علامہ مفتی حافظ محمد عالم

شہر اقبال سیالکوٹ کے نامور اورمعروف بزرگ عالم دین استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی حافظ محمد عالم نے عالمی علماء ومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔

اب باہمی نزاعات اور انتشار میں الجھنے کا وقت نہیں اب کفر ہمارے گھروں میں دندناتا پھرتا ہے اسلام کو ہر سمت سے دبایا جا رہا ہے اس لئے اے علماء ومشائخ! اٹھو اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کی بقاء و سربلندی کے لئے سرگرم ہوجاؤ۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ جو میرا شاگرد مجھ سے محبت کرتا ہے وہ منہاج القرآن کے ساتھ محبت و تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم علامہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کی ہمت، جرات اور محنت و مشقت کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حضرت علامہ مولانا عبدالرؤف (جنوبی افریقہ)

جنوبی افریقہ میں سلسلہ چشتیہ سلیمانیہ کے سجادہ نشین اور پرجوش نوجوان شخصیت حضرت علامہ مولانا عبدالرؤف نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کا ہر شخص اپنی قسمت پر ناز کرے کہ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صورت میں ایک ایسی ہمہ پہلو شخصیت سے نوازا ہے جو ایک وقت میں صوفی، مجاہد، مجتہد، مقنن، مبلغ اور داعی بھی ہے۔ جو باطل طاغوتی غنڈوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے اور عالم اسلام میں یہ واحد ایسی شخصیت ہیں جو UN میں مسلمانان عالم کی صحیح نمائندگی کرسکتے ہیں قائد تحریک کا جو مقام اور عزت ساؤتھ افریقہ کے مسلمانوں کے دلوں میں ہے وہ شاید یہاں نہیں۔ یہ ہماری عقیدتوں کے مرکز ہیں۔ ہم نے بہت روحانی اور مذہبی رہنماؤں کو دیکھا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب جس لگن اور خلوص سے دین کا کام کرتے ہیں وہ اس دور میں کسی اور کے حصے میں نہیں آیا اس لئے ہم اپنی پوری صلاحیتیں تحریک کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ ان شاء اللہ ساؤتھ افریقہ میں اب تحریک کی دعوت پہلے سے بھی بڑھ کر ہوگی اور وہاں اسلام مضبوط بنیادوں پر انسانیت کی راہنمائی کرے گا۔

محدثِ شام فضیلۃ الشیخ السید محمد الیعقوبی

ملک شام کے عظیم محدث فضیلۃ الشیخ حضرت السید محمد الیعقوبی جو 2004ء میں تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کے لئے شام سے خصوصی طور پر تشریف لائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا۔

’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحریک منہاج القرآن کے مرکز اور اس کے تحت ہونے والی شاندار سالانہ عالمی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس میں شرکت کا موقع فراہم فرمایا۔ اس تحریک کے بانی و سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات اور ان کی زیارت بھی میرے لئے باعث سعادت ہے۔ مجھے خاص طور پر تحریک کے مخلص قائدین اور تحریک کے وابستگان کو دیکھ کر بہت روحانی مسرت ہوئی ہے۔ جن کے دلوں میں حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بھری ہوئی ہے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ نعمت انہیں محترم ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے طفیل نصیب ہوئی ہے۔

مجھے ڈاکٹر صاحب کے آثار علمی جن میں ان کی کتب اور ان کے اداروں سے فارغ ہونے والے کثیر طلباء ہیں جنہیں دیکھ کر دلی اطمینان اور خوشی ہوئی۔ یہاں سارے ادارے، لائبریریاں، دفاتر اور شعبے قابل تقلید اور قابل رشک انداز سے خدمت دین میں محو ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہاں ڈاکٹر صاحب کے علم و فکر کو قد آور اور مفید پھلدار درخت کی طرح دیکھا ہے جس پر ہمہ وقت اللہ کے فضل وکرم سے فصلِ بہار کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔

فضیلۃ الشیخ احمد دیدات (ساؤتھ افریقہ)

ساؤتھ افریقہ سے عالم اسلام کے نامور سکالر فضیلۃ الشیخ احمد دیدات نے مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن میں قائد تحریک سے ملاقات کے بعد سیکرٹریٹ کے شعبہ جات کے وزٹ کے موقع پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے فرمایا۔

’’میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی احیاء اسلام اور دین کی سربلندی کے لئے کی جانے والی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں نے دنیا بھر میں کوئی بھی تنظیم یا تحریک، تحریک منہاج القرآن سے بہتر منظم اور مربوط نہیں دیکھی۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور ان کی تنظیم، اسلام کے احیاء اور سربلندی کے لئے صحیح سمت پر گامزن ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات اور ادارہ منہاج القرآن کا وزٹ میرے لئے باعث مسرت ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اسلام کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

حضرت الشیخ العلامہ عبداللہ بخاری (دہلی)

ہندوستان کے معروف عالم دین اور شاہی مسجد دہلی کے خطیب/ امام حضرت علامہ الشیخ محمد عبداللہ بخاری نے مرکزی سیکرٹریٹ تحریک منہاج القرآن کے وزٹ کے بعد اپنے تاثرات میں فرمایا۔

’’منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تحریک کے شعبہ جات اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات کو دیکھ کر مجھے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا جسکو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ادارے کے علمی کام کا کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید عروج اور سربلندی سے نوازے اور امت مسلمہ عالمی سطح پر اس ادارے سے مستفید ہو اور علم و آگہی کی پیاس اس ادارہ کے ذریعے بجھتی رہے۔ ‘‘

فضیلۃ الشیخ محمد ابوالخیر الشکری

ملک شام سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان معروف سکالر فضیلۃ الشیخ محمد ابوالخیر الشکری نے عالمی میلاد کانفرنس سے اپنے خطاب میں تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔

’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور درود و سلام ہو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ پر۔ مجھے سوریا (شام) کے اجل علماء جن میں فضیلۃ الشیخ العالم الفقیہہ الحنفی الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی اور فضیلۃ الشیخ الدکتور شہاب الدین احمد صالح الفرفور کی صحبت میں انٹرنیشنل تحریک منہاج القرآن کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی عظیم کانفرنس میں شریک ہوئے اور اس طرح کی میلاد کانفرنس میں ہم آج تک شریک نہیں ہوسکے تھے اور نہ ہی اس طرح کے عظیم اجتماع کے بارے میں ہم نے سن رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کا دورہ بھی کیا اور تحریک کے تمام شعبہ جات جن میں جامعہ منہاج القرآن، گرلز کالج اور تحفیظ القرآن ماڈل سکول بھی شامل ہیں سب کا تفصیلی دورہ کیا۔ ان تمام چیزوں کے مشاہدے نے ہمارے سینوں کو ٹھنڈا اور ہمارے دلوں کوفرحت بخشی اور ہمیں اس تمام نیٹ ورک کے پیچھے بہت زیادہ کاوشیں کار فرما نظر آئیں۔ جس کی مثال عالم اسلام میں نہیں ملتی۔

ہمارے اس وزٹ کا ماحصل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زیارت ہے۔ ان کی شکل میں ہم نے ایک سچے عالم اور ایک عظیم لیڈر کی جھلک دیکھی وہ ایسے محقق ہیں جن کی مثال آج کی مسلم دنیا میں یقیناً نہیں ملتی۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ تحریک منہاج القرآن اور اس کے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو حفظ و امان میں رکھے اور جو عنایت، محبت اور شفقت انہوں نے ہمیں عطا کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر اپنے خزانہ خاص سے عطا فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے خوابوں کی تکمیل فرمائے۔ آمین

فضیلۃ الشیخ حضرت اسعد محمد سعید الصاغرجی

ملک شام کے اجل عالم دین، فقیہہ اور شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ حضرت اسعد محمد سعید الصاغرجی نے عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے تاثرات میں فرمایا۔

’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو ہمارے آقا ومولیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر۔ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پاک کی یاد میں منعقد کی جانے والی عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت کی غرض سے حاضر ہوئے۔ ہم نے منہاج القرآن کے مختلف شعبہ جات اور سرگرمیوں کو ملاحظہ کیا تو ہماری عقل دنگ رہ گئی۔ خاص طور پر اس دینی تحریک کا نیٹ ورک اور Management جس کی سرپرستی اور رہنمائی خود شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کر رہے ہیں یہ یقیناً قابل رشک ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمر دراز عطا کرے اور ان کے وجود مسعود سے مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچائے۔ ہم یہ تمنا کرتے ہیں کہ منہاج القرآن کی پوری دنیا میں شاخیں ہوں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم بھی اس تحریک کے سپاہی بن کر خدمت کا فریضہ ادا کریں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ حضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری کی عمر دراز فرمائے اور اسلام کے لئے شیخ الاسلام کے نیک ارادوں کو پورا فرمائے اور اپنے اس قول لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْن کے مصداق اسلام کو غالب و فائق کردے۔

سابق خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالقادر آزاد

بادشاہی مسجد کے سابق خطیب اور داعی اتحاد بین المسلمین محترم مولانا عبدالقادر آزاد نے دی منہاج یونیورسٹی کے وزٹ کے موقع پر اپنے تاثرات میں کہا کہ مجھے آج جامعہ منہاج القرآن میں حاضری کا موقع ملا اور یہاں قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج دیکھ کر امید پیدا ہوئی کہ دنیا بھر میں اسلام کی برتری کی موجودہ تحریک میں یہ ادارہ گرانقدر خدمات سرانجام دے گا۔ اس پر ادارہ کے بانیِ مفکر اسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جملہ اساتذہ وطلباء اور معاونین قابل مبارک باد ہیں۔

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, ازالۂ اعتراضات, تحریک منہاج القرآن | 1 Comment »

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

Posted by NaveedBCN پر اپریل 30, 2007

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
 


دور حاضر کے عظیم اسلامی مفکر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری پاکستان کے شہر جھنگ میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم اے کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اول پوزیشن کے ساتھ پاس کر کے نیا تعلیمی ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ نے ایل ایل بی (قانون) کا امتحان بھی پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی نے آپ کو Punishments in Islam, their Classfication and Philosophy کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی۔آپ نے عالم اسلام کی عظیم المرتبت روحانی شخصیت قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رحمۃ اﷲ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ان سے طریقت و تصوف کی تربیت اور روحانی فیضان حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ کرام میں آپ کے والد گرامی ڈاکٹر فرید الدین قادری کے علاوہ مولانا عبد الرشید رضوی، مولانا ضیاء الدین مدنی، مولانا احمد سعید کاظمی، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور شیخ محمد بن علونی المالکی المکی (رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین) جیسے عظیم المرتبت علماء کرام شامل ہیں۔آپ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام کل پاکستان فی البدیہہ تقریری مقابلہ میں اوّل آئے اور قائدِ اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے کئی گولڈ میڈلز حاصل کئے۔آپ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں قانون کے اُستاد رہے، اور علاوہ ازیں پنجاب یونیورسٹی سینٹ، سنڈیکٹ اور اکیڈمک کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ آپ مشیرِ فقہ وفاقی شرعی عدالت پاکستان، مشیرِ سپریم کورٹ آف پاکستان، اور ماہر قومی کمیٹی برائے نصاباتِ اسلامی رہے۔ بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن، بانی و سرپرست اعلیٰ پاکستان عوامی تحریک،نائب صدر الموتمر العالمی الاسلامی، جنرل سیکریٹری عالمی اتحاد اسلامی، سابق رکن قومی اسمبلی پاکستان (MNA) اور 19 سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، پاکستان عوامی اتحاد کے صدر بھی رہے۔ آپ جدید و قدیم علوم کی عظیم درسگاہ منہاج یونیورسٹی لاہور کے بانی بھی ہیں۔

آپ نے پاکستان میں اور بیرونِ ملک خصوصاً یورپی ممالک میں اِسلام کے مذہبی و سیاسی، روحانی و اَخلاقی، قانونی و تاریخی، معاشی و اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور تقابلی پہلوؤں کو محیط مختلف النوع موضوعات پر ہزاروں لیکچرز دیئے۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری اور عصری موضوعات پر آپ نے فکر اَفروز لیکچرز دیے۔ آپ کے لیکچرز پاکستان، عالمِ عرب اور مغربی دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ آپ کئی برس پاکستان ٹیلی وژن کے ”فہم القرن“ نامی پروگرام میں ہفتہ وار لیکچر دیتے رہے۔ آپ کی اب تک 300 سے زائد اُردو، انگریزی اور عربی تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ اِن میں سے متعدد تصانیف کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی 800 سے زائد کتابوں کے مسوّدات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔


آپ نے دورِ حاضر کے چیلنجوں کے پیشِ نظر اپنے علمی و تجدیدی کام کی بنیاد عصری ضروریات کے گہرے اور حقیقت پسندانہ تجزیاتی مطالعے پر رکھی، جس نے کئی قابلِ تقلید نظائر قائم کیں۔ فروغِ دین میں آپ کی تجدیدی و اِجتہادی اور اِحیائی کاوِشیں منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ جدید عصری علوم میں وقیع خدمات سرانجام دینے کے علاوہ آپ نے ”عرفان القرن“ کے نام سے قرآن حکیم کے اُلوہی بیان کا لغوی و نحوی، اَدبی، علمی و اِعتقادی اور فکری و سائنسی پہلوؤں پر مشتمل جامع اور عام فہم ترجمہ کیا، جو کئی جہات سے عصرِ حاضر کے دیگر تراجم کے مقابلے میں زیادہ جامع، منفرد اور معیاری ہے۔ آپ قرآن حکیم کی تفسیر پر بھی کام رہے ہیں۔ علم الحدیث میں آپ کی تالیفات گراں قدر علمی سرمایہ ہیں۔ آپ نے ”المنہاج السوی من الحدیث النبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ جیسی ضخیم کتاب کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر کتبِ احادیث مرتب کی ہیں۔ آپ نے ”الخطبۃ السدیدۃ فی اصول الحدیث وفروع العقیدۃ“ کے نام سے اُصولِ حدیث پر ایک بے مثال اور جامع و مختصر ترین خطبہ تصنیف کیا جو آنے والی کئی صدیاں تشنگانِ علمِ حدیث کی سیرابی کا سامان بہم پہنچاتا رہے گا۔ آپ نے علم الحدیث کی تاریخ میں اِمامِ اَعظم ابوحنیفہ (رضی اللہ عنہ) کے فنِ حدیث میں مقام کو دلائل و براہین سے ثابت کیا، اور اس باب میں صدیوں سے موجود غلط فہمیوں کا اِزالہ کیا۔

آپ کی قائم کردہ تحریکِ منہاجُ القرآن دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں اِحیائے ملّتِ اِسلامیہ اور اِتحادِ اُمت کے عظیم مشن کے فروغ کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ آپ نے پاکستان میں عوامی تعلیمی منصوبہ کی بنیاد رکھی جو غیرسرکاری سطح پر دنیا بھر کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ ہے۔ اِس میں ملک بھر میں پانچ یونیورسٹیوں، ایک سو کالجز، ایک ہزار ماڈل ہائی اسکول، دس ہزار پرائمری اسکول اور پبلک لائبریریوں کا قیام شامل ہے۔ پچھلے چند برسوں میں صرف اسکولوں کی تعداد ہی پانچ سو سے تجاوُز کرچکی ہے اور اس سمت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ جب کہ لاہور میں قائم کردہ ”دی منہاج یونیورسٹی“ بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے چارٹر ہو چکی ہے۔ آپ کی قائم کردہ سیاسی جماعت ”پاکستان عوامی تحریک“ ملک میں رواداری، برداشت اور اُصول پسندی پر مبنی صحت مند سیاسی رِوایت کی تشکیل میں گراں قدر کردار ادا کر رہی ہے۔ آپ عالمِ اِسلام کی بین الاقوامی پہچان کی حامل شخصیت ہیں، جنہیں اِتحاد، اَمن اور بہبودِ اِنسانی کے سفیر کے طور پر پہچانا جاتا ہے؛ اور بہبودِ اِنسانی کے لئے آپ کی علمی و فکری اور سماجی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اِعتراف بھی کیا گیا ہے۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہے:

 

  1. آپ کو تحقیق و تصنیف اور انسانی بہبود کیلئے کاوشوں پر دوسرے ملینیئم کے خاتمہ پر دنیا کے پانچ سو موثر ترین رہنماؤں میں شامل کیا گیا ہے۔

  2. امریکن بائیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ (ABI) کی طرف سے دنیا بھر میں مختلف میدانوں میں معاشرے کیلئے غیر معمولی خدمات کے اعتراف پر International Who’s who of Contemporary Achievement کے پانچویں ایڈیشن میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری پر ایک باب شامل اشاعت کیا گیا ہے۔

  3. امریکن بائیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ (ABI) کی طرف سے دنیا کے سب سے بڑے غیر حکومتی تعلیمی منصوبہ چلانے، 200 کتابوں کے مصنف ہونے، 5000 سے زائد موضوعات پر دنیا کے مختلف خطوں اور اداروں میں لیکچرز دینے، تحریک منہاج القرآن کے بانی اوردی منہاج یونیورسٹی کے چانسلر ہونے کی خدمات کے صلے میں The International Cultural Diploma of Honour دیا گیا۔

  4. انٹرنیشنل بائیوگرافیکل سنٹر (IBC) آف کیمبرج انگلینڈ کی طرف سے تعلیم اور سماجی بہبود کیلئے دنیا بھر میں عظیم خدمات کے صلے میں آپ کو The International Man of the Year 1998-99 قرار دیا گیا ہے۔

  5. بیسویں صدی میں غیر معمولی علمی خدمات سر انجام دینے پر Leading Intellectual of the World کا خطاب دیا گیا۔

  6. فروغ تعلیم کیلئے آپ کو بے مثال خدمات پر International Who is Who کی طرف سے Individual Achievement Award دیا گیا۔

  7. بے مثال تحقیقی خدمات پر آپ کو ABI کی طرف سے Key of Success کا اعزاز دیا گیا۔

  8. بیسویں صدی کے International Who is Who کی طرف سے آپ کو Certificate of Recognition دیا گیا۔

ماضی قریب میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ فردِ واحد نے اپنی دانش و فکر اور عملی جدّ و جہد سے فکری و عملی سطح پر ملّتِ اِسلامیہ کی فلاح کے لئے اِتنے مختصر وقت میں اِتنی بے مثال خدمات اَنجام دی ہوں۔ بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک فرد نہیں بلکہ ملّتِ اِسلامیہ کے دورِ نَو کے مؤسِس اور تابندہ و روشن مستقبل کی نوید ہیں۔

_uacct = "UA-1783011-1”;
urchinTracker();

Posted in ڈاکٹر طاہرالقادری, تحریک منہاج القرآن | 3 Comments »